Qismat Ka Khel By Mariyam Khan Readelle50211 Episode 30 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 30 Part 2
خرم کو گئے آج تیسرا دن تھا۔اسفند کا بخار اترنے کا نام ہی نہی لے رہا تھا۔۔
صائمہ نے اسے کسی اچھے ڈاکٹر کو دیکھانے کا سوچا مگر گھر موجود کھڑی گاڑی اسے چلانی نہی آتی تھی۔۔
صائمہ نے ہمت کرکے اسفند کو گودھ میں اٹھایا اور گھر سے باہر نکل کے ٹیکسی دیکھنے لگی۔۔
اکبر خان جس نے خرم کے جانے کے بعد صائمہ کی پل پل کی ریپورٹ رکھی تھی۔۔
اسطرح دھوپ میں اسفند کو لے صائمہ کو کھڑا دیکھ کے اکبر نے اپنی گاڑی صائمہ کے سامنے لاکر روکی اور اتر کے صائمہ کے سامنے آکے کہا۔۔
چلو گاڑی میں بیٹھو کہاں جانا ہے؟؟ میں چھوڑ دیتا ہو۔۔
اکبر خان کے بولنے پہ صائمہ خاموش کھڑی رہی اور ٹیکسی کا انتظار کرنے لگی۔۔
صائمہ گاڑی میں بیٹھو تمہیں آواز نہی آئ میں نے کیا کہا۔۔
اکبر نے صائمہ کے پاس آکے تھوڑا غصہ میں غرا کے کہا۔۔۔۔
اور تمہیں دیکھ نہی رہا میں تم سے بات کرنے میں انٹرسڈ نہہی ہو اپنا کام کرو خان میرا پیچھا چھوڑ دو تمہیں اللہ کا واسطہ ہے۔۔
صائمہ کے بولنے پہ خان نے غصہ میں اپنی مٹھیاں بھینچی اور کہا۔
سڑک پہ تماشہ نہی بنواو صائمہ اسفند کی طبیعت خراب ہے چلو ڈاکٹر کے ہاں۔۔
تماشہ تم بنارہے ہو خان۔۔اسفند میرا بیٹا ہے مجھے اچھی طرح پتہ ہے اس کی دیکھ بھال کیسے کرنی ہے تم اپنے مفت کے مشورے اپنے پاس رکھو۔۔
صائمہ کے بولنے پہ خان نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر تیزی سے اسفند کو اسکی گودھ سے لے لیا یہ سب اتنی جلدی ہوا کے اسے سمجھ ہی نہیں آیا کیاکرے اکبر نے اسفند کو گاڑی کے پیچھے لیٹایا اور خود صائمہ کا۔ہاتھ پکڑ کے اسے گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ بیٹھا کے گاڑی تیزی سے آگے بڑھا دی۔۔
ڈاکٹر نے اسفند کو چیک کرتے ہی ہسپتال میں ایڈمٹ کرلیا کیونکہ اسے ٹائفیڈ تھا۔۔
خان نے کوئ کسر نہی چھوڑی اسفند کے علاج میں وہ۔کسی سائے کی طرح صائمہ کیساتھ رہا۔۔اسفند کو آج ہسپتال میں ایڈمٹ ہوئے دوسرا دن تھا اسکی طبیعت اب کافی بہتر تھی۔مگر دو دن سے صائمہ نے صرف چائے اور پانی کے علاؤہ کچھ نہی پیا وہ بھی اپنے پیسوں سے۔۔
خان کھانا لے کے آیا اور ٹیبل پہ لگا کے صائمہ سے کہا۔
کچھ کھالو صائمہ دو دن سے کچھ نہی کھایا تم۔نے؟؟؟
تمہیں میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں اپنی۔بیوی اور اپنے بچے کی فکر کرو مر نہی۔جاونگی اگر کچھ کھاونگی نہی۔۔
یہ۔بول کے صائمہ واش روم جانے لگی جب خان نے اسے کھینچ کے دیوار سے لگایا اور دونوں ہاتھ اسکے دائیں بائیں رکھ کے کہا۔۔
