Qismat Ka Khel By Mariyam Khan Readelle50211 Last Episode Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode Part 1
صائمہ کی ڈیڈ باڈی کراچی پہنچی تو کہرام مچ گیا۔۔
نصرت بیگم تو ہوش میں ہی نہی اراہی تو ادھر ہارون نے چپ سادھ لی۔
ناعمہ اپنی ہم جوڑی کو کفن میں لپٹا دیکھ بس اسکا چہرہ ہی تک رہی تھی۔۔
ناعمہ نے ایک فون خرم کو بھی کیا صائمہ کی موت اسکے لیے بھی کسی سانحہ سے کم نہی تھی ۔۔
مگر ہارون نے کسی کا انتظار نہی کیا اور صائمہ کو لحد میں اتار دیا۔اکبر خان جو صائمہ کی موت سے غائب تھا مگر اسکی میت کو کاندھا دینے ضرور ایا۔۔
خرم جب تک کراچی پہنچا جب تک صائمہ مٹی کی آغوش میں جاچکی تھی۔۔ہارون نے خرم کو بہت مارا مگر وہ تو بس سکتے کی حالت میں تھا صائمہ اسے اتنی بڑی سزا دیے گی اپنا آخری دیدار سے بھی محروم رکھے گی ایسا تو اس نے سوچانہی تھا۔۔
اسفند تو صائمہ کے جانے کے بعد بستر سے لگ گیا۔اج صائمہ کی موت کو دس دن ہوچکے تھے ناعمہ نے ایک نظر بھی اسفند کو نگاہ اٹھا کے نہی دیکھا۔
رات میں ناعمہ اپنے ٹیرس پہ کھڑی تھی کے کسی کے رونے کی آواز سن کے اس نے ادھر ادھر دیکھا تو برابر والے ٹیرس پہ کوئ گھٹنوں پہ سر دیے رو رہا تھا۔۔
ناعمہ کے دل میں نجانے کیا سمائ کے وہ برابر والے کمرے میں گئ اور ٹیرس کا نظارہ دیکھ کے اسکی آنکھیں بھی بھیگنے لگی اسفند زارو قطار رو رہا تھا۔۔
ناعمہ نے جاکے اسکے گودھ میں بیٹھایا تو وہ ناعمہ کی شکل دیکھ پہلے تو حیران ہوا ۔۔
ناعمہ نے محسوس کیا اسے بہت تیز بخار ہے ناعمہ نے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرا تو وہ ماما کہتے ہوئے ناعمہ کے گلے لگ کے رونے لگا اور ساتھ میں کہنے لگا ماما آپ کہاں چلی گی تھی؟؟
اب تو نہی جائینگی اور یہ بول کے بیہوش ہوگیا۔۔
ناعمہ تو ماما لفظ سن کے ہی ساکن ہوگئ ایساتو اسے نے سوچا ہی نہی تھا کے اسفند کے ننھے سے دماغ میں اسکی ماما کے جانے کا واقع محفوظ ہوگا۔۔
ناعمہ نے اسفند کو احتیاط سے بیڈ پہ۔لیٹایا اور اسکے پاس سے جانے لگی جب خرم اندر آیا ناعمہ نے ایک نظر خرم کو دیکھا اور اسکے پاس سے جانے لگی جب خرم نے کہا۔
ناعمہ بات سنو؟؟
نام مت لو میرا اپنی زبان سے تم نے تو محبت کی تھی نہ میری بہن سے سے تو کیوں اس کیساتھ ایسا کیا کے وہ موت کی آغوش میں جاکے سو گئ۔
کیوں خرم کیوں؟؟
ناعمہ نے خرم کا کالر پکڑ کے چیخ کے کہا۔۔
مجھے نہی پتہ تھا ناعمہ میری خواہش میری زندگی برباد کردے گی میرے بچے کو موت کے منہ تک لے آئے گی یہ بولتے ہوئے خرم جھٹکے سے نیچے بیٹھ گیا۔
تم۔جانتے ہو خرم میری بہن نے صرف تم سے محبت کی تھی اکبر خان کبھی اسکے دل میں جگہ نہی بنا پایا مگر اتنا ضرور کہونگی کے اگر صائمہ سے کسی نے محبت کی ہے تو وہ اکبر خان نے کی ہے۔۔
تم نے صرف دکھاوا کیا ہے ۔
یہ بول کے ناعمہ جانے لگی جب خرم۔نے کہا۔
شاید اس لیہ مجھے محبت کا سکون نہی ملا کیونکہ میں تمہاری محبت نہی پہچان سکا تم بھی تو مجھ سے محبت کرتی ہو۔۔
خرم کے الفاظ تھے یہ کوئ سیسہ جو ناعمہ کے کان میں پگھلا تھا۔۔۔
ناعمہ ایک جھٹکے سے مڑی اور حیران نظروں سے خرم کو دیکھا اور کہا۔
تم۔۔مطلب یہ جھوٹ ہے تمہیں غلط فہمی ہوئ ہے !!
