Qismat Ka Khel By Mariyam Khan Readelle50211 Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے گھر میں آنے کی ۔زوہیب نے اپنا سامان وہی گیٹ پہ چھوڑا اور جینی کا ہاتھ پکڑ کے گھسیٹنے لگا۔۔
زوہیب چھوڑو اسے ۔۔
انعم کی آواز اچانک ہال میں گونجی۔۔
زوہیب نے بے یقینی سے انعم کو دیکھا اور کہا۔
یہ تم بول رہی انعم تم جانتی ہو نہ اس نے تمہارے ساتھ کیا کیا۔؟؟
ہاں جانتی ہو مگر وہ شرمندہ ہے اپنی حرکت پہ ۔۔
اپنی شرمندگی یہ اپنے پاس رکھے اور تم نکلو میرے گھر سے ابھی ایسی وقت۔۔
زوہیب نے دوبارہ جینی کو جھٹکا دیا دروازے کی طرف۔۔
زوہیب اگر جینی یہاں سے جائے گی تو میں بھی چلی جاونگی۔۔
یہ یہی رہے گی آج سے ہمارے ساتھ ۔
انعم کی بات پہ زوہیب نے ایک نظر انعم کو دیکھا اور کہا۔
تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے میں اس گندگی کے ڈھیر کو اپنے گھر پر ہرگز نہی رکھونگا۔
اور تم۔بڑی ڈھیٹ ہو نکلو یہاں سے زوہیب کی گرجدار اواز سن کے جینی کیساتھ ساتھ انعم بھی پل بھر کیلیے ڈری۔۔
ٹھیک ہے تو پھر میں بھی یہاں سے جاونگی اس کے ساتھ یہ بول کے انعم جانے لگی جب زوہیب نے ایک دم اسکی کلائی تھامی اور کہا۔۔
ا
انعم تم اس کی وجہ سے مجھے چھوڑ کے جاوگی؟؟
مجبور تم کررہے ہو مجھے زوہیب تم سے شادی۔ہوگئ اسکا مطلب یہ نہیں کے میں اپنا لائف اسٹائل چینج کرلو۔۔دم گھٹنے لگا ہے میرا اس ماحول سے بس ایک بار یہ بچہ اس دنیا میں اجائے تو تھوڑا میں سکھ کا سانس لو افف باندھ کے رکھ دیا ہے اس نے مجھے۔۔
انعم نے اتنی بیزاریت سے کہا زوہیب کی آنکھیں بھیگنے لگی۔۔
اس نے وہی انعم کا ہاتھ چھوڑا اور نیچے بنے کمرے میں چلا گیا۔
اور جینی انعم کے ساتھ اوپر کمرے میں۔۔
!!!!
مظہر کی والدہ کے اصرار پہ حنا کی رخصتی کی ڈیٹ رکھی گئ جو ایک مہینے بعد کی تھی۔۔
پورا گھر شادی کی تیاریوں میں لگ گیا۔
اسفند نے بھی بھائ ہونے کا پورا حق ادا کیا۔۔رجا بھی حنا کیساتھ کبھی کسی بازار تو کبھی کسی بازار کے چکر لگا رہی تھی
اسفند دیکھ رہا تھا کے رجا کے ہزار چکر بازار کے لگ رہے تھے مگر وہ اپنے لیہ کچھ نہی لا رہی تھی۔۔
رات میں اسفند کمرے میں آیا تو رجا واش روم سے فریش ہوکے نکلی ڈھیلی شرٹ اور ڈھلے ٹروزر میں وہ کافی تھکی ہوئی لگ رہی تھی اسفند کے برابر میں آکے لیٹنے لگی جب اسفند نے اپنے ہاتھ آگے کرکے اسے اپنے ہاتھ پہ لیٹالیا۔
اسفند کی اس حرکت پہ رجا کے لب مسکرائے اور وہ پہلی بار اسفند کے سینے پہ سر رکھ کے لیٹ گئ۔۔
رجا کی اس پیش قدمی سے اسفند بہت حیران ہوا اور خوش بھی۔۔
جب اسفند نے رجا سے پوچھا۔۔
تم اتنی بار مارکیٹ گئ ہو مگر اپنے لیہ کچھ نہی لائ کیوں؟؟
اسفند کے سوال پہ رجا نے گردن ٹھوڑی کے بل اسفند کے سینے پہ رکھی اور کہا۔۔
بڑی جلدی خیال آگیا اپکو۔؟؟
میں شادی کی ساری شاپنگ آپکے ساتھ کرونگی آپکی پسند کی۔۔
یہ بول کے رجا دوبارہ اسفند کے سینے پہ سر رکھ کے لیٹ گئ جب اسفند نے اسکے گرد دوبارہ اپنی باہنوں کا حصار کیا اور کہا۔ ۔
ایسا ہے تو کل ہی چلینگے ہم شاپنگ پہ ۔۔
ہمم رجا خالی اتنا ہی بول پائ۔
دوبارہ اسفند نے رجا کو آواز دی تو اس نے کوئ ریسپونس دیا اسفند نے جھک کے اسکا چہرہ دیکھا تو وہ سو چکی تھی۔
اسفند نے ایک نظر اسے معصوم چہرے کو دیکھا اور پھر اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کے وہ بھی نیند کی وادیوں میں اتر گیا۔۔۔
!!!!!!!
