55.7K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

رجا نے اپنی آنکھیں کھولی تو سامنے وہی گرین آنکھوں والا شہزادہ تھا۔۔
رجا اسفند کو دیکھ کے ایک دم اس سے دور ہونے لگی جب اسفند نے اسے کمر سے تھام کے اور خود سے قریب کیا اور دوبارہ اسکے لبوں پہ جھکنے لگا جب کسی نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔۔
رجا نے چونک کے اپنی آنکھیں کھولی تو آمنہ کھڑی تھی۔۔
ارے رجا یہاں کیا کررہی ہو ؟؟
چلو دیر ہورہی ہے۔
آمنہ کے بولنے پہ رجا نے ادھر ادھر دیکھا مگر اسفند کہی نہی تھا ۔یعنی وہ۔میرا خواب تھا۔۔
یہ سوچ کے رجا کا ہاتھ بے ڈھرک اپنے دل پہ گیا ایک عجیب سے خوف نے اسے گھیرا۔۔
یااللہ یہ کیسی لگن ہے یہ کسی بے چینی ہے ایک غیر محرم کیلیے یااللہ مجھے اس گناہ سے بچا میرے مولا۔۔
رجا نے سچے دل سے دعا مانگی اور آمنہ کیساتھ چلی گئ۔۔
جبکہ دور کھڑا اسفند جو مظہر کیساتھ دو دن بعد ہونے والے حنا کے نکاح کیلیے تحفہ لینے آیا تھا رجا کو دیکھ کے اسکا حال بھی کچھ ایسا تھا۔۔
وہ بھی جب سے رجا کے ساتھ انجانے میں گستاخی کرچکا تھا جب سے اسکے حواسوں پہ رجا چھائ تھی وہ اپنی دل کی کیفیت سمجھنے سے خود بھی قاصر تھا۔۔
اور آج جب اس نے دوبارہ رجا کو دیکھا تو اسکے پیچھے آیا مگر پھر نجانے کیا سوچ کے اپنے قدم وہی روک لیہ مگر جب تک رجا وہاں سے گئ نہی وہ وہاں سے ہلا نہی۔۔
!!!!!!!!!!!
جمیلہ بیگم آج بہت دونوں کے بعد آصف کے کمرے میں آئ جنہیں دیکھ کے آصف کافی خوش ہوا۔۔
ارے امی آپ ائیے نہ اپ تو اتنا ناراض ہوئ اپنے بیٹے سے کے اسسے بات تک۔کرنا آپ کو گوارہ نہی۔۔
تم۔نے کام ہی ایسا کیا ہے آصف میری بچی کیساتھ بہت ناانصافی کی ہے پتہ نہیں وہ۔کس حال میں ہوگی زوہیب کیساتھ۔۔؟؟
امی انعم مجھے بھی بہت عزیز ہے آپ میرا یقین کرے وہ جس حال میں بھی ہے بہت خوش ہے زوہیب اسے بہت چاہتا ہے ۔۔
آصف کی بات پہ جمیلہ بیگم نے کچھ نہی کہا بس خاموش رہی۔۔
اچھا امی مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے؟؟
آصف نے آج جمیلہ بیگم کا موڈ دیکھ کے ان سے بات کرنے کی ٹھانی کیونکہ لبنہ واقعی اپنے کزن سے اب بہت پریشان تھی۔۔
ہاں بولو کیا بولنا ہے؟؟
جمیلہ بیگم نے اس کو دیکھتے ہوئے کہا۔
ماما میں ایک لڑکی کو پسند کرتا ہو لبنہ نام ہے اسکا اپنی والدہ کیساتھ رہتی ہیں والد اسکے حیات نہی آپ انکے گھر چلے رشتہ کی بات کرنے ۔۔۔۔۔
