Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mukhra Episode 15

Mukhra by Bint-e-Aslam

وڈے سائیں کافی دیر سے چچا سائیں کو پاس بیٹھائے اٹھنے نہیں دے رہے تھے چچی سائیں وڈی سرکار کے گلے لگی ہوئی تھیں ارتشا وڈے ابا کی گردن میں بائیں ڈالیں کھڑی تھی ” وڈے ابا ہم نے اتنا یاد کیا آپکو جب ابا مجھے ڈانٹتے تھے ۔”

دلبند اور عرفان ایک ساتھ بیٹھے تھے عرفان کا حیرت سے حال برا تھا ” وڈے ابا اتنے کمزور ہوگئے ہیں !”

” ہمم دل کا دورہ پڑا تھا ڈاکٹر کہہ رہا تھا دل کا ایک وال بھی بند ہوگیا ہے ۔”

” دلبند ! بھابھی سائیں اسکے پاس آکر بیٹھ گئی تھیں ” جی بھابھی سائیں ؟”

” ایک بات کہوں اگر تم برا نہ مانو تو؟” اسنے ہچکچاتے ہوئے کہا ” حکم بھابھی سائیں !”

” میرے بھائی نہ ہارٹ سرجن ہیں اگر تم کہوں تو میں آج سے بات کروں وڈے ابا کو شہر لے جاتے ہیں وہاں انکا علاج اچھے سے ہوجائے گا تمہیں تو پتا ہے میں نے کبھی باپ کا سکھ نہیں دیکھا یہاں آکر ان دونوں سے پیار ملا ہے میں نہیں چاہتی انھیں کھونا پلیز میں اور عرفان انھیں لے جاتے ہیں !”

” بھابھی میرے سے پہلے وہ آپ لوگوں کے والدین ہیں لیجائیں۔” دلبند کو وڈے سائیں نے بلا لیا تھا وہ ان دونوں کے بیچ سے اٹھ گیا عرفان اپنی بیگم کے تھوڑا قریب ہوا ” یہ تو غلط بات سوہا جی صرف باپ کا پیار ملا ہے اور میں جو دن رات آپ پر اپنی محبت نچھاور کرتا ہو اسکا کیا بندے کا کوئی زکر ہی نہیں ۔” اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھتا وہ قریب ہوتا جارہا تھا کہ وہ اٹھ گئی ” آپ بھی نہ کہیں بھی شروع ہوجاتے ہیں میں چائے لاتی ہوں ۔”

کھڑکی میں دیے جلائے وہ اپنی قسمت پر مسکرا رہی تھی ” ڈیڑھ سال پہلے چھوٹے سائیں اور تیرے درمیان وہ سب ہوا تھا کتنا چیخی تھی تو ان پرمیں تو چھوٹے سے سائیں سے بچپن سے عشق کرتی ہوں مگر کبھی چھونے کی حسرت نہیں کی تو چھوٹے سائیں کیسے چوک گئے چاہے انھیں پتا نہیں تھا کہ روزینہ اور زری ایک ہی ہیں پھر بھی انھیں اپنی محبت روزینہ کو ایسے نہیں چھونا چاہیے تھا نکاح سے پہلے محبت کا محبت بھرا لمس بھی گناہ ہوتا ہے اور یہ گناہ ان سے ہوگیا تھا کتنے شر مندہ بھی تھے مگر فائدہ سب چھوڑ کر تو آئی تھی سب چھوڑ کر وہ چلے گئے تھے اور آج جب وہ آئے تو تو جارہی ہے شکر ہے دوبارہ کبھی میرا اور انکا سامنا نہ ہو ورنہ زری کے گھونگھٹ میں چھپی روزینہ ہلکان ہوجائے گی ۔”

جب چچا ارفو سر پر ہاتھ رکھتا آگیا ” میری دھی کیا سوچ رہی ہے ؟”

” کچھ نہیں ابا بس سوچ رہی ہو بیس دن بعد جب چلی جاوں گی تو تیرا اور اماں کا خیال کون رکھے گا ۔”

” ہم کیا بوڑھے ہیں جو دھیان نہیں رکھ سکتے رکھ لیں گے تو خوش تو ہے نہ ؟”مشفیق فکرمند باپ پوچھ رہا تھا

وہ بے بسی سے مسکرائی ” خوش ہوجا تو زری نے ڈیڑھ سال پہلے ہی چھوڑ دیا ابا جب چھوٹے سائیں کو بھیڑیا کہاں تھا آج بھی وہ لفظ خنجر کی طرح میرا ضمیرکو گھائل کرتا ہے ۔” دل میں کہتی گہرے سانس لیتی بول پڑی ” ابا تو اور اماں خوش ہیں ؟”

