Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mukhra Episode 29

Mukhra by Bint-e-Aslam

دوسرے کمرے میں اسے پیچھے شرمندگی کے گڑھوں میں چھوڑ کر ” زری مجھے تو تیرے گھونگھٹ سے محبت ہوگئی !”

” تو مجھے تجھ سے محبت نہیں عشق ہوجائے گا اب جیسا ہے میرا ہے ۔” ” تو اچھی لگتی ہے مجھے پتہ نہیں کب سے ” ” زری اسے کہ زرا تھم کے دھڑکے اسکے مالک نے آج اس پر دسترس حاصل کرنی ہے۔”ہاتھ بے ساختہ منہ پر آگیا تھا ” وہ ۔۔وہ روزینہ نہیں زری سے محبت کررہے تھے اور تجھے لگا وہ روزینہ کو سزا دے رہے ہیں یا اللہ پاگل ہو جاوں گی میں اپنے ہی بچھائے جال میں اتنی مشکل سے انھوں نے ایک کنارا لیا تھا اور تم پھر انھیں سمندر کے بیچ لے آئی فٹے منہ زری تیرا نہیں اب نہیں اب چھوٹے سائیں کو کھونا نہیں ہے مجھے وہ زری محبت کرتے ہیں نہ تو اب روزینہ انکی زندگی سے ہمیشہ کے لیے چلی جائے گی زری رہے گی ” آنسوں سے تر چہرا صاف کیا لال جالی دار دوپٹہ اٹھایا چہرا چھپایا اور انھیں دیکھنے چلی گئی تین کمرے وہ دیکھ چکی تھی مگر وہ نہیں ملا آخر اسنے چھوتھا اور آخری کمرا کھولا سامنے صوفے پر نیم دراز ہوئے لیٹا تھا بند آنکھوں سے آنسوں آہستہ آہستہ ٹپک رہے تھے جوتے ابھی تک پہن رکھے تھے پیروں کی طرف آئی اور جوتے اتارنے لگی اسنے بازو ہٹا کر دیکھا اور پیر پیچھے کرلیے ” تو کیا آپ ہاتھ ملانا چاہتے ہیں جیسے فلموں میں کرتے ہیں ؟”

بازو اٹھا کر حیرت سے اسے دیکھا پھر رخ پھیر گیا میکسی سنبھالتی اسکے قریب صوفے پر ٹک گئی سر اسکے سینے پر رکھ دیا اسنے پیچھے کرنے کی کوشش کی مگر اسنے ہاتھوں کی گرفت اور مضبوط کرلیے ” فلموں میں ایسے بھی کرتے ہیں میرے سر کے سائیں !”

چہرا اسکی جانب اٹھائے معصومیت سے آنکھیں جھپکتی جو جالی کے گھونگھٹ سے صاف نظر آرہی تھیں ۔” زری اٹھو ورنہ !” اسے پیچھے دھکیل رہا تھا مگر وہ یک ٹک اسے دیکھے جارہی تھی ” ورنہ ؟”

” جان لے لوں گا تیری ! اسنے گھمبیر غصے سے بھرے لہجے سے کہا ۔وہ معصومیت سے نظریں جھکا گئی

” فلموں میں ایسے نہیں بولتے !” اسنے روہانسی آواز میں کہا اور سر پھر اسکے سینے پر رکھ لیا اسنے دھکیلا اور صوفے سے اٹھ کر دور ہوگیا وہ بھی اٹھ گئی ” میری بات تو سنیں !” اسنے ہاتھ کھینچ کر اپنی جانب کرلیا وہ اسکے قریب تر ہوگیا اسکے کندھے تک تو آتی تھی پاوں اوپر اٹھا کر اسکے ماتھے کو چھوا جالی کے باوجود بھی نرم لمس ماتھے پر محسوس ہوا تھا مگر ابھی تو اسنے منانا شروع کیا تھا اتنی جلدی مان کر مزا کھونا تھا کیا ہاتھ چھڑایا اور بیڈ پر جاکر لیٹ گیا وہ منہ بنا کر وہیں کھڑی تھی پھر کچھ سوچ کر بیڈ پر آگئی اسکے پیر دبانے لگی اسنے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا ” اماں کہتی ہیں اپنے سرتاج کی خدمت کرنی چاہیے ۔” نرمی سے اسکے پیر دباتی معصوم سے منہ بنائے کہہ رہی تھی ” مجھے نہیں چاہیے خدمت جاو اپنی سوچ کی خدمت کرو ۔۔۔” کروٹ بدل کر شرارت سے مسکرانے لگا ۔

