Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mukhra Episode 26

Mukhra by Bint-e-Aslam

” یار مجھے سر ایلکس کے لیکچر کے نوٹس دے دو وہ مجھے مار دیں گے ۔”وہ اپنے انگلش مکس اردو دوستوں سے مخاطب تھی ۔

” یار انکا لیکچر بہت مشکل تھا تجھے نہ اسکے اچھے والے نوٹس اس کتابی کیڑے سے ملے گے ۔۔” اسنے بلیک جینز بلو چیک شرٹ پہنے بیگ کندھے پر اٹکائے اسکی طرف پشت کیے کسی سے بات کر رہا تھا چہرا دیکھے بغیر ہی ایک کشش کھیچنے لگی تھی اسے وہ اسکے پاس گئی ” ایکسکیوزمی! آواز سن کر اسنے چہرا اسکی جانب کیا گندمی رنگ دلنشین مسکراہٹ اور گرے آئیز ” جی ؟”

وہ چند لمحے تو اسے دیکھتے ہی رہی پھر اسکے دوبارہ مخاطب کرنے پر ہوش میں آئی ” وہ ۔۔۔۔وہ۔۔۔۔سر ایلکس نے جو کل لیکچر دیا تھا مجھ سے مس ہوگیا مجھے اسکے نوٹس مل سکتے ہیں ؟” اسنے سر سے پیر اسے دیکھا ٹخنوں سے اوپر تک ٹائٹس ٹاپ شرٹ شولڈرز سے نیچے تک بلونڈ ہئیر اور پھر اسکا مشرقی نقوش والا چہرا اسنے ناگواری کا اظہار کیا ” کاپی کرنا اچھی بات نہیں ہوتی چاہے وہ نوٹس ہوں یا رہن سہن خیر آپ کا لیکچر چونکے مس ہوگیا تھا تو میں آپکو یہ سمجھا سکتا ہوں آپ خود نوٹس بنا لیں !” اسکی بات پر اسے تپ چڑھ گئی تھی ” او ہیلو کیا سمجھتے ہو خود کو نوٹس ہی شئیر کرنے کے لیے کہا تھا تمہارا کوئی ٹیگ تو نہیں اتار دیا شانزے ہوں میں شانزے دراب خان اس یونی کی ٹاپر آئی کین میک اٹ مچ مور بیٹر دین یورز !” اسے چیلنج کرتی پیر پٹخ کر چل دی جب جوتے کے ہیل سے لڑکھڑا گئی ” دوسروں پر انحصار کریں گی تو ہمیشہ لڑکھڑائیں گی بٹ اکروڈنگ ٹو یو یو کین ورک مچ بیٹر دین می دین لیٹس سی!” اسے بغور دیکھتا وہ بھی چلا گیا

اگلے دن کلاس میں وہ کھڑی تھی نہ نوٹس بنائے تھے نہ اسائمنٹ ” ایکچولی سر لاسٹ ڈے آئی مسڈ یور لیکچر !”

اوکے نو پرابلم ظہیر ہیلپ دس گرل !” یہ کہہ کر وہ کلاس سے چلے گئے تھے پیچھے ظہیر کا مسکراتا چہرا چھوڑ گئے تھے اسنے سوالیہ نگاہوں سے کھڑی شانزے کو دیکھا جو ناگواری سے منہ پھیر گئی لیکن کل اسائمنٹ دینی تھی آخر اسکی مدد لینی پڑی وہ لائبریری میں بیٹھے تھے وہ اسے کچھ پو ئنٹس بتا رہا تھا جب اسنے گرمی سے تنگ آکر اپنی جیکٹ کھول دی اسکی شرٹ کا گلہ کافی گہرا تھا ظہیر نے ایک جھٹکے سے رخ پھیر لیا تھا ماتھے بل آگئے تھے ” کلوز یور جیکٹ اگین !

” بٹ وائی اٹس ہاٹ ڈے!” اسنے کندھے اچکا کر کہا جس پر وہ کتابیں اٹھاتا وہاں سے نکل گیا وہ حیرت سے اسے جاتا دیکھ رہی تھی پھر فائنلز کا سوچ کر جیکٹ زپ اپ کرتی اٹھ گئی آہستہ آہستہ اسکے قریب جانے لگی تھی اسکے مطابق اسکے سامنے وہ خود کو سمیٹ کر رکھتی تھی دوست بنے اسے ایسے دیکھ کر ظہیر کو بھی اچھا لگنے لگا تھا کہ وہ اس کے لیے ایسی بنتی جارہی ہے دوست سے گرل فرینڈ بوئے فرینڈ کا سفر آسانی سے طے ہوگیا تھا ساتھ رہتے ہنستے کھیلتے اپنے فرینڈ کی برتھ ڈے پارٹی سے ایک ساتھ واپس آرہے تھے ہنستے مسکراتے اسنے پنک کلر کی سلیو لیس فراک پہنی تھی ” گاڑی کیوں روک دی۔”گاڑی وہ چلا رہی تھی اسلیے ظہیر نے پوچھا مگر وہ سامنے دیکھی جارہی تھی پھر گاڑی سے اتر کر باہر آگئی اور درختوں کے اوپر سے فائر ورک کا منظر دیکھنے لگی اسے ایسے اشتیاق سے دیکھتے ہوئے ظہیر فدا ہوگیا تھا اس پر ” اٹس ٹو بیوٹی فل! وہ بھی اسکے ساتھ آکر کھڑا ہوگیا ” یس جسٹ لائک یو! خاموش اندھیری رات آسمان پر چمکتے ستارے اور شعلے جنگل کا فسو اور وہ دونوں اسنے حیرت سے پلٹ کر اسے دیکھا ” یو لو می ؟”

