55.7K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

ہزار بار کہاں ہے میری چیزوں کو ہاتھ مت لگایاکرے۔۔۔
ناعمہ کو اپنے کمرے میں دیکھ کے اسفند کی غصیلی آواز اسفند ولا میں گونجی۔۔
ناعمہ بیگم جو اسفند کی غیر موجودگی میں اسکے کمرے میں چلی آئ تھی اسکابکھرا سامان
سمیٹنے ۔ اسفند کی غصیلی آواز سن کے دو منٹ کے لیے ناعمہ بیگم گھبرائ مگر پھر سنبھل کے کہا۔۔۔
میں ماں ہو اسفند تمہاری!!!!
اوہ رئیلی مسسز ناعمہ خرم ۔۔
جب یہ ماں کہاں تھی جب اپنے 5 سال کے بچے کو روتا بلکتا چھوڑ کے اپنے عاشق کیساتھ نکل گئ تھی ۔
اسفی یہ کس زبان میں بات کررہے ہو اپنے ماں سے لفظوں کو درست کرو اپنے۔۔۔
اچانک اسفند کے کمرے میں دائ جان کی اواز گونجی جو اسفی کی غصیلی آواز سن کے اسکے کمرے میں چلی آئ تھیں۔
ایسی دھوکے باز عورتوں سے ایسی بات ہی کی جاتی ہے دائ جان اسفند نے غصیلی نظر ناعمہ بیگم پہ ڈال کے کہا اور دوبارہ دائ جان سے مخاطب ہوا۔۔
اگر آپ چاہتی ہیں کے میں ان کے ساتھ بدتمیزی نہ کیاکرو تو نہ آیا کرے میرے سامنے بلکل بھی نہ میری چیزوں کو ہاتھ لگایا کرے سمجھا دے انہیں یہ بات۔۔
یہ صرف حنا کی ماما ہے میری نہی سنا آپ نے میری نہی۔۔
اسفند نے ایک بار پھر چیخ کے کہا اور جیسے آیا تھا ویسے ہی باہر نکل گیا۔۔
اسفند کے نکلتے ہی دائ جان ناعمہ بیگم کے قریب ائ اور اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا ۔۔
ناعمہ بیگم نے ایک تلخ مسکراہٹ لیہ دائ جان کو دیکھا اور کہا
نجانے دائ جان اسفی کی نفرت کب ختم ہوگی اب میں تھکنے لگی ہو۔۔
اور دائ جان نے ناعمہ بیگم کو گلے سے لگایا اور ہر بار کا رٹا رٹایا جملہ کہا۔۔
جو پچھلے 20 سالوں سے وہ ناعمہ بیگم کو بولتی آئ ہیں۔۔
صبر رکھ میری بچی تیری قربانی رائیگاں نہی جائے گی میرے اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہی۔۔۔

#

اسفند کی گاڑی کی رفتار ضرورت سے زیادہ تیز تھی ۔۔20 سال پہلے کا واقع اسکی آنکھوں کے سامنے ایک بار پھر چلنے لگا۔۔
ماما،ماما۔۔
نہی جائے نہ میں وعدہ کرتا ہو رات کو روز دودھ پیونگا۔۔ہوم ورک بھی ٹائم پہ کرونگا ۔۔
پلیز ماما نہی جائے پلیز ماما۔۔۔
وہ پانچ سال کا خوبصورت بچہ جسکی آنکھیں ہو بہو اپنی پاپا پہ تھی لائٹ گرین اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اپنی ماما کا ہاتھ پکڑ کے انہیں روک رہا تھا جبکہ چند قدم کے فاصلہ پہ۔کھڑا اسکا باپ اب صرف پچھتا رہاتھا۔۔
اس عورت نے اپنا ہاتھ ایک جھٹکے سے اپنے بچے سے الگ کرا اور تیزی سے گھر کی دہلیز لانگ گئ۔۔
موبائل کی رنگ ٹون نے اسفند کو ماضی سے باہر نکالا اس نے بے دردی سے اپنے آنسو صاف کیہ اور سرگوشی کی۔۔
میں اپکو کبھی معاف نہی کرونگا ماما کبھی نہی اور کال ریسیو کی۔۔
یار کہاں ہے تو کب سے تیرا ویٹ کررہے ہیں آج موڈ نہی کیا ریسنگ کا؟؟
زاہد نے پریشان کن لہجہ میں اسفند سے پوچھا۔۔
آرہا ہو 10 منٹ میں یہ بول کے اسفند نے کال کٹ کری اور گاڑی کی اسپیڈ اور بڑھادی۔

