Mukhra by Bint-e-Aslam NovelR50490 Mukhra Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
Mukhra Episode 9
Mukhra by Bint-e-Aslam
حویلی پہنچا تو شبانہ سرکار صحن میں ہی ٹہل رہی تھیں وڈے سائیں بھی پیچھے ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھے تھے آتے ہی وہ دس بار اسکے صدقے واری گئیں ” اماں سائیں آپ تو خود بیمار ہیں باہر کیوں آئیں ؟”
“ میری جان کو دیکھنا تھا اسلیے آگئی پر اتنی دیر سے کیوں آیا ۔”
“ اماں سائیں۔۔۔۔وہ ابا سائیں ایک ضروری کام پڑ گیا تھا اسنے انگلیوں سے بندوق بنا کر ماتھے پر رگڑی جس کا مطلب وڈے سائیں سمجھ گئے تھے ” چھوڑ شبانہ تھکا آیا ہے کچھ کھانے کو دے اسے ۔۔۔۔” یاد دہانی پر اماں سائیں نے ماتھا پیٹا اور اسے بازو سے پکڑ کر اندر لے گئی کھانا کھاتے وقت بھی وہ نارمل انداز میں ہنستا کھیلتا رہا پھر اپنے کمرے میں آیا اور کرسی سے ٹیک لگا کر لیٹ گیا سر بھی پیچھے ٹکا لیا جب تھوڑی دیر بعد کسی کے ہاتھ چہرے پر محسوس ہوئے اس پہلے وہ سر اٹھاتا دوسرے وجود نے پیچھے سے پیشانی اسکی پیشانی سے جوڑ دی اسنے آنکھیں کھولیں تو حیران رہ گیا ” روزینہ !
روزینہ ! یہ روزینہ کون ہے ؟” وہ ارتشا تھی ایک جھٹکے سے سیدھا ہوا ” یہ کیا بہودگی ہے ارتشا ؟”وہ ایک دم اسکے قریب آئی اسکے سینے سے لگ کر ہاتھ پشت پر باندھ لیے ” میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی دلبند نکاح کرلو مجھ سے میں محبت کرتی ہوں تم سے ہر حد لانگنے کے لیے تیار ہوں !” گرفت مضبوط کرتی وہ اسکے سینے میں گھستی جارہی تھی اور ایک نامحرم کا لمس ایسے پا کر اسے ایسا لگ رہا جیسے کوئی گرم سلگتا سریہ اسکے اندر گھونپ رہا ہے اسنے خود سے دور کیا ” شرم نہیں آتی تمہیں ایسے میرے قریب آتے مجھے مرد ہوکر شرمندگی ہوتی ہے اور تم لڑکی ہو کر یہ بات اتنی آسانی سے کہہ جاتی ہو ۔”
“ ہاں تو محبت میں کیسی شرم بچپن کی منگیتر ہوں تمہاری محبت کرتی ہوں تم سے ایسے میرے سے پلہ نہیں جھاڑ سکتے تم میں کچھ بھی کر جاوں گی تمہارے لیے .” اسنے حیرت سے اسکی جانب دیکھا ” مطلب ؟”
ارتشا نے اپنی چادر اتار کر پھینک دی ” دی نکاح سے پہلے اپنی عزت تمہیں دی !” اسے بے چادر دیکھ کر دلبند تو کب کا رخ موڑ گیا تھا ” بکواس بند کرو اور دفاع ہوجاو اتنی جلدی ہے نہ تمہیں تو میں آج ہی چچا سائیں سے بات کرتا ہوں اچھا سا لڑکا دیکھ کر نکاح کردیں تمہارا کیونکہ تم محبت میں جسم کو ملوث کر چکی ہو اور دلبند محبت روح سے کرتا ہے روزینہ کی روح سمجھی جاو یہاں سے !!! اسنے ایک دم چیخ کر کہا جس پر وہ گھبرائی ہوئی چادر اٹھاتی چلی گئی وہ کرسی پر گر سا گیا ۔