اس بات پر اسکی مسکراہٹ اور گہری ہوگئی تھی ” مور دین یو تھنک !” اسکے نہایت قریب جاکر اسنے یہ جملہ کہا تھا مگر وہ خاموش حیرت زدہ سی اسے دیکھ رہی تھی اسکی گرے آنکھوں میں کیا تھا جو اسے بے بس کررہا تھا اسنے ہاتھ اسکے گال پر رکھا چہرا اسکے قریب کرلیا ” تم بھی کرتی ہو نہ؟” مگر وہ آنکھیں اس پر مسلط کیے اسے مسلسل دیکھ رہی تھی سلوموشن میں پلکیں جھپکاتے ہوئے اسنے جھک کر نرمی سے اسکے لبوں کو اپنے گرفت میں لے لیا تھا آسمان میں ہزاروں آگ کے شعلے چمک رہے تھے اسنے بھی بازو اسکی گردن کے گرد حائل کردیا پیر اوپر اٹھا لیے خوبصورت رات اس خوبصورت لمحے کی نظر ہوگئی تھی ۔

اگلے کچھ دن وہ ایک دوسرے سے ہچکچاتے ہی رہے تھے پھر ظہیر خود ہی اسکے پاس آیا تھا وہ اپنے دوستوں کے گروپ میں بیٹھی ہمیشہ کی طرح بے باک بے فکر ” شانزے مجھے تم سے بات کرنی ہے ؟” اسنے مسکرا کر ایک نظر اسے دیکھا اور ہاں میں پلکیں جھپکا گئی وہ اسے لیکر ایک پارک میں آیا تھا جہاں اس وقت کوئی بھی نہیں. تھا ہر طرف پھول ہی پھول تھے وہ انھیں دیکھ رہی تھی جب گھٹنوں پر بیٹھ کر اسنے رنگ اسکے سامنے کی

Will you marry me !

شانزے نے حیرت سے اسے دیکھا ” واٹ!”

” مجھ سے شادی کرو گی بنو گی مسززشانزے ظہیر احمد اور شادی کے اور اس پہلے تم یہ مغربی لباس نہیں پہنو گی یہ ہمارا لباس پورا ہے پردہ ہے تم صرف میرے لیے ہو میرے لیے کوئی تمہارا چہرا نہ دیکھے !”

” ارے ! ارے روکو یہ کیا ہے مجھے لگتا تم بہت زیادہ سیریس ہوگئے ہو یس آئی لو یو بٹ ایز فرینڈ مجھے شادی نہیں کرنی اور یہ کیا یہ کپڑے نہ پہنو میں نے تو شادی کے لیے ہاں بھی نہیں کی اور تم مجھے بدل رہے ہو میں ہمیشہ سے ایسی تھی اور ایسی رہوں گی مگر تم سے شادی کرنا یہ ممکن ہی نہیں ۔۔۔”

وہ صدمے کی حالت میں اسے دیکھ رہا تھا ” یہ کیا کہہ رہی ہو دوست تمہیں سچ میں لگتا ہے ہم صرف دوست ہے ؟” اسکا انکار تڑپا ہی تو گیا تھا اسے

“ہاں صرف دوست لائک مائیک فیصل جیزی ان سب کی طرح گڈ فرینڈز ۔۔۔” اس بات پر اسنے پکڑ کر قریب کرلیاتھا آنکھیں غصے سے لال ہوگئی تھیں ” ان سب کو بھی میری طرح کس کیا تھا ؟” اسکا سوال اسے اشتعال میں لے آیا تھا خود کو اسکی قید سے نکالا ” شٹ اپ جسٹ شٹ میں ایسی لڑکی نہیں وہ ۔۔۔وہ تو اس رات پتہ نہیں کیا ہوگیا تھا ۔

” ہاں میں سپیشل ہوا نہ صرف دوست نہیں یو آلسو لو می لیٹس گیٹ میرڈ !” اسنے پھر اسکا ہاتھ تھاما ۔

” او پلیز ظہیر بس کرو وہ جو بھی ہوا تھا اٹ واز نیچرل اینڈ کومن ان دیز کنڑریز مجھے تم سے شادی نہیں کرنی مجھے کسی سے بھی شادی نہیں کرنی ۔۔۔” اسکے ہاتھوں میں پڑی انگوٹھی اچھالتی وہ چلی گئی تھی اسی کے ساتھ اسنے آنکھیں کھول دیں دو سال ہوگئے اسے گئے آج اسنے اسکی ان تصویروں پر کمنٹ کیا تھا ” ظہیر واپس آجاو پلیزززز!”

