Qismat Ka Khel By Mariyam Khan Readelle50211 Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
دروازہ بند کرنے کی اواز پہ زوہیب اور جینی ایک دم چونکے۔۔
جینی تم ابھی جاؤ مجھے لگتا ہے انعم آگئ ہے؟؟
تو تمہیں ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟؟وہ خود کونسا مخلص ہے تمہارے ساتھ ابھی دیکھا نہی تم نے پک میں کیسے اس آدمی کےساتھ ریسٹورینٹ میں بیٹھی تھی اور بولا تمہیں ڈاکٹر کا۔۔
جینی اپنے خواہش کے پورے نا ہونے پہ اچھی خاصی بد مزہ ہوئ۔۔
ارے میری جان۔۔۔
زوہیب نے جینی کے چہرہ کو تھام کے کہا۔۔
اصل میں ابھی انعم کو کچھ کہہ نہیں سکتا وہ کسی حال سے ہےاور پھر اسکے گھر والوں کے تعلقات بھی بہت ہیں۔۔
میں نے اگر اسے کچھ کہا تو ایسا نہ ہو کے کوئ مسئلہ ہو جائے تم سمجھ رہی ہو نہ میری بات۔۔
زوہیب کی بات سن کے جینی نے کچھ سوچتے ہوئے ہاں میں گردن ہلائ۔۔
ہاں اگر یہ خود سے کہی چلی جائے تو کام بن سکتا ہے۔؟؟
زوہیب نے جینی کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
مطلب ؟؟
جینی نے ناسمجھی کے عالم میں زوہیب کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
مطلب جیسے خودی کیسی کیساتھ چلی جائے تو کل کو میں کسی کو جوابدہ نہی ہونگا۔۔
ہمممم جینی نے زوہیب کو دیکھتے ہوئے ہاں میں گردن ہلائ۔۔
!!!!!!!!!
مایوں اور مہندی کا فنکشن شروع ہونے والا تھا۔۔
حنا پہ توٹھ کے روپ آیا تھا ڈارک گرین اور یلو کلر کے ڈریس میں گلاب کے پھولوں کا زیور پہنے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔
تو ادھر مظہر بھی ڈارک گرین کلر کے کرتے میں کافی خوش شکل لگ رہا تھا۔۔
مہندی اور مایوں کی رسم ایک ساتھ رکھی گئ تھی کیونکہ نکاح ہوچکا تھا۔۔
اسفند جو ڈارک یلو کلر کے کرتے میں اپنی لائٹ گرین آنکھوں کیساتھ وہاں نجانے کتنی لڑکیوں کا دل ڈھرکا رہا تھا۔
مگر جب حنا کیساتھ آتی رجا کو دیکھا تو جیسے اسکا دل دھڑکنا بھول گیا۔۔
لائٹ گرین اور پنک اور یلو کلر کے کنٹراس کے غرارہ اور شارٹ شرٹ پہنے ہاتھوں میں بھر بھر چوڑیاں ڈالے لمبے بال بالوں کو موتیا کی پھولوں میں قید کیہ وہ پل بھر کیلیے اسفند کی دنیا رکا گئ۔۔
حنا کو مظہر کے ساتھ اسٹیج پہ بیٹھایا گیا ۔
رجا حنا کو ٹھیک سے بٹھا کے اسٹیج سے نیچے اترنے لگی جب اسکے پیر میں غرارہ اٹکا اس سے پہلے وہ گرتی اسفند اپنی جان متاع کو باہنوں میں بھر چکا تھا۔۔
رجا جس نے گرتے ہی بلی کے بچے کی طرح آنکھیں بند کرلی تھی۔۔
کسی کی بانہوں میں خود کو محسوس کرکے پٹ اپنی آنکھیں کھولی تو خود کو اسفند کی باہنوں میں پایا۔
بھری محفل میں اسفند کی باہنوں میں خود کو محسوس کرکے رجا شرم سے پانی پانی ہونے لگی۔جب کے خرم اور ناعمہ ان دونوں کو دیکھ کے کچھ یاد آنے پہ دھیرے سے مسکرائے۔۔
فوٹوگرافر نے اسے پوز میں دونوں کی پک لی تو ادھر ہال میں ہوٹنگ کی آواز آنا شروع ہوگئ۔۔جب رجا نے اسفند سے کہا۔۔
اسفند نیچے اتارے کیا کررہے ہیں؟؟سںب دیکھ رہے ہیں۔۔
تو دیکھنے دو !!!!
