Qismat Ka Khel By Mariyam Khan Readelle50211 Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
رجا بنا پلک جھبکائے اسفند کو دیکھنے لگی۔
یہ کیسا کھیل تھا قسمت کا جس شخص سے وہ سخت چڑتی تھی وہی اج اسکا مجازی خدا بنا بیٹھا تھا۔
تو دوسری طرف اسفند کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا جہاں وہ رجا کو دلہن کے روپ میں دیکھ کے حیران تھا وہی خوش ۔۔
باری باری سب ہی ان چاند ستارے کی جوڑی سے ملنے اسٹیج پہ ائے۔۔
اسفند کی ڈارک بلیک کلر کی شیروانی اس پہ ریڈ کلر کا خلا اسے ایک الگ ہی جہاں کا انسان دیکھا رہا تھا۔۔۔۔
ہر کوئی رجا کی قسمت پہ رشک کررہا تھا۔۔
دددیی جب اسٹیج پہ ملنے آئ اسفند سے تو اسفند انہیں دیکھ کے یاد کرنے کی۔کوشش کرنے لگا کے کہاں کس ٹائم وہ یہ چہرہ دیکھ کے خوش ہوتا تھا۔۔
مگر 23 سال پرانی بات وہ چاہ کرکے بھی یاد نہی کرپایا۔۔
رخصتی کا شور اٹھا سب ہی رجا کے گلے لگ کے رو پڑے یہی حال رجا کا بھی تھا کیونکہ فاخرہ بیگم اسے ہارون صاحب کی شرت کا بتایا جیسے سن کے وہ اور بلک پڑی مگر اس نے خود سے عہد کرلیا تھا کے وہ اس بار قسمت کا کھیل بدل کے رہے گی۔۔
رجا گاڑی میں بیٹھ چکی تھی ۔۔اسفند بیٹھنے لگا جب ہارون صاحب اس کے پاس آئے اسے گلے سے لگایا اور کہا۔۔
شکل میں تم بلکل اپنے باپ پہ گئے ہو مگر حرکتیں وہ نہی کرنا رجا میری اکلوتی بیٹی ہے اسکا خیال رکھنا۔
یہ بول کے ہارون صاحب نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اسفند اس میں کچھ پریشانی کے عالم میں بیٹھ گیا۔
ایک کے پیچھے ایک گاڑی نکلی اور رجا نصرت ولا کو ویران کرگئ۔۔ہارون صاحب کیسی ہارے ہوئے جواری کی طرح کافی دیر گاڑیوں کو دیکھتے رہے ۔۔جب فاخرہ بیگم نے ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔۔ہارون نے اپنی آنکھیں بند کی تو چند آنسو ٹوتھ کے گرے ۔۔
ہارون صاحب نے پلٹ کے فاخرہ بیگم کو دیکھا اور کہا۔
میری رجا کے ساتھ ماضی میں ہوا کوئ بھی حادثہ دہرایا گیا۔تو اس بار خرم کے خاندان کا نام ونشان مٹا دونگا۔۔
یہ بول کے ہارون صاحب اندر بڑھ گئے جبکہ کچھ ایسا ہی حال فاخرہ بیگم کا بھی تھا۔۔۔
!!!!!!
رات وہ لوگ ہوٹل میں روکے اور صبح کی فلائٹ سے آسلام آباد پہنچ گئے۔۔
رجا کافی تھک چکی تھی ۔اسفند نے بھی فلحال اسے تنگ کرنا مناسب نہیں سمجھا ۔۔
اگلے دن اسفند کی آنکھ کھلی تو رجا صوفے پہ۔اڑی ترچھی لیتی تھی۔۔
یہ۔دیکھ کے اسفند کی ماتھے پہ بل پڑے اور اس نے رجا کو باہنوں میں اٹھا کے بیڈ پہ لیٹانے لگا کے اسفند کی نظر اس کے گلابی ہونٹوں پہ پڑی ۔۔کچھ یاد آنے پہ اسفند کی لائٹ گرین آنکھیں چمکی ہونٹوں پہ۔دلدرہب مسکراہٹ آئ اور وہ رجا کے لبوں پہ جھک گیا۔۔۔
کچھ رشتہ کا تقاضہ تھا کے اسفند نے اسکے وجود کو مکمل اپنے حصار میں لے لیا شرٹ نیچے کرکے اس نے رجا کو چومنا شروع کیا۔
رجا جو تھکن کی وجہ سے گہری نیند میں تھی ۔اپنے اوپر دباؤ محسوس کرکے اانکیھں کھول کے اپنے اوپر جھکے سر کو دیکھ کے ایک دم ڈری اور فورا چیخ ماری۔۔