کچھ دیر تو خاموشی کی نظر ہوگئے وہ خود حیران تھا کہیں چلی تو نہیں گئی مڑنے لگا جب کان میں سرگوشی ہوئی ” کھیر کھائیں گے چھوٹے سائیں !”یہ تو معصومیت کی انتہا تھی ” اماں کہتی ہے سرتاج کے دل کا راستہ پیٹ سے ہوکر گزرتا ہے تو کچھ کھائیں گے ۔” ایک جھٹکے سے مڑا وہ ڈر گئی چہرے اسکے قریب کیے نہایت سنجیدگی سے بولا ” نہیں !”

” میرا گھونگھٹ بھی نہیں اٹھائیں گے ؟” معصومیت سے ایک اور سوال کیا گیا تھا ۔” اب یہ بھی فلموں میں کرتے ہیں ؟”

” نہیں یہ تو سب کرتے ہیں ! اسنے ایکدم جواب دیا اسنے ہاتھ بڑھا کر گھونگھٹ اٹھایا جو نام نہاد ہی تھی ” اٹھا دیا اب جاو!” جانے کا اشارہ کرتا خود پھر سے لیٹ گیا اسکا منہ پھر سے اتر گیا تھا اس سے چہرا موڑے عنقریب تھا کہ اسکی ہنسی چھوٹ جاتی میری فلمی دنیا زرا اور کھپ کچھ دیر بعد اسے بالوں میں نرم چلتی انگلیاں محسوس ہوئیں تھیں اسنے پھر پلٹ کر دیکھا مسکراتی ہوئی اسے پیار کررہی تھی ” اب کیا ؟”

” اماں کہتی ہیں ایسے کرنے سے نیند اچھی آتی ہے !” جھنجھلا کر اٹھا ” تیری اماں نے اسکے علاوا کچھ نہیں سکھایا کیا ؟”

” جو کچھ سکھایا تھا سب تو کرکے دیکھ لیا آپ تو مان ہی نہیں رہے !” روہانسی آواز میں کہتی آنکھوں کے کٹورے بھرے اسے دیکھنے لگی وہ بیڈ سے اترا اسے باہوں میں اٹھا وہ تو خوش ہوگئی تھی بازو اسکی گردن کے گرد حائل کردیے ۔اسے لیے دوسرے کمرے آیا اور بیڈ پر لیٹا دیا وہ مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی جب اسنے اسکے منہ تک چادر کھینچ دی وہ واپس لوٹ گیا چادر اتارتی اسکے پیچھے بھاگی نکلنے سے پہلے سامنے کھڑی ہوگئی ” کک ۔۔۔کہاں جارہے ہیں ۔”

” سونے! اسکی بات سن کر چہرا قریب کرلیا ” مجھے اکیلے ڈر لگا تو ؟کمر سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگا لیا ” تو یہ کہو نہ میں چاہیے ہوں !” اسکی گردن میں چہرا گم کرتا اسے محبت کی بارش میں بھگو نے لگا تھا اسکے گریبان کو مضبوطی سے پکڑے اب اسے برداشت کرنا تھا چھیڑا بھی تو خودی تھا اسکی گردن کے گرد محبت کا ہار پروتا وہ دوسرے کو نے پر پہنچ چکا تھا ” چچ چھوٹے سائیں ! ” وہ کانپنے لگی تھی ” زری میں تجھ سے محبت کرتا ہوں روزینہ سے نہیں وہ دو سال پہلےہی چلی گئی تھی مجھے تیری حقیقت سے محبت ہے .” اسکے ہاتھ کی ایک ایک انگلی پر اپنا لمس چھوڑتا اپنے جذبات بتا رہا تھا ۔