اسنے دوبارا لیپ ٹاپ کھولا میسج آیا تھا کھولا تو اردو میں چند جملے لکھے تھے ۔۔

تیرے پہلو میں جو راتیں گزا ریں۔۔۔

شب مہتاب میں نظریں اتاریں۔۔۔۔۔

ہم بھی رکے ہیں اس موڑ پر ۔۔

کوئی ہم کو صدا دے ۔۔۔۔

حیرت اور مسکراہٹ لبوں کو چھو گئی تھی اسنے اپنا فون اٹھایا کانٹیکٹس کھولے سکرول کیا تو نمبر مل گیا کانپتے ہاتھوں سے کال ملائی وہ راکنگ چئیر پر چاند کو دیکھ رہا تھا جب فون بجا نمر دیکھ کر ایک دلنشین مسکراہٹ چہرے آگئی تھی ” ہیلو ! ” دو سال بعد اسکی آواز اندر تک سکون اتار گئی تھی ” ظہیر تم سن رہے ہو نہ ؟”

” نہیں تم نے کچھ بھی تو نہیں کہا ابھی بتاو سن رہا ہو آخر میرا انتظار پورا ہوہی گیا ۔۔۔”

” تم نے شادی کرلی ؟” اپنے آنسوں پر قابو پاتے ہوئے وہ ڈرتے ڈرتے پوچھنے لگی ۔

” نہیں !” یک لفظی جواب آیا تھا ” کیوں؟”

” تم نے جو دھتکار دیا تھا کسی نے اپنایا ہی نہیں تم نے کرلی؟”

” تم ہی نے بد دعا دی ہوگی میرے علاوا کوئی نہ ملے اسلیے نہیں ملا ایک نے تو تھپڑ مار کر ویسا بنا دیا جیسا تم چاہتے تھے پردہ دار ۔۔۔”

” ہاہا تب میں مارتا تو تم مجھے کھا جاتی اب کر وگی مجھ سے شادی ؟” اس بات پر اسنے شرما کر فون بند کردیا تھا جب دوبارا بجنے لگا تھا اسنے پھر اگنور کردیا آخر پھر اٹھا لیا ” آئی لو یو ! سب سے پہلی آواز ہی یہ آئی تھی وہ شرم سے لال ہوگئی تھی محبت لوٹ آئی تھی جب خمار اترا تھا

مون سون بارشوں نے ایک بار پھر ڈیرے ڈال لیے تھے حویلی کے تمام لوگ سوہا کی چھوٹی بہن کی شادی میں گئے تھے دلبند اور زری گھر پر ہی تھے دلبند کو آج کچھ ضرور کام نہیں تھا اسلیے گھر پر ہی تھا زری کی طرف سے آنے والا غصہ کافی کم ہوگیا تھا مگر وہ ایک چیز ضرور جان گیا تھا کہ وہ اس میں دلچسپی لینے لگا ہے اسنے تو جیسے بائیکاٹ ہی کرلیا تھا دو دن سے اسکا ہر کام کشمیراں کر رہی تھی نظریں اسکی متلاشی تھیں جو ناجانے کہاں چھپ گئج تھیں کشمیراں اسکے لیے کھانا لائی تھی ” کشمیراں زری کہاں ہے ؟”

” وہ چھوٹے سائیں نیچے ہے بارش ہورہی ہے نہ اسکے اندر بچی جاگی ہوئی ہے ۔۔۔۔” کشمیراں اسے یہ بتا کر چلی گئی تھی اٹھا کھڑکی پر آیا لان میں دیکھا وہاں تو کوئی نہیں تھا اسے کچھ حیرت ہوئی نیچا آیا پوری حویلی خالی تھی کشمیراں بھی شاید اپنے کمرے میں چلی گئی تھی وہ باہر لان میں گیا ہر طرف دیکھا وہ کہیں نہیں تھی آگے بڑھا تو حویلی کے پچھلے لان سے پازیبوں کی آواز آنے لگی اس سمت چلا گیا اسکی طرف پشت کیے دوپٹہ سر سے اتارے گلے میں ڈالیں باہیں پھیلائے بارش انجوئے کر رہی تھی پھیلی باہوں میں سے گرتا پانی گیلی گھاس پر ننگے پیر بے ساختہ قدم اسکی طرف اٹھ گئے چہرا اوپر اٹھائے ٹھنڈی پانی کی بوندوں کو محسوس کرتے ہوئے اسے کسی کی ہاتھوں کا احساس ہوا اپنی کمر کے گرد ہوا وہ سہم گئی جب اسکے کانوں میں سرگوشی ہوئی۔۔