اسفند نے یہ بول کے مسکرایا تو رجا ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا۔۔
پلیز اتار دینا میں ناراض ہوجاونگی ۔۔
رجا نے اتنی مان سے کہا کے اسفند نے اسے فورا نیچے اتار دیا۔۔
مہندی اور مایوں کا فنکشن بہت اچھا رہا زاہد نے پل پل کی ریپورٹ زارون کو دی رجا کی کچھ پکس بھی۔۔۔۔
رات کو رجا کمرے میں آئ تو اسفند کپڑے چینج کرکے بیڈ پہ لیٹا تھا ۔رجا کو آتا دیکھ اٹھ کے بیٹھ گیا۔۔
رجا نے ایک اسمائل اسے دی اور اپنے بال کھولے لگی ۔۔
جیسی ہاتھ اسکی جیولری پہ ایا۔۔اسفند نے آکے اسکا ہاتھ تھاما اور خود جیولری اتارنے لگا۔۔۔
رجا نے کوئ مزاحمت نہی کی اور خاموشی سے اسفند کو اسکا کام۔کرنے دیا۔۔
رجا چینج کرنے جانے لگی جب اسفند نے اسے باہنوں میں اٹھالیا۔۔
کیا کرہے ہے اسفند مجھے چینج کرنا ہے!؟
اسفند کے ارادے جان کے رجا نے گھبراتے ہوئے کہا ۔
آج جو ہوگا وہ تو میرا حق ہے۔۔اج مجھے کوئ نہی روک سکتا بہت ہوگیا یار اتنی خوبصورت بیوی سامنے ہوتے ہوئے میں کب سے اپنے جزبات پہ مٹی ڈال رہا ہو مگر اب نہی ۔اسفند نے اتنی معصوم شکل بنا کے کہا ۔۔
کے رجا کے لب خود بخود مسکرائے۔۔اسفند نے رجا کو بیڈ پہ لیٹایا۔۔
۔
ی اسفند نے اپنی شرٹ اتاری اور رجا پہ جھک کے غور سے اسکا چہرہ دیکھنے لگا۔اسکے چہرے کے ایک ایک نقوش کو اپنے لبوں سے چھونے لگا۔۔
رجا آنکھیں بند کرکے آج اسفند کے جزبات کو محسوس کررہی تھی۔۔
جب اسفند نے نے اپنے لب رجا کے چہرے سے ہٹائے۔تو رجا نے آنکھیں کھول کے اسفند کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا۔۔
رجا نے اسفند کے چہرے پہ ہاتھ رکھا اور کہا۔
ایسے کیا دیکھ رہے ہیں اسفند؟؟
تمہیں مجھ سے محبت ہے رجا؟؟
اسفند کے سوال پہ رجا کے لب دھیرے سے مسکرائے اور اس نے تھوڑا سا اٹھ کے اسفند کے گالوں کو چوما اور کہا۔
یہ گرین آنکھوں والا مونسٹر آپ میری ڈھرکن بن گیا ہے۔۔
رجا کے اتنے حسین اقرار پہ اسفند کے لبوں پہ دلفریب مسکراہٹ آئ اور وہ دیوانہ وار رجا کے لبوں پہ جھک گیا۔۔
مگر کچھ یاد آنے پہ ایک دم اٹھا اور کہا۔
میں گرین انکھوں والا مونسٹر ہو؟؟
اسفند کے پوچھنے پہ رجا نے ہاں میں گردن ہلائی اور کہا۔۔
جب میں آنکھوں والی آندھی ہو تو آپ گرین آنکھوں والے مونسٹر ۔۔
رجا یہ بول کے مسکرائ تو اسفند نے بھی مسکراکے اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں جکڑے اور اسکی شہہ رگ پہ اپنے لب رکھے۔