تم اس انتظار میں ہو کے تمہارا لالچی شوہر تمہارا دیھان رکھنے آئے گا جیسے صرف اپنے بزنس سے مطلب ہے جو ایک کانٹریکٹ کے چکر میں اپنی بیوی اور بیمار بچے کو اکیلا چھوڑ گیا۔
تم سے مطلب تم اپنا کام کرو اکبر خان اور اتنے
معصوم نہی بنو یہ تمہارا کھیل ہے جس میں تم۔ صرف ہارو گے کیونکہ میں خرم سے بہت محبت کرتی ہو اسکی جگہ کبھی کسی کو نہی دونگی۔۔
صائمہ کے بولنے پہ اکبر خان کے لبوں میں ایک مسکراہٹ ائ اور اس نے کہا۔
ہاں میں نے کیا تھا یہ سب میرا رچا رچایا کھیل تھا یہ۔۔ ۔
مگر تم نے تو میرے بارے میں اپنے شوہر کو آگاہ کیا تھا بتایا تھا میں کتنا کمینہ انسان ہو پھر کیوں تمہارے شوہر نے تماری بات پہ یقین نہی کیا؟؟
کیوں آکے میرا گریبان نہی پکڑا تمہیں تنگ کرنے میں؟؟ کیوں اسکی آنکھوں نے نہی دیکھا کے میں اسی کے سامنے اسکی بیوی پہ نظر رکھ رہا ہو کیوں ؟؟؟
شوہر اپنی بیوی پر شیر کی نظر رکھتا ہے صائمہ
اسکی ہر حال میں حفاظت کرتا ہے تمہارے شوہر کی طرح نہی ایک معمولی کانٹریکٹ کے پیچھے اپنی بیوی اپنا بیمار بچہ چھوڑ کے لندن میں بیٹھا ہے ۔۔
اکبر خان کی باتیں سن کے صائمہ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے صائمہ جانتی تھی اکبر صحیح کہہ رہا۔
اکبر نے اسکے بہتے آنسو صاف کرنا چاہے تو صائمہ نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا اور چپ چاپ کھانا کھانے لگی صائمہ کو دیکھ کے اکبر کے لب مسکرا اٹھے۔۔
اب صائمہ خان سے کتراتی نہی تھی اس نے خرم کی غیر موجودگی میں اسفند کا اور اسکا بہت دیھان رکھا ۔دن گزرتے گئے اور خرم واپس آگیا مگر اب صائمہ وہ نہی رہی اسفند کو اسکول بھیج کے اب وہ گھر سے نکل جاتی کبھی خان کیساتھ کبھی اکیلے اب وہ خرم کو سزا دینا چاہتی تھی۔
اب نہ گھر کا کام وقت پہ ہوتا نہ ٹائم پہ خرم کو کھانا ملتا اب صائمہ کے پاس اتنا ٹائم نہی ہوتا کے وہ خرم کیساتھ دو پل بیٹھ کے باتیں کرے اب وہ اسفند کی دیکھ بھال کرنے کیلیے بھی ایک ماسی رکھ چکی تھی۔۔
آج اسفند کی 5 سالگرہ تھی خرم جلدی گھر آگیا مگر صائمہ گھر سے غائب تھی۔۔
خرم نے صائمہ کا کافی انتظار کیا اور وہ دس بجے کے قریب گھر پہنچی ہنستی مسکراتی خان کیساتھ جیسے دیکھ کے خرم کا خون کھول گیا۔
خان تو چلا گیا صائمہ جب کمرے میں جانے لگی خرم۔کو آگنور کرکے تو خرم نے کہا۔
بہت جلدی گھل مل گئ ہوخان سے یہ تک بھول کے آج ہمارے بچے کی سالگرہ ہے وہ بچہ تمہارا انتظار کرتے کرتے سو گیا۔اور تم خان کیساتھ مصروف ہو۔بھول گئ ہو شادی شدہ ہو ایک بچہ ہے تمہارا ۔۔۔