” کہاں تھا نہ بلا وجہ باہر مت نکلنا پچھلی دفعہ ایک سو تین بخار ہوا تھا !” بوجھل آواز تھی اسکے رنگوں پر وہ حیران ہوتی جارہی تھی دو دن پہلے تو اتنا غصہ اور اب اتنا محبت بھرا فکر مندی لہجہ اسے ہوتا کیا جارہا ہے یہ بات تو وہ خود بھی نہیں جانتا تھا دونوں بھی رہے تھے ایکساتھ اسکو اپنے ساتھ لگائے ” چچ۔۔۔چھوٹے سائیں یہ۔۔۔یہ کیا کر رہے ہیں ۔ ” زری مجھے تو اچھی لگتی پتہ کب سے تیری سادگی تیرا پردا مجھے اچھا لگنے لگا ہے جب سے تو آئی ہے تب سے ان سیرابوں سے جان چوٹ گئی ہے میری مجھے اچھا نہیں لگتا میرے علاوا سب نے تجھے دیکھا میری ہے تو اور میں نے ہی نہیں دیکھا پر مجھے تجھ سے نہیں تیرے اس گھونگھٹ سے محبت ہوئی تجھے بنا دیکھا مگر آج مجھے تجھے دیکھنا ہے !” اسکے کان کے قریب خمار آلودہ لہجے میں بولتا جارہا تھا جب اسنے اسکی چادر اسکے سر پر دے کر چہرا پھر چھپا دیا اور ہاتھ پکڑ لیا ” مگر یہاں نہیں اپنے کمرے !” اسکا ہاتھ پکڑے وہ اندر حویلی کی جانب چلا وہ خوش تھا کہ اسنے ایک کو کھو کر دوسری محبت کو پا لیا تھا جو اسکی تھی کم سے کم اس پر اسکا پورا حق تو تھا مگر گھونگھٹ کے پیچھے اسکو اپنے ہی دل کی دھڑکن صاف سنائی دے رہی تھی یعنی آج یہ تلوار کس کی گردن کاٹ کر جائے گی کیا چھوٹے سائیں تیری بات سنے گے تو انھیں سمجھا پائے گی تیری ضد تھی کہ وہ زری کے گھونگھٹ سے محبت کریں گے تو چہرا دیکھائے گی کر لی انھوں نے تو زری سے محبت کرلی روزینہ کو بھلا کر مگر اب کیا زری یا روزینہ کسے اپنائے گئیں ۔”

اسے لیے اوپر کمرے میں آگیا تھا صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا دونوں ہی تو بھیگے تھے اسکے پاس نیچے بیٹھ گیا ” زری تجھے پتہ ہے جس دن میں نے تجھے ڈانٹا تھا اسی دن مجھے پتہ چل گیا تھا تیرے اور میرے بیچ جو رشتہ ہے وہ کتنا طاقتور ہے روزینہ کا علاوا کبھی سوچا تھا کسی سے محبت ہوگئی مگر تو ۔۔تو نے کروا دی خود سے تیری باتیں تیرا ساتھ تیری ہمت مجھے تجھ سے محبت کرنے پر مجبور کرگیا اس دن جب تو نے شانزے کے سامنے مجھ ام سے اپنا چہرا چھپایا تھا مجھے بہت برا لگا تھا میرا حق اور مجھے ہی دیکھنے کی اجازت نہیں ہے پھر تیری قسم یاد آئی کہ جو تجھ سے محبت کرے گا اسی کو چہرا دکھائے گی مگر مجھے تو تیرے چہرے سے محبت ہوئی ہی نہیں. مجھے تو تجھ سے ہوگئی بنا دیکھے سب سے خوبصورت احساس ہی وہ ہوتا جب ہمیں اپنے محرم سے محبت ہوتی ہے اسے کھونے کا ڈر نہیں ہوتا ۔” اسکے کانپتے ہاتھوں کو تھامے وہ لبوں تک لیجاتا جارہا تھا جب اسنے کھینچ لیے اٹھ کر دور رخ پھیرے کھڑی ہوگئی ” نہیں ! نہیں گھونگھٹ کھلا تو سب ختم ہوجانا ہے آج دھوکا رہ جانا ہے تو بس دھوکا ” اسکے مقابل آیا رخ اپنی جانب کیا “اجازت ہے تو دیکھ لوں ؟” اسنے آہستہ سے ہاتھ گھونگھٹ پر ڈالا اوپر ااٹھایا ابھی تو صرف کپکپاتے ہونٹ ہی نظر آئے تھے کہ صدا آگئی ” چھوٹے سائیں وڈی سرکار اور وڈے سائیں آگئے ہیں !” وہ ایک دم اس سے دور ہوگئی گھونگھٹ پھر نیچے گر گیا تھا ” وہ۔۔۔۔وہ اماں سائیں آگئی ہیں انھیں پانی ۔۔۔۔پانی پلانا ہے۔۔۔۔” اسکی بات سنے بغیر ہی وہ نیچے بھاگ گئی تھی پیچھے وہ ایک سرد آہ بھر کر رہ گیا اور نیچے چلا گیا وہ اور کشمیراں مل کر انکے لیے چائے کا انتظام کررہی تھیں دلبند ان سے ملا خوشگوار ماحول بن گیا تھا ارتشا بھی دلبند کا دیکھ کر باغ باغ ہوگئی تھی سب کو منا کر جو لائی تھی وہ دونوں انھیں چائے دے رہی تھیں اور وہ مسلسل اس پر نظریں گاڑھے بیٹھا تھا ” کوئی بات نہیں ابھی پوری رات باقی ہے تمہیں ہی دیکھنا ہے !” مسکراتے ہوئے چائے کا کپ منہ سے لگا گیا سب کے خاموش ہوجانے کے بعد وڈے سائیں دلبند سے مخاطب ہوئے ” دلبند زری اور تیرے نکاح کا تو سب کو پتا ہے ایک مجبوری تھی مگر اب ہم نے ایک فیصلہ کیا ہے !” وڈے سائیں کی بات سن کر دلبند کا دل دھڑک اٹھا تھا زری کی سانس ساکن ہوگئی تھی ” کیسا فیصلہ ؟”

