55.7K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

آج رجا کا مایوں کا فنکشن تھا ۔
گلاب اور گنیدے کے پھولوں کو ملا کے پورا نصرت ولا سجایا گیا تھا۔۔
لبنہ اور جمیلہ بیگم سب مہمانوں کو دیکھ رہے تھے تو رجا کے ساتھ انعم موجود تھی۔۔
انعم کے ہاں خوشخبری تھی اس لیہ اس سے زیادہ کام نہی کروایا جا رہا تھا جبکہ آصف اور زوہیب نے بھائیوں کا حق ادا کیا۔
آج رجا کے سسرال والوں کو آنا تھا ۔گر بنا دولھا کے ۔۔
کیونکہ ہارون صاحب کی وجہ سے نصرت بیگم نے رجا کے سسرال والوں کو صاف منع کردیا تھا کے دولھے کو بارات والے دن ہی لایا جائے۔۔
رجا نے اپنے سسرال والوں کے بارے میں جاننے کی بلکل کوشش نہی کی وہ۔کسی گڑیا کی طرح بس بلکل چپ تھی۔۔
شام میں اسکی دونوں دوستوں۔ نے اسے تیار کیا ۔۔
ڈارک گرین اور یلو کلر کے فیش لہنگے میں سر پہ بھاری گوٹے کے کام کا ڈارک گرین کلر کا ڈوپٹہ اوڑھے پھولوں کا زیور پہنے رجا کی چھاپ کسی شہزادی کے جیسی تھی ۔مگر اسکے چہرے پہ خوشی کی کوئ رمک نہی تھی۔۔
اس کی دونوں دوستوں نے رجا کیساتھ ساتھ انعم کو بھی تیار کیا۔۔۔
مغرب کے بعد مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا ۔۔
اور ساتھ ساتھ رجا کے سسرال والے بھی اچکے تھے ۔۔
رجا کی ساس کا ہارون صاحب کے سامنے جا کے کھڑی ہوئ۔جہاں رجا کی ساس کی انکھیں ہارون صاحب کو دیکھ کر بھیگی وہی ہارون صاحب کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا ۔مگر جیسی کچھ یاد آنے پہ ہارون صاحب کے چہرے کے تاثر ایک دم سخت ہوئے اور وہ وہاں سے چلے گئے۔۔
نصرت بیگم بھی کسی کے گلے لگ کے بلک بلک کے رو پڑی مگر چاہ کے بھی کوئ شکوہ نہی کرسکی کیونکہ انکے ساتھ قسمت نے کھیل ہی ایسا کھیلا تھا ۔
اور دوسرے انکے بیٹے کی وجہ سے۔۔
رجا کو لال ڈوپٹہ کے سائے میں گارڈن میں لگے گیندے کے پھولوں سے سجے ہوئے جھولے پہ بیٹھایا گیا۔
سب سے پہلے رجا کے سسرال کے بڑوں نے رجا کی رسم کی باقی باری باری سب نے کری فاخرہ بیگم کے قدم خود بخود کسی کی طرف بڑھے سامنے بیٹھا شخص بھی یہ بات جان چکا تھا کے فاخرہ بیگم ان تک اراہی ہیں۔
کے جبھی سامنے سے ہارون صاحب آنکھوں میں غصہ لیہ فاخرہ بیگم کو دیکھنے لگے اور ایک بار پھر فاخرہ بیگم اپنے شوہر کے پیچھے سب بھول۔گئ۔۔۔۔
مایوں کا فنکشن ساتھ خیریت سے نبٹا تو اگلے دن بارات تھی ۔۔
صبح ہی رجاکے ہاتھوں میں مہندی لگ چکی تھی جسکا رنگ بہت گہرا آیا تھا۔۔
رجا اپنے کمرے میں موجود غور غور سے اپنے ہاتھوں کی مہندی دیکھ رہی تھی ایک آنسو ٹوتھ کے اسکی ہتیلوں میں گرا۔۔
آنے والی اسکی زندگی کیسی تھی کسی نہی اسے کچھ نہی پتہ تھا اسکا شوہر کیسا ہے ،اسکا سسرال کیسا ہے وہ کچھ نہی جانتی تھی بس وہ قسمت کے اس کھیل پہ حیران تھی ۔جس نے اچانک ہی اسکی زندگی بدل کے رکھ دی تھی۔۔
ابھی وہ اپنی سوچوں میں گم تھی کے دروازہ ناک ہوا نصرت بیگم اور فاخرہ بیگم کمرے میں آئ ۔
دونوں کو دیکھ کے رجا نے کوئ ریکشن نہی دیا۔
مایوں کے جوڑے میں وہ خوبصورت دلہن لگ رہی تھی۔ نصرت بیگم کو کسی کی یاد دلا گئ وہ تھی بھی تو اس جیسی سب کی لاڈلی مگر قسمت نے اسے ان سب سے دور کردیا۔۔
فاخرہ بیگم اپنی بیٹی کے پاس آئ اور غور غور سےرجا کے جھکے سر کو دیکھنے لگی اور پھر اچانک اچانک بلک بلک کے رو پڑی۔۔
ادھر نصرت بیگم کی آنکھیں بھی نم تھی۔۔
فاخرہ کے دماغ میں ہارون صاحب کے الفاظ گونجے انہوں نے رجا کو دھیرے گلے لگایا تو وہ بھی بلک پڑی ۔۔
جب فاخرہ بیگم کو نصرت بیگم نے الگ کیا اور خود رجا کے سامنے اپنی باہینں کھول دی۔۔
لاکھ ناراضگی صحیح مگر کل وہ اس گھر کو چھوڑنے والی تھی ۔۔
وہ ڈور کے نصرت بیگم کے گلے لگ کے روتے روتے کہنے لگی۔۔۔۔
دددیی مجھے کہی نہی جانا پلیز مجھے بچا لے میں اپکو چھوڑ کے کہی نہی جاونگی۔۔
رجا کے بلکتے وجود کو نصرت بیگم نے دلاسہ دیا اور کہا۔۔
رجا تمہیں پتہ ہے تم شادی کرکے کہاں جارہی ہو؟؟
نصرت بیگم کے پوچھنے پہ رجا نے نفی میں گردن ہلائی ۔جب نصرت بیگم نے کہا۔۔
آج میں تمہیں ماضی سے آگاہ کرونگی رجا کے تمہارا سسرال کون ہے ۔کہاں ہے کیسا ہے بس تمہارے دولھا کے بارے میں نہی بتاونگی ۔سوائے اس کے نام کے۔۔
نصرت بیگم نے جیسے ہی ماضی بتانا شروع کیا فاخرہ بیگم نے نصرت بیگم روکنا چاہا جب انہوں نے کہا۔۔
نہی فاخرہ آج مت روکو اسے حقیقت جاننے دو یہی وہ قسمت کی چابی ہے جو ہماری قسمت کا دروازہ کھول سکتی ہے ہمارے اپنوں کو دوبارہ ہم سے ملواسکتی ہے۔۔
پورا ماضی سننے کے بعد رجا کے آنسو نہہ رک رہے تھے ۔۔
نصرت بیگم۔نے صرف اتنا کہا ۔۔۔
رجا کچھ حالات ایسے ہوئے کے دوبارہ ٹھیک نہی ہوئے جو تم وہاں جاکے ٹھیک کروگی کیسے یہ تم۔جانو بس مجھے میرا پورا خاندان دوبارہ چاہیے۔۔
دددییی کوشش میں پوری کرونگی باقی سب قسمت کا کھیل ہے ۔۔
!!!!!!!!
ڈارک ریڈ کلر کے راجھستانی شرارے میں رجا کسی اپسرا سے کم نہی لگ رہی تھی۔۔
انعم بھی بلیک ساڑھی میں غضب ڈھا رہی تھی جب پارلر والی نے انکے ڈرائیور کا آکے بتایا۔۔
گاڑی ہوٹل کی۔طرف گامزن تھی جب ایک اور گاڑی نے انکی گاڑی کو فالو کیا۔۔
اس سے پہلے وہ گاڑی رجا کی گاڑی کو اوور ٹیک کرتی۔۔
ایک گاڑی ایک جھٹکے سے اس گاڑی کے آکے رکی۔۔
جو رجا کی گاڑی کو فالو کررہی تھی۔۔
رجا کہ گاڑی تقریبا آگے بڑھ چکی تھی۔۔
جب دوسری گاڑی میں سے زارون باہر نکلا ۔اس سے پہلے وہ اپنی گاڑی کو فالو کرتی گاڑی تک پہنچتا ۔۔گاڑی کا گیٹ کھلا اور اس میں سے خان صاحب باہر نکلے جیسے دیکھ کے زارون شاکڈ رہ گیا۔۔
ڈیڈ یہ آپ تھے ؟؟
کیوں کررہے تھے آپ مجھے فالو۔۔
آپ کی وجہ سے اسکی شادی ہوجائے گی ڈیڈ پلیز مجھے جانے دے ۔۔
اسکی شادی ہوچکی ہے نکاح شدہ ہے وہ اتنی سےبات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی زارون۔۔
خان صاحب کی ڈھار سے دو منٹ کیلیے زارون ڈرا مگر پھر کہا۔۔
وہ صرف میری ہے ڈیڈ میں اسے حاصل کرکے رہونگا یہ بول کے زارون دوبارہ اپنی گاڑی میں بیٹھنے لگا جب خان صاحب نے اپنے گارڈ کا اشارہ کیا اور اس نے زارون کے پیچھے سر پسٹل کا بسٹ مارا اور وہ بیہوش ہوگیا۔۔
جب سے خان صاحب نے رجا کیلیے زارون کا جنون دیکھا تھا وہ بھی یہ جاننے کے باوجود زارون کے کے وہ نکاح شدہ ہے وہ ڈر گئے تھے ۔وہ نہی چاہتے تھے کے انکا بیٹا زندگی بھر اس پچھتاوے کی طرح زندگی گزارے جو وہ گزار رہے ہیں ۔وہ نہی چاہتے کے انکا بیٹا بھی کسی کو زبردستی اپنی زندگی میں شامل کرے۔۔
دو دن پہلے جب زارون اپنے دوست کو پلین بتا رہا تھا کے رجا کو پالر سے اغواہ کے کرکے اس کے گھر والوں پہ پریشر ڈالے گا کے رجا کی طلاق کروائے ۔۔
ایسا ہونے کے بعد وہ رجا سے نکاح کرتا مگر خان صاحب جو اس کے پلین سے واقف تھے انہوں نے زارون کا پلین فیل کردیا۔۔
!!!!!!!!!
رجا ڈریسنگ روم میں بیٹھی جب بارات آنے کا شور اٹھا۔۔
اس کی دونوں دوستیں دولھے کی تعریفوں کے پل رجا کے سامنے باندھنے لگی مگر رجا نے کوئ خاص ریکشن نہی دیا۔۔
سارے حال کی لائٹیں بند ہوئ اور ایک۔فوکس لائٹ اسٹیج کی طرف جاتی ہوئ رجا پہ پڑی۔۔
اسٹیج پہ بیٹھا رجا کا دولھا جو بیزاریت سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا رجا کو دیکھ کے جہاں سکتے میں آیا وہی اسکو رجا کو دیکھ کے یقین نہی ایا۔۔
رجا اسٹیج پہ چڑھنے لگی جب اس کے دولھا نے اسکے آگے ہاتھ کیا۔
رجا نے کرب سے اپنی آنکھیں بند کی اور بنا اپنے دولھے کی طرف دیکھے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ میں دیا ۔۔
اسکے دولھے نے ہلکا سا اسکا ہاتھ دبا کے اسے اسٹیج پہ چڑھایا۔
رجا اسٹیج میں بیٹھی جب اسکے دولھے نے رجا کی۔طرف جھک کے ہلکی سی سرگوشی کی۔۔
“کسی ہو میری آنکھوں والی آندھی بیوی ویسے غضب ڈھا رہی ہو””
یہ آواز سن کے رجا کا دل زور سے ڈھرکا اس نے گردن گھما کے جب اپنے دولھا کو دیکھا تو ساکن رہ گئ اور ادھر اسفند اپنی قاتل مسکراہٹ کیساتھ اسکے حسین سراپے کو اپنی نظروں سے اپنے دل میں اتار رہا تھا۔۔
جاری ہے۔۔