” بہت بلاول اتنا اچھا منڈا ہے نوکری کرتا چالیس ہزار کماتا ہے میری اور پر سے اکلوتا میری زری راج کرے گی ۔” اسکے ماتھے کو چوم کر نہایت پیار سے اسے بتا رہا تھا ” تو ٹھیک ہے ابا تم دونوں کی خوشی کے صدقے زری بھی خوش ہے ۔” انھوں نے پیار سے اسے گلے لگا لیا ۔

بلاول جس سے محبت کرتا تھا وہ اپنے گھر والوں سے مجبور انکار کر گئی تھی ایسا نہیں تھا وہ اس سے محبت نہیں کرتی تھی مگر پیروں میں گھر کی بیڑی تھی اس لیے بلاول نے رشتے کے لیے ہاں کردی تھی جب من پسند شخص ہی چلا گیا تو کیا فرق پڑتا کون آرہا ہے ۔”

” اچھی ہے خوبصورت بھی ہے سب کہتے ہیں سمجھدار ہے گھر بھی سنبھال لیتی ہے اوپر سے اپنی ہے تو امی ابا کو سنبھال لے گی ایک بہترین شریک حیات ہے اور جہاں تک رہی محبت تو شاید شادی کے بعد ہوجائے۔” سوچتا سو گیا تھا ۔

سوہا نے اپنے بھائی سے بات کرلی تھی انھوں نے کہا تھا اںھیں لے آئیں سوہا عرفان وڈی سرکار ساتھ جارہے تھے پیچھے سے چچا سائیں اور دلبند نے سب سنبھالنا تھا وہ سب ایک ساتھ کھانے کہ میز پر بیٹھے تھے دلبند ویسے کا ویسا تھا ہنستا نہیں تھا بس ہونٹوں کو حرکت ہی دیتا تھا اب بھی کھانے کی میز پر وہ سامنے بیٹھی نظر آرہی تھی ” مسٹر ٹاپر پھر سے گاوں کے چھوٹے سائیں !” اب تو وہ تبھی مسکراتا تھا جب وہ نظر آتی تھی ” ہاں کوشش تو بہت کی اس ملک سے دور رہنے کی جس سے تمہاری یادیں جڑی ہیں مگر ۔۔۔۔” مسکراتا بول رہا تھا کہ اچانک آواز آئی ” دلبند! اماں سائیں جو اسکے سامنے بیٹھی تھیں جن میں وہ نظر آرہی تھیں کیا ہوا گھور کیوں رہا ہے ؟”

کچھ نہیں اماں سائیں آپکو نظر بھر کر دیکھ لو کل چلی جائیں گی آپ بھی ۔۔۔مسکرا کر کہتا سر جھکا کر آنکھیں بند کرلیں آنسوں ٹوٹ کر پانی کے گلاس میں حل ہوگیا ۔

” دلبند کے ابا عرفو اور زیبو آئے تھے کہہ رہے تھے کہ زری کی شادی ہے بارہ دن بعد اگلے مہینے کی چھے تاریخ کو خاندانی ملازم ہیں جانا تو پڑے گا اور ہم تو کل چلے جائیں گے ۔”

وڈے سائیں نے کچھ سوچ کر چچا سائیں کی طرف دیکھا ” چھے تاریخ کو تو میں اور عرفان کی ماں اسکے والد کے ختم میں جارہے ہیں جانا ضروری ہے میرا بھی میں تو نہیں جاسکتا .” انکی بھی اپنی مجبوری تھی۔

” آپ فکر نہ ابا سائیں گاوں اور سب میں سنبھالوں گا تو زری کی شادی میں بھی میں ہی چلا جاوں گا ۔۔” اسنے کتنے آرام سے کہہ گیا تھا اگر اسے یہ پتا ہوتا کہ اسکی روزینہ کی ہی شادی ہے تو وہ پورا میز الٹ دیتا مگر کون جانے پردے کے پیچھے کس کا مکھڑا ہے ۔

میرا ہے پر مجھ سے چھپا ہے کیوں تیرا مکھڑا۔۔۔

وہ چند کاغذات دیکھتا وڈے سائیں کے پاس بیٹھا تھا ۔” دلبند !٬ جب وہ سیدھے ہوتے اسے پکارنے لگے ” حکم ابا سائیں !”

” دیکھ عرفو ہمارا خاندانی مزارا ہے یہ سمجھ لے ساتھی ہی ہے جب ہمارے ہاتھ خالے تھے تب بھی وہ ہماارےکام بغیر کسی عوض کے کیا ہے اسکی بیٹی یعنی حویلی کی بیٹی اسکی شادی کی ساری زمہ دار تیری اسکا عرفو جو کہے اسے بنا کوئی سوال کیے دینا ہے وہ کہے گا نہیں. پر ہمارا فرض ہے اور دوسری بات بچی کا حق مہر جان لکھوانی ہے اس انسان کی جان جو اسکا ہمسفر ہوگا ۔”اسنے حیرت سے اسکی جانب دیکھا کیا!!”