رجا نے بھی آج اسفند کی محبت کو محسوس کیا۔
مگر جب اسکی شرٹ شولڈر سے نیچے ہوئ تو اس پہ ایک بار پھر اسفند کی قربت سے کپکپی طاری ہونے لگی۔۔
اسفند نے جب رجا کو کپکپاتا دیکھا تو اس پہ اور اپنے اوپر کمفرٹر ڈالا اور اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کے کہا۔
آج میری قربت سے ڈرو نہی میری جان بس میری محبت کو آج اپنی روح میں محسوس کرو ۔۔
یہ بول کے اسفند نے رجا کے پورے جسم کو اپنے قابو میں لے لیا۔
اسکے ہر عمل سے رجا محسوس کرسکتی تھی کے رجا اس کیلیے کیا معنے رکھتی ہے ۔۔رجا نے بھی آج اپنا آپ اپنے شوہر کو سونپ دیا۔۔
!!!!!
دوپہر پہ انعم کو معلوم ہوا کے زوہیب لاہور کیلیے نکل گیا ہے۔اور کب آئے گا پتہ نہی۔۔
جینی کے منہ سے زوہیب کے جانے کا سن کے انعم نے ایک لمبی سانس خارج کی اور کہا۔
اچھا۔۔
ابھی وہ دونوں دوپہر میں کھانا کھارہے تھے جب ڈور بیل بجی۔۔
انعم نے آگے بڑھ کے دروازہ کھولا تو وہی آدمی کھڑا تھا جسکے ساتھ انعم ریسٹورنٹ میں بیٹھی تھی۔
اس آدمی کو دیکھ کے انعم کے ماتھے پہ پسینے آنے لگے اور اس نے کہا۔۔
تم یہاں اس وقت کیا کررہے ہو؟؟
میں نے اسے بولایا ہے انعم ؟؟
جینی کی آتی آواز پہ انعم نے جینی کو دیکھا اور کہا۔
مگر میں نے تم سے کہا تھا ابھی نہی جب تک یہ بچہ دنیا میں نہی اجاتا۔۔
مگر میں اب انتظار نہی کرسکتا یہ بول کے وہ آدمی آگے بڑھنے لگا۔۔ادمی کو آگے بڑھتا دیکھ انعم الٹے قدم اٹھانے لگی اس سے پہلے انعم کمرے میں بھاگتی اس کے بال اس آدمی کی مٹھی میں تھی۔۔
ادھر جینی نے کہا۔
بوس اسے آج یہاں سے لے جاؤ۔ اپنا مقصد پورا کرلو اور جب بچہ پیدا ہو جائے تو پھیک دینا اسے کوڑے کے ڈھیر پہ ۔
جینی کے الفاظ پہ پتہ نہہی انعم میں اتنی ہمت کہاں سے آئ کے اسنے ایک جھٹکے سے اپنے بال چھڑوائےاور رک کے جینی کے منہ پہ ٹھپڑ مارا ۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئے میرے بچہ کے بارے میں ایسا سوچنے کی میں تیری جان لے لونگی۔۔
یہ بول کے انعم کسی شیرنی کی طرح اس پہ لپکی مگر اسسے پہلے انعم جینی تک پہنچتی اس آدمی نے ایک بار پھر انعم کو قابو کیا ۔مگر انعم کسی مچھلی طرح اسکی باہنوں میں ٹرپننے لگی۔۔
وہ آدمی اسے پہلے انعم پہ ہاتھ اٹھاتا کسی نے پیچھے سے اسکا ہاتھ پکڑا اور زور دار گھونسا اس کے منہ پہ مارا۔۔
جاری ہے۔۔