تیری جسم کی خوشبو سے نہیں ۔۔۔۔
تیری مسکراہٹ سے وجود میرا معطر ہے ۔۔۔۔۔
مجھے تم سے بے پناہ محبت ہوگئی ہے روزینہ تم نے میری بات مان کر پھر سے پردہ کرنا شروع کردیا جس چہرے کو حلال طریقے میں اپنا لمس دینا چاہتا ہوں چھونا چاہتا ہوں میں نہیں چاہتا اس پر کسی اور کی نظروں کی تپش برداشت نہیں اور اسفندیار تمہارے آنکھیں نہ مجھے ان مٹکو کی طرح لگتی ہیں جو میں بچپن میں غلیل مار کر توڑا کرتا تھا تمہاری پھوڑوں گا ۔۔۔۔”
دو دن گاوں رہ کر وہ واپس آگیا تھا وہ سب یونی کے گراونڈ میں بیٹھے تھے جب اسفند یار کچھ لڑکوں کو لیے وہاں پہنچ گیا دلبند کچھ دور کسی پروفیسر سے کچھ ڈسکس کررہا تھا ” تم لوگوں کو لگتا ہے دلبند بہت معصوم شریف اور بھولا بھالا ہے پورا غنڈا ہے ماتھے میں گولی آرپار کرتا ہے دیکھنا ابھی ۔۔۔” وہ پروفیسر وہاں سے چلا گیا جب دو تین لڑکے اسے گھیراو کر گئے دلبند نے نظر گھما کر سب کو دیکھا اسفندیار سامنے کمینی ہنسی لیے کھڑا تھا جب اسکی نظر کچھ دور روزینہ پر گئی ” اچھا تو یہ مجھے اسکے سامنے برا ثابت کرنا چاہتا ۔”ایک لڑکے نے آگے بڑھ کر اسکے پیٹ میں مکا مارا کتابیں گراتا پیچھے گرتا سنبھالتا وہ بچ گیا ” ارے دوست مجھے کیوں مار رہے ہو؟” وہ حیرت سے اسکی جانب دیکھنےلگا انھوں نے اسے اچھا خاصا مارنا شروع کردیا اور وہ معصوم مار کھاتا رہا اسفندیار کی ہنسی غائب ہوچکی تھی اسکے سر پر زور سے دونوں ہاتھوں کا مکا مارا گیا وہ لڑکھڑاتا گر جاتا جب کسی نرم ہاتھوں نے پکڑ لیا روزینہ کا با نقاب چہرا اسکے سامنے تھا بے ساختہ اسکے چہرے پر مسکراہٹ آئی اسفند یار آگے آیا اسکا گریبان پکڑا ” اے پینڈو یہ کیا ڈرامہ ہے مار کیوں کھا رہا ہے مارتا کیوں نہیں جیسے ان آدمیوں کو مارا تھا ؟”
بند ہورہی آنکھوں سے اسنے اسفندیار کو دیکھا ” کونسے آدمی ؟”
“ وہی جنہیں میں نے تجھے مارنے کے لیے ۔۔۔۔” اسفندیار پوری یونی کے سامنے اعتراف کرگیا تھا دلبند خاموشی سے کھڑا ہوا بیگ اٹھایا اور اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتا نکل گیا ” روزینہ میری بات سنو میں نے اسے مارنے کے لی۔۔۔۔” روزینہ نے اسکی بات ٹوک دی ” تم انتہائی گھٹیا انسان ہو اسفندیار تم نے اپنی غلاظت چھوٹے۔۔۔مسٹر ٹاپر پر بھی نکال دی میں معصوم شریف اتنی مار کھا کر گیا ہے کیونکہ وہ تحمل پسند ہیں غنڈے نہیں ۔۔۔۔”چلاتی وہاں سے چلی گئی اسفندیار نے کنپٹیاں مسلی پوری یونی دیکھ رہی تھی ” اسفندیار !” اسکے ایک دوست نے ہاتھ اسکے کندھے پر رکھا جب وہ دبی آواز میں چیخا”
I want this girl on my bed as early as possible otherwise I will shoot your whole family !”
