Mukhra by Bint-e-Aslam NovelR50490 Mukhra Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Mukhra Episode 12
Mukhra by Bint-e-Aslam
” کک۔۔۔۔کیا کہہ رہا ہے تو کیا ہوا ہے روز۔۔۔۔روزینہ کو ؟”
وہ اسکے گلے لگا معصوم بچے کی طرح رو رہا تھا ” میں نے اسے داغ دار کردیا بغیر کسی حق کے چھو لیا اسے میں بھی اسفندیار جیسا نکلا میں نے اسے داغ دار کردیا ۔” شہریار کی سانس ساکن ہوگئی تھی ایک جھٹکے سے دور کیا اور اسکا کندھا مضبوطی سے پکڑ لیا ” کیا کیا تو نے تو ۔۔۔۔تو اس سے ملنے گیا تھا ؟”اسنے اثبات میں سر ہلا دیا
” کب ؟”۔۔۔” تین دن پہلے میں کرنا نہیں چاہتا تھا پتہ نہیں کیسے میرے اندر کے جانور نے مجھ پر قابو پا لیا اپنے حواس کھو بیٹھا ۔۔۔۔۔”
تین دن پہلے ۔۔۔۔
دھیان سے رہنا اور کچھ بھی ضرورت پڑے مجھے فون کرنا ۔” بلاول تاکید کرتا نکل گیا جب گھر کے باہر کھڑے ایک آدمی نے فون ملایا ” جی سر وہ نکل گئے ہیں اکیلی ہے گھر پر ۔۔۔۔” اسفندیار جو گھر کے قریب ہی گاڑی پارک کیے کھڑا تھا فورا سے فون بند کرتا نکل گیا ۔
وہ فون رکھ کر کمرے سے باہر آئی ہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی ” اس وقت کون ہوگا ؟”دروازے پر گئی ” کون ؟”
” میڈم اجمل صاحب کے لیے خط آیا ہے وصول کر لیں ۔”
ماموں کے لیے خط کون بھیج سکتا ہے کوئی ضروری کاغذات تو نہیں ۔۔۔” یہ سوچتی اسنے دروازہ کھول دیا تھا سامنے کھڑے انسان کو دیکھ کر پل بھر کو ساکت رہ گئی تھی ” اسفندیار تم اس وقت یہاں ؟”
” تم سے مل نہیں پایا تھا یونی میں من کیا تو آگیا !” آگے بڑھتا جارہا تھا اسنے دروازہ بند کردیا مگر وہ فولاد ایک جھٹکے سے اسے دھکیلتا اندر آگیا وہ اسکی جان نکل گئی ” اسفندیار جاو یہاں سے ورنہ اچھا نہیں ہوگا جاو !” اسنے انگلی دیکھاتی چادر سنبھالتی پیچھے جاتی جارہی تھی اور وہ خباثت اور کمینگی سے ہنستا آگے ” سچ میں ایسا نہ کہوں دیکھو جل رہا ہوں تمہارے بغیر مجھے سکون دے دو !آگے بڑھتا جارہا تھا وہ بھاگنے لگی جب اسنے پیچھے سے پکڑ لیا کلائیاں پھر دبوچ لیں وہ آگے پینک کر رہی تھی مچل رہی تھی اور اسکا دوپٹہ ہٹانے کی کوشش کر رہا تھا جب اسے دلبند کی بات یاد آئی ” جب کوئی پیچھے سے ایسے پکڑے تو ہاتھ پیچھے کی طرف دھکیلو !” اسنے پوری طاقت لگا کر ہاتھ پیچھے دھکیلے جو سیدھا اسفندیار کے پیٹ میں لگے گرفت تھوڑی ڈھیلی ہوئی تو وہ بھاگنے لگی مگر اسکا ہاتھ اسکی قمیض کے گلے پر پڑ گیا تھا جو کھینچنے سے پھٹ گیاتھا سفید کندھے پر اسفندیار کے ناخنوں کے نشان پڑ گئے تھے جہاں سے ننھی ننھی خون کی بوندیں نکل رہی تھی اپنے کپڑے سنبھالتی آگے بڑھنے اسنے پھر پکڑ لیا کمر سے پکڑے اپنے ساتھ لگائے اسے چھونے کی کوشش کر رہا تھا ” اسفندیار میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں پلیز مجھے جانے دو یہ نہ کرو خدا معاف نہیں کرے گا ۔”
