Qismat Ka Khel By Mariyam Khan Readelle50211 Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
صبح انعم کی آنکھ کھلی تو زوہیب کے سینے پہ اسکا سر تھا ایک حسین مسکراہٹ نے اسکے لبوں کو چھوا۔۔
سچ کہا تھا اس کے بھائ نے وہ چاہ کر بھی اتنی محبت کرنے والا شوہر اس کیلیے ڈھونڈ نہی پاتا۔۔۔
رات میں زوہیب کی شدتوں نے، مان نے، عزت نے انعم کو ایک مکمل زندگی دے دی تھی۔۔
انعم کی کمر کے گرد زوہیب کی باہنوں کا حصار تھا۔۔
انعم نے دھیرے سے اسکے باہنوں کا حصار توڑنا چاہا جب زوہیب نے اور مظبوط اپنا حصار کیا اور انعم کی گردن میں اپنا منہ چھپا کے کہا۔
کہاں جارہی ہو محبت کی دیوار توڑ کے؟؟
زوہیب نے نیند سے بھرے لہجہ میں انعم کی شرٹ دوبارہ نیچے کرکے اسکا کندہ چومتے ہوئے کہا۔
زوہیب دس بج رہے ہیں اپنے جانا نہی ہے آج افس؟؟
جانا ہے سوہنی مگر ابھی تو رات کا خمار ہی نہی اترا یہ بول کے زوہیب ایک جھٹکے سے انعم کے اوپر آیا اور مسکرا کے اسے دیکھنے لگا۔زوہیب کی لائٹ براؤن آنکھوں میں آج ایک انوکھا احساس تھا انعم۔نے مسکراتے ہوئے اس کی۔انکھوں پہ اپنے ہاتھ رکھے اور کہا۔
ہٹے زوہیب بہت دیر ہوگئ ۔۔
کوئ دیر نہی ہوئ تمہارا شوہر کہی ملازم نہی ہے بلکہ اب اللہ نے اسکو اتنی توفیق دی ہے کے وہ ملازم رکھ سکے ۔۔
یہ کہہ کے زوہیب نے دوبارہ انعم کے لبوں کو دھیرے سے چھوا ۔ایک ہاتھ کمر میں رکھ کے کروٹ لے کے لیٹا اور انعم کو خود سے قریب کیا۔
کبھی شہہ رگ چومتا کبھی اسکے چہرے کا ایک ایک نقوش۔ایک بار پھر انعم اسکے سامنے بے بس ہونے لگی۔۔زوہیب اسے اپنے ہر عمل سے یہ بات بتا رہا تھا کے وہ اس کیلیے کتنا ترپا ہے۔
زوہیب شاید دوبارہ انعم کے وجود پہ قابض ہوتا زوہیب کے نمبر پہ کال آنے لگی پہلی بار تو زوہیب نے اگنور کیا موبائل بجتے بجتے بند ہوگیا مگر جب موبائل نے بھی زوہیب کو اٹھانے کی ٹھانی ۔
تو زوہیب نے ایک خونخوار نظر بجتے ہوئے موبائل۔پہ ڈالی اور دوسری انعم پہ جو اپنی مسکرائٹ چھپا رہی تھی زوہیب انعم پہ سے ہٹا اور موبائل پہ آنے والی کال سننے لگا۔۔
انعم نے بھی موقع سے فائدہ اٹھایا اور فریش ہوکے ناشتہ بنانے چلی گئ۔۔۔۔
زوہیب بھی فریش ہوکے نیچے آیا تو انعم بھی کچن میں ناشتہ بنارہی تھی لائٹ فیروزی کلر کے کپڑوں میں اسکا گیلا گیلا سراپہ زوہیب کو مسکرانے پہ مجبور کرگیا ۔
جب سے زوہیب پنڈی آیا تھا انعم۔کیساتھ زوہیب نے بس ایک یہی خواہش کی کے انعم بھی اسکی ماں کی طرح اس گھر کو اپنا گھر سمجھے جیسے اسکی ماں کا رویہ اسکے باپ کیساتھ تھا پیار بھرا ویسے ہی انعم کا ہو وقتی طور پہ تو نہی ہوا یہ سب مگر اب ایسا ہونے لگا تھا۔۔زوہیب کی محبت اسکی نیت اسکے آگے انعم کی صورت میں کھڑی تھی۔۔۔
بہت ہی اچھے ماحول میں انعم اور زوہیب نے ناشتہ۔کیا زوہیب آفس جانے لگا جب روزکی طرح اسے پیسے دیے جب انعم نے کہا آپ نے بتایا نہی آپ نے کام کونسا اسٹارٹ کیا۔۔