#

رات گئے خرم صاحب گھر لوٹے تو ناعمہ کو کمرے میں محلق کھڑکی کے پاس کھڑا پایا۔۔
خرم نے جاکے اپنا کوٹ اتارا اور بیڈ پہ بیٹھتے ہوئے کہا۔
کیا ہوا آج گم صُم ہو بہت؟؟؟
خرم صاحب کے بولنے پہ ناعمہ نے ایک لمبی سانس ہوا میں خارج کی اور پلٹ کے کہا۔
کھانا لاو آپکے لیہ؟؟
ہاں لے او آج آفس میں کام کرتے ہوئے احساس ہی نہیں ہوا بھوک کا۔۔
تم نے کھایا ؟؟؟
خرم صاحب کے بولنے پہ ناعمہ نے کوئ جواب نہی دیا اور کھانا لینے جانے لگی جب خرم صاحب نے انکی کلائی تھامی اور اسکا رخ اپنی طرف موڑتے ہوئے کہا۔۔
ادھر دیکھو میری طرف تم روئ ہو؟؟؟
نہی نہیں تو وہ سر میں درد تھا تو بس اس لیہ آپ فریش ہوجائے میں کھانا لاتی ہو۔۔
ناعمہ ادھر دیکھو میری طرف ۔۔۔
خرم صاحب کے بولنے پہ ناعمہ نے نگاہ اٹھا کے انکی طرف دیکھا۔۔
اور خرم صاحب ناعمہ بیگم کی آنکھیں دیکھ کے سمجھ گئے کے ضرور کچھ ہوا ہے۔۔
ناعمہ مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے؟؟
اسفند نے پھر کچھ کہا ہے؟؟؟
اسفند کا نام لینا تھا کے ناعمہ کی۔انکھوں سے تیزی سے آنسو گرنے لگے ۔۔خرم صاحب نے آگے بڑھ کے ناعمہ بیگم کو سینے سے لگایا اور کہا۔
تم بتا کیوں نہی دیتی ناعمہ اسے سچائ کیوں ازیت ،ذلت برداشت کرتی ہو بتا دو اسے اصل قصور وار کون ہے ؟؟
ناعمہ بیگم خرم صاحب سے الگ ہوئ اور کہا۔
اب بھی جانتے ہیں جس دن اسے سچائ معلوم ہوئ اس دن وہ سب سے زیادہ نفرت آپ سے کرے گا اور میں یہ نہی چاہتی۔۔
یہ بول کے ناعمہ بیگم کمرے سے چلی گئ۔۔
اور خرم صاحب شکستہ خور حالت میں بیڈ پہ بیٹھ گئے اور ماضی سوچتے سوچتے ایک بار پھر انہیں پچھتاوا ہوا کے کاش وہ اگر دولت کمانے کے نشے میں اتنے مگن نہ ہوتے توشاید آج انکا بیٹا کچھ اور ہوتا آج انکی دلعزیز بیوی انکے پاس ہوتی آج انکے گھر کا ماحول الگ ہوتا۔۔۔