آصف کی بات سن کے جہاں جمیلہ بیگم حیران ہوئ وہی پریشان بھی انہوں نے غصہ سے آصف سے پوچھا۔۔
تمہیں کہاں ملی وہ؟؟
ماما میرے آفس میں کام کرتی ہے۔۔
اوہ تو اپنے بوس کو ہی پھسا لیا اس نے جمیلہ بیگم نے کافی نحوست سے یہ بات کی۔۔
امی ایسی لڑکی نہی ہے وہ اپ غلط سمجھ رہی ہیں۔
مجھے مت سمجھاؤ آصف وہ کیسی ہے کیسی نہی میں اسکے گھر رشتہ لے لے کبھی نہی جاونگی بلکہ رجا اجائے میں فاخرہ بھابھی سے بات کرتی ہو تمہارے اور رجا کے رشتے کی ۔
ماما آپ نے ایسا سوچ بھی لیا کے میں رجا سے شادی کرونگا؟؟
جمیلہ بیگم کی بات سن کے آصف بھی ہتھے سے اکھڑ گیا۔میری لاکھ لڑائ صحیح اس سے مگر میں نے ہمیشہ اسے انعم کی طرح سمجھا ہے اور یہ بات یاد رکھیے گا ماما اگر لبنہ نہی تو کوئ نہی اگر آپ نہ مانی تو پھر میں بالغ ہو اور اپنی زندگی کا ساتھی چننے کا حق مجھے اللہ نے دیا ہے آپ نہ مانی تو میں لبنہ سے کورٹ میرج کرلونگا۔۔
یہ بول کے آصف غصہ سے کمرے سے باہر نکل گیا جب جمیلہ بیگم نے غصہ سے کہا۔۔
عزت سے نہی تو زبردستی سے آصف مگر تمہاری شادی صرف رجا سے ہوگی صرف رجا سے۔۔
!!!!!!!!!!!!!!!
آج رجا اپنے گھر واپس آئ دددیی نے کتنی ہی دیر تک اسے سینے سے لگا کے رکھا۔ سب سے ملنے کے بعد وہ آرام کرنے چلی گئ۔۔
شام میں اس نے سب کے لائے ہوئے تحفے دیے جب اس نے انعم۔کا جمیلہ بیگم سے پوچھا۔۔
جمیلہ پھپو انعم کہاں ہے ؟سورہی ہے کیا۔
رجا کے پوچھنے پہ جمیلہ بیگم خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی گئ۔۔
انکے جانے کے بعد فاخرہ بیگم اور نصرت بیگم نے اسے ساری حقیقت سے آگاہ کیا۔
یہ سب سن کے تو وہ سکتے میں آگئ ۔۔انعم کلب جاتی تھی یہ دھچکہ رجا کیلیے بہت بڑا تھا مگر اسے تسلی ایک بات سے ہوئ اور وہ تھی زوہیب اور انعم کے نکاح والی بات مگر نصرت بیگم کے آخری الفاظوں نے اسے جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔۔
جو لڑکیاں ماں باپ کے بھروسے کو توڑتی ہے انکا مان سمان اپنی خواہشوں کے نظر کرتی ہے انکے ساتھ پھر ایسے ہی ہوتا ہے۔۔۔
رجا یہ سب سن کے کافی اداس ہوئ۔۔انعم کو وہ بہنوں کی طرح سمجھتی تھی مگر آصف نہ اتنا بڑا فیصلہ ایک دن میں کیا یہ اسکی سمجھ سے باہر تھا۔کیونکہ رجا سے بھی زوہیب کس کنڈیشن میں انعم کو کلب سے لایا تھا چھپائ گئ تھی۔۔
!!!!