زوہیب اور انعم میں اب اکثر لڑائیاں ہونے لگی۔نہ انعم اب زوہیب کا کوئ کام کرتی تو اسے کا دیھان رکھتی ہر وقت جینی سے لگی رہتی اس دن تو حد ہوگئ جب انعم نے دوبارہ ڈرنک کو ہاتھ لگایا پہلی بار زوہیب نے اسے ٹھپڑ مارا مگر وہ اپنے ہوش میں نہی تھی۔۔
جینی کو آج انعم کے گھر شفٹ ہوئے پورے دس دن ہوگئے تھے اور ان دس دونوں میں انعم اور زوہیب کے درمیان کافی دوریاں آگئ تھی۔
ادھر جینی زوہیب کو دیکھ کے اپنا دل ہار بیٹھی۔
ایک دن انعم جب ڈاکٹر کے پاس گئ چیک اپ لیہ۔۔
زوہیب نے بہت کہا کے وہ ساتھ چلتا ہے مگر انعم نے صاف منع کردیا بلکہ انعم کے اس جملے سے زوہیب کی روح فنا ہونے لگی جب انعم نے کہا اس بچے کے بعد اسے زوہیب سے علیحدگی چاہیے۔۔
زوہیب اپنے کمرے میں آرام کررہا تھا جب جینی اس کے کمرے میں داخل ہوئ۔۔
زوہیب نے ایک غصیلی بھری نظر اس پہ ڈالی اور کہا۔
میرے کمرے سے ابھی کے ابھی دفعہ ہوجاو۔۔
زوہیب کی کسی بات کا اثر جینی پہ نہی ہوا اس نے کمرے کا دروازہ مسکرا کے بند کیا اور زوہیب کے قریب آکے اپنے شرٹ کے آگے کے بٹن کھولنے لگی۔
زوہیب سینے پہ۔ہاتھ باندھ کے جینی کی ساری کاروائی دیکھنے لگا۔۔
جب جینی نے کہا۔
زوہیب انعم تمہارے لائق نہی تمہیں پتہ ہے وہ ابھی کہاں ہے کس کے ساتھ ہے ۔؟؟
یہ بول کے جینی نے اپنی پوکٹ میں سے موبائل۔نکال کے ایک پک زوہیب کے آگے کی جسمیں انعم اسی آدمی کیساتھ ریسٹورینٹ میں تھی جو اسکی عزت خراب کرنے والا تھا۔۔
یہ دیکھ کے زوہیب نے کرب سے اپنی آنکھیں بند کی جب جینی نے اسکا چہرہ تھاما اور کہا۔۔
میں ہو نہ زوہیب اسکو چھوڑو میں تمہاری تنہائ۔باٹونگی۔۔
بس تم میری پیاس بجھادو یہ بول کے جینی زوہیب کے لبوں پہ جھکنے لگی جب زوہیب نے بھی اسے کمر سے تھاما۔۔
!!!!!!!!!!!.
رجا اور اسفند آج شاپنگ پہ نکلے اسفند نے اسے ہر ایونٹ کے حساب سے بہترین ڈریسز دلائے تھے ۔
جیولری لے کے وہ لوگ باہر نکلے جب اسفند نے اپنی پاکٹ ٹتولٹے ہوئے کہا۔۔
اوہ رجا تم یہی ویٹ کرو میں شاید اپنی گاڑی کی چابی دکان میں ہی بھول ایا۔۔
یہ بول کے اسفند جیولری شاپ کی طرف گیا تو رجا ایس کونے میں پلر سے لگ کے کھڑی ہوگی جب کسی نے اسے پکارا۔۔
اپنی نام کی آواز پہ رجا نے پلٹ کے دیکھا تو زارون کھڑا تھا۔
دو پل کیلیے رجا اس دیکھ کے چونکی مگر بولی کچھ نہں۔۔
زارون نے ایک نظر اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور کہا۔
پہلے سے زیادہ حسین ہوگئ ہو ۔۔مگرزیادہ دن تک تمہارے چہرے پہ یہ خوشی میں رہنے نہی دونگا بھول رہی ہو شاید میں نے تمہیں کہا تھا تم صرف میری ہو صرف میری۔۔
یہ بولتے ہوئے زارون کے چہرے پہ ایک عجیب سے وحشت تھی یہ بول۔کے زارون آگے بڑھ گیا ۔۔رجا ڈری سہمی سی زارون کی پشت کو گھورنے لگی جب کسی نے اسکے کندھے پہ۔ہاتھ رکھا ۔
رجا ڈر کے ایک دم پلٹی ۔۔
اسفند نے جب اسکے چہرے پہ ڈر دیکھا تو پوچھا ۔۔
کیا ہوا اتنی ڈری ہوئی کیوں ہو؟؟
اور یہ ادمی کون تھا۔۔؟؟
شاید اسفند زارون کی پشت دیکھ چکا تھا۔
وہ ۔۔وہ کوئ نہی شاپ کا پوچھ رہا تھا ۔۔
رجا کی جو سمجھ میں آیا اس وقت رجا ۔ے جواب دے دیا۔۔
اچھا چلو لیٹ ہوگئ کافی اسفند نے ایک گہری نظر رجا کے چہرے پہ ڈال کے کہا۔
ہاں چلو یہ بول کے اسفند اور رجا گھوم کے نیچے جانے لگے جب کے اسفند نے ایک بار پھر گھوم کے اس راستے کو دیکھا جہاں سے زارون گیا تھا۔۔
جاری ہے۔۔
