Qismat Ka Khel By Mariyam Khan Readelle50211 Episode 26 Pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 26 Pt.2
ارے میں بول رہا تھا پرسوں میری برتھ ڈے ہے آجانا اسفند کیساتھ ۔۔
تو منع کررہی ہے آپکی بیگم۔۔
یہ بول کے زارون نے رجا کی طرف دیکھا جو اسفند کی طرف دیکھ رہی تھی ۔رجا نے جیسی ہی کچھ کہنا چاہا۔۔
اسفند بول پڑا ارے یار ضرور آئینگے تم نے آج میری جان بچا کے جو مجھ پہ احسان کیا ہے وہ کوئ چھوٹی بات نہی ہم ضرور ائئنگے۔۔
شکریہ یار بہت بہت اور یہ احسان کا لفظ استعمال مت کرو تمہاری جان بچانے کیلیے اللہ نے مجھے بھیجا تھا۔
اور دوستی میں احسان جتایا نہی جاتا یہ بول کے زارون نے اسفند کی طرف ہاتھ بڑھایا جو اسفند نے مسکراکے تھام لیا۔۔
زارون کے جانے بعد اسفند اور رجا نے کھانا کھایا کھانے کے بعد اسفند کچن سمیٹنے لگی اور اسفند کیلیے دودھ اور میڈیسن لے کے کمرے میں آئ تو اسفند دائ جان سےبات کررہا تھا ۔۔
رجا خاموشی سے اسفند کے برابر میں جاکے بیٹھ گئ۔۔
اسفند بات کرتے ہوئے رجا کا چہرہ غور سے دیکھ رہا تھا جہاں کچھ پریشانی رقم تھی۔۔
اسفند نے رجا کو کھینچ کے اپنے اوپر گرایا اور اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھتے ہوئے کہا۔۔
“کیا بات ہے کیوں پریشان ہے میری جان”
اسفند کے پوچھنے پہ رجا اسفند کے سینے پہ۔سر رکھ کے لیٹ گئ اور کہا ۔
اگر اپکو کچھ ہوجاتا تو اسفند میرا کیا ہوتا؟؟
رجا کے سوال پہ اسفند نے مسکرا کے رجا کے ماتھے پہ اپنے لب دوبارہ رکھے اور کہا۔۔
میں ٹھیک ہو رجا تم پریشان نہی ہو ۔۔
یہ بول کے اسفند نے رجا کے بالوں میں اپنی انگلیاں چلائ تو رجا نے اپنی آنکھیں بند کرلی مگر اسکا دل نجانے کیوں انجانے خدشات سے ڈر رہا تھا ۔زارون کا اسکے گھر آنا اسفند کی جان بچانا اس دن مال میں اس سے ٹکرانا اتفاق نہیں تھا۔۔
یہ سوچتے ہوئے رجا کی آنکھ کب لگی اسے پتہ نہی چلا۔۔
!!!!!!!!!
پارٹی اپنے عروج پہ تھی جب رجا اور اسفند نے اینٹری دی۔۔
ڈارک گرین کلر کی ساڑھی میں رجا کا سراپا دیکھ کے ایک بار پھر زارون اپنے ہوش کھونے لگا ادھر بلیک ڈنر سوٹ میں اسفند بھی سب کو مات دے رہا تھا۔۔
زارون نے اشارہ کرکے اسفند کے اپنے پاس بلایا اور کچھ دوستوں سے ملاوایا تو ادھر رجا جو اکیلی کھڑی اسفند کو دیکھ رہی تھی پیچھے سے کسی کے پکارنے پہ ایک دم پلٹی زارون نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور کہا
بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔
رجا نے ایک نظر اسفند کو دیکھا جو باتوں میں مگن تھا اور پھر زارون کی طرف مڑی اور کہا۔۔
تم کیوں میری زندگی برباد کرنا چاہتے ہو۔۔
میں اسفند کیساتھ بہت خوش ہو اس سے محبت کرتی ہو پلیز زارون اللہ کا واسطہ ہے تمہیں میری زندگی سے دور چلی جاو۔۔