” تیری اور ارتشا کی شادی کا فیصلہ تیرا اور ارتشا کا رشتہ تو بچپن میں ہی طے ہوگیا تھا میرا خیال ہے اب اسے پورا بھی کردیا جائے ۔۔” ارتشا تو چہک گئی تھی مگر زری کے ہاتھوں میں گلاسوں کی پلیٹ تھرک گئی تھی کشمیراں نے اسے سنبھالا تھا

” مگر ابا سائیں میرا نکاح ہوچکا ہے اور ارتشا ایک شادی شدہ مرد سے شادی کیسے کرسکتی ہے اسکی زندگی کا کیا ۔۔۔”اسنے آج ہی تو اپنی محبت کا اقرار کیا تھا اب یہ ۔

” سہی ہی تو کہہ رہا میرے بچی ایک شادی شدہ مرد کے لیے رہ گئی ہے ۔”چچی سائیں تو پہلے ہی خوش نہیں تھیں اس فیصلے سے ۔

” اماں سائیں مجھے کوئی دقت نہیں ہے زری اور دلبند کے نکاح سے وہ ایک مجبوری ہمدردی تھی بھلا ایک نوکر اور مالک میں ایسا کوئی رشتہ بن سکتا ہے ۔” ارتشا نے بھی مدھم سی آواز میں اپنی ماں کو کہا تھا ۔

” دیکھ تیری اماں سائیں کے بھی ارمان تھے تیری شادی کے انھیں پورا کردے زری یہی رہے گی مگر ارتشا کا حق وہ تجھے پسند کرتی ہے ۔۔۔۔۔وڈے سائیں کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی گئی تھی ” اور میں زری سے محبت کرتا ہوں ارتشا سے نہیں !” یہ بات سب کو حیران کر گئی تھی ارتشا کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی وہ وڈے سائیں کے پاس بیٹھ گیا انکا گھٹنا پکڑے ” معزرت ابا سائیں جان مانگ لیں حکم کریں مگر میں کسی کی زندگی برباد نہیں کرسکتا ۔ جب اس سے نکاح کیا تھا تب صرف ہمدردی تھی مگر اب محبت ہے آپ نے پوچھا تھا نہ اماں سائیں کہ اسکے حقوق پورے کر پائے گا یا نہیں کرنا چاہتا ہوں اماں سائیں اسے اسکا مقام دینا چاہتا ہو میں ارتشا سے نکاح نہیں کرسکتا اسکی زندگی تباہ نہیں کرسکتا دو میں سے کسی ایک کے بھی حقوق پورے نہیں کرپاوں گا ۔۔” چچی سائیں خوش ہوگئی تھی اسکی ہمت پرکشمیراں بھاگ کر کچن میں گئی اسے زور سے گلے لگایا ” چھوٹے سائیں نے تجھے قبول کرلیا ہے سب کے سامنے ارتشا بی بی سے نکاح کے لیے انکار کردیا ہے ہائے تجھے کیا کہوں زری یا چھوٹی سرکار !” وہ تو خوشی سے پاگل ہوگئی تھی مگر اسکا ڈر بڑھتا جارہا تھا ۔

” اپنا فیصلہ میں سنا چکا ہوں اب آپکا جو فیصلہ ہوگا مجھے منظور ہوگا !” وڈے سائیں گہری سوچ میں غرق تھے سب انکے جواب کے منتظر تھے انھوں نے ایک نظر اپنے بھائی اور بھتیجے کو دیکھا جنھوں نے کوئی تاثر نہیں دیا اماں سائیں خود غیر مرائی نقطے کو دیکھ رہی تھیں ” شبانہ مجھے لگتا ہے کہ تقریب کے لیے کل کا دن ٹھیک ہے !” وڈے سائیں نے اپنی بیگم کو مخاطب کیا ” کس کی تقریب ؟” انھوں نے الجھ کر الٹا سوال کردیا ” اپنے دلبند کی اپنا آرمان پورے نہیں کرنے کل کر لیں !” دلبند نے افسوس سے آنکھیں بند کرلیں تھی سر جھکا گیا تھا

” میرا خیال اسکا اور زری پتر کا ولیمہ کردیتے ہیں اب گاوں کی چھوٹی سرکار لانے ہے تو اعلان کے ساتھ لاتے ہیں !” دلبند کی تو چہرے کی رونق واپس آگئی تھی سب ہنس دیے تھے سوائے ارتشا کے وہ اوپر چلی گئی روتی دلبند نے افسوس سے اسے دیکھا ” میں دیکھتی ہوں اسے !” سوہا کہتی اسکے پیچھے چلی گئی ۔وہ دروازہ بند کیے رونے کا شغل فرما رہی تھی” تو ہار گئی ارتشا ہار گئی وہ کنیز لے گئی میرے دلبند کو !”