” ارے ایسے کیسے جانے دوں اتنا جلایا ہے تو نے مجھے اتنا تڑپا ہوں تمہاری قربت کے لیے اہسے کیسے جانے دو اور تو نے ہی تو کہا تھا دلبند کی جان بچا لو میں تمہارے لیے کچھ بھی کروں گی تو کرو نہ بس مزاحمت مت کرو مجھے قریب آنے دو ۔۔۔” وہ اسے دور کر رہی تھی مگر نہیں ہورہا تھا پھر اسنے پیر زور سے اسکی ٹانگ پر مارا درد ہوا تو چیخا وہ بھاگ کر کمرے میں گھس گئی دروازہ لاکڈ کرلیا اپنا فون ڈھونڈ نے لگی ” کیا کرو کسے فون کرو ۔۔۔۔کسے بلاول کو وہ۔۔۔۔وہ تتو ۔۔بہت دور ہوگا ماموں کو ۔۔۔۔وہ تو خود بوڑھے اسنے انھیں کچھ کردیا تو ۔۔۔۔۔ چھوٹے سائیں ۔۔۔۔ہاں چھوٹے سائیں کو کرتی ہوں ۔۔۔۔۔”نمبر ڈھونڈنے لگی فون دوسری رنگ پر اٹھا لیا گیا اسکے گھر کا پتہ اسے معلوم تھا مگر کبھی گیا نہیں تھا وہ بک شاپ سے کچھ کتابیں لیے نکل رہا تھا ” ہیلو !!؛ ہیلو…..نمبر اسکے پاس گیا روزینہ کی ڈری آواز اسکی جان نکال گئی تھی ادھر اسفندیار ٹھوک رہا تھا وہ بیڈ کراون کے پیچھے چھپی تھی دروازہ بجنے کی آواز وہ صاف سن سکتا تھا ۔” مجھے بچا لو اسفندیار میرے گھر پر ہے وہ ۔۔۔۔وہ میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش ۔۔۔ککک۔۔کر رہا ہے مجھے بچا لو پلیز!!” وہ قریب ہی تھا اسکی آواز اسے طیش میں لے آئی تھی بھاگتا دوڑتا رش ڈرائیونگ کرتا وہ اسکے گھر پہنچا گھر کی حالت اسے صاف بتا رہی تھی کہ کیا ہوا ہے وہ دوڑتا کمرے تک پہنچے جہاں وہ اسے بیڈ پر گرے اس پر جھکتا جارہا تھا دماغ گھوم گیا تھا اسکا سیدھا جاکر اسے گردن سے دبوچہ تھا گرفت سے لگ رہا تھا انگلیاں اسکے اندر ہی گاڑھ دے گا روزینہ کو دیکھا تو نظر خوبخود جھک گئی تھی کیونکہ اسکا لباس کھینچا تانی میں جابجا پھٹا ہوا تھا ۔”گلے پر دباو ڈالتا اسکی آنکھیں باہر نکال گیا تھا ” تیری ہمت کیسے ہوئی اسے ہاتھ لگانے کی !”اسفندیار بھی پورے طیش میں تھا سینے پر ہاتھ رکھتا وہ اسے دھکیل گیا تھا ” کیا سالے تجھے کہیں بھی ٹپکنا ہے تجھ سے بھی نپٹتا ہوں پہلے تیرے ہڈیاں توڑتا ہوں تاکہ تو لاچاروں کی طرح دیکھے ۔۔” کہتا دلبند کے منہ مار گیا جس سے اسکا ہونٹ پھٹ گیا تھا غصہ آیا سیدھا اسکے پیٹ میں مکا مارا وہ اس سے سنبھلتا دوسرا اسکے منہ پر تھا پیٹتا جارہا تھا مار مار کر ادھ موا کردیا تھا اسے وہ دیوار کے ساتھ لگی ڈری سہمی رو رہی تھی اسفندیار کی بس ہوگئی تھی اس سے پہلے وہ مرتا وہ وہاں سے بھاگ گیا تھا دلبند تو وحشی بن گیا تھا اسکے جانے کے بعد اسنے چادر اٹھائی اور روزینہ کے گرد لپیٹ دی خدا کا شکر وہ ٹھیک تھی لباس ہی پھٹا تھا کچھ اور نہیں ہوا تھا وہ ابھی بھی پاکیزا تھی اسے چادر اڑھاتا نظریں پھیر گیا تھا وہ روتی بیٹھتی چلی گئی ” اسنے مجھے چھوا ہاتھ لگائے گندے ہاتھ لگائے میں بھی گندی ہوگئی ہوں میں پاک نہیں رہی ایک نامحرم مجھے چھوا میں داغ دار ہوگئی ۔” دلبند جو اس سے رخ پھیرے کھڑا تھا اسکی باتیں سنتے گھوما گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ” تمہیں کچھ نہیں ہوا تم بلکل ٹھیک ہو داغ دار نہیں ہوئی! مگر وہ نہیں سن رہی تھی ” اماں ابا کو کیا بتاو گی کیا ہوا کیسے ناپاک ہوگئی کسی کے قابل نہیں رہی میں ۔۔۔” وہ ہاتھ بڑھا کر اسے چھونے لگا جب وہ ڈر کر پیچھے ہوئی ” مجھے ہاتھ مت لگاو. میں ناپاک آپ بھی ہوجاو گے مجھے گندہ کر گیا کسی کے قابل نہیں میں !” اسنے پھر بھی زبردستی ہاتھ اسکے چہرے پر رکھ دیا ” نہیں تم ناپاک نہیں ہوئی میں نے بچا لیا آج بھی اتنی ہی پاکیزا ہو!! وہ اسے پر سکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا ” نہیں ہوں اسنے پیچھے میرے کپڑے پھاڑے ناخن گاڑے میرے بازو کو چھوا میرے چہرے اتنے قریب تھا وہ نہیں ۔۔۔۔