رجا یہ بول کے چپ ہوئ جب ہارون نے اسکا ہاتھ تھاما اور سناٹے والی جگہ پہ لیجاکے ہاتھ چھوڑا اور کہا۔۔۔
اور میری محبت تمہیں دیکھائی نہی دی رجا میں تم سے کتنی محبت کی ہے اسکا تمہیں باخوبی اندازہ ہے کتنا تم نے مجھے دھتکارا ہے مگر میں نے ہمیشہ محبت کا پیغام بھیجا ۔
اور یہ اسفند جیسے ابھی چند مہینے ہی ہوئے تمہاری زندگی میں شامل ہوئے اس سے تمہیں محبت ہوگئ واہ کیا لوجک ہے۔یہ بول کے زارون نے غصہ میں رجا کو گھورا۔۔
رجا نے بھی غصہ میں جواب دیا ۔۔
وہ شوہر ہے میرا اس سے محبت ہونا ایک فطری عمل ہے اور میں کبھی تمہیں دھتکارا نہی بلکہ یہی کہا کے مجھے تم سے محبت نہی محبت میں زبردستی نہی چلتی زارون ۔۔
یہ بول کے رجا جانے لگی جب زارون نے پیچھے سے رجا کو کہا۔۔
دیکھتے تمہارے اسفند کو تم سے کتنی محبت ہے ؟؟
یہ بول کے زارون اسکے پاس سے نکل گیا۔
رجا اندر آئ تو اسفند ادھر ادھر اسے ہی تلاش کررہا تھا
رجا نے پیچھے سے جاکے اسفند کے کندھے پہ۔ہاتھ رکھا تو وہ ایک دم پلٹا اور رجا کو دیکھ کے کہا۔۔
کہاں چلی گئ تھی یار؟
واش روم گئ تھی۔۔
ابھی وہ دونوں ایک ساتھ کھڑے تھے جب ڈی جی نے سانگ پلے کیا اور سارے کپل ڈانس فلور پہ اگئے۔۔
“ہاتھوں سے لکییرے یہی کہتی ہیں ۔۔
کے زندگی ہے جو میری تجھی میں اب رہتی ہے۔۔
گانا سن کے اسفند نے رجا کے آگے ہاتھ کیا رجا نے مسکرا کے اسفند کا ہاتھ تھاما اسفند نے ایک ہاتھ رجا کی کمر پہ رکھ کے اسے خود سے لگایا اور دوسرے سے اسے گول گول گھمایا۔۔
“لبوں پہ لکھی ہے میرے دل کی خواہش ۔۔
لفظوں سے کیسے میں بتاو۔۔۔۔”٫٫
اسفند نے رجا کو جھکا کے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور پھر دوبارہ گول گول گھمایا۔۔۔
دور کھڑا زارون جو بہت ضبط سے یہ ڈانس دیکھ رہا تھا اتر کے اسفند اور رجا کے پاس آیا اور اسفند سے رجا کیساتھ ڈانس کرنے کی خواہش کی۔۔
اسفند نے یہ سوچ کے رجا کا ہاتھ زارون کے ہاتھ میں دیا کے دونوں یونی فرینڈ ہے۔۔
زارون نے رجا کے کمر پہ ہاتھ رکا ایک ہاتھ سے اسکا دوسرا ہاتھ تھاما زارون کی آنکھوں اس وقت جو جنون تھا رجا کوخوف آنے لگا ۔۔اسفند تھوڑے فاصلہ پہ کھڑا ہوکے ان دونوں کو دیکھنے لگا۔۔
“ایک تجھے ہی پانے کی خاطر۔۔
سب سے جدا میں ہوجاو۔۔
عشق جو زرا زرا سا بڑھ گیا رےے۔۔
تیرا فطور جب سے چڑھ گیا رےےے۔
گانو کے بولوں پہ زارون نے ایک بار پھر رجا کو تھامنا چاہا مگر رجا نے بہت آرام سے خود کو زارون سے الگ کیا اور اسفند کے پاس جاکے اسکے ہاتھ اپنی کمر پہ رکھ کے اسکے سینے پہ سر رکھا اور کہا۔۔
“عشق جو زرا سا تھا وہ بڑھ گیا رے ۔۔
تیرا فطور جب سے چڑھ گیا رے۔۔
رجا نے مسکراکے گانا گایا توا سفند کے بھی لب مسکرا اٹھے ۔
!!!!!!!!!!