” ارتشا دروازہ کھولو اپنی بھابھی کی بات بھی نہیں سنو گی بچے میری بات تو سنو !” بھابھی سے تو اسکا بہنوں جیسا تعلق تھا اسلیے دروازہ کھول دیا اور خود منہ بنا کر بیٹھ گئی وہ آرام سے اسکے گال کر چھوتی اسے تسلی دینے لگی ” دلبند تمہارا کبھی نہیں. ہوتا تم کھیل قسمت تمہارے ساتھ کھیلتی جو جس کا ہے اسی کو ملتا تمہارے لیے بھی کوئی ہوگا جو بلکل دلبند جیسا ہوگا جو صرف تمہارا ہوگا تم سے بہت محبت کرتا ہوگا بس نظر گھما کر ڈھونڈنے کی ضرورت ہے ۔۔” اسے سمجھاتی اسکے فون سے ایک کانٹیکٹ نکال کر رکھ گئی اسنے ایک افسردہ سی نظر اس کانٹیکٹ پک میں مسکراتے شہریار کو دیکھا اور فون سوئچ آف کردیا ۔

” ایک آخری رات کے لیے یہ گھونگھٹ تمہارے اور میرے بیچ حائل ہے کل سب کے سامنے تمہارے جسم و جاں کا مالک نامزد کردیا جاوں گا پھر اس گھونگھٹ کے پیچھے کا وہ فتنہ جسکے بارے میں دوسروں کے منہ سے سنا تھا آپنی آنکھوں سے دیکھ لوں پھر کسی آنکھ کو دیکھنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔۔” کمرا میں جاتا سیڑھیوں کے پاس کھڑی زری کے کان میں سرگوشی کرگیا تھا ۔

” اور اگر چھوٹے سائیں میں زرا بھی اچھی نہیں ہوئی تو ؟” بےتکا سوال کیا تھا خوف میں ” تو مجھے تم سے محبت نہیں عشق ہوجائے گا جیسی بھی ہو اب تو میری ہو ۔۔” اسے اور ڈرا کر اوپر چلا گیا تھا ” گئی زری تو تو گئی اب سوچ لے زہر چھوٹے سائیں کے گھونگھٹ اٹھانے کے بعد کھانا ہے یا پہلے؟” ڈرتی وہ بھی کمرے کی طرف چل دی ۔

اماں سائیں اپنے خاندانی چیزوں والا صندوق کھولے بیٹھیں تھیں کبھی کچھ زری کو پہناتی اور خود ریجیکٹ کردیتی کبھی کچھ لہنگا انھوں نے اپنا نکالا کر رہا تھا اسے مغلائی طرز پر بنا وہ لہنگا جس کی کرتی بلکل سادہ تھی آدھے بازو والی لہنگا اور دوپٹہ اتنا کام والا کہ دلہن نیچے ہی آجائے آخر ڈھونڈ کر ایک ہار نکالا جس میں لال اور ہرے نگینے لگے تھے اسکے گلے سے لگایا ” ہائے ماں صدقے جائے یہ ہوئی نہ میرے رانجھے کی ہیر تیار !” وہ خوشی سے صدقے واری جارہی تھیں اور وہ دل میں سوچ رہی تھی ” کہلے ہیر وہ بھی زہر کھا کر مری تھی میرا آرادہ بھی کج ایسا ہی ہے !

” اماں سائیں اگر برا نہ مانے تو ایک بات کہوں ؟”انھوں نے گال سے ہاتھ ٹھوڑی تک پھیرا “بول میری بچی !”

” اماں سائیں جیسے وڈی عید پر جانوروں کو قربانی سے پہلے سجاتے سنوارتے نہیں ہیں مجھے بھی سمجھ آرہا ہے کیسا لگتا ہوگا انھیں مجھے بھی ویسا ہی لگ رہا ہے ..”

” ہاہاہا جھلی نہ ہو وے تے!” انھوں نے ہنس کر ایک چپت اسکے سر پر لگائی ۔

“ہاں شہریار کل وقت سے آجانا میرا اور زری کا ریسیپشن ہے !” اسنے سب سے پہلی کال ہی شہریار کو کی تھی اسکے لہجے کی خوشی دیکھ کر وہ کچھ حیران ہوا تھا ” تم نے زری کا چہرا دیکھ لیا اپنا لیا اسے ؟”

” نہیں چہرا نہیں بغیر دیکھے محبت ہوئی ہے اس سے اب گھونگھٹ کے پیچھے کیسا چہرا اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔” اسکی بات پر شہریار نے ماتھا پیٹ لیا تھا” گدھے پہلے چہرا دیکھتا پھر کوئی فیصلہ کرتا !”