” چھوٹے سائیں میں ڈر ۔۔۔۔گئی تھی کہ جب آپکو پتہ چلے گا کہ زری ہی روزینہ تو آپ مجھ سے نفرت کریں گے مجھے چھوڑ دیں گے !” اسنے ایک جھٹکے سے اٹھایا ” تم مجھے اس دن بتا دیتی تو شاید آج میرے وہم و گمان میں زری نہیں روزینہ ہوتی مگر تم نے مجھے اپنی حقیقت سے روشناس کروایا جھوٹ سے جان چھڑا کر حقیقت سے دوچار کیا اگر تو نہ ہوتی تو میں آج بھی روزینہ کے سیرابوں سے گفتگو کررہا ہوتا تم سے محبت نہیں ۔۔۔” اسے بیڈ پر اتار کر اس پر جھک گیا لب اسکے ماتھے پر رکھ دیے اسنے سکون سے آنکھیں بند کرلیں جب لمس اپنی آنکھوں پر محسوس ہوا ” یہ جو تیری ہری آنکھیں ہیں نہ یہ مجھے الگ ہی دنیا میں لے جاتی ہیں اصل فتنہ تو یہ ہیں کتنے راز چھپا رکھے تھے ان میں ۔۔” اسنے ڈر سے آنکھیں ہی نہیں کھولی تھیں کمر میں ہاتھ ڈال کر اور قریب کرلیا ہاتھ زپ پر تھا محسوس ہوا تو بازو اسکی گردن کے گرد حائل کرتی اس میں سمٹ گئی رات آہستہ آہستہ ایک دوسرے کی آغوش میں سرکنے لگی تھی

تیرا چھونا جیسے آگ پر پھوار ہے۔۔۔

تیری قربت کا فتور سر پر سوار ہے ۔۔۔

آسمان خالی چاند میری آغوش میں ہے ۔۔۔

دروں سے سر پٹکتی ہوا کہاں ہوش میں ہے ۔۔۔

ماحول پر جو ہے اثر وہ تیرا ہے ۔۔۔اور تو ۔۔

سارا کا سارا میرا ۔۔۔

انھیں الجھنوں میں الجھے ادیب مفکرو فقرا ۔۔۔۔

میرا ہے پر مجھ سے چھپا ہے کیوں تیرا مکھڑا۔۔

اسکی آنکھ دلبند سے پہلے کھولی تھی سامنے کھڑکی سے آتی دوشنی پردے کو روشن کررہی تھی اپنا سر اسکے سینے پر پا کر ایک۔دلفریب مسکراہٹ آگئی تھی چہرے پر اوپر دیکھا تھا وہ سکون سے سو رہا تھا آگے بڑھ کر اسکے ماتھے کو چھوا ” یہ زری کو اپنانے کے لیے ” پھر دونوں آنکھوں کو خراج دیا ” یہ میرے گھونگھٹ سے محبت کرنے کے لیے !” پھر دائیں گال پر چلی گئی ” یہ مجھے معاف کرنے کے لیے ۔۔۔” بائیں گال کو چھو کر سیدھی ہوئی اور یہ مجھے میرا مقام دینے کے لیے ! خود پر سے اسکا ہاتھ اٹھاتی اٹھ بیٹھی جب خود کو دیکھا تو چہرا ہاتھوں میں چھپا لیا اسکی شرٹ کے کف اسکے ہاتھوں تک کو چھپا گئے تھے ہاتھ نیچے کیے تو کف کے بٹن میں بال پھنس گئے نکالنے کی کوشش کی مگر نہیں نکلے ” چھوٹے سائیں کی چیزیں بھی انکے جیسی ہیں جنہیں پکڑ لیں چھوڑتی ہی نہیں ..” بال الگ کیے اور سوچنے لگ گئی ” مگر اگر چھوٹے سائیں مجھے کبھی چھوڑ کر چلے گئے تو میں کیا کروں گی ؟” اسنے پھر اسے تکیے پر گرا لیا اپنی طرف کھینچتے کان کی قریب بولنے لگا ” کبھی نہیں جاوں گا چھوڑ کر تمہارے پاس ہی رہوں گا ۔” آنکھیں بند کیں وہ بولتا جارہا تھا اسنے چہرے کا رخ اسکی جانب کیا ” آپ جاگ رہے تھے ؟” اسنے آہستہ سے سر ہلا دیا ” آپ نے سب دیکھا جو میں نے کیا اور کہا ؟” وہ شرماتی شرمندہ ہوتی پوچھ رہی تھی ۔