زارون اب کسی نہ کسی بہانے سے اسفند کو یہ تو کال کرتا یہ اسکے ساتھ وقت گزارتا۔۔
مظہر نے بھی یہ بات کافی نوٹ کی کے اب اسفند زیادہ تر زارون کیساتھ ہہی رہتا۔۔
ایک دن رجا فریش ہوکے باہر نکلی جب ماسی نے اسے بتایا کے صاحب سے ملنے کوئ آیا ہے۔۔
رجا سمجھی شاید مظہر ہوگا اس نے ماسی سے کہا۔۔
اندر بھیج دے انہیں۔۔
اندر آتے زاہد کو دیکھ کے رجا نے فورا اپنا ڈوپٹہ صحیح کیا۔
اسلام وعلیکم بھابھی میں یہاں سے گزر رہا تھا تو سوچا اسفند سے ملتا چلو کال نہی اٹھا رہا میری۔۔
وعلیکم اسلام اسفند تو آفس میں ہے۔
اور انکے موبائل شاید چارج نہی ہو۔۔
اوہ اچھا بھابھی زرا ایک کپ کافی ملے گی۔۔زاہد کے بولنے پہ رجا کافی بنانے کچن میں گئ وہ کافی بنارہی تھی جب اپنے پیچھے کسی کی موجودگی محسوس کرکے وہ پلٹی۔۔زاہد کو اپنے اتنا قریب دیکھ کے دو منٹ کے لیہ رجا ڈری مگر پھر سنبھل کے کہا
۔اپ کچن میں کیوں آگئے میں لارہی تھی کافی۔۔
رجا کے بولنے پہ زاہد نے مسکرا کے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا ایک شیطانیت رجا کو زاہد کی آنکھوں میں دیکھی۔۔
زاہد نے ایک نظر اسے دیکھا اور باہر چلا گیا۔۔
رجا کافی لے کے باہر آئ تو اسے زاہد کہی نہی دیکھا۔۔
ایسا پھر ہر دوسرے تیسرے دن ہونے لگا۔۔
رجا نے یہ بات اسفند کو بتانے کا سوچا۔۔
رات میں اسفند کھانے کھانے لگا جب رجا نے اسے زاہد کی آمد کا بتایا اسکو صاف بولا کے اپنے ے دوست کو بولا کرکے جب آپ گھر پہ ہوا کرے تب آیا کرے۔۔
رجا کی بات سن کے اسفند وقتی طور پہ خاموش ہوگیا
ہر بار کی طرح ریس اسفند نے جیتی مگر پیسے اس نے اس بار زاہد کو نہی دیے بلکے رجا کیلیے گفٹ لینے کا سوچا ۔۔
زاہد جو پہلے ہی ریس کے پیسے نہ ملنے پہ غصہ میں تھا اسفند کے پوچھنے پہ کے وہ اسکی غیر موجودگی میں گھر گیا تھا ہتھے سے اکھڑ گیا۔۔اور کہا۔
اور بھئ مجھے جانے کا شوق نہی یہ تو مظہر لے جاتا ہے ہر دوسرے تیسرے دن مجھے خود تو گھنٹوں گھر کے اندر رہتا ہے مجھے گاڑی میں بیٹھا کے رکھتا ہے ۔ابھی بھی شاید تمہارے گھر میں ہے جبھی نہی ایا۔۔
زاہد یہ بول کے مڑا تو اسکے لبوں پہ ایک شیطانی مسکرائٹ تھی۔۔
اسفند نے فلحال رجا کیلیے گفٹ لینے کا ارادہ ترک کیا اور گھر پہنچا ۔
اور یہ دیکھ کے حیران رہ گیا کے مظہر اس کے گھر میں بیٹھا تھا اور رجا اس کے ساتھ کسی بات پہ قہقہ لگا رہی ہے۔۔
اسفند کو آتا دیکھ مظہر اسفند کے گلے ملا اور کہا۔
یار کیسی رہی ریس تیری؟؟؟
ہاں ٹھیک رہی تو آیا نہی آج ریس پہ۔۔اسفند نے گہری نظروں سے مظہر کو دیکھ کے پوچھا۔۔
ارے یارٹائم نہی ملا ابھی بھی آگے کی بات مظہر نے بولنی چاہی جب رجا چائے لے آئ اور بات درمیان میں ادھورہ رہ گئ۔۔
کچھ دنوں بعد۔۔۔
مظہر کہاں ہے تو اس وقت ؟؟
اسفند کے کال پک کرنے پہ اسفند نے مظہر سے پوچھا۔۔
یار میں ابھی زرا کام سے آیا ہو بعد میں بات کرتا ہو تجھ سے یہ بول کے مظہر نے کال کردی۔۔
اسفند نے گھر جانے کا ارادہ کرکے اپنی گاڑی اسٹارٹ کردی مگر اصل اسے دھچکا جب لگا جب اس نے رجا کو مظہر کیساتھ گاڑی میں دیکھا دونوں بہت خوش تھے۔۔
اسفند نے رجا کو کال کی مگر رجا نے کال یس نہی کی بلکے کاٹ دی۔۔۔
جاری ہے۔۔