اسفند جو بے خودی میں گم تھا۔۔رجا کی چیخ مارنے پہ ہوش میں آیا ۔۔
رجا نے دھکا دے کے فورا اسفند کو خود سے دور کیا جب اسکی نظر اپنی شرٹ پہ گئ جو کندھے سے کافی نیچے تھے۔۔
رجا نے فورا اپنی شرٹ ٹھیک کی اور اسفند کو غصہ سے گھورتے ہوئے کہا۔۔
کیا کررہے تھے تم میرے ساتھ بیہودہ ادمی۔؟؟
اسفند جو ابھی تک یہ سمجھنے کی۔کوشش کررہا تھا کے اسکے ساتھ ہوا کیا رجا کے آدمی کہنے پہ ایک ائئیبرو آچکا کے رجا کو دیکھا اور اپنے دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ کے لڑاکا عورتوں کی طرح رجا کوگھورتے ہوئے کہا۔
اوہ ہیلو آنکھوں والی آندھی میں کس اینگل سے تمہیں آدمی لگتا ہو؟؟
اسفند تو مانو صدمے میں تھا خود کو آدمی کہنے پہ۔
تو کیا ننھے کاکے ہو یہ ابھی بھی فیڈر پیتے ہو۔رجا جسکی نیند اڑن چھو ہوچکی تھی وہ بھی دو دو ہاتھ کرنے اسفند سے بیڈ سے نیچے اتر چکی تھی۔۔
جب ایک لڑکے کی شادی ہوتی ہے تو وہ آدمی بن جاتا ہے ۔
رجا نے اسفند کو دیکھ کے ایسے کہا جیسے بہت بڑی انفارمیشن سے اسفند محروم تھا جو رجا نے اس تک پہنچائ۔۔
اچھا یار یہ بات تو مجھے پتہ نہی تھی ۔اسفند نے کمال حیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے رجا کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
ہاں تو ۔۔رجا نے بھی اس پہ احسان کرنے والے انداز پہ کہا۔
اچھا اور لڑکا شادی کے بعد آدمی کیسے بنتا ہے ؟؟
یہ سوال پوچھ کے اسسفند نے جہاں اپنی مسکراہٹ چھپائ وہی معصومیت سے رجا کو دیکھا۔۔
لڑکا آدمی جب بنتا ہے جب وہ۔۔رجا جو اپنی ہی دھن میں بولے جارہی تھی آگے کی بات کرتے رکی
جب وہ!؟؟
اسفند نے یہ کہہ کے رجا کو دیکھا جو اپنی ہی باتوں میں الجھ کے نروس سی کھڑی تھی۔۔
اسفند دھیرے سے رجا کے پاس آیا ۔۔
اسکو کمر سے تھام کے اسکی شہہ رگ پہ اپنے لب رکھے ۔ تھوڑی دیر بعد۔۔۔
دوبارہ اسکے لبوں پہ جھکا ۔۔رجا جو بت بن کے کھڑی تھی ۔اسفند کی اس حرکت پہ ہوش میں آئ اور کہا۔۔
پیچھے ہٹو دور رہو مجھ سے گندے انسان ۔۔
یہ بول کے رجا نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے ہونٹ رگڑ ڈالے۔۔
اسفند نے ایک نظر اسے دیکھا اور کہا۔۔
عادت ڈال لو کیونکہ یہ گندا انسان روزانہ تمہیں اس گندی سے نوازنے والا ہے اور آج ولیمہ کے بعد فرصت سے بتاؤنگا کے میں آدمی ہو کے نہی۔۔۔۔
یہ بول کے اسفند نے رجا کے دونوں گالوں کو باری باری چوما اور نیچے دائ جان سے ملنے چلاگیا
اسلام وعلیکم۔۔۔
دائ۔جان اسفند نے جوش سے دائ۔جان۔کے گلے لگ
کے انہیں سلام کیا
نور جہاں بیگم جو اسفند کے رویہ سے پریشان تھی بول پڑی۔۔
تم تو راضی نہی ہورہے تھے ہمارے ہزار قسموں کے باوجود رجا سے نکاح کرنے پہ اور اب دیکھو کیسا چہرہ گلنار ہورہا ہے جیسے بہت بڑی لاٹری ہاتھ لگ گئ ہو۔
نور جہاں بیگم نے حیرانگی سے اسفند کو دیکھ کے کہا۔۔