” کہا نہ چہرے سے فرق نہیں پڑتا روزینہ کے بعد جس انسان سب میں نے محبت کی ہے اسے خدا نے میرے قسمت میں لکھا تھا اور میں اسکے خلاف کبھی نہیں جاوں گا اور روزینہ اسکی تو آنے کی امید بھی چھوڑ دی میں نے کبھی ملی تو معافی مانگ کر بوجھ اتار کر سکون سے اپنی زندگی جیوں گا ۔۔” دلبند کی باتیں شہریار کو اور ڈراتی جارہی تھی ” اوکے دلبند بیسٹ آف لک فور یور فیوچر میں کل آجاوں گا !” زری عرف روزینہ خدا تمہیں ہمت عطا کرے اور دلبند تمہیں بھی ! بند فون کو گھورتے ہوئے وہ انکو دعائیں دے رہا تھا پھر کچھ سوچ کر ارتشا کو کال ملائی فون بند جارہا تھا ” سمجھتا ہوں رو لو یہ تمہارا وقت ہے ہلکا کرلو خود کو باقی تمہیں بھرنے میں آرہا ہوں نہ !” مسکراتا گاڑی ڈرائیو کرنے لگا ۔

پوری حویلی برقی قمقموں سے دن رات چمک رہی تھی دلبند بلیک ڈنر سوٹ پہنے تیار ہورہا تھا شہریار وائٹ ڈنر سوٹ پہنے ایک ٹانگ دوسری پر رکھے اسکے چہرے کے اطمینان اور مسکراہٹ سے خوفزدہ تھا ” کیا دیکھ رہا ہے؟”

” خدا تمہاری خوشیوں کو کسی کی نظر نہ لگائے !” اسنے مسکرا کر دعا دی جس پر وہ گہرا مسکرا دیا ” آمین!”

شہریار اٹھ کر باہر آگیا جب سامنے سے سوہا آتی نظر آئی ” بھابھی ارتشا نہیں دکھ رہی ؟”

” اپنے کمرے میں منہ پھلا کر بیٹھی ہے کہتی ہے نیچے نہیں آوں گی ۔”

” اگر آپ برا نہ مانے تو میں بات کروں جا سکتا ہو اسکے کمرے میں ۔۔” مسکرا کر اثبات میں سر ہلاتی وہ آگے بڑھ گئی دروازہ لاکڈ نہیں تھا اسنے دستک دی ” بھابھی میں نے بول دیا نہ مجھے نہیں آنا ۔۔” دورزہ کھول کر اندر آتے انسان کو دیکھ کر وہ خاموش ہوگئی تھی بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے نیچے بیٹھی تھی وہ بھی کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا ” ارے آپ نیچے مت بیٹھے کپڑے خراب ہوجائیں گے ۔

” تم بھی تو بیٹھی ہو میں نقل چور ہوں وہی کرتا ہوں جو میرا مالک کرتا ہے ۔” اسنے معصومیت سے اسے دیکھا ” مالک میں آپ کی مالک کیسے ہوئی ؟”

” اچھا ایک بات بتاوں انسان زندہ کیسے رہتا ہے ؟”

” سانس لینے سے ! اسنے اسی معصومیت سے جواب دیا اسنے پھر پوچھا ” اور !”

” دل کے دھڑکنے سے !”شہریار نے چہرے پر مسکراہٹ گہری ہوگئی تھی ” اور اگر ہمارا دل کوئی لے گیا ہو تو وہ کیا ہوا ؟”

” چور ! اسنے بے ساختہ جواب دیا ” بس یہی کیا تم نے میرے ساتھ میرا دل چوری کرکے مالک بنی بیٹھی اسکی تو وہی کروں گا نہ جو تم کرو گی ۔۔” اسنے رخ پھیر لیا تھا وہ تھوڑا قریب ہوگیا ” تو بتاو آرادہ ہے میرا دل واپس کرنے کا یا نہیں ورنہ دفعہ نکاح و شادی لگا دوں گا تم پر دو میرا دل واپس کتنی لڑکیاں طلبگار بیٹھی ہیں انھیں بھی دینا ہے !”اسنے ایک جھٹکے سے رخ اسکی جانب کیا ” نہیں دینا دفعہ نکاح اور شادی منظور ہے مجھے !” اسکے باوز میں بازو ڈالتی سر اسکے کندھے پر رکھ دیا اسنے پیار سے اسکی ٹھوڑی کو پکڑا ” سوچ لو عمر قید ہے اور جیلر بہت رومینٹک ہے پھر نہ کہنا بتایا نہیں ؟”

” منظور ہے بس تم مجھے چھوڑ کر مت جانا بس میرے ہو کر رہنا ۔۔” اسکے بازو کو مضبوطی سے پکڑے اداس سے لہجے میں بولی ” پہلے دن سے تمہارا ہوں اب اٹھو تیار ہو میرے لیے اور نیچے چلو میں چلتا ہوں کوئی دیکھ نہ لے ابھی لائسنس نہیں ہے ۔” اسکے گال کو پیار سے چھوتا وہاں سے چلا گیا وہ بھی شرما کر چہرا ہاتھوں میں چھپا گئی ۔

سٹیج پر وہ اکیلا بیٹھا تھا شہریار اسکے پاس کھڑا تھا اور اس سے کچھ فاصلے پر رنک کلر کی فراک پہنے جسکے موتی روشنیوں میں چمک رہے تھے بال کھولے معصوم سی پری بنے ارتشا کھڑی تھی مسکراتے ہوئے اور شہریار کی نظروں سے بچتے ہوئے چچی سائیں نے عرفان اور چچا سائیں سے بات کرلی تھی انھیں بھی لڑکا پسند تھا ۔