زوہیب جو کمرے میں کھڑا اپنی ضرورت کا سامان لے رہا تھا پلٹ کے انعم کو اپنی باہنوں کے حصار میں لیا۔اور کہا۔۔
بہت جلد بتاؤنگا ابھی بہت لیٹ ہوگیا تمہاری وجہ سے یہ بول کے زوہیب مسکرایا۔۔
زوہیب کی بات پہ انعم کا نے منہ کھول زوہیب کو دیکھا اور کہا ۔۔
توبہ توبہ زوہیب حد ہے رات اپنے سونے نہی دیا۔۔
انعم تیزی میں بول تو گئ مگر پھر خود ہی شرمانے لگی جب زوہیب نے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور کہا۔۔
آج رات بھی میرا ایسا ہی کچھ ارادہ ہے اپنا خیال رکھنا اوکے جلدی اونگا۔۔
یہ بول۔کے زوہیب چلا گیا انعم نے جلدی جلدی سارا کام۔نمبٹایا اور آصف کو کال کی جو ایک ہی بیل میں پک کرلی گئ۔انعم کی خوشی سے بھری آواز سن کے آصف کو دلی سکون ہوا وہ سمجھ چکا تھا کے سب معملہ کلیر ہوگیا۔
مگر جب انعم کے پوچھنے پہ آصف نے اپنے نکاح کی۔گڈ نیوز اسے دی تو انعم اپنی پرانی ٹون میں واپس اچکی تھی۔۔
آصف سے لڑنے کے بعد جب انعم نے ساری ڈیٹیل لی آصف سے تو پھر سکون کا سانس لے کے کال کٹ کی۔۔
!!!!!!!!!!!
آج کافی ٹائم بعد اسفند کی ریس تھی وہ تیاری کیساتھ اپنی گاڑی کے پاس کھڑا تھا جب جینی اسکے پاس آئ حال احوال پوچھنے کے بعد اس نے اسفند کے ساتھ گاڑی میں بیٹھنے کی خواہش ظاہر کی ۔۔
جینی کی اس خواہش پہ جہاں اسفند چونکا وہی مظہر کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا ۔۔
جبکہ پاس کھڑے زاہد کے چہرے پہ ایک شیطانی مسکراہٹ ائ۔۔
ریس شروع ہوچکی تھی۔۔جینی اسفند کے برابر میں بیٹھے مسلسل اسفند کاحوصلہ بڑھارہی تھی۔۔اور یہ بات اسفند کو کافی اچھی لگی۔۔اسفند کی گاڑی فنش لائن پہ پوچھنے والی تھی کے اچانک اسے رجا اسی حالت میں دیکھی جس حالت میں وہ لوگ دریا میں گرے تھے۔۔اسفند کا دیھان بھٹکا گاڑی کی اسپیڈ جیسی ہی سلو ہوی جینی نے چیخ کے کہا اسفند کیا کررہے ہو اسپیڈ بڑھاؤ ۔۔
جینی کی آواز پہ اسفند ایک دم ہوش میں آیا اور گاڑی کی اسپیڈ بڑھائ اور اسفند کی گاڑی فنش لائن کراس کرگئ۔۔
ہر طرف اسفند اسفند کے نام کا شور تھا ۔مگر اسفند گاڑی سے اتر کے تیزی سے اس جگہ گیا جہاں رجا کو دیکھا تھا مگر وہاں کچھ نہی تھا۔۔
اسفند کے لب دھیرے سے مسکرائے وہ سمجھ گیا کے یہ اسکا وہم تھا وہ آنکھیں بند کرکے وہی موجود پتھر پہ بیٹھ گیا اور آنکھیں بند کرکے ایک بار پھر تصور میں رجا کے سراپے کو دیکھنے لگا۔۔
“میری باہنوں کو تیری سانوں کی جو ۔۔
عادتیں لگی ہیں۔۔۔ویسے جی لیتا ہو تھوڑا میں اور۔۔
جانے کون ہے تو میری۔۔۔۔
میں نے جانو یہ مگر۔۔۔۔
جہاں جاؤ میں کرو میں وہاں۔۔۔۔
تیرا ہی ذکر۔۔۔۔۔۔۔
میں دل کا راز کہتا ہو ۔۔۔
کے جب جب سانسیں لیتا ہو۔۔۔۔
تیرا ہی نام لیتا ہو ۔۔۔۔۔
یہ تونے کیا کیا۔۔۔۔۔”””
اسفند نے اپنی بند آنکھیں کھولی اور کہا۔
لگتا ہے کراچی جلد از جلد جانا پڑے گا۔۔
!!!!!!!!!!!!!