خرم۔کے بولنے پہ صائمہ پلٹی اور کہا۔
بڑی جلدی یاد آگیا تمہیں کے میں تمہاری بیوی ہو تب یہ احساس کہا تھا جب میں نے تم سے کہا تھا نہ جاؤ جب تمہیں احساس نہی ہوا کے تم بھی شادی شدہ ہو تمہارا بھی ایک بچہ ہے جیسے تم ایک کانٹریکٹ کے پیچھے چھوڑ کے چلے گئے ہر اس جگہ تم نے اپنی بیوی کو اکیلا چھوڑا جب اسے تمہاری ضروت تھی جب شوہر اپنی زمہداری نہی نبھاتا تو باہر والوں کو موقع ملتا ہے خرم ۔۔
تو یہ سب میں نے تم دونوں کیلیے کیا صائمہ۔۔
غلط بلکل غلط خرم تم نے یہ صرف اپنے لیہ کیا ۔ہمارے لیہ نہی ہمیں تمہاری ضرورت تھی خرم پیسوں کی نہی۔اسفند بخار سے ترپ رہا تھا مگر تمہیں لندن جانا تھا جب تم نے ہمارا نہی سوچا تو میں کیوں سوچو۔۔
خرم کے پاس آج صائمہ کی۔کسی بات کا جواب نہی تھا۔۔
معاشرہ ایسی عورت کو کیا بولتا ہے جو شوہر کے علاؤہ دوسرے مردوں سے تعلق رکھے۔۔خرم نے صائمہ کے سامنے کھڑے ہوکے کہا۔
اور ایسے مردوں کو ہمارا معاشرہ کیا کہتا ہے جو بیوی اور بچے کو اکیلا چھوڑ کے اپنی خواہش کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
صائمہ نے بھی اسے طرح خرم سے سوال کیا۔
بقول تمہارے خان کی نیت اچھی نہی وہ تم پہ غلط نیت رکھتا ہے تو اب کیا ہوا؟؟
خرم نے ایک اور سوال داغا۔۔
تم نے میری اس بات پہ۔یقین کیا تھا بلکہ اس کے بدلے تم نے مجھ سے کیا کروایا تھا یاد ہے تمہیں۔۔
اب تم میرے قابل نہی رہی صائمہ تم۔جا سکتی ہو اپنے گھر۔۔
صائمہ جو واش روم میں جانے لگی تھی ایک دم خرم کی آواز پہ پلٹی اور کہا ۔۔
ٹھیک ہے میں بھی اب یہاں رہنا نہی چاہتی۔۔
یہ کہہ کے صائمہ نے خان کو کال کرکے بلا لیا۔۔
اسفند جو اس شور شرابے سے اٹھ چکا تھا اپنی ماں کو اپنا سامان باندھتے دیکھا تو بلک بلک کے رو پڑا اپنی ماں کو اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے روکنے لگا اور خرم صرف گردن جھکا کے بیٹھا تھا یہ اسی کا بویا تھا جو اس وقت وہ کاٹ رہا تھا۔۔
خان کے آتے ہی صائمہ نے اپنے بچہ کو روتا بلکتا چھوڑ کے اکبر خان کیساتھ چلی گئ اور دو دن بعد خرم نے صائمہ کو طلاق دے دی۔۔
صائمہ خان کیساتھ اپنا سب کچھ چھوڑ کے ا تو گئ مگر بالکل خاموش ہوگئ۔۔
کراچی میں جب سب کو صائمہ اورخرم کی علیحدگی کا پتہ چلا تو ایک کہرام مچ گیا ہارون نے خرم سے بہت باز پرس کی مگر اس نے اپنی زبان نہی کھولی۔۔
ادھر خان نے صائمہ سے کچھ عرصہ بعد نکاح کرلیا ۔زندگی کی ہر آسائشیں اس نے صائمہ کو دی عزت پیار سب کچھ ہرپل وہ صائمہ کیساتھ سائے کی طرح رہتا کتنی بار خان اس سے اظہار محبت بھی کرچکا تھا۔اسکے کھانے کا پینے کا اسکی ہر چیز کا دیھان رکھتا ۔صائمہ جانتی تھی کے خان اسسے بہت محبت کرتا ہے مگر وہ ایک زندہ لاش کی طرح ہوگئ تھی نہ زیادہ ہنستی نہ زیادہ خان سے بات کرتی ۔