” ہاں دیکھا بس نکاح والا نہیں دیا وہ تو دے دو !” نیند سے بوجھل آواز میں وہ اسے تنگ کررہا تھا ۔” نہیں مجھے شرم آتی ہے !” آنکھیں بند کیے آدھی نیند میں بھی وہ اسے سن سکتا تھا ” میں خودی لے لوں گا !” مگر وہ جانتی تھی وہ آدھا سو رہا اسلیے اسکے بالوں میں انگلیاں پھیرنی شروع کی کچھ دیر بعد وہ بلکل خاموش ہوگیا آرام سے اس ہاتھ اٹھایا اور اسکی گرفت سے نکل گئی آئینہ میں دیکھا تو وائٹ کلر کی شرٹ میں نہایت ہی کیوٹ لگ رہی تھی شرما کر آگے بڑھنے لگی تو ٹیبل پر موم بتی کے ساتھ ایک جھمکا پڑا نظر آیا ایک ایک لمحہ یاد آنے لگا تھا مسکرا کر سر جھٹک کر چلی گئی۔فریش ہوکر کچن میں آئی تو ناشتہ بنانے کی سوجھی سب تھا مگر گھی نہیں تھا نفیس چاچا بھی باہر تھی سلیو لیس فراک پر چادر اوڑھتی باہر کی طرف بڑھ رہی تھی جب ایک کمرے نظر پڑی اس دروازے تو کھلے ہیں اس میں کنڈی کیوں لگی ہے ۔اشتیاق ہوا تو کنڈی کھول دی اور دیکھتے ہی بلند آواز میں چیخی اتنی اونچی آواز سے بیڈ پر دلبند کی بھی آنکھ کھلی گئی تھی فورا بھاگا پہنچا تو وہ سامنے منہ کھولے دیکھ رہی تھی اسنے آرام سے اسکی کمر کی گرد بازو حائل کر کے ٹھوڑی کندھے پر رکھ دی اسکا کھلا منہ دیکھا اور پھر سامنے اسلحے سے بھرے کمرے کو دیکھا جہاں شکاری کتوں بھی پنجرا تھا اسکو ہنسی آگئی ” تو کمرے باہر کیوں آئی ؟”اسکی گال کو چھوا منہ بند کیا چچ۔۔۔چھوٹے سائیں اتنا اسلحہ کیوں رکھا ہے ۔”اسنے آگے بڑھ کر دروازہ بند کیا اسکا ہاتھ پکڑ کی اوپر لے گیا ” چاچا ناشتہ بنا کر اوپر لے آنا”کمرے میں آکر دروازہ بند کیا ” مجھے بتائیں چھوٹے سائیں اتنی ساری بندوقیں کیوں تھیں وہاں ؟”

وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی اسکا ہاتھ پکڑے بیٹھ گیا ” تجھے کیا لگتا ہے گاوں میں جو سب پرسکون رہتا ہے لڑائی جھگڑے نہیں ہوتے لوگ بیرونی طاقتوں سے ویسے محفوظ ہیں ابا سائیں کی بات مانتے ہیں ایسا نہیں ہے کبھی کبھی سیدھے کام کو کرنے کے لیے انگلی تھوڑی سی ٹیڑھی کرنی پڑتی ہے اور وہ سب وہی ٹیڑھی انگلی تھی میں نے تمہیں بتایا نہیں مگر اسفندیار نے مجھ پر قاتلانہ حملہ کروایا تھا مجھے مارنے کی کوشش کی تھی تب شناور اور گاوں کے کچھ اور لوگ جو یہ جانتے ہیں انھوں نے میری مدد کی تھی ۔۔” وہ سانس روکے اسے سن رہی تھی ڈر کر اسکے سینے سے لگ گئی ” چھوٹے سائیں آپ انھیں استعمال نہ کیا کرے وہ بہت خطرناک ہیں !” اسنے بازو اسکے گرد حائل کردیے اسکے بالوں پر لب رکھے ” اچھا نہیں کرتا !”

ٹھک ! ٹھک ! وہ اسی پوزیشن میں تھے جب دروازے پر دستک ہوئی دروازہ کھولا چاچا ناشتہ اوپر ہی لے آئے تھے

” چھوٹے سائیں اب حویلی چلیں ؟” ناشتہ کرتے ہوئے اسنے معصومیت سے پوچھا جس پر لاپرواہی سے بولا ” نہیں اتنی جلدی نہیں !”

” کیوں ؟” ۔۔۔۔۔” دو سال بعد ملی ہو ابھی تو جی بھر کر دیکھا بھی نہیں تمہیں !” چائے کا کپ منہ لگاتے اطمینان سے بولا اسنے حیرت سے اسے دیکھا دماغ میں رات کا ہر پل چل رہا تھا ” ااچھا !”

کپڑے بدل لو ہمیں جانا ہے !” ہاتھ صاف کرتے ہوئے بولا ” کہاں ؟”

” بتاتا ہوں وہ الماری میں کپڑے ہیں بدل لو!” فون اٹھاتا کمرے سے باہر نکل گیا اسکے جانے کے بعد اسنے الماری کھولی دو باکس تھے دونوں پر نمبر لکھے تھے فسٹ سیکنڈ اسنے فسٹ کھولا پنک اور کریم کلر کومبو فراک تھی جس کے بارڈ پر زری کا کام تھی ۔اسکے ساتھ ایک چٹ تھی ” یہ میرے لیے !” اسنے مسکرا کر دوسرا باکس کھولا اس میں پورا برقع تھا اسکے ساتھ بھی چٹ تھی ” یہ دوسروں کے لیے !” لبوں کو ہنسی نے چھو لیا تھا یہ ساری محبتیں زری کے لیے ہیں اتنی محبت کرتے ہیں وہ تجھ سے ۔” کپڑے لیے واش روم میں گھس گئی ۔کافی دیر بعد جب وہ تیار ہوکر اندر آیا بلیک شلوار قمیض میں جارحانہ حد تک وہ وڈیروں کا شہزادہ لگ رہا تھا دیکھا تو سامنے برقع پہنے نقاب کرنے میں مصروف تھی ہری آنکھوں میں خوشی بھر کر اسے دیکھا ” ہم کہاں جارہے ہیں ؟” اپنے قریب کیا ماتھا چوم کر سیدھا ہوا ” گھومنے !” جارہےاسے لیے باہر چلا گیا ۔

ارتشا تیرے نکاح میں بس دو مہینے رہ گئے ہیں اور ہمیں شہر آئے دو دن ہوگئے ہیں تمہیں کچھ پسند بھی آئے گا یا نہیں ؟” سوہا ارتشا چچی سائیں سب سوہا نے میکے ارتشا کی شادی کی شوپنگ کرنے آیے تھے وہ دونوں اس وقت ایک مال میں موجود تھیں جہاں ارتشا ہر چیز کو ناک چڑھا کر دیکھ رہی تھی ” بھابھی کچھ اچھا ہے ہی نہیں شہریار نے کہا تھا لائٹ گرین کلر کا لہنگا لینا وہ تو مل ہی نہیں رہا ۔”

” اچھا اور یہ جو تمہارے شہریار ہیں انھیں کہو گفٹ کردیں ۔” سوہا نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا جس پر وہ شرما گئی چہرا بلکل لال ہوگیا تھا اوپر سے اسکی مسکراہٹ اتنی جان لیوا تھا جو وہاں کسی بھیڑیے کی آنکھوں میں اتر گئی تھی وہ مال میں زبردستی اپنی ماں کے ساتھ آیا وہ اندر شاپنگ کررہی تھی اور وہ باہر اپنی آنکھوں کی حوس پوری کررہا تھا سوہا اور ارتشا شاپ سے باہر نکل رہی تھیں ” کل اسی مال میں پھر سے آئیں گے وہ دوکاندار کہہ رہا تھا کل آجائے گا !” سگریٹ پھونکتا انکی باتیں سن رہا تھا جب انکی جانب بڑھ گیا وہ آپس میں باتیں کر رہی تھیں جب وہ ان سے جان بوجھ کر ٹکرا گیا ارتشا کے ہاتھ سے شاپنگ بیگز گر گئے اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” سوری غلطی سے لگ گیا ۔”

” اٹس اوکے! عجیب نظروں سے اسے دیکھتی آگے بڑھ گئی اسنے سگریٹ منہ سے نکال کر پاوں میں مسلی” ماسٹر پیس !” ۔۔” اسفندیار !!” وہ پھر انکے پیچھے جانے لگا تھا جب اسکی ماں نے پکارا ” یس مام! “

” یو لائک دیٹ بٹر فلائی !” ماڈرن سوچ اور اپنے بیٹے کی بگاڑ کی وجہ اسکی سوتیلی ماں جو خود بھی عیاش تھی اور اسے بھی ایسا ہی بنایا تھا ۔ اب بھی اسے ہنس کر حوصلہ دے رہی تھی ۔

” یس مام شی از ڈیم ہاٹ اینڈ کلر فل !” وہاں جہاں سے وہ گئی تھی دیکھتے ہوئے گہرا سانس لینے لگا ۔

” کیچ ہر !” اسکی ماں نے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے حوصلہ دیا ۔