” ہاں جو انسان رضا شاہ کی گاوں کی لڑکی کو تکیلف پہنچائے گا چھوڑے گا رضا شاہ اسے نہیں چھوڑے گا کفالت ہم کرلیں گے مگر ہماری بیٹیوں کے مجرم نہیں بچنے چاہیے سمجھے دلبند یاد رکھنا عورت کی عزت ہر مرد کی عزت محافظ بنا ہے پورا گاوں مجھے باپ کہتا ہے میرا خطاب نہ گنوانا !” اور وہ اثبات میں سر ہلاتا رہا انھیں دوائی اور کمبل اوڑھا کر وہ باہر آگیا ۔

دروازہ بند کرتا سیدھا ہی ہوا تھا کہ کوئی نرم وجود اس سے آکر لپٹ گیا پشت پر ہاتھوں کی گرفت مضبوط کر لی تھی ” ارتشا ! ارتشا !” وہ اسے کھینچ کر دور کرنے کی کوشش کررہا تھا ” نہیں دلبند مجھے دور مت کرو میں بہت تڑپی بہت جلی ہوں تمہارے بغیر مجھے محسوس کرنے دو تمہاری خوشبو تمہارا لمس مجھے مت دور کرو ..” روتی اسے چھوڑ ہی نہیں رہی تھی وہ اسے دور کررہا تھا کہ اچانک نظر آتے چچا سائیں پر پڑی پھر اسکی اور اپنی پوزیشن پر گھوما ایک دوسرے کمرے گھس گیا دروازے کی اوٹ میں ہوگیا اگر وہ اسے ایسے دیکھ لیتے تو ارتشا کی شامت آجانی تھی وہ اس کمرے کے سامنے سے گزر گئے جب اسنے کھینچ کر جدا کیا “تم پاگل ہو دماغ خراب ہے !” چلاتا اسے جھنجھوڑ رہا تھا ” ہاں ہاں پاگل ہوں تمہاری محبت میں عشق میں پاگل ہوں چلے گئے مجھے چھوڑ کر کتنا تڑپی ہوں میں !”اسکی کینڈیشن وہ سمجھتا تھا اسے کندھوں سے پکڑ کر اپنی جانب کیا ” میں سمجھتا ہوں تم پریشان ہوگی مگر میری بات سنو میرے قریب ایسے مت آیا کرو کزن ہوں مگر نامحرم ہوں تمہیں اور مجھے کسی نے ایسے دیکھ لیا تو عزتوں پر حرف آجائیں گے میں تم سے محبت نہیں کرتا ہاں مگر میں تمہاری حالت سمجھتا ہوں اسلیے تمہاری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہوں دوست بنے کی کوشش کرو وہ زیادہ اچھی ہے ۔”

” تم محبت کرنے کی کرو نہ !” انسوں پونچتی اسی حالت میں بولی جس پر وہ نرمی سے مسکرا یا ” ٹھیک ہے مگر تم یہ حرکتیں نہیں. کرو گی ۔” اسکی ہاں پر وہ خوش ہورہی تھی اسلیے دوستی کا ہاتھ ملا بیٹھی ۔اسے پرسکون کرکے وہ اپنے کمرے میں آیا لائٹ آن کی جوتے اتارنے لگا والٹ نکال کر میز پر رکھتا دھیان فون پر تھا کہ موم بتی سے ہاتھ ملا بیٹھی اسکی عادت تھی بند کمرے میں وہ آکثر مومبتیاں جلاتا تھا اسے موم بتیاں اسکے پھڑپھڑاتے شعلے اسے بہت پسند تھے ۔جلن ہورہی تھی ہاتھ لال ہوا تھا جب آواز آئی ” آوئے مسٹر ٹاپر دھیان سے کام نہیں ہوتا ؟” سفید لباس میں مسکراتی بال لہراتی وہیں کھڑی تھی ” جلن ہورہی ہے کوئی مرہم رکھنے والا نہیں ۔۔” اسنے معصومیت سے نفی میں سر ہلا دیا جب وہ آہستہ آہستہ آگے آئی “میں دوں اپنا لمس شاید سکون ملے ۔۔” معصوم بچے کی طرح اسکے ہاتھ آگے کردیا جو وہ کھلکھلا کر ہنسی ” تمہیں چھووں گی تو غائب ہوجاوں گی میں تو نہیں رکھ سکتی میں تو جھوٹ ہوں تمہارا خیال ہوں لمس تو حقیقت ہی دے سکتا ہے نہ محسوس تو وہی ہوگا۔۔۔” ہنستی غائب ہوگئی جب وہ بے جان ہوتا ٹوٹتا گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ایک مضبوط مرد کوئی دیکھتا اس وقت میں کیسے بچوں کی طرح رو رہا تھا کوئی نہیں. تھا سکون دینے والا کہ آواز آئی ۔۔

اللہ ھو اکبر اللہ ھو اکبر !

