Qismat Ka Khel By Mariyam Khan Readelle50211 Episode 27 pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 27 pt.2
اسفند گھر پہنچا تو رجا گھر پہ نہی تھی ۔وہ خاموشی سے رجا کا انتظار کرنے لگا جب کے رجا بہت بہت خوش کمرے میں داخل ہوئ مگر اسفند کو دیکھ کے ٹھٹکی اور کہا۔۔
ارے آپ کب آئے آفس سے؟؟
اسفند۔نے آنکھیں بند کرے کرے رجا کو جواب دیا۔۔
بہت پہلے آگیا تھا۔۔تم۔کہاں تھی؟؟
رجا نے ایک نظر اسفند کو دیکھا اور کہا۔
میں یہی قریب کی مارکیٹ میں گئ تھی۔۔
اچھا اکیلی گئ تھی۔۔؟؟
رجا نے ایک نظر اسفند کو دیکھا اور کہا۔۔
ہاں اکیلی گئ تھی ۔۔
رجا کے جواب پہ اسفند کے آنکھیں حیرت سے کھل گئ مگر اس نے بولا کچھ نہی۔۔
رجا کے پرس میں رکھا موبائل کی بیپ سنائ دی رجا واش روم میں تھی اس لیہ اسفند نے موبائل نکالا تومظہر کے نمبر سے ٹیکس تھا۔۔
اسفند نے ٹیکس اون کیا تو اس پہ لکھا تھا۔۔
رجا اسفند کو شک تو نہی ہوا کچھ پوچھا تو نہی تم کہاں تھی کال نہی اٹھائ تھی نہ تم۔نے اس کی؟؟
اسفند کو جھٹکے پہ جھٹکے لگ رہے تھے اس نے خاموشی سے ٹیکس ڈیلیٹ کیا اور لائٹ بند کرکے سوگیا۔۔
اب جب بھی اسفند رجا کے نمبر پہ کال کرتا یہ تو وہ بزی ہوتا یہ وہ بزی کردیتی ۔ادھر اسفند کا بھی یہی حال تھا ۔۔کتنی بار اسفند گھر پہنچا تو مظہر کو پایا۔۔
ادھر زاروں نے بھی مرچ مسالا لگا کے مظہر اور رجا کو ایک ساتھ مال میں دیکھا ایسی کئ کہانی زارون نے اسفند کے دماغ میں بھرنا شروع کردی۔۔
اور تو اور زارون نے اسفند کے سامنے جان بوجھ کے رجا کا وہ نمبر ملایا جو بند تھا بظاہر یہ دیکھایا کے وہ رجا سے بات کرتا ہے۔۔
اور کئ ٹیکس جان بوجھ کے رجا کی بند سم سے اپنے نمبر پہ فوروڈ کیہ نام رجا کا سیو تھا مگر اسفند جسکے دماغ میں شک کا بیج پنپ چکا تھا اس نے ایک بار بھی یہ نہی سوچا کے میں چیک کرو یہ رجا کا نمبر ہے ۔
ایک ہفتہ سے یہ کہانی چل رہی تھی ۔۔زارون نے جیسے تیسے کرکے رجا کا اصل نمبر اسفند کے موبائل سے نکال۔لیا۔
اب اسے انتظار تھا تو صرف اپنے پلین کے آخری دن کا اور وہ دن آن پہنچا۔
حنا اور مظہر اسفند کے گھر پہنچے ۔۔
ارے مظہر لگتا ہے بھابھی ابھی تک اپنے کمرے میں ہیں اپ۔اوپر جاکے بھابھی کو بلائے میں کچن دیکھتی ہو۔۔
مظہر رجا کے کمرے میں پہنچا تو وہ تیار ہوکے نکل ہی رہی تھی ایک دم اسکا پاوں ڈوپٹہ میں اٹکا اس سے پہلے رجا گرتی مظہر نے اسے کمر سے تھام لیا اور رجا کا ڈوپٹہ نیچے گرگیا۔۔
ابھی وہ دونوں سنبھالتے کے اسفند نے کمرے میں قدم رکھا مگر سامنے کا نظارا دیکھ کے جہاں اسکی انکھوں میں خون اترا وہی مظہر اور رجا الگ ہوئے اور مظہر نے ڈوپٹہ اٹھا کے رجا کو دیا۔
مگر اب بہت دیر ہوچکی تھی۔اسفند نے آگے بڑھ کے ایک زناٹے دار تھپڑ رجا کے منہ پہ دے مارا۔۔
تمہیں عزت راس نہی بیغیرت بے حیا عورت..