رات انعم نے زوہیب کو آصف کے نکاح کا بتایا اور جانے کی اجازت مانگی جو زوہیب نے خوشی خوشی دے دی مگر انعم یہ سن کے کافی اداس ہوگئ کے زوہیب نکاح سے ایک دن پہلے آئیے گا اسے کام ہے یہاں۔۔
اگلے دن زوہیب نے انعم کی کراچی کی فلائٹ بک۔کرادی۔۔
وہ لوگ ائیرپورٹ پہنچے ابھی فلائٹ میں آدھا گھنٹا تھا۔۔
زوہیب انے انعم کو کریڈ کارڈ دیا اور خاص ہدایت کی کے اپنے شوہر کے پیسوں سے ہی جی بھر کے شاپنگ کرے۔۔
انعم ویٹنگ روم میں زوہیب کی باہنوں حصار میں تھی جب انعم نے کہا۔
زوہیب اپ جلدی آنے کی کوشش کریے گا۔۔
انعم کی بات پہ زوہیب نے انعم کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور کہا۔۔
ہاں میرے سوہنی جلدی آنے کی پوری کوشش کرونگا ۔۔مگر اگر نہ پہنچ سکا پھر؟؟؟
زوہیب ایسا مت بولے جائے میں آپ سے بات ہی نہی کررہی بلکہ میں جاہی نہی رہی۔۔
یہ بول کے انعم اداس ہوئ جب زوہیب نے کہا۔۔
ارے یار مزاق کررہا تھا۔۔
چلو فلائٹ کی اناونسنگ ہوگئ ۔۔انعم اندر جانے لگی جب ایک بار پھر اس نے پلٹ کے زوہیب کو دیکھا اور زوہیب نے اسے ۔۔زوہیب نے ایک مسکراہٹ دی انعم کو۔۔
انعم فلائٹ میں چلی گئ اور زوہیب اپنے کام کی طرف۔۔
!!!!!!
رجا آج تین دن بعد یونی آئ تو بہت خاموش خاموش تھی۔۔اپنی دوستوں کو بھی وہ اپنے نکاح کا بتا چکی تھی۔۔مگر اس کی دوستوں کے پاس ایسے کوئ لفظ نہی تھے جنہیں وہ رجا کو تسلی دے سکے۔۔
وہ کلاس لے کے نکلے جب کچھ چیز یاد آنے پہ رجا دوبارہ کلاس میں گئ مگر جب واپس جانے لگی تو زارون کو کھڑا پایا جو لال آنکھوں سے اسے گھور رہا تھا۔۔
اس کے حلیہ سے رجا کو لگا وہ کتنے دنوں سے سویا نہی۔۔
رجا اسکو اگنور کرکے جانے لگی جب اس نے رجا کی کلائ تھام کے اسے دیوار سے لگایا۔
زارون رجا کے اتنے قریب تھا کے اس کی سانسیں رجا کے چہرے کا طواف کررہی تھی۔۔
مگر رجا وہ اس بار گھبرائ نہہی بلکہ خاموشی سے زارون کو دیکھنے لگی۔۔
جب اچانک زارون کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔۔
زارون نے بے دردی سے اپنے آنسو صاف کیہ اور کہا۔
جان بوجھ کے تم نے مجھ سے اپنے نکاح کی بات چھپائی رجا تاکہ میں اپنی محبت کا تماشہ اپنی آنکھوں سے دیکھو۔۔
مگر یاد رکھنا رجا اب تم۔زارون خان کا جنون ہو اور ہم پٹھان لوگ جنون میں کچھ نہی دیکھتے ۔۔
چھین لونگا اس سے تمہیں جو تمہارا دویدار بن کے آئے گا تمہیں مجھ سے چھین نے یاد رکھنا تم صرف زارون کی ہو سنا تم نے صرف زارون کی۔۔