خدا کی پکار آئی تھی وہ چاہتا تھا مجھ سے کہوں کیا کہنا چاہتے ہو ۔” اٹھا نماز پڑھی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے ” آپ تو کہتے ہیں گناہوں سے بھر کر بھی رو کر دعا کرو تو بخشش مل جاتی ہے مجھے کیوں نہیں مل رہی کیوں واپس نہیں ملتی مجھے کیوں ہر طرف وہ ہے مگر نہیں ہے ڈیڑھ سال سے یہ جسم سانسوں کی رسی سے کھینچ کر چل رہا ہوں روح نہیں ہے اس میں اللہ جی پلیز وہ دے دو مجھے بخش دو ۔۔۔” دعا مانگی خود پر آیت الکرسی پڑھ کر پھونکی اور قرآن کھولا کھولتے ہی جواب آیا

مجھے پکارو میں تمہاری دعا ضرور قبول کرو گا ۔۔(المومن 60:40) کچھ سکون ہوا تو جہاں سے چھوڑا تھا وہ ورق کھولنے لگا تو ایک اور جواب آگیا ۔

بیشک خدا سب سے زیادہ توبہ قبول کرنے والا ہے ۔۔۔ہنٹوں پر مسکراہٹ آگئی تھی آگے بڑھا تو ایک اور جواب ملا ” صبر کرو خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔”

ہاہا تھینک یو لو یو اللہ جی ! سبق کھولا پڑھا اور سو گیا سکون جو مل گیا تھا

اگلے دن وہ سب چلے گئے تھے دلبند زمینوں کے حویلی کے کاموں میں بزی ہوگیا تھا چچا عرفو سے مل کر اسنے شادی کے سارے انتظامات مکمل کرلیے تھے دن گزرے تو ڈھولک کی تھاپ پر صدا گونج گئی

“ٹوٹ کر ڈال سے ہاتھوں پر بکھر جاتی ہے ۔۔۔

یہ تو مہندی ہے مہندی تو رنگ لاتی ہے ۔۔۔۔”

چچا عرفو کا گھر جو اب آدھا پکا کوگیا تھا تین کمرے چھت اور کھلا صحن جو برادری اور گاوں والوں سے بھرا تھا پھولوں سے سجی کرسی پر ییلو گھونگھٹ میں چہرا چھپائے آدھے بازوں پر مہندی کے پھول بنائے گجرے کی مہک اورنج لہنگا ییلو کرتی گورے پیروں کی چھت پر لگی گہرے رنگ کی لال مہندی کھسے سے بھی نظر آرہا تھا ہونٹوں پر لال سرخی اور ہلکے سے پیک اپ کے پیچھے خاموش چہرا لیے وہ کسی اور کے لیے سجی بیٹھی تھی ۔کالے بال پراندے میں قید کرسی سے نیچے زمین کو چھو رہے تھے مگر ہری آنکھوں میں ویرانی تھی ہونٹ ایسے میچ کر بند کر رکھے تھے جیسے لفظ ربان پر آئے گھونٹ رکھے ہوں۔”

لوگ باغوں سے اسے توڑ کر لے آتے ہیں ۔

اور پتھر پر اسے شوخ سے پسواتے ہیں ۔۔۔۔

پھر بھی ہونٹوں سے اسکے افف تلک نہ آتی ہے ۔۔

یہ تو مہندی ہے مہندی تو رنگ لاتی ہے ۔۔۔۔

ڈھولک کی تھاپ پر بختو کی آواز سر بکھیر رہی تھی جب ہر طرف صدا گونج گئی ۔

گھونگھٹ کرو مرد آرہے ہیں چھوٹے سائیں بھی ہیں ساتھ !” ان سب نے گھونگھٹ کرلیا وہ تو پہلے ہی گھونگھٹ میں تھی ٹھنڈ تھی اسلیے کسی نے اس شال اوڑھ دی تھی ۔

پشاوری چپل پہنے پیر سامنے کھڑے تھے ۔” شادی مبارک ہو زری خدا تمہیں خوش رکھے ۔” مالک ہونے کے ناطے وہ اسکے سر پر ہاتھ رکھ گیا ” تیرے سر کا سائیں ہمیشہ سلامت رہے !” اندر ہری آنکھوں سے ٹوٹ کر آنسوں لہنگے میں جذب ہوتے جارہے تھے ۔

” چاچا اور چاچی میری بات سنیں !” اسے دعائیں دیتا انکے پاس چلا گیا ” کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ؟”

جس پر ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ” جہیز تو تیار ہے مگر پتا نہیں ڈر سا لگ رہا ہے کہیں کوئی مہنگی چیز نہ مانگ لیں .”