55.7K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

جمیلہ بیگم صبح کے 12 بجے انعم کے کمرے میں آئ تو وہ عبائے میں ہی سو رہی تھی۔۔
جمیلہ بیگم کے جھنجھوڑ نے پہ وہ تھوڑی سی کسمسائ اور اٹھ کے بیٹھ کے کہا۔۔
کیا ہے ماما سونے دے بھئ!!
انعم اٹھ کے بیٹھو دوپہر کے 12 بج رہے ہیں دائ۔جان کئ بار تمہارا پوچھ چکی ہیں اور یہ تم عبائے میں کیوں سو رہی ہو ؟؟؟۔۔
رات دو بجے تک تم کہاں تھی انعم تم کیا کرتی پھر رہی ہو میں اب مزید تمیں چھوٹ نہی دے سکتی کل آصف بھی رات کے کھانے پہ پوچھ رہا تھا تمہارا۔۔
جمیلہ بیگم نے اچھی خاصی انعم کی کلاس لے ڈالی۔
جب کے انعم کا دماغ پہنے ہوئے عبائے پہ تھا وہ یہی سوچے جارہی تھی کے اس نے عبایا کب پہنا۔۔
اففف ماما بس بھی کردے لیکچر کچھ نہی کررہی میں ایسا اپنی دوستوں کے ساتھ تھوڑا وقت پہ گزرا رہی ہو۔۔
یہ بول۔کے انعم نے عبایا اتارا جمیلہ بیگم جو اسکے کمرے کے پردے ہٹارہی تھی عبائے کے نیچے انعم کا لباس دیکھ کے دنگ رہ گئ۔۔
وہ تیزی سے انعم کے پاس آئ اور اسکا بازو ڈبوچتے ہوئے کہا۔۔
یہ کیا پہنا ہوا ہے تم نے انعم ؟؟تم کیا چاہ رہی ہو؟؟؟
تم کہاں تھی کل رات انعم مجھے بتاو۔۔
افف ماما بس کردے یہ دقیانوسی لیکچر دینا۔یہ جو میں نے پہنا ہے اسے اسکرٹ کہتے ہیں فیشن کہتے ہی اور کل رات میں نائٹ کلب میں تھی ۔۔
سنا آپ نے اب مزید میرا دماغ خراب مت کرے میں بچی نہی ہوجو مجھے آپ ہر وقت لیکچر دیتی رہتی ہیں اپنا اچھا برا سب سمجھتی ہو ۔۔
یہ بول کے انعم نے الماری میں سے ایک ڈریس نکالا اور فریش ہونے چلی گئ۔۔
ادھر جمیلہ بیگم سکتے کی حالت میں واش روم کے بند دروازے کو دیکھنے لگی ان کے کانوں میں ماضی میں کسی کے کہے ہوئے الفاظ گونجے۔۔
جمیلہ بیٹا انسان کو اپنی اوقات کے مطابق دوستی یاری کرنی چاہیے اونچے گھرانوں سے دوستی یاریاں ہمیشہ برباد کرتی ہیں تمہارا اتنی دیر تک اپنی دوست کے ہاں رہنا اچھی بات نہی۔۔
اوہ اماں میں بچی نہی جو کوئ کچھ بھی کرے گا میرے ساتھ خداکا واسطہ اپکو مجھے لیکچر دینا بند کرے۔۔۔۔
ک۔

