55.7K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

انعم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے دیکھ زوہیب اسکے اوپر سے ہٹا ۔۔
اسکا ہاتھ پکڑا کے اسکو کھڑا کیا۔۔
انعم اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپائے رونے لگی۔۔
زوہیب سینے پہ۔ہاتھ باندھے کافی دیر تک اسے دیکھتا رہا۔۔
پھر آگے بڑھ کے اسکے عبائے کے بٹن لگانے لگا اور کہا۔۔
جینی درگز ڈیلر ہے انعم آج میں نے جو تمہارے ساتھ کیا۔۔ایسا وہ تمہارا ساتھ کروانے کا ارادہ رکھتی ہے اس لیہ تمہیں کلب لے کر جاتی ہے تاکہ جب تم بلکل اپنے ہوش خروش سے بیگانہ ہوجاو تو وہ اپنا مقصد پورا کرسکے اور ایک بار جب یہ مقصد پورا ہو جائے ۔تو پھر تم اسکی غلام بن کے اس گندگی بھرے ڈھیر میں گھستی چلی چاو۔۔۔
یہ بول کے زوہیب نے اسکے سر پہ ڈوپٹہ اڑایا اور کہا ۔۔
اگر میں تمہارا رات گئے تک پیچھا کرتا ہو انعم تو اسکی ایک ہی وجہ ہے کے میں۔۔۔۔۔۔۔۔
آگے کی بات بولنے سے پہلے ہی زوہیب نے اپنی زبان رک لی جب انعم نے بہتی نگاہوں سے اسے دیکھا ۔
تم ہارون چاچو اور آصف بھائ کی عزت ہو انعم اس گھر کی عزت ہو امیروں سے دوستی کرنا غلط نہی مگر انکی غلط صحبت اپنانا غلط ہے مزا تو تب ہے جب لاکھ غلط لوگوں میں بیٹھو مگر انکی غلط صحبت نہی اپناو۔۔
سمجھانا میرا فرض تھا انعم تمہیں۔باقی آگے تمہاری مرضی آج کے بعد میں بالکل تمہارے پیچھے نہی اونگا۔۔
لڑکی بالغ ہو یہ نابلغ اللہ نے اسے اتنا شعور دیا ہے کے وہ اپنی طرف اٹھنے والے غلط نیت سے ہاتھ اور غلط نگاہیں دونوں پہچان لے۔۔
باقی میں نوکر ہو اور رہونگا ۔بے فکر رہو اپ۔۔
یہ بول کے زوہیب گھوم کے اپنی قمیض پہنے لگا جب انعم کی نظر اسکے سیدھے ہاتھ کے نشان پہ پڑھی وہ شاید کوئ نام تھا مگر زرا فاصلہ ہونے کی وجہ سے وہ صحیح سے دیکھ نہی پائ ۔
زوہیب نے گاڑی کی چابی اٹھائ اور کہا۔
آئیے انعم بی بی گھر جانے کا ٹائم ہوگیا۔۔
انعم کسی گہری سوچ میں گاڑی کے پیچھے بیٹھی تھی جب کے زوہیب کی نظریں مسلسل بیک مرر سے انعم کے چہرے کا طواف کررہی تھی۔۔
زوہیب نے دل میں کہا۔۔
یااللہ یہ سمجھ جائے میری بات۔ ۔

#

,کہاں ہے یار تو ایک مہینہ ہوگیا ؟؟؟
زاہد نے بھر پور اممویشنل سے بھری اسفند کو کال کی۔۔۔
اسفند نے اپنے سامنے رکھی فائل بند کی اور کہا۔۔
کہی نہی آفس میں ہو اپنے ۔۔
تم سناؤ کیسے کال کی۔؟؟؟
ارے ایسی کال۔کی اپنی یار کی خیر خیریت پوچھنے کیلیے۔۔۔۔
جہاں زاہد کی بات سن کے اسفند نے ہنستے ہوئے نفی میں گردن ہلائی وہی کچھ ایسا ہی حال سامنے بیٹھے مظہر کا بھی تھا جس نے زاہد کی بات سن کے بہت ہی سڑا ہوا منہ بنایا۔۔
اچھا وہ اسفند تجھے پتا ہے دو ہفتے بعد کار ریسنگ ہے ۔۔
جسمیں کراچی اور اسلام آباد والوں کے درمیان کمپیٹیشن ہے۔۔
ہاں یاد ہے تو کیا تو لے گا حصہ کار ریسنگ میں؟؟
ہاں میں حصہ لونگا تم نام لکھوادو میرا ۔۔
اوکے اوکے یار ۔۔
یہ بول کے اسفند نے کال کٹ کی تو مظہر نے کہا۔
دیکھ اس کو خالی تیری ریسنگ میں ملنے والے پیسوں سے مطلب ہے ..
جانتا ہو یار تو کیوں ٹینشن لیتا ہے کرنے دے اسے پیسوں کی ہوس ایسے لوگوں کی دوستی یاری دشمنی صرف پیسا پہ ہوتا ہے۔۔
ہممممم ۔۔
مظہر صرف ہاں میں گردن پہ ہلا پایا۔۔۔

#

انعم آج کہی نہی گئ کتنی بار جینی اسکے نمبر پہ کال کرچکی تھی مگر انعم نے نہ تو کال ریسیو کی نہ اپنے کمرے سے باہر نکلی
۔
ابھی وہ اپنے کمرے کی۔کھڑکی پہ کھڑی تھی اور زوہیب کی باتیں سوچ رہی تھی ۔۔
کیا واقعی جینی میرے ساتھ ایسا کرنے والی تھی۔۔
دماغ نے فورا حامی بھری ۔۔
مگر دل نے نفی کی ۔۔
کیا واقعی وہ درگز سپلائ کرتی ہے؟؟
کیا زوہیب سچ بول رہا ہے۔۔
مگر وہ جھوٹ کیوں بولے گا ۔
اسکی جینی سے کونسی دشمنی۔۔
ابھی وہ اپنی سوچوں میں ہی گم تھی جب ایک دم۔کار کا ہارن بجا چاکیدار نے گیٹ کھولا تو ہارون صاحب کی گاڑی اندر ائ۔
زوہیب وائٹ کاٹن کی شلوار قمیض میں باہر نکلا اور ہارون صاحب کی طرف کا گیٹ کھولا۔
ہارون صاحب گھر کے اندر داخل ہوئے جب گاڑی میں بیٹھتے ہوئے زوہیب کی نظر بلا جھجک انعم کے کمرے کی کھڑکی کی طرف اٹھی۔۔
زوہیب نے وہاں کھڑی انعم کو دیکھا تو انعم رخ موڑ گئ اور کھڑکی بند کردی ۔
زوہیب ایک مسکراہٹ کیساتھ گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی آگے بڑھادی۔۔

#

رجا ؟؟
رجا جو امنہ۔اور ارینا کیساتھ کینٹین کی طرف جارہی تھی۔۔
اپنے نام کی پکار پہ ایک دم پلٹی تو زارون کو کھڑا پایا۔۔
ہاں زارون بولو کیا ہوا؟؟
رجا کے بولنے پہ زارون گھٹنوں کے بل بیٹھا اور اپنے ہاتھ میں رنگ لے کے رجا سے کہا۔۔
I love you rija.
Will you Merry me??
زارون کی اس حرکت پہ جہاں رجا کی حالت عجیب ہونے لگی وہی پوری یونی زرارون کی اس حرکت پہ رجا اور زارون کے آس پاس جمع ہونے لگی۔۔
رجا کا زارون کی اس حرکت پہ خون کھول گیا۔
کیونکہ وہ زارون کو منع کرچکی تھی تو اس حرکت کا کیا مطلب تھا۔۔
رجا آگے بڑھی اور زارون کے ہاتھ سے رنگ لے کے دور اچھال دی اور وہاں سے چلی گئ۔۔
مجمع میں کسی نے رجا کی اس حرکت پہ افسوس کیا تو کسی کی زارون کا چہرہ دیکھ کے ہنسی چھوٹی ۔۔
زارون نے اپنی بے عزتی محسوس کیا اور رجا کے پیچھے گیا۔۔
رجا جو اب کینٹن کا ارادہ ترک کرکے لائبریری کی طرف جارہی تھی ۔اور اسکی دونوں دوستیں اسکا۔کینٹین میں ویٹ کررہی تھی۔۔
رجا لائبریری سے کتاب لے کے نکلی ابھی وہ تھوڑا دور ہی گئ تھی کے کسی نے اس کے منہ پہ ہاتھ رکھ کے دیوار سے لگایا۔۔
رجا کی آنکھیں خوف سے کھل گئی جب زارون نے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ ہٹایا۔۔
اور رجا نے زارون کے ہاتھ ہٹاتے ہی ایک زناٹے دار تھپڑ زارون کے منہ دے مارا۔۔
تم ہو ہی نہی دوستی کے قابل زارون خان مجھے گھن آرہی ہے کے کبھی میں نے تمہیں اپنا دوست سمجھا آج کے بعد میرے راستے میں آنے کی کوشش کی تو پرنسپل سےشکایت کرونگی تمہاری۔۔
یہ بول کے رجا جانے لگی جب زارون نے اسکی کلائی پکڑ کے موڑی اور اسکی پشت اپنے سینے سے لگاتے ہوئے کہا۔۔
بنوگی تو تم صرف میری رجا ہارون عزت سے نہی تو زبردستی سے ۔۔
اور بہت جلد تمہیں تمہارے اس ٹھپڑ کا جواب دونگا سود سمیٹ۔۔۔
یہ بول کے زارون نے رجا کو جھٹکے سے دور کیا اور چلا گیا۔
ادھر رجا زارون کا دھمکی بھرا لہجہ سن کے نیچے بیٹھتی چلی گئ۔۔

#