رجا یونی کی۔کینٹین میں چپ چاپ بیٹھی اور اسکی دونوں دوستیں کافی دیر سے اسکی خاموشی برداشت کررہی تھی اور آخر کار تنگ آکر ارینا نے اس سے پوچھ لیا۔
یار کیا ہے جب سے یونی آئ ہے چپ چپ ہے کیا پھر زارون نے کچھ کہا ہے کیا؟؟
ارینا کے سوال پہ رجا نے نفی میں گردن ہلائی جب آمنہ نے پوچھا تو پھر ہوا کیا ہے بتا تو؟؟؟
ان دونوں کے پوچھنے پہ رجا نے انعم کی شادی کا سارا قصہ ان دونوں کو سنا دیا جیسے سن کے ان دونوں کو بھی جہاں افسوس ہوا وہی حیرانی بھی۔۔
ابھی وہ تینوں اپنی اپنی سوچوں میں گم تھی جب زارون وہاں ادھمکا اور بہت غور غور سے رجا کو دیکھنے لگا ۔
رجا کو یہ دیکھ کے کافی غصہ آیا اس نے اپنی۔کتابیں سمیٹی اور وہاں سے چلی گئ ۔۔
اس کے بعد اسکا زارون سے سامنا نہی ہوا ۔۔
رات میں رجا کے نمبر پہ ایک انجان نمبر سے واٹس اپ میسج آیا جیسے دیکھ رجا کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئ۔۔
واٹس اپ وہ منظر تھا جب اسفند نے رجا کے لبوں کو چھوا جب اسے کمر سے تھاما تھا۔۔
تصویر دیکھ کے رجا کے صحیح مانو میں پسینے چھوٹ گئے اس نے فورا وہ۔نمبر بلاک کیا۔
مگر ایسی اسکی سوچ تھی کے وہ بلاک کرکے بچ جائے گی۔
جتنی نمبر وہ بلاک کرتی اتنے ہی نیو نمبر سے کوئ نہ کوئ میسج آتا جسمیں موجود پک میں وہ اور اسفند کافی قریب۔ہوتے۔
اسے ٹینشن میں رجا تین دن یونی گئ۔۔
مگر چوتھے دن اسے جانا پڑا کیوں کے اسکا ایک بہت امپورٹڈ اسائمنٹ تھا جیسے اسے جمع کروانا تھا اسکی اڑی رنگت دیکھ جہاں فاخرہ بیگم نے کئ بار اس سے پریشان ہونے کی وجہ پوچھی وہی اسکی دوستوں نے بھی مگر اس نے یہ کہہ کے بات ٹال دی کے اسائمنٹ کی ٹینشن تھی۔۔
۔
رات کو رجا اپنے روم کے ٹیرس پہ گم سم سے بیٹھی تھی جب اس کے نمبر پہ انجان نمبر سے کال آئ۔
رجا نے ڈرتے ڈرتے کال اٹھائ جب آگے سے زارون نے کہا ۔
کیسی لگی پک تمہیں ؟؟کیمرے کا رزلٹ کیسا ہے؟؟
زارون یہ تم ہو پک بھیجنے والے تم جانتے ہو تم کیا کررہے ہو؟؟
یہ تم سوچو کے تم اپنے گھر والوں کو کیا جواب دوگے۔
انعم تو خالی کلب جاتی تھی تو اسکی چٹ منگنی پٹ بیاہ ہوگیا۔۔
تو تم اپنے بارے میں سوچو تم تو پوری کی پوری ۔۔
زارون تم مجھے بلیک میل کررہے ہو؟؟رجا نے لہجہ میں افسردگی سمائے کہا۔۔
ابھی تک میں نے تمہارے سامنے اپنے مدعا رکھا ہی نہی تو بلیک میلنگ کیسی۔۔
میں جانتا ہو تمہارا اس لڑکے سے کوئ تعلق نہیں یہ بھی جانتا ہو کے اس لڑکے کی غلطی تھی۔۔
زارون نے رجا سے کہا۔۔
تو پھر جب سب جانتے ہو تو پھر یہ سب کیوں کررہے ہو تم یہ بھی بھول گئے کے ہم کبھی دوست تھے؟؟
یہ بول کے رجا کا لہجہ رندھ گیا ۔۔
سب جانتا ہو اس دوستی کو محبت میں بدلنا چاہتا تھا رجا مگر تم نے مجھے ٹھکرادیا میری محبت کو تماشہ بنا دیا ۔مجھے مجبور کیا یہ سب کرنے کو ۔
زارون نے بھی حساب برابر کرکے کہا۔۔
محبت میں زبردستی نہی چلتی زارون ۔۔رجا آج خود کو بے بس محسوس کررہی تھی۔۔
وہ سب میں نہی جانتا کل میں اپنے پرینٹس کے ساتھ تمہارے گھر آرہا ہو رشتہ لے کے اگر تم نے انکار کیا تو اگے کی ذمیداری میری نہی یہ کہہ کے زارون نے کال کٹ کردی اور ادھر رجا بلک بلک کے رو پڑی۔۔
!!!!!!!!!¡!