#

یار تم لوگ کوئ کام دھنگ سے کرتے ہو یا نہی ؟؟؟
اب کیا بندہ بیمار بھی نہی ہوسکتا؟؟
خرم کی بخار میں ڈوبی آواز باہر دروازہ ناکک کرتے اسفند کو پریشان کرگئ۔۔
وہ فورا دروازہ کھول کے اندر داخل ہوا تو خرم صاحب کو اپنا سر پکڑ کے بیڈ پہ بیٹھے دیکھا۔۔۔۔
دو دن سے خرم صاحب کو بخار تھا جسکی وجہ سے وہ آفس نہی گئے اور سارا کام مینیجر پہ ان پڑا۔۔
اور تھوڑی سی لاپرواہی سے ایک کانٹرکٹ انکے ہاتھ سے نکل گیا جسکی خبر ابھی ابھی مینیجر نے انہیں دی جسکی وجہ سے وہ ہائپر ہوئے۔۔
پاپا کیا ہوا آپ اتنے غصہ میں کیوں ہے۔۔؟؟
اسفند کے بولنے پہ خرم نے اپنا جھکا سر اوپر کیا اور کہا۔
تمہیں اس سے کیا باپ جیے یہ مرے تم جاؤ اپنا پہاڑوں سے سر پھوڑنے کا شوق پورا کرو ۔۔
بھلے میں مرجاؤ تمہیں اس سے کیا ۔۔
باپ بیمار ہے تو یہ نہی ہوا تم سے کے جاکے آفس کا چکر لگالو نہی بھئ تم تو شہزادے ٹہرے آفس جاتے ہوئے آپکی شاہی سواری کو موت آئے گئ۔۔
خرم صاحب کو جب بھی بخار چڑھتا وہ ایسی ہی چڑچڑے ہوجاتے ۔۔
اسفند نیچے منہ کیے خاموشی سے خرم کی ڈانٹ بھی سن رہا تھا اور اپنی ہنسی کو بھی کنٹرول کررہا تھا۔۔
خرم صاحب جب غصے میں بڑبڑاتے ہوئے واش روم میں گئے تو اسفند بھی کمرے سے باہر نکل گیا۔۔####
ناعمہ بیگم کمرے میں آئ تو خرم صاحب آنکھوں پہ۔ہاتھ رکھے لیٹے تھے۔۔
ناعمہ نے خرم صاحب کو دو تین بار آواز دی مگر انہوں نے کوئ جواب نہی دیا۔۔
سوپ کا باؤل ناعمہ بیگم نے سائیڈ پہ رکھا اور جاکے خرم صاحب کے برابر میں بیٹھ گئ انکے بیٹھتے ہی خرم صاحب نے کروٹ بدل لی۔۔
جب جھٹکے سے ناعمہ بیگم نے انکا رخ اپنی طرف موڑا ۔
خرم صاحب نے آنکھوں میں ہزاروں شکوہ لیہ ناعمہ بیگم کو دیکھا اور کہا۔۔
اب کیا ہے تمہیں چھوڑ دیا تھا نہ تمہیں دو دن پہلے نہی آیا تھا نہ تمہارے پاس اب کیا کرنے آئ ہو میرے پاس ۔؟؟؟
یہ بول کے خرم صاحب نے پھر کروٹ لینا چاہی تو ناعمہ بیگم نے انہیں ایسا کرنے سے روکا انکا ہاتھ سیدھا کرکے اس پہ لیٹی اور سینے سے لگ گئ..
ایسا کرنے سے جہاں خرم صاحب کی آنکھیں ڈبڈبائ وہی ناعمہ بیگم کی۔بھی۔انکھوں سے انسو جاری تھے ۔۔
خرم صاحب نے ناعمہ بیگم کو کمر سے تھام کے اور خود سے لگایا اور کہا۔
میں کیا کرو ناعمہ تم بتاؤ کیسے یقین دلاؤ تمہیں میں جانتا ہو میری وجہ سے دو خاندان بکھر گئے۔۔مگر تمہیں اندازہ نہی میں 20 سالوں سے اذیت میں ہو میں نے اسے کہاں کہاں نہی ڈھونڈا ناعمہ مگر شاید یہی میری سزا تھی جب وہ مجھے ملی تو کفن میں لپٹی ہوئ۔۔
ناعمہ بیگم یہ سن کے اور زورو شور سے رونے لگی۔۔
دو دن پہلے ناعمہ بیگم بہت اداس تھی اور انکی اداسی کی وجہ گھر کا ہرفرد جانتا تھا سوائے حنا اور اسفند کے ۔۔
دائ جان سے لپٹ کے کسی کی تصویر ہاتھ میں لیہ وہ بہت بلکی اپنوں سے دور وہ بہت اکیلی تھی ۔
خرم صاحب جان بوجھ کے اس دن دیر سے گھر آئے کیونکہ ناعمہ اور انکا دکھ ایک تھا۔۔
رات جب وہ کمرے میں آئے تو ناعمہ بیگم کسی کی تصویر ہاتھ میں لیہ سو رہی تھی انکے چہرے پہ آنسوؤں کی لکیریں موجود تھی ۔۔
سوتے ہوئے بھی خرم صاحب انکی ہچکی سن سکتے تھے ..
خرم صاحب ناعمہ بیگم کے پاس بیٹھے اور انکے سر کو سہلانے لگے جب ناعمہ بیگم کی آنکھ کھلی انہوں نے بے دردی سے خرم صاحب کا ہاتھ جھٹکا اور کہا۔۔
چلے جائے آپ یہاں سے میں اپکو کبھی معاف نہیں کرونگی دور ہو جائے میری نظروں کے سامنے سے۔۔
ناعمہ بیگم کے لہجہ نے خرم صاحب کو شوکڈ کردیا وہ فورا کمرے سے باہر نکلے اور گیسٹ روم میں چلے گئے۔۔
صبح جب ناعمہ بیگم کی انکھ کھلی تو اپنی برابر والی جگہ خالی دیکھ کے انہیں اپنا کل رات والا رویہ یاد آیا وہ تیزی سے اٹھ کے گیسٹ روم میں پہنچی کیونکہ شادی کے شروع شروع میں خرم صاحب وہی سوتے تھے۔۔۔
ناعمہ بیگم کمرے میں پہنچی تو خرم صاحب سو رہے تھے۔۔انہوں نے جاکے انکا کندھا ہلایا تو وہ بخار کی وجہ سے تپ رہا تھا ۔۔
ناعمہ بیگم نے لاکھ کوشش کی دو دن تک کے خرم صاحب کچھ بولے یہ میڈیسن کھالے مگر نہ تو انہوں نے ناعمہ بیگم سے بات کی نہ میڈیسن کھائ ۔
اس لیہ اج۔ناعمہ بیگم نے خود پہل کی اگر رشتہ انکے روٹھے تھے تو اکیلے خرم صاحب بھی تھے۔۔