یہ بات زارون نے اتنی زور سے کہی کے دو پل کیلیے رجا زارون کا لہجہ دیکھ کے ڈر گئ مگر بولی کچھ نہی۔۔
زارون ایک دم اس سے الگ ہوا اور تیزی سے کلاس سے نکل گیا اور ادھر رجا سوائے رونے کے کچھ نہی کرسکی۔۔
رجا گھر پہنچے تو حال میں سب بیٹھے تھے اور انکے درمیان انعم۔موجود تھی۔۔
انعم کو دیکھ کے رجا کو کافی خوشی ہوئ اور وہ بہت خوش دلی سے انعم سے ملی اور انعم بھی خلاف توقع رجا سے خوش اسلوبی سے ملی۔۔
انعم کے چہرے پہ خوشی دیکھ سارے گھر والے جہاں خوش تھے وہی جمیلہ بیگم بھی پرسکون تھی۔۔
رجا اور انعم نے لبنہ کی تیاری بھر پور طریقے سے کی ۔۔
دونوں کے درمیان سب کچھ صحیح ہوچکاتھا۔اور یہ بات رجا کو بہت اچھی لگی کے زوہیب نے انعم کو کافی خوش رکھا ہے۔۔
کل شام کو نکاح تھا۔۔ابھی ابھی انعم مہندی لگا کے فارغ ہوئی تھی اور زوہیب سے دو گھنٹہ پہلے بحس کر کے بھی ۔۔جس میں زوہیب مسلسل اسے کہہ رہا تھا کے وہ نکاح کا جوڑا لے ائے اسکی فلائٹ رات کی ہے اور کل ٹائم نہی ملے گا مگر انعم مسلسل اس ضد پہ تھی کے وہ زوہیب کیساتھ ہی شاپنگ کرنے جائے گی۔۔
سب ہی رات کے کھانے میں زوہیب کا انتظار کررہے تھے ۔اصف نے زوہیب کو دوپہر میں کال کی جب زوہیب نے اسے بتایا تھا کے اس کی فلائٹ رات کی ہے۔۔
انعم بہت بے چینی سے زوہیب کا انتظار کررہی تھی اور بار بار اپنے ہاتھوں پہ لگی مہندی کو دیکھ رہی تھی جسکا رنگ کافی گہرا آیا تھا۔اور رجا نے اسے چھیرتے ہوئے کہا تھا کے زوہیب اسے بہت چاہتا تھا ہے ۔
ابھی وہ انہی سوچوں میں گم تھی جب آصف کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا انعم جیسی ہی باہر کی طرف جانے لگی۔۔
اندر آتے آتے آصف سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔۔
مگر اس نے جب دیکھا کے آصف اکیلا ہے تو انعم کا دل ایک دم ہولا اس نے آصف سے کہا۔
بھائ زوہیب زوہیب نہی آئے آپ تو انہیں لینے گئے تھے ۔۔
انعم کی بات سن آصف کی نظر انعم کے مہندی بھرے ہاتھوں پہ گئ اور اسے نے کھینچ کے انعم کو اپنے سینے سے لگالیا اور رونے لگا۔۔
بھائ آپ آپ رو کیوں رہے ہیں زوہیب کہاں ہیں؟؟
انعم نے اتنی زور سے کہاں کے ہال میں بیٹھے سارے گھر والے باہر نکل آئے جب آصف نے انعم کو الگ کرکے کہا۔
انعم زوہیب جس فلائٹ سے آرہا تھا وہ پلین کریش ہوگیا۔۔
یہ بول کے آصف رونے لگا تو ادھر انعم نے الٹے قدم اٹھائے مگر زیادہ چل نہ سکی اور بیہوش ہوگئ۔۔
جاری ہے۔۔