اس لڑکے کو دھمکی دیتا وہ وہاں سے نکل گیا اسنے تھوک نگلا ” جلد ہی کچھ کرنا ہوگا ورنہ اسفندیار تباہی پھیلا دے گا۔۔”
وہ یونی سے کچھ دور گاڑی پارک کیے کھڑا تھا جہاں سے اب وہ تین لڑکے آرہے تھے اسنے مسکرا کر پہلے اپنے پنجے چٹخائے پھر گردن دائیں سے بائیں موڑی کف موڑتا باہر آیا اور سینے ہاتھ باندھے خاموش کھڑا ہوگیا پیچھے روزینہ موٹر سائیکل پر بلاول کے ساتھ چلی گئی تھی ” اماں سائیں کو میرے جسم پر ایک خروش برداشت نہیں اور تم نے میرا ہونٹ پھاڑا پیٹ دکھایا تو اس زخم کو دیکھ کر جو میرے اماں سائیں کے آنکھوں میں آنسو آئیں گے اسکا ہرجانہ کون ادا کرے گا ۔”
“وہاں لگتا مار کھانے میں کمی رہ گئی تھی پینڈو ۔۔۔” ایک لڑکا پنچ بناتا کلائی مروڑتا آگے آیا اس سے پہلے وہ ہاتھ اٹھاتا دلبند موڑ کر اسکا ہاتھ توڑ چکا تھا ۔باقی دونوں کا سر وہ آپس میں مار کر پھوڑ چکا تھا وہ بھی چولہے کےشیر تھے جلد ہی ڈھیر ہوگئے ہاتھ جھاڑتا وہ واپس گاڑی میں بیٹھ گیا اور دھول اڑاتا نکل گیا ۔
اسفندیار اور روزینہ کہاں ہیں ؟” پورا دن ہوگیا تھا تیسرے لیکچر تک تو وہ دونوں آیک ساتھ ہی تھے ۔مگر اسکے بعد سے ابھی تک وہ اسے ڈھونڈ ہی رہا تھا ” میں نے روزینہ کو لائبریری جاتے دیکھا تھا اسکے بعد نہیں. ۔”
وہ کوئی نوٹس بنانے میں بزی تھی جب اسفندیار اسکے ساتھ آکر بیٹھ آگیا وہ بلکل مگن تھی جب اسنے ٹیبل پر پڑے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا وہ بدک کر پیچھے ہوئی تو کرسی کے ساتھ ٹکائے اسکے ہاتھ سے ٹکراگئی نظر اٹھا کر دیکھا پوری لائبریری خالی تھی وہ اٹھنے لگی جب اسنے ہاتھ کھینچ کر بیٹھا لیا اور چہرا قریب کرلیا ” حسن کو جلوا نما ہونے دیتے ہیں پردوں میں نہیں رکھتے ورنہ لوگ ترس جاتے ہیں !” اسکے چہرے کے قریب اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال لیں اسے کہہ رہا تھا جب اسنے دھکیل دیا ” تم اتنے گھٹیا کیسے ہوسکتے ہو دور رہو مجھ سے !” دوبارا اٹھی جب اسنے پیچھے سے پکڑ لیا ہاتھ اپنے قابو میں کر لیے ” میں کیوں دور رہو وہ دلبند کو تو بڑے پیار سے ساتھ بیٹھاتی ہو کسی اور کو بھی موقع دے کر دیکھو ۔” وہ اپنی کلائیاں اسکی گرفت سے نکلالنے کی کوشش کی جب اسنے گھوما کر اپنے سامنے کیا ہاتھ پکڑے دوسرے ہاتھ سے اسکا نقاب نیچے کرنے لگا مگر اس سے پہلے ہی کسی نے ہاتھ پکڑ لیا کلائی پر دلبند کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ اسفندیار کی ہاتھ کی نسیں ابھر آئی تھیں دوسرے ہاتھ سے روزینہ کے ہاتھ چھڑائے جو دلبند کے پیچھے چھپ گئی اسکے کندھے کو مضبوطی سے تھام لیا اسفندیار نے نظر گھما کر دروازے کی طرف دیکھا جہاں اسکے کھڑے کیے گئے لڑکے کی گردن شہریار نے دبوچ رکھی تھی ” ہاتھ چھوڑ ! اسفند یار نے تحمل سے کہا جس پر دلبند نے روزینہ کو دیکھا وہ ڈری سہمی سی کھڑی تھی ” روزینہ اسنے چھوا حوس زدہ ہاتھوں سے دیکھا حوس زدہ نظروں سے ایسے ہی جانے دوں گی میں بھی ہاتھ لگاو چھوئے اجازت ہے مجھے بھی کچھ نہیں کہوں گی نہ تو کیا خیال ہے آج رات تم میرے ۔۔۔” اس سے پہلے ہی وہ صدمے زدہ آنکھوں سے دیکھتی چیخ پڑی تھی ” کیا کہہ رہے ہیں آپ !”