#

انعم کی جان حلق میں آئ ہوئ تھی کیونکہ جینی آج کالج میں اسے اگنور کررہی تھی۔۔
جب انعم نے جینی سے اسکے رویہ کی وجہ پوچھی تو جینی نے کہا۔۔
انعم اگر تمہیں ہم پہ بھروسہ نہی تو مت آیا کرو ہمارے گھر یہ ہمارے ساتھ کلب۔؟؟
جینی یہ تم کیا کہہ رہی ہو ؟؟؟
میں کچھ سمجھی نہی؟؟
جب بھی ہم کلب جاتے ہیں زرا سا اگر میں تمیں کچھ پلاؤ یہ کھلاؤ وہ تمہارا باڈی گارڈ موت کے فرشتے کی طرح ہماری سامنے اجاتا ہے ایسا لگتا جیسے ہم تمہارے ساتھ کچھ غلط کررہے ہیں۔۔
باڈی گارڈ جینی یہ تم کیا بولی جارہی ہو ؟؟؟؟
کس کی بات کررہی ہو تم ؟؟
تمہارا ڈرائیور انعم جو تمہارا باڈی گارڈ بنا پھرتا ہے کل رات جب تمہارے بولنے پہ میں تمہارے لیہ ڈرنک لیے کے آنے لگی تو نہ صرف اس نے میرا راستہ روکا بلکہ ڈرنک بھی میرے منہ پہ پھینکی ۔۔
کیا تم زوہیب کی بات کررہی ہو؟؟
نام وام مجھے نہی پتہ مگر میں اسکی بات کررہی ہو جو ڈرائیور ہے تمہارا ..
جینی کی بات سن کے انعم کو یاد آیا کے اسے برقعہ کس نے پہنایا۔۔
وہ غصہ میں کالج سے نکلی اور رکشہ کرکے سیدھا زوہیب کے فلیٹ پہ پہنچی ۔۔
کیونکہ اسے پتہ تھا وہ ابھی اپنے فلیٹ پہ ہوگا 2 بجے تک وہ اپنے فلیٹ پہ ہی ہوتا تھا۔۔
مسلسل گھنٹی کی آواز پہ زوہیب کی۔نیند میں خلل پڑا اس نے گیٹ کھولا تو سامنے انعم کو غصہ میں کھڑا پایا ۔۔
ارے انعم بی بی آپ یہاں خیریت۔۔؟؟
زوہیب کی بات کا جواب دینے کے بجائے انعم نے اسکے سینے پہ اپنے دونوں ہاتھ رکھ کے اسے دھکا دیا اور کہا۔
سمجھتے کیا ہو تم اپنے آپ کو ؟؟
تم ہوتے کون ہو میری نگرانی کرنے والے میں جو چاہے کرو تمہیں اس سے کیا اپنی اوقات میں رہو زوہیب اج کے بعد میرے معملات سے دور رہنا ورنہ ماموں سے شکایت لگادونگی تمہاری ۔۔
بلڈی نوکر!!!!!
یہ بول کے انعم جانے لگی جب زوہیب نے تیزی سے اسکا ہاتھ پکڑ کے اندر کھینچا اور فلیٹ کا دروازہ بند کرکے لاک کیا۔۔
انعم جو ان سب کیلیے تیار نہی تھی ایک دم زمین پہ گری۔۔
انعم نے جب بند دروازے کو دیکھا تو اپنی گھبراہٹ چھپاتے ہوئے زوہیب سے کہا جو دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہا تھا۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے زوہیب دروازہ کھولو۔۔۔
یہ بول کے انعم جانے لگی۔۔
جب زہیب نے اسے اپنی باہنوں میں اٹھا کے اپنے روم میں لے گیا ۔۔
جھٹکے سے اسے بیڈ پہ پٹھکا اور اپنی قمیض اتاری۔۔
زوہیب کی اس حرکت پہ انعم کا حلق خشک ہوا اورا س نے ڈرتے ڈرتے زوہیب سے کہا۔۔
یہ کیا۔کررہے ہو زوہیب تم میں بھائ سے شکایت کرونگی تمہاری۔۔
انعم کی بات کی پرواہ کیہ بغیر زوہیب اسے پہ جھکا اور اسکا عبایا آگے سے اوپن کرکے اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں جکڑ کے اسکی شہہ رگ پہ جھکا۔۔
جاری ہے۔۔۔