#

ارے جمیلہ یہ رجا کہاں رہ گئ ؟؟پتہ بھی ہے اسے ا
ہم اسکے بغیر ناشتہ نہی کرتے ..
نصرت بیگم نے اپنی چھوٹی بہو کو مخاطب کرکے کہا۔۔
ا رہی ہے امی آپ تو ناشتہ شروع کرے ۔۔
جمیلہ نے کمال کی جھوٹی مسکراہٹ سجا کے کہا۔
جب کے اندر اندر وہ رجا کو کافی گالیوں سےنواز چکی تھی۔۔
ناشتہ کی ٹیبل پہ سب موجود ہے جب اکبر صاحب نے کہا۔۔
بھابھی اپ رہنے دے خودی اجائے گی ناشتہ کرنے ۔۔
آپ ناشتہ کرے بیٹھ کے۔۔
امی آپ کی لاڈ پیار کا نتیجہ ہے جو اتنا لیٹ اٹھتی ہے یہ بھی اسے احساس نہی کے آپ اسکا ناشتہ پہ ویٹ کرتی ہے۔۔ہارون صاحب جو خود بھی رجا کے بغیر ناشتہ نہی کرتے تھے ۔مصنوعی غصہ چہرے پہ سجائے بول پڑے۔۔
ارے آپ تو خاماخای میں میری بچی کے پیچھے پڑھ جاتے ہیں۔
فجر کی نماز پڑھ کے سوتی ہے یونی جانے میں ٹائم ہوتا ہے اس لیہ۔۔۔
فاخرہ بیگم بھی چائے کی ٹرالی لاتے ہوئے اپنی بیٹی کی حمایت میں بول پڑی تو ادھر جمیلہ اور اسکے بیٹے آصف کا خون اندر سے کھول رہا تھا رجا رجا کا نعرہ صبح صبح ہی لگتا دیکھ۔۔
سو سوری دددییی میں لیٹ ہوگی۔۔
رجا کہ آواز پورےحال میں گونجی لائٹ پرپل اور پنک کلر کے کنٹراس میں سر پہ ہم رنگ کا اسکارف باندھے پیروں میں کھوسے ڈالی میچنگ کی چوڑیاں ہاتھوں میں سجائے جس کی وہ دیوانی تھی۔۔
اور خوبصورتی اور معصومیت ایسی کے دیکھنے والے دنگ رہ رہ جائے اس پہ اسکی خوبصورتی کو چار چاند لگاتا اسکے اوپر کے ہونٹ پہ ابھرتا تل ۔۔
رجا نے سب سے پہلے نصرت بیگم کے گال کا بوسہ لیا پھر اپنے والدین کا اوررجا کی اس حرکت پہ ہارون صاحب مسکرا پڑے ۔۔
جبکہ سامنے بیٹھے نفوس بہت مشکل سے یہ ہیپی فیملی کاسین برداشت کررہے تھے۔
جب جمیلہ بیگم بول پڑی۔۔
رجا بیٹا تھوڑا جلدی آجایا کرو ناشتہ پہ امی جان ویٹ کررہی ہوتی ہیں ناشتہ پہ تمہارا ۔
جمیلہ بیگم نے کمال کی مٹھاس اپنے لہجے میں گھول کے رجا سے کہا۔۔
اور رجا جو انکی ساری چالاکیوں سے واقف تھی بول پڑی۔۔
ارے چچی جان مجھے یہ بتائے آج بھی انعم نہی اٹھی ؟؟
رجا کے اسطرح اچانک بولنے جہاں جمیلہ بیگم گڑبڑائ وہی نصرت بیگم اور فاخرہ بیگم نے اپنی مسکراہٹ دبائ جو نہ آصف سے چھپ سکی نہ جمیلہ بیگم سے۔۔
ارے وہ بیٹا رات تک پڑھائی کررہی تھی تو سو رہی ہے۔
جمیلہ بیگم نے بات سنبھالتے ہوئے کہا۔۔
اچھاچچی پیپر تو ختم ہوگئے اسکے اب کونسی پڑھائ کررہی ہے ۔؟؟؟۔
رجا کی بات پہ آصف جو کافی دیر سے خاموش بیٹھا تھا بول پڑا۔۔
تمیں اس سے کیا رجا وہ کسی بھی وقت اٹھے ۔
یہی تو میں بول رہی ہو کے میری مرضی میں جب بھی اٹھو یہ بات چچی کوبھی سوچنا چاہیے۔۔
رجا نے بھی بنا لحاظ کیہ آصف کو جواب دیا۔۔
اور رہاسوال میری دددییی کا میرا ویٹ کرنے کا تو جب انہی اعتراض نہی تو اوووروں کوبھی نہی ہونا چاہیے۔۔
دددییی میں جارہی ہو یونی پہنچ کےکال کرتی ہو اپکو۔۔
جاؤ میری بچی فی امان اللہ۔۔۔
رجا کے جاتے ہی سب ہی اپنے اپنے کاموں کیطرف چل پڑے اور آصف صرف اپنا کھولتا خون کنٹرول کرنے کیلیے اپنے کمرے کی طرف جسکے پیچھے جمیلہ بیگم بھی گئ۔۔
جاری ہے۔۔۔