ریبو اور عرفو اپنی بیٹی کی خوشبختی پر خوش بھی تھے اور اشکبار بھی اماں سائیں نے انھیں پیروں میں نہیں اپنے ساتھ بیٹھایا تھا زیبو کشمیراں شانزے بختو سب زری کو تیار کرنے میں لگی تھیں کوئی بالوں کو کسی طرح سے سجاتی کوئی کچھ کرتی پھر سب کو باہر نکال کر سوہا نے خود اسے تیار کیا تھا لال لہنگا پہنے دلہن کے روپ میں سجی ہر حدیں لانگ گئی تھی مگر چہرے پر خوف کی سیاہی صاف تھی کچھ دیر خود کو ایسے دیکھنے بعد اسنے گھونگھٹ نیچے کرلیا وہ سب اسے لیکر سٹیج کی جانب آئی وہ شہریار سے کوئی بات کررہا تھا جب اسکی نظر سامنے اٹھی لال گلاب کا پھول چل کر آرہا تھا سفید ہاتھوں میں موجود لال چوڑیاں آج خاموش تھیں پردہ ابھی بھی نہیں ہٹا تھا مکھڑا ابھی بھی چھپا تھا ۔

دھاگے توڑ لاو چاندنی سے نور کے ۔۔

گھونگھٹ ہی بنا لو روشنی سے نور کے

شرما گئی جو آغوش میں لو ۔۔۔

سانسوں میں الجھی رہے میری

سانسیں بول نہ ہلکے ہلکے بول نہ ہلکے ۔۔۔۔۔

وہ اسکے ساتھ آکر بیٹھ گئی جب اماں سائیں نے اسکا گھونگھٹ اوپر کرنا چاہا کیونکہ تمام مرد حضرات دوسری طرف جاچکے تھے صرف گھر والے ہی موجود تھے شہریار بھی چلا گیا تھا مگر اسنے اماں سائیں کا ہاتھ پکڑ کر روک دیا ” دلبند بس عورتیں ہیں اور کوئی نہیں ہے !”

” جانتا ہوں اماں سائیں مگر نہیں اسکا گھونگھٹ نیچے ہی رہے گا میں نے چاہتا کوئی عورت بھی دیکھے اسلیے رہنے دیں ۔” اسکی بات پر انھیں ہنسی آگئی تھی ” بچپن سے ایسا ہے جو میرا بس میرا ہی ہو !”تقریب بہت اچھے سے مکمل ہوگئی تھی دلہن کو کمرے میں پہنچا دیا گیا ۔خود وہ مردوں کے ساتھ کچھ باتوں میں مگن تھا ۔

” بس ارتشا کی پڑھائی مکمل ہوجائے تو اسکا اور شہریار کا نکاح کردیتے ہیں بس ایک سال کی ہی تو بات ہے ۔” عرفان شہریار کے ساتھ ہی بیٹھا تھا اور بات انھیں کی شادی کی ہورہی تھی ۔

” میں مما پاپا سے کہوں گا وہ لوگ پہلے بھی آپ سے ملنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔”

” تو بس ٹھیک ہے اگلے سال انھیں دنوں میں ارتشا اور تمہاری شادی بھی کردی جائے گی ۔۔۔” اسنے مسکرا کر دور چھپ کر کھڑی ارتشا کو دیکھا جو اندر بھاگ گئی ۔

محفل برداشت ہوئی توسب نے اپنے کمروں کی راہ لی وہ اندر آیا تو بیڈ پر پھولوں کے پیچھے ہمیشہ کی طرح انگلیاں مروڑتی بیٹھی تھی ہر طرف موم بتیاں ہی جل رہی تھی قدم قدم چلتا اسکے پاس بیٹھ گیا اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا جو گرمی ہونے کے باوجود بلکل ٹھنڈا اور کانپ رہا تھا اسنے ایک انگوٹھی اسکے ہاتھ میں پہنا دی ۔” آج تو اعلان ہوگیا کہ تم صرف میری ہوں ۔” گھونگھٹ کے نیچے اسکے ہونٹ تک خشک ہوچکے تھے جب اسکے ہاتھ سیدھا گھونگھٹ پر پڑتے نظر آئے اسکے چھونے سے پہلے وہ بیڈ سے اٹھ گئی پھیلا لال لہنگا ڈھلک کر پاوں تک چھپا گیا اس سے رخ موڑ کر کھڑی ہوگئی اسنے پیچھے سے ہاتھ اسکی کمر کے گرد حائل۔کردیے ٹھوڑی اسکے کندھے پر اٹکا لی ” کیا ہوا اب تو دکھا دو کہہ تو رہا ہوں محبت کرتا ہوں تم سے صرف اپنی چاہت کے لیے نہیں دیکھنا چاہتا ۔۔۔” اسکا رخ اپنی جانب کیا گھونگھٹ اٹھایا اور پیروں کے نیچے سے زمین کھنچ گئی تھی