یہ بول کے ناعمہ جانے لگی جب خرم نے ایک بار پھر کہاانسان جھوٹ بول سکتا ہے مگر اسکے لکھے الفاظ نہی تمہاری ڈائری جو تم۔یہاں بھول گئ تھی مجھے صائمہ کی الماری میں سے ملی۔۔
میرے بچے کو بچا لو ناعمہ وہ مر جائے گا ہر رات وہ موت کے قریب ہوتا ہے کوئ دوا اسے اثر نہی کرتی ۔پلیز بچالو اسے ۔اج وہ تمہاری آغوش میں تمہیں ماں سمجھ کے ایا تو سکون سے سو گیا کیا تم ساری زندگی اسے ماں کا پیار دے سکتی ہو؟؟
خرم کی بات پہ ناعمہ کا دل بے ڈھرک اپنے دل پہ گیا اس نے ایک نظر سوئے اسفند پہ ڈالی اور کمرے باہر نکل گئ۔۔
دو دن تک وہ خرم کے پوچھے گئے سوال کے بارے میں سوچتی رہی ۔اور ادھر جب ناعمہ کے ہی کہنے پہ دائ جان نے خرم کیلیے ناعمہ کا ہاتھ مانگا تو ہارون نے صاف دائ جان اور خرم کو گھر سے نکل جانے کو کہا۔
مگر جب ناعمہ نے اپنی رضامندی دی تو ہارون نے صاف کہہ دیا کے اگر وہ یہ شادی کریگی تو اپنے میکے سے ہر تعلق توڑ بیٹھے گی۔اور ساتھ فاخرہ کو بھی کسی ایک۔کو چننے کو کہا۔۔
ناعمہ نے اسفند کو ماں کی چھاؤں دینے کا سوچا خرم کی زندگی میں شامل ہوگی ادھر فاخرہ نے بھی اپنے شوہر کا گھر چنا اور یو یہ دو گھر الگ ہوگئے۔۔
اسکے بعد جو ہوا اسسے تم۔واقف ہو۔۔۔۔
ناعمہ بول کے چپ۔ہوئ جب اسفند دیوانہ وار ناعمہ بیگم کے گلے لگ کے روتے روتے کہنے لگا ۔
۔مجھے معاف کردے ماما میں نے آپکا بہت دل دکھایا آپ کو بہت ہرٹ کیا مگر اپنے کبھی مجھے حقیقت کیوں نہی بتائ۔ماما کیوں میری بدتمیزی برداشت کی۔۔؟؟
کیونکہ تمہاری ماما مجھ سے بہت کرتی ہے اور نہی چاہتی تھی کے جب تمہیں سچائ کا علم ہو۔۔ تو تم۔مجھ سے نفرت کرو۔۔
پیچھے سے آتی خرم صاحب کی آواز پہ دونوں نے پلٹ کے دیکھا جو کافی عرصہ کے بیمار لگ رہے تھے۔
نہی پاپا میں آپ سے نفرت نہی کرسکتا جو ہوا وہ قسمت کا کھیل تھا آپکا اس میں۔ کوئ قصور نہی اور ماما مجھے پلیز معاف کردے ایک بار پلیز اسسفند دونوں کے گلے لگ کے بلک بلک کے رونے لگا۔۔
اسفند رجا کے ساتھ بھی تم وہی کرنے جارہے ہو جو میں نے تمہاری ماں کیساتھ کیا تھا۔۔
خرم کی بات پہ ناعمہ اسفند سے الگ ہوئ اور کہا۔
ہاں اسفند رجا بہت محبت کرتی ہے تم سے اور محبت کو ٹھکرانے والے کبھی خوش نہی رہتے ۔
۔ہم۔کل کراچی جارہے ہیں ماما آپکی آنکھوں والی آندھی بہو کو لانے۔۔
اسفند کے بولنے پہ سب کے چہروں پہ خوشی کی لہر ڈور گئ۔۔
دائ جان سمیت وہ لوگ کراچی رجا کے گھر پہنچے مگر جب انہیں یہ علم ہوا کے رجا نہی ہے تو اسفند کا تو مانو سانس رک گیا اور ادھر فاخرہ بیگم اپنی بیٹی پہ آپ بیتی سن کے بیہوش ہوگئ۔۔
جلد از جلد انہیں ہسپتال لے جایا گیا شدید ہارٹ اٹیک ہوا تھا انہیں مسلسل چار گھنٹے بیہوش رہنے کے بعد انہیں ہوش آیا انہوں نے روتے روتے ا ہارون سے یہ ناراضگی ختم کرنے کو کہا اسفند کو بھی وہ ۔معاف کرچکے تھے کیونکہ سب کے علم میں تھا کے رجا کہاں ہے سوائے اسفند کے ۔۔
ایک بار پھر وہ سب ایک ہوگئے تھے مگر جس کی وجہ سے ایک ہوئے تھے وہ نجانے کہاں چلی گئ تھی۔۔
جاری ہے۔۔
See translation