نکلی نہ اپنی پھپو جیسی ۔۔
سچ کہا ہے کیسی نے پھپو بھتیجی ایک زات اسکا بھی ایک مرد سے گزرا نہی ہوا تمہارا بھی نہی ہوا۔۔۔۔
اسفند نے رجا کے بالوں کو مٹھی میں جکڑا ہوا تھا غصہ میں وہ نجانے کن کن الفاظوں سے رجا کو نوازرہا تھا۔۔
اسفند یہ کیا بولے جارہے ہیں اتنی بڑا الزام مت لگائے مجھ پہ میں نے صرف آپ سے محبت کی ہے یقین کرے میرا میرا پاؤں سلپ ہوگیا تھا۔۔۔۔
اسفند رجا ٹھیک بول رہی ہے تو بات تو سن یار ۔۔مظہر نے بھی رجا کی حمایت لینی چاہی جب اسفند نے رجا کو چھوڑ کے مظہر کا گریبان پکڑا اور کہا۔۔
تو دوست کے نام پہ میری ہی کمر پہ چھورا گھونپ رہا تھا۔۔۔
مظہر نے ایک جھٹکے سے اسفند سے اپنا گریبان چھڑوایا اور کہا۔۔
کیا بکواس کرہا ہے تو تیرا دماغ تو ٹھکانے پہ ہے ۔۔۔
مظہر نے غصہ میں چیخ کے کہا۔۔
اسفند نے ایک جھٹکے سے اسے اپنے کمرے سے باہر نکالا اور رجا کی طرف مڑا مگر اپنی پینٹ میں بندھی بیلٹ نکالنا نہی بھولا۔۔
رجا اسفند کے ہاتھ میں بیلٹ دیکھ کے کافی ڈر گئ اور کہنے لگی۔۔
ا،سس ف۔۔ند میں سچ ابھی رجا کے الفاظ منہ میں ہی تھے جب رجا کے درد ناک چیخ نکلی مظہر نے جب اسفند کے ہاتھ میں بیلٹ دیکھی تو تیزی سے نیچے گیا۔۔
اسفند نے رجا کو لگاتار بیلٹ سے مارا اور بالوں سے گھسیٹا ہوا نیچے لے گیا۔۔
مظہر نے جاکے حنا کو ساری صورتحال بتائ اس سے پہلے وہ تیزی سے اوپر جاتی اسفند رجا کو بالوں سے گھسیٹا ہوا نیچے لا چکا تھا۔۔
اسفند نے رجا کو ایک جھٹکے سے چھوڑا جب حنا نے چیخ کے کہا ۔۔
بھائ کیا کررہے ہیں آپ ؟؟
حنا کی آواز پہ اسفند پلٹا حنا کو دیکھ کے پل بھر کیلیے حیران ہوا اور کہا۔۔
او آؤ صحیح وقت پہ آئ ہو تم دیکھو کیسے تمہارا بیغیرت شوہر اور میری بیغرت بیوی آپس میں رنگلیاں منا رہے ہیں۔
بھائ کیا بکواس کررہے ہیں آپ ہوش میں تو ہییں۔۔
حنا حلق کے بل چلائ۔۔
اسفند کی بات سن کے رجا سکتے کی حالت میں نیچے بیٹھی چلی گئ وہی مظہر کی انکھوں سے بھی انسو جاری تھے۔۔
اس سے پہلے اسفند رجا پہ دوبارہ ہاتھ چھوڑتا خرم صاحب کی آواز ہال میں گونجی۔۔
اسفند خبردار جو اب رجا کو ہاتھ لگایا۔۔
خرم صاحب کی آواز سن کے اسفند ایک دم چونکا ساتھ میں دائ جان اور ناعمہ بیگم کو بھی دیکھ کے حیران ہوا۔۔
کیونکہ وہ لوگ ایک ہفتہ بعد آنے والے تھے۔۔
آئیے آئیے آپ پاپا دیکھے ہم دونوں کی قسمت بھی ایک جیسی ہے جیسے آپکی بیوی کا ایک مرد سے گزارا نہی میری بیوی کا بھی۔۔
میری ماں اور بیوی میں کوئ فرق نہی دونوں ہی بدچلن ابھی اسفند کی بات منہ میں ہی تھی کے خرم صاحب کا زناٹے دار تھپڑ اسفند کی بولتی بند کرگیا اس سے پہلے اسفند ایک تھپڑ سے سنبھالتا لگاتار دو تین ٹھپڑ خرم صاحب نے اسے مارے اور اسکا گریبان پکڑ کے کہا۔۔
میری بیوی تمہاری ماں نہی خالہ ہے ماں جب بنی جب مجھ سے تمہاری ماں کے مرنے کے بعد نکاح کیا تم نے اس کی۔کوکھ سے جنم نہی لیا ۔
یہ تمہاری ماں کی جڑواں بہن ہے سنا تم نے تماری سگی ماں نہی ہے۔۔
خرم صاحب کے انکشاف پہ وہاں کھڑی دائ جان نے جہاں دیوار کا سہارا لیا وہی اسفند نے بے یقینی کی حالت میں ناعمہ بیگم جو دیکھا۔۔