” اسنے مسکرا کر اسے دیکھ یہ چیخ یہ دھاڑ تب کہاں تھی جب یہ ہاتھ لگا رہا تھا ۔” وہ سمجھ کر شرمندہ سر جھکا گئی ” یو نو جب کوئی ایسے ہاتھ لگائے تو کیا کرنا چاہیے ؟” اسفندیار کا وہی ہاتھ گھما کر اسکی پشت پر باندھا اور پیچھے ٹانگ مار کر دھکیل دیا وہ لڑکھڑاتا گرتا گرتا بچا ۔۔۔”
وہ پلٹ کر واپس آنے لگا جب وہ چیخا ” اسفندیار یونی ورسٹی کے باہر ! سارے حساب کتاب کلیئر کریں گے. “
تتھنے پھلاتا اسکا دوست اسے وہاں سے لے گیا تھا ” آپ بھی جائیں !” وہ نظریں جھکاتی وہاں سے جانے لگی جب اسنے پیچھے سے پکڑ لیا کلائیاں دبوچ کر آگے باندھ دیں ” مسٹر ٹاپر ۔۔۔”
” ریلیکس ! میری بات غور سے سنو جب کوئی پیچھے سے ایسے قابو کر لے تو ہاتھوں کو پوری طاقت لگا کر پیچھے کی طرف دھکیلتے ہیں کہنیوں کی مدد سے حملہ کرتے ہیں لائک دس ۔۔۔۔” اسکی کلائیاں تھامے اسنے انھیں پیچھے کی طرف کیا ۔” اب آپ کر کے دیکھائیں !” اسنے دوبارہ گرفت مضبوط کر لی تھی جب اسنے اپنی پوری طاقت لگا کر ہاتھ پیچھے دھکیلے اتنی سی تکلیف سے اسے کیا ہونا تھا پھر بھی اسکا موڈ اچھا کرنے کے لیے وہ آہ کرتا دور ہوگیا ” اتنی زور سے اسے مارنا تھا نہ !”
اسکی بات وہ تھوڑا ڈر گئی تھی ” معذرت چھوٹے۔۔۔۔۔مسٹر ٹاپر زیادہ لگ گیا ۔” اردو اور گاوں کی زبان بولنے کا طریقہ اسنے اتنی مہارت سے الگ رکھا تھا کہ اسے کوئی نہیں پہچان پاتا تھا۔ وہ اسکے قریب آیا بے حد قریب بس چھوا نہیں ” سمجھ تو آپ گئی ہونگی کہ میں یہ سب کیوں کر رہا ہوں بچی نہیں ہیں آپ میری جان ہیں اور میری جان اتنی کمزور نہیں ہونی چاہیے باقی محبت بھری باتیں اختیار کے بعد گود میں سر رکھ کر کروں گا ۔” اسکی آنکھوں میں دیکھتا کہہ کر وہ تو چلا گیا مگر جاتے جاتے اسکے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ گیا تھا ” چھوٹے سائیں نہیں یہ نہیں ہوسکتا چاند کبھی چکور کا نہیں ہوسکتا میں ایسا نہیں ہونے دوں گی میں ۔۔۔۔میں اب سے آپ سے دور رہوں گی