کیونکہ جب نصرت بیگم کی کال آنے کے بعد اسفند کو دائ جان نے یہ بولا کے تمہارا نکاح بچپن میں اپنی کزن سے ہوچکا ہے ۔۔
تو اسفند ہتھے سے اکھڑ گیا تھا ۔۔۔بہت مشکل سے اس نے یہ شادی کرنے کی حامی بھری تھی ۔
ارے میری سوئیٹ دائ جان اب میری دلہن اتنی بھی بری نہی کے میں اسے دیکھ کے منہ بناؤ ۔۔
اسفند کی بات پہ دائ جان نے ایک لمبی سانس لی اور کہا۔۔
تمہیں پتہ ہے اسفند رجا تمہاری رشتہ میں کیا لگتی ہے۔؟؟
کہاں دائ جان اسوقت بھی میں نے آپ سے پوچھا تھا مگر اب بات گھما گئ ۔
اسفند رجا تمہارے ماموں کی بیٹی ہے اور ناعمہ اسکی پھپھو ہیں۔۔اور رجا کی امی یعنی تمہاری ساس ۔۔تمہاری پھپھو۔۔۔۔
دائ جان کے اس انکشاف پہ اسفند چکرا کے رہ گیا اب اسے وہ لقب یاد آیا کے اسے گرین انکھوں والا مونسٹر کون بولتا تھا ۔۔
یعنی اسکی محبت اسکی پچپن کی ساتھی ہے یعنی اللہ نے بہت پہلے اسے اسکے نصیب میں لکھ دیا تھا ۔
مگر دائ جان ہم کبھی ماموں کے گھر نہی گئے؟؟ نہ مجھے انکا چہرہ یاد تھا؟؟
۔۔نہ وہ کبھی ہمارے گھر آئے کیوں نہ کبھی پھپھو گھر آئ ؟؟؟
اس سے پہلے دائ جان اسے کچھ بتاتی اسفند کے نمبر پہ مظہر کی کال آنے لگی۔۔
اسفند وہ سننے باہر گیا جب اسکی نظر سیڑھیوں سے اترتی رجا پہ پڑی۔۔
جو ریڈ کلر کے بی جیز کے سوٹ پہ ہلکے ہلکے میک اپ میں غضب ڈھا رہی تھی۔۔
اس نے بنا اسفند پہ نظر ڈالے کچن کی راہ لی۔۔
کچن میں ناعمہ بیگم ماسی کو ناشتہ کی ہدایت دے رہی تھی۔۔
جب رجا نے انہیں کہا ۔
اسلام وعلیکم پھپو۔۔
ناعمہ بیگم۔جو اپنے کام میں مصروف تھی رجا کی آواز پہ ایک دم پلٹی مگر رجا کے آخری کے الفاظ پہ وہ کسی سن کی کیفیت میں رجا تک آئ اور پوچھا۔۔
کیا کہا تم نے مجھے رجا؟؟
ناعمہ بیگم کے پوچھنے پہ رجا دھیمے سے مسکرائ اور کہا۔
پھپھو ۔۔۔
یہ سن کے ناعمہ بیگم کی آنکھیں بھیگنے لگی اور انہوں نے بلا جھجک رجا کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے۔۔
تم۔جانتی ہو ہمارا رشتہ؟؟
ناعمہ بیگم نے حیران ہوکے رجا سے پوچھا۔۔
ہاں پھپو میں سب جانتی ہو دددیی نے مجھے ماضی کے ایک ایک پنوں سے متعارف کروایا کے بس اس گرین آنکھوں والے مونسٹر کا نہی بتایا تھا۔۔
رجا کے آخری جملے پہ ناعمہ بیگم قہقہ گونجا اور انہوں نے کہا۔
پتہ ہے بچپن میں تم اسفند کے بنا کھانا تک نہی کھاتی تھی اور جب وہ باہر ملک گیا تھا پڑھنے اس وقت تو تم نے آسمان سر پہ اٹھا لیا تھا ۔۔
مگر پھر آگے کی بات بولتے بولتے ناعمہ بیگم رک گئ جب رجا نے کہا۔
آپ فکر نہی۔کرے پھپھو سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔
ہمم انشاءاللہ ۔۔
اچھا تم۔جاو اسفند کو بولا لاو ناشتہ تیار ہے …
جی میں بلاتی ہو۔۔
رجا کچن سے نکل کے جانے لگی جب اسے اسفند باہر سے آتا دیکھائی دیا۔
بلیک کلر کی سادہ سی قمیض شلوار میں اسفند بلا شبہ وہ کسی کو بھی گھائل کرنے کا ہنر رکھتا تھا۔۔
رجا کو دیکھ کے وہ رکا جب رجا نے اسے ناشتہ کا بولا اور خود بی جان کے کمرے میں انہیں سلام کرنے چلی گئ۔۔
جاری ہے۔۔۔