اگلے دن رجا پھر یونی نہی گئ اور اپنے قول کے مطابق زارون اپنے پیرنٹس کیساتھ شام میں گھر میں موجود تھا۔۔
مسٹر خان آپ ۔۔؟؟
ہارون صاحب خوش دلی سے ملے جب کے ہارون صاحب کو دیکھ کے خان صاحب سکتے میں تھے۔۔
خان اور ہارون صاحب ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی ایک بزنس میٹنگ میں ملے وہی خان صاحب ہارون صاحب کو دیکھ کے یہ سوچنے کی کوشش کرنے لگے کے پہلے انہیں کہاں دیکھا ہے ۔۔مگر آج دوسری ملاقات میں انہں یاد آگیا کے انہوں نے ہارون صاحب کو پہلے کہاں دیکھا تھا اور یاد آنے پہ سکتے میں تھے۔۔
مسٹر ہارون یہ میری مسسز اور یہ میرا بیٹا زارون ۔۔
مسٹر خان نے اپنی فیملی کا انٹرو کروایا ۔۔اتنے میں دددیی بھی وہاں اگئ۔۔
فاخرہ بیگم نے بھی آکے انہیں جوائن کرا۔۔
جب مسسز خان نے اپنے آنے کی وجہ بتائ ۔۔۔
جیسے سن کے ایک منٹ کیلیے حال میں سناٹا چھا گیا ۔۔
جب ہارون صاحب نے زارون سے کہا۔
بیٹا کیا رجا کو پتہ تھا آج آپ لوگ آؤگے مطلب ابھی آپ نے کہا کے اپ اور رجا کلاس فیلو ہو تو اس لیہ میں نے پوچھا کیونکہ رجا نے ہمیں ایسا کچھ نہی بتایا۔۔
نہی نہی انکل میں خود آج یہاں رجا کو بنا بتائے آیا ہو رجا ان سب سے واقف نہی۔اس بار زارون رجا کو بچا گیا۔۔
اس سے پہلے ہارون صاحب کچھ بولتے نصرت بیگم بول پڑی ۔۔
معزرت کیساتھ بیٹا ہم یہ رشتہ قبول نہیں کرسکتے۔۔
نصرت بیگم کی بات پہ نہ ہارون صاحب۔ کچھ بولے نہ فاخرہ بیگم ۔۔
مگر مسسز خان بول پڑی۔۔
مگر کیوں آنٹی ؟؟
کیونکہ بیٹا رجا کا نکاح بچپن میں اس کے کزن سے ہوچکا ہے ہم توبس اس کے فائنل پیپر کے بعد اسکی رخصتی کرینگے۔۔
نصرت بیگم کی بات پہ جہاں مسٹر خان نے پر شکوہ نظر سے زارون کو دیکھا وہی زارون جو د جو یہ بات سن کے بہت مشکل سے اپنا غصہ ضبط کررہا تھا ۔۔تیزی سے اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔۔
مسسز خان اور مسٹر خان بھی زارون کے پیچھے گئے۔۔
جبکہ۔ہال کی دیوار سے منسلک کھڑی رجا کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسک گئ ۔۔
میرا نکاح ہوچکا ہے یعنی میں کسی کی بیوی ہو ۔۔
رجا بے خودی میں بولنے لگی اور ڈورتے ہوئے اپنے کمرے میں گھس گئ ۔
جاری ہے۔۔۔