55.7K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

خرم صاحب اٹھے تو ناعمہ بیگم نہا کے نکلی اور جلدی جلدی آئینہ کے سامنے کھڑے ہوکے بالوں میں ہیر برش چلانے لگی تبھی انکی نظر شیشیہ میں سے اپنے شوہر پہ پڑی جو فرصت سے انہیں دیکھنے میں مگن تھے۔۔
ناعمہ بیگم بال بنا کے پلٹی اور بلینکٹ طے کرتے ہوئے خرم صاحب کا دیکھا جو ابھی تک جو کے تو ناعمہ بیگم کو دیکھنے میں مگن تھے جب انہوں نے خرم صاحب سے پوچھا۔۔
کیا بات ہے بہت غور غور سے دیکھ رہے ہیں اج؟؟
دیکھتا تو میں روز ہو تمہیں مگر تم ہو کے جان کے نظر انداز کرتی ہو۔۔خرم صاحب نے بنا نظریں ہٹائے ناعمہ بیگم کو جواب دیا۔۔
ناعمہ خرم صاحب کے سامنے آکے بیٹھی اور کہا۔
سالوں پہلے اپنے مجھے نظر انداز کرا تھا خرم میں نے پھر آپکا ساتھ قبول کیا ہے اور دل سے کیا ہے ۔۔
اب آپ بدگمان ہو تو آپ بتائے میں ایسا کیا کرو جس سے اپکو یقین اجائے کے میں اپکو نظر انداز نہی کرتی دل سے آپکی عزت کرتی ہو۔۔
یہ بول کے ناعمہ جانے لگی جب پیچھے سے خرم نے کہا۔۔
اور محبت؟؟؟
ناعمہ بیگم نے بنا پلٹے ہی کہا۔۔۔
عورت اپنی پہلی محبت کبھی نہی بھولتی خرم اور آپ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں میری پہلی محبت کون ہے۔۔
یہ بول کے ناعمہ بیگم کمرے سے باہر نکلی اور ادھر خرم صاحب نے کرب سے اپنی آنکھیں بند کی ۔۔۔
جانے انجانے میں خرم صاحب دو زندگیوں سے کھیل چکے تھے۔۔

#

سب ہی ناشتے کی ٹیبل پہ بیٹھے خاموشی سے ناشتا کررہے تھے ۔اج سنڈے تھا ۔گھر کے سب ہی فرد گھر میں موجود تھے۔۔
جب دائ جان نے اسفند کو پکارا۔۔
اسفی؟؟
جوس پیتے اسفی نے دائ جان کی پکار پہ کہا۔۔
جی مائے سوئٹ لیڈی ۔۔
اسفند کو خوشگوار موڈ میں دیکھ کے سب ہی نے چونک کے اسفند کی طرف دیکھا جب حنا نے کہا۔۔
کیا بات ہے بھائ آج تو اب بڑے خوش ہیں ؟؟
کہی میری بھابھی تو نہی ڈھونڈ لی؟؟
حنا نے تو معمولی سا سوال کیا جس پہ اسفند کھل کے مسکرایا تھا۔۔
مگر وہاں بیٹھے تین نفوس کو حنا کی بات سن کے سانپ سونگھ گیا۔۔
ناعمہ بیگم نے فورا دائ جان کی طرف دیکھا ۔۔
اسفند نے حنا سے کہا۔
ارے نہی میری گڑیا ابھی کہاں سے بھابھی لاو پتہ نہی وہ کہاں ہوگی۔ہاں مگر جب بھی مجھے ملے گی سب سے پہلے اپنی بہن سے ملواونگا۔۔
یہ بول کے اسفند نے قہقہ لگایا جب دائ جان درمیان میں بولی۔۔
مطلب ہمارا اسفی اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کرے گا اپنی دائ جان کی پسند سے نہی؟؟
ارے نہی نہی دائ جان یہ زمیداری آپ پر ہی ہے مگر یاد رکھیے گا پسند صرف آپکی ہو اوروں کی نہی۔
یہ بول کے اسفند نے نفرت سےناعمہ بیگم کو دیکھا جنکا ہاتھ اسفند کی بات سن کے پل بھر کو رکا تھا۔۔
خرم صاحب نے جیسے ہی اسفند کو جواب دینے کیلیے منہ کھولا ناعمہ بیگم نے فورا انکے ہاتھ پہ دباؤ ڈال کے انہیں کچھ بھی کہنے سے روکا۔۔
تو پھر بھائ آج اپکے اتنے اچھے موڈ کی وجہ؟؟
حنا نے پھر پوچھا۔۔
ارے میری گڑیا کراچی میں بہت بڑی کار ریسنگ ہونے والی ہے جس میں میں سیلکٹ ہوگیا ہو اگلے ہفتے مجھے کراچی جانا ہے ۔۔
اور جو وہ ریس جیتے گا اسکا نام انٹرنیشنل ریسنگ میں ڈالا جائے گا جہاں کئ ممالک کے ریسر آئینگے ۔۔
حنا اور اسفند آپس میں باتوں میں مشغول تھے ۔جبکے کراچی کا نام سن کے ناعمہ بیگم نے بہت غور سے خرم صاحب کا چہرہ دیکھا جو کراچی کا نام سن کے پل بھر کیلیے ساکن ہوا۔تو ادھر دائ جان بہت کچھ سوچتی ہوئ ٹیبل پہ سے اٹھی انہیں بہت جلد اپنے سالوں پہلے کیہ گئے فیصلے کو پایہ تکمیل تک پہنچانا تھا۔۔

#

اسفی یہ ریس ہمیں ہی جیتنی ہے یاد ہے نہ تجھے۔۔۔
زاہد نے بھر پور اسفی کو مسکا لگاتے ہوئے کہا۔۔
اسفند کراچی کے ریسنگ ٹریک پہ اپنی کار کے ساتھ کھڑا تھا اور بہت سی گاڑیاں اس ڈور میں شامل تھی ۔۔
زاہد اور مظہر دونوں ہی اس ریسنگ میں اسکا
ساتھ دینے آئے تھے مگر کار میں اسکے ساتھ مظہر بیٹھ رہا تھا کیونکہ زاہد کو ان پانچ لاکھ روپوں سے مطلب تھا جو جیت پہ انعام کے طور پہ دیا جانا تھا۔۔
کار کی ریس شروع ہوچکی تھی ۔۔مختلف علاقوں سے گھومتے ہوئے کاروں کو اپنی مطلوبہ جگہ پہ پہنچنا تھا۔۔
اسفند کی کار اپنی منزل کی طرف گامزن تھی جب اچانک کار کے سامنے ایک لڑکی ا گئ اور اسفند نے گاڑی کو موڑنا چاہا مگر گاڑی غلط موڑ کی وجہ سے فٹ پاٹھ پہ چڑھ کے درخت سے تکرا گئ۔۔
اور ادھر وہ لڑکی روڈ پہ سے کاغذ اٹھا کے صاف کرنے لگی جب اسکی دوست نے اسے آکے کہا۔
ارے یار جانے دیتی کاغذ شعر ہی تو لکھا تھا۔۔
آئ ہاے کیسے جانے دیتے فلم سے چرایا تھا شعر ۔۔
وہ دونوں اپنی باتوں میں مگن تھے اور ادھر اسفند گاڑی سے دھواں نکلتا دیکھ اس لڑکی طرف غصہ سے بڑھا مگر مظہر نے اسے روک دیا مگر لڑکی کی بات سن کے اسفند نے ایک خونخوار نظر اس پہ ڈالی اور دوبارہ اسکی طرف بڑھا مگر زاہد کی آتی کال نے اسکو روک دیا۔۔

#

ارے واہ رجا تو نے کب لکھا یہ شعر کونسی فلم سے لیا ۔۔
رجا ،امنہ اور ارینا آج تھوڑی شاپنگ کے بعد کافی شاپ میں بیٹھے تھے جو اوپن ایریا میں تھا ۔
ارے یار شاہ رخ خان کی فلم تھی ۔۔
ایک دم رجا کے ہاتھ سے کاغذ اڑ کے میںن روڈ پہ جا گرا رجا اپنی دھن میں ہی وہ کاغذ اٹھانے چلی گئ یہ سوچے بغیر کے کسی کی زندگی کا بہت بڑا مقصد وہ اس فالتو کے کاغذ کو بچانے میں برباد کرچکی۔۔

#

یار بس کردے اسفند دیکھ اتنا اچھا کھانا ہے کھانا تو ٹھنڈے دماغ سے کھا اب جو ہوچکا وہ ہوچکا۔۔
مظہر اسفند کو لے کے میرٹھ ہوٹل آیا تھا ڈنر پہ ۔مگر زاہد نہی آیا اس نے جی بھر کے رجا کو بدعائیں دی اور اپنے 5لاکھ نہ ملنے پہ دیوداس بنا ہوٹل میں ہی رکا تھا۔۔
بس کردو میں مظہر ؟؟یہ تو بول رہا ہے یہ جانتے ہوئے بھی کے وہ ریس میرے لیہ کتنی امپورٹڈ تھی ۔
جو ایک فضول سی لڑکی کے ایک فضول سے کاغذ کی وجہ سے اور کاغذ بھی وہ جس پہ۔کسی سڑی ہوئ فلم کا شعر لکھا تھا برباد ہوگئ ۔۔
میرے تو بس نہی چل رہا کے کہہی سے وہ لڑکی ملے اور میں اسکے منہ پہ اپنے ہاتھ سے شعر لکھ دو یہ بول کے اسفند نے سگریٹ نکال کے جیسی ہی جلائ ایک دم اسفند کے اوپر پانی سے بھرا جگ گرا ۔۔
اسفند نے ہونقوں کی طرح پہلے اپنے حلیے کو دیکھا اور پھر اپنے ہاتھ میں پانی میں لت پت سگریٹ کو ۔۔
اسفند کا حلیہ دیکھ کے نہ چاہتے ہوئے بھی مظہر کا قہقہ گونجا ۔
اسفند جیسی غصہ میں کھڑا ہوا تو جس ویٹر سے پانی کا جگ اسفند پہ گرا وہ معزرت کرنے لگا۔وہ کوئ ایجڈ ویٹر تھا ۔اسفند نے اپنا غصہ کنٹرول کیا اور کہا۔۔
انکل دیکھ کے تو چلتے آپ ۔۔یہ بولتے ہو اسفند کا لہجہ کافی نرم تھا۔۔
یہ بول۔کے اسفند ایک بار پھر اپنے گیلے کپڑوں کو دیکھنے لگا جب ویٹر نے کہا۔۔
بیٹا میں تو اس لڑکی کے پیچھے بہت آرام سے چل رہا تھا ۔اتنی زور سے اس نے اپنا دوپٹہ بنا دیکھے پیچھے پھیکا کے اسکا پلو سیدھا جگ پہ لگا اور جگ تم پہ گرا۔۔
ویٹر کے اشارے کرنے پہ جب اسفند نے لڑکے کے تعاقب میں دیکھا تو اسکے لبوں پہ ایک دلفریب۔ مسکرائٹ آئ اور اس نے کہا۔۔
آج اگر تمہیں آگے پیچھے دیکھ کے چلنا نہی سیکھایا تو میرا نام بھی اسفند خرم نہی۔
یہ بول کے اسفند گیلے کپڑوں کیساتھ ہی کھانا کھانے بیٹھ گیا جبکہ نظریں اسکی مسلسل سامنے ٹیبل پہ بیٹھی لڑکی پہ تھی جو اپنی فرینڈ کا بڑتھ دے سلیبریٹ کررہی تھی۔۔
تو ادھر مظہر اس لڑکی کو دیکھ کے صرف افسوس کرسکا کیونکہ ایک بار تو وہ اسفند کو قابو کرچکا تھا اس لڑکی کی وجہ سے ریس ہارنے پہ مگر آج ناممکن تھا۔۔
اور رجا جو دو بار انجانے میں ہی اسفند سے ٹکرا کے اسکو اپنا دشمن بنا چکی تھی ۔خوشی خوشی اپنی دوست کا برتھ ڈے سلیبریٹ کررہی تھی۔۔۔
۔۔
آج آمنہ کا برتھ ڈے تھا جسکو سلیبریٹ کرنے وہ لوگ میرٹھ آئے تھے۔۔
رجا جیسی ہی پارکنگ ایریا میں پہنچی اپنی ہی دھن میں چل رہی تھی جب کسی چیز سے لڑکھڑائی اس سے پہلے وہ گاڑی کے مرر پہ گرتی اسفند نے اسکی کلائی تھام کے اسے دیوار سے لگایا۔۔
رجا بلی کے بچے کی طرح آنکھیں بند کری ہوئ تھی ۔رجا کو اس حالت میں دیکھ کے اسفند دو پل کیلیے ساکن رہ گیا وہ یہ بھی بھول گیا کے اس نے کس مقصد کیلیے رجا کو گرا یا تھا۔۔۔
جب رجا نے محسوس کیا کے وہ کسی کی گرفت میں تو اس نے اپنی آنکھیں کھولی مگر سامنے جو چہرہ تھا وہ نقاب میں تھا مگر اسکی لائٹ گرین آنکھیں رجا کا دل ڈھرکا گئ ۔۔وہ بہت غور سے ان آنکھوں کو دیکھ رہی تھی اور یاد کرنے کی کوشش کررہی تھی کے اس نے یہ آنکھیں اتنی قریب سے کہاں دیکھی ہیں۔۔
جب اچانک اسکی دوستوں کی آوازیں آئ جو اسکا نام لے کے پکار رہی تھی۔۔
ایک دم دونوں کا سکتہ پل بھر میں توٹا اور اسفند جو اپنا چہرہ چھپا کے آیا تھا تاکہ رجا کو دھمکا سکے دھیرے سے رجا سے الگ ہوا اور کہا۔
اللہ نے جو یہ تمہیں اتنی بڑی بڑی آنکھیں دی ہیں نہ انکا استعمال کرکے چلا کرو۔۔ کیونکہ یہ دینا تمہارے پاپا جانی کی نہی ہے جہاں تم اندھا دھند چلتی ہو دو بار تم میرا بہت بڑا نقصان کرچکی ہو آنکھیں ہونے کے باوجود لہزا آج کے بعد کسی ہوٹل میں یا میں روڈ پہ اپنی ان آنکھوں کا استعمال ضرور کرنا ورنہ اگلی بار اگر تم میرے راستے میں آئ آنکھیں ہونے کے باوجود اندھی بن کے تو پھر میں تمہیں بھر پور طریقہ سے چلنا سیکھاونگا وہ بھی دیکھ کے چلنا ۔۔
یہ بول کے اسفند تیزی سے وہاں سے چلاگیا۔
جبکہ رجا ابھی تک ان لائٹ گرین آنکھوں میں گم تھی چاہ کر بھی وہ یہ یاد نہی کرپائ کے یہ آنکھیں اس نے اتنی قریب سے پہلے کہاں دیکھی۔۔
جاری ہے۔۔