نہجں مجھے نامحرم نے چھو لیا میں گندی ہوگئی ہوں کوئی اب مجھے محبت سے بھی ہاتھ نہیں لگائے گا ۔۔” نفی میں سر ہلاتی پاگلوں کی طرح بولتی جارہی تھی جب دلبند نے سب سے بڑی غلطی کر دی کسی حق کے بغیر اسے پرسکون کرنے کے لیے اپنا لمس دے دیا اسکے لبوں کو اپنے لبوں سے چھو لیا اسکی اکھڑتی سانسیں میں اپنی سانسیں ملوث کرنے لگا تھا ناجانے کیا سوچ رہا تھا اسکا تو پتا نہیں مگر اسے سکون ضرور مل رہا تھا وہ سینے پر ہاتھ رکھے مزاحمت کرتی جارہی تھی مگر اسکا ہاتھ گال سے بالوں میں پھنس چکا تھا وہ اسے دھکیل رہی تھی آخر جب مزاحمت کرتے ہاتھ رک گئے تو ہوش میں آتا وہ بھی الگ ہوگیا وہ اسکی باہوں میں ہی جھول گئی تھی احساس تو اب ہوا ” او میرے اللہ کیا گناہ کردیا میں نے میں نے اس میں اپنی سانسیں بھر دیں مگر کس حق سے روزینہ ! روزینہ ! اسے اٹھایا بیڈ پر لیٹایا ” ہاتھ پیر رگڑے مگر وہ ہوش میں نہیں آرہی تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا جب اچانک فون بجنے لگا بلاول کا فون تھا اسنے اٹھانا مناسب نہیں سمجھا پھر دوسرا فون اسکے ماموں کا تھا فون اٹھایا ” ہاں زری پتر آج نہ کچھ زیادہ کام آگیا ہے تو میں گھر نہ تھوڑا لیٹ آوں گا وہ کیا ہے نہ ہیڈ کلرک ہوں توکام تو پڑ ہی جاتا ہے ۔۔۔۔” اسنے فورا فون بند کرکے اسے نمبر پر ٹیکسٹ میسج اوکے کا کردیا تھا پریشانی میں وہ زری نام کو بھی نظر انداز کرگیا تھا ۔” کافی دیر اسکے ہاتھ پیر رگڑتا رہا اسکی حالت دیکھ اسے ہسپتال بھی نہیں لے گیا سکتا تھا کپڑے ناساز تھے اور حق کوئی بھی نہیں تھا سیدھا پولیس کیس تھا پانی لایا چھینٹے مارے آخر اسے ہوش آگیا ہوش سنبھالتی اٹھی جب نظر سیدھی دلبند پر پڑی کچھ دیر پہلے والا لمحہ نظروں کے سامنے گھوم گیا تھا اچانک اپنے ہونٹوں کو رگڑنے لگی تیز تیز سانسیں لینے لگی پاگلوں کی طرح وہ اپنے ہونٹوں کو رگڑ رہی تھی اور وہ حیرت سے ساکن اسکا عمل دیکھ رہا تھا کیسے وہ اسکے لمس کو مٹانے کی کوشش کررہی تھی تیز سانسوں سے کیسے اسکی سانسیں باہر نکال رہی تھی ” روزینہ !
” چپ بلکل چپ کس حق سے چھوا ہے تم نے مجھے نکلے نہ تم بھی اسفندیار جیسے میرے جسم کے بھوکے کرلی نہ چلتے وقت میں بھی اپنی چاہ پوری ۔غصے میں ناجانے کیا کچھ بولتی جارہی تھی اور وہ آنکھیں پوری کھولے دیکھ رہا تھااسکا اور اسفندیار کا مقابلہ پھر خود سوچ لیا غلط وقت میں حرکت بھی تو غلط کی ہے ۔” اسکے قریب آیا جب وہ دو قدم پیچھے ہو گئی گلدان پکڑ لیا ” میرے پاس مت آنا نفرت کرتی ہوں میں تم سے میں نے تو ایک محافظ کو بلایا تھا تم تو بھیڑیے نکلے تم بھی مجھے نوچنا چاہتے تھے ۔” وہ جابجا اپنی جلد کو نوچنے لگی تھی دلبند کا دل بند ہوگیا ” یہی حسن یہی ماس وجہ بنتا ہے ایک لڑکی کی تکلیف کا اسکی بے پردگی کا یہ مکھڑا اسی کے دلدہ ہیں نہ سب ۔۔۔” گالