Qismat Ka Khel By Mariyam Khan Readelle50211 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
ا
دو گھنٹے میں زوہیب اور انعم پنڈی کیلے نکل رہے تھے۔۔زوہیب نے کئ بار انعم سے کہا کے وہ اپنے گھر والوں سے مل لے پھر پتہ نہی کب آنا ہو۔۔
مگر انعم کی نہ ہاں میں نہہی بدلی۔۔
انعم فریش ہوکے باہر نکلی تو اسکے کپڑوں کیساتھ ایک عببایہ رکھا تھا ۔
انعم اپنے بال بنارہی تھی جب زوہیب ہارون اور آصف سے مل کر ایا تھا سامان اس کا سارا پیک تھا کیپ اسکی نیچے کھڑی تھی ۔۔
زوہیب سارا سامان گاڑی میں رکھوا چکاتھا زوہیب نے اپنے کمرے میں آکے اپنے بال بنائے اور گھڑی پہنتے ہوئے ایک نظر انعم کو دیکھا جو خاموشی سے عبایا پہن رہی تھی۔۔
زوہیب نے تو سوچا تھا وہ اچھا خاصا ہنگامہ کرے گی مگر وہ بلکل خاموش تھی۔۔
دونوں ہی ائیر پورٹ کیلیے نکل گئے تھے۔۔
ائیرپورٹ پہ چیکنگ کے دوران زوہیب کو وہاں موجود لڑکیوں نے کافی بار مڑ مڑ کے دیکھا ۔کیونکہ وہ لگ ہی اتنا حسین رہا تھا۔۔
ایک تو سرخ سفید پٹھانوں والا لکک اس پہ بلیک قمیض شلوار ہلکی۔ ہلکی بریڈ سلیقے سے بنے بال اور آنکھوں پہ بلیک گلاسسس انعم نے جہاں لڑکیوں کو عجیب نظروں سے دیکھا وہی زوہیب کو بھی وہ سڑے ہوئے منہ سے دیکھا جو زوہیب دیکھ چکا تھا اور اپنی مسکراہٹ بھی کمال سے چھپا چکا تھا۔۔
فلائٹ جیسی ہی ٹیک اوف ہونے لگی انعم نے بلاجھجک جہاں زوہیب کا بازو تھاما وہی زوہیب کے بازو میں اپنا منہ بھی چھپانے لگی۔۔۔
زوہیب نے بہت پیار سے انعم کے گرد اپنے بازو پھیلا کے اسے باہنوں میں لیہ زوہیب کی اس حرکت پہ انعم نے زوہیب کو دیکھا تو وہ بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
ایک کی نظر میں شکوے تھے نفرت تھی۔تو دوسرے کی نظر میں احترام عزت اور محبت۔۔
ٹیک اوف ہوتے ہی انعم جھٹکے سے زوہیب سے الگ ہوئ اور زوہیب ایک آہ بھر کے رہ گیا۔۔۔
!!!!!!!!
اسلام آباد ائیرپورٹ پہ زوہیب نے ایک پرائیویٹ گاڑی کی پنڈی جانے کیلیے ۔۔
راستہ زیادہ لمبا نہی تھا اس لیہ انعم نے سارا راستہ جاگ کے گزارا پنڈی شہر اسے بہت اچھا لگا۔
ایک جگہ زوہیب نے گاڑی روک کے کچھ کھانے پینے کا سامان لے کے انعم کو دیا تو اس نے چپ چاپ لے لیا کیونکہ اسے واقعی بھوک لگی تھی ۔
ایک خوبصورت سے گھر کے آگے آکے انکی گاڑی روکی ۔
لکڑی سے بنا یہ ڈبل۔اسٹوری کا خوبصورت گھر جیسے زوہیب کے والدین نے بہت محنت سے بنایا تھا۔۔
چکور ڈیزائن کا یہ گھر جسکے آگے ایک چھوٹی سے نہر تھی اس پاس کافی گھر تھے مگر تھوڑی فاصلہ پہ تھے۔۔
وہ لوگ گاڑی سے اترے تو ایک لڑکی زوہیب کو اوازدیتی ہوئ اس تک آنے لگی۔۔
انعم نے غور سے دیکھا وہ سولہ سترہ سال کی خوبصورت لڑکی تھی جسکی آنکھیں گرین تھی ڈورتی ہوئ آئ اور زوہیب کے سینے سے لگ گئ۔۔
اسلام وعلیکم زوہیب بھائ ہم کب سے آپکا انتظار کررہے تھے ۔۔
ارے وعلیکم سلام میری گڑیا کیسی ہو ؟؟
خالہ کیسی ہیں۔؟؟
امی بھی اچھی ہے۔۔
یہ بول کے وہ لڑکی انعم کی طرف مڑی اور اسے سلام کرکے کے کہا۔
اسلام وعلیکم بھابھی جان۔۔۔
انعم نے بھی بنا منہ بنائے اس لڑکی کے سلام کا جواب دیا۔۔اور انعم کی یہ بات زوہیب کو بہت اچھی لگی۔۔
زوہیب بھائ امی آپکے کیلیے کھانا تیار کررہی ہے آپ لوگوں کے گھر ایک ایک کونا میں نے اپنے ہاتھوں سے صاف کیا ہے آپ لوگ آرام کرے میں دوپہر میں اونگی کھانا لے کے امی۔کیساتھ یہ بول۔کے وہ لڑکی جیسے آئ تھی ویسے واپس چلی گئ۔۔
لڑکی کے جاتے ہی زوہیب نے انعم کو گھر کے اندر چلنے کیلیے کہا۔
زوہیب نے اور انعم نے ایک ساتھ گھر میں قدم رکھا۔۔
پورا گھر لکڑی سے بنا تھا اور کافی خوبصورت تھا۔۔
سائیڈ میں کچن دو کمرے اور ٹی وی لانج نیچے تھے اور ایک ہی کمرہ تھا جو انعم اور زوہیب کا تھا۔۔
دونوں ہی فریش ہوکے آرام کرنے لگے۔۔
تھوڑی دیر بعد ہی زوہیب کی آنکھ کھل گئی اس نے اپنی برابر میں لیٹی انعم کو دیکھا جو بال کھول کے سورہی تھی اور کافی بال اسکے چہرے پہ بھی تھے ۔
زوہیب کہنی کے بل اٹھا اور آرام سے انعم کے چہرے پہ سے سارے بال ہٹائے۔
انعم کا معصوم چہرہ اسکا دل بے ایمان کرنے لگا اس نے جھک کے انعم کے لبوں کو دھیرے سے چھوا اور الگ ہوا مگر پھر مڑ کے دوبارہ اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور کمرے سے باہر نکل۔گیا۔
دوپہر تک انعم بھی اٹھ گی تھی چلبلی سے زینب اور اسکی امی کھانا لے کے اچکی تھی۔۔
نور بانو زوہیب کی سگی خالہ تھی انکی ایک ہی بیٹی تھی زینب جو زوہیب کی لاڈلی تھی ۔۔انکے شوہر کا انتقال کچھ عرصہ پہلے ہی ہوا جب سے زوہیب نے انکے گھر کے اخراجات اٹھائے۔۔
زینب انعم کو اپنے کالج کا بتانے لگی جہاں اسنے ابھی ابھی ایڈمیشن لیا تھا۔
زینب کی باتوں۔ سے انعم کافی خوش تھی اور اسکو دیکھ کے زوہیب کیونکہ انعم کا یہاں دل لگ گیا تھا۔۔
اگلے دن ولیمہ کی رسم بھی شاندار رہی۔۔زوہیب نے بہت اچھا ولیمہ کیا انعم کی سوچ کے برعکس آج زوہیب نے زینب کو خاص ہدایت کی تھی انعم کے ہاتھوں میں مہندی لگانے لکی۔۔۔
ولیمہ سے نمٹ کے جب زوہیب کمرے میں آیا تو انعم اپنی جیولری اتار رہی تھی پستی کلر کی میکسی میں انعم زوہیب کا دل بے ایمان کررہی تھی تھی۔۔
زوہیب بھی وائٹ کاٹن کی۔قمیض شلوار میں اور سر پہ اپنے خاندان کی مخصوص ٹوپی پہنے شہزادہ لگ رہا تھا۔
زوہیب نے انعم کے پاس آکے کہا۔
جانتا ہے تمہارے قابل نہی ہو انعم مگر ہر ممکن کوشش کرونگا تمہارے قابل بننے کی ۔۔
یہ ایک چھوٹا سے تحفہ تمہارے لیہ۔
زوہیب نے آگے بڑھ کے انعم کا ڈوپٹہ اس کے سر سے آزاد کیا تو وہ اس کے پیروں میں اگرا۔۔
انعم کا سراپہ دیکھ کے زوہیب نے انعم کو کمر سے تھام کے خود سے لگایا اور ایک خوبصورت سا لاکٹ جو گولڈ کا تھا جس پہ سفید نگوں سے زیڈ اور اے لکھا تھا انعم کے بال پیچھے سے آگے کیہ اور اسے پہنایا۔۔
۔۔انعم کسی بت کی طرح زوہیب کی ساری کاروائی دیکھ رہی تھی۔۔
زوہیب نے انعم کو لاکٹ پہنایا اور اسکی گردن پہ اپنے لب رکھے۔۔
انعم نے کوئ مزاحمت نہی کی ۔اس بنا پہ زوہیب کی ہمت اور بڑھی ۔اس نے انعم کی شرٹ کو کندھے سے نیچے کیا اور اسکے کندھے پہ اپنے لب رکھے۔۔
انعم نے ضبط کا مظاہرہ کرکے اپنی مٹھی بند کی۔۔
زوہیب نے اسے گودھ میں اٹھا کے بیڈ پہ لیٹایا اور خود اٹھ کے لائٹ بند کرکے اپنی قمیض اتاری اور انعم کے پاس آیا اسکی شرٹ پوری نیچے کرکے وہ دیوانہ وار اسکو پیار کرنے میں مگن تھا جیسے ہی زوہیب نے اسکے لبوں کو چومنا چاہا جب اندھیرے میں انعم کی الفاظ گونجی۔۔
یہ سب تو تم میرے ساتھ جب بھی کرسکتے تھے جب بیہوشی کی حالت میں مجھے کلب سے لاتے تھے۔۔
میرے ساتھ اپنا نام کیوں جورا تم ایک نوکر اور میں ایک ملکن جان بوجھ کے تم نے معصومیت کا مظاہرہ کیا میرے بھائ کے سامنے جبھی انہوں نے میرا ہاتھ ایک نوکر کے ہاتھ میں دے دیا۔کلب کون نہی جاتا ہر کسی کی اپنی زندگی ہوتی ہے مگر تم۔نے میرے زندگی میں مداخلت کرکے میری زندگی برباد کردی۔۔ اپنا نام میرے نام کیساتھ جوڑ کے میری زندگی برباد کردی
انعم کی باتیں سن کے زوہیب سکتے میں آگیا اس نے تو کبھی سوچا ہی نہیں تھا کے انعم اس سے اس حد تک نفرت کرتی ہے وہ تو یہ سوچ کے اسکے قریب آیا کے آج وہ اپنی محبت سے انعم کو اپنی۔محبت کا یقین دلایا گیا ۔۔
مگر انعم کے الفاظ اسکا دل چیرنے کیلے کافی تھی۔۔
زوہیب انعم کے اوپر سے اٹھا اور کہا بھی تو صرف اتنا۔۔
محبت میں اور ہوس میں بہت فرق ہوتا ہے انعم بی بی۔۔
میں آج تمہارے قریب آیا کیونکہ میرا حق ہے مگر آج کے بعد تم پہ اپنا حق کبھی نہی جتاونگا مگر یاد رکھنا یہ بات تم سے الگ کسی قیمت پہ نہی ہوگا۔۔
بیوی ہو میری پورا حق ہے مجھے تمہارے ساتھ سب کچھ کرنے کا اور جس بات پہ تم اتنا غرور کررہی ہونا ایسا نہ ہو جب تمہیں سچائ پتہ چلے کے ہمارا نکاح کیوں ہوا تو تم اپنی ہی نظروں میں گر جاو۔۔
یہ بول کے زوہیب نے اپنی قمیض اٹھائ اور کمرے سے نکل گیا۔۔
جاری ہے۔