دن بدن اسکی صحت گرتی جارہی تھی۔ادھر کشمالہ کوجب اکبر کے نکاح کا پتہ چلا تو وہ بنا شور شرابہ کیہ زارون کیساتھ گاؤں اگئ۔۔
ادھر خرم نے اپنے پاس دائ جان کو بلا لیا اسفند ہر وقت اپنی ماں کو یاد کرتا ہر وقت بیمار رہتا۔ادھر زارون اپنی بہن کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گیا مگر اسے صائمہ کہی نہی ملی۔۔
خان کی جان صائمہ میں بستی تھی اور یہ بات اسکے قریب رشتہ داروں کو بہت جلد معلوم ہوگی صائمہ کی سالگرہ پہ خان نے صائمہ کو ایک لاکٹ دیا جس پہ خان لکھا تھا اور خود صائمہ کو پہنایا۔۔
مگر صائمہ اسے اب ان سب چیزوں سے کوئ سروکار نہیں تھا۔۔اسے بس اب اپنے بچے کی یاد ستاتی تھی۔ادھر خرم کو بھی احساس ہوچکا تھا کے وہ کیا کھو چکا ہے بزنس کے چکر میں۔
دن بدن صائمہ کی طبیعت گرتی جارہی تھی اکبر خان کو بھی تشویش لاحق ہونے لگی ایک دن بہت ضد کرکے خان صائمہ کو ڈاکٹر کے پاس لے کے گیا اور اسے وہاں جو خبر اسے سننے کو ملی وہ اسکے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچنے کیلیے کافی تھی۔
صائمہ کو برین ٹیومر تھا اور لاسٹ اسٹیج تھی۔خان نے کوئ کسر نہی چھوڑی صائمہ کا علاج کروانے میں مگر ناکام رہا۔
یہ بول کے ناعمہ بیگم چپ ہوئ جب اسفند نے روتے ہوئے کہا۔
پھر کیا ہوا ماما۔۔
میری پاکستان کی فلائٹ ایک مہینے بعد کی تھی۔مگر مجھے خان نے کال کرکے ارجنٹ پاکستان بلایا میں خان کو نہی جانتی تھی مگر جب اس نے صائمہ کا بتایا تو مجھے آنا پڑا۔
جب میں اسلام آباد کے ایک ہاسپٹل پہنچی تو وہاں میری بہن اپنی آخری سانسیں گن رہی تھی۔۔
میں اپنی بہن کی حالت دیکھ کے سکتے میں آگئ ۔صائمہ نے مجھے ایک ایک بات بتا دی مجھے بہت غصہ آیا اپنے آپ پر کے اتنا سب کچھ ہوگیا مگر میں اپنی بہن سے اتنی غافل رہی اور اس سے زیادہ غصہ تھا تمہارے پاپا پر ۔
صائمہ نے اپنی آپ بیتی مجھے سنائ اور خان کا لاکٹ مجھے دیکھ کے ہمیشہ کیلیے اس دنیا سے چلی گئ۔۔
اکبر خان صائمہ کے مردہ وجود سے لپٹ کر بچوں کی طرح رو پڑا میں حیران تھی کے کوئ کسی سے اتنی محبت کیسے کرسکتا ہے یہ جانتے ہوئے بھی کے صائمہ نے اس سے کبھی محبت نہی کی۔۔صائمہ کے بے جان وجودکو خان نے کسی قیمتی موتی کی طرح آخری بار اپنی باہنوں میں بھرا اور اسکے چہرے کے ایک۔ایک نقوش کو چوم کے چلا گیا ۔۔
اور میں صائمہ کی ڈیڈ باڈی لے کے کراچی اگئ۔۔
جاری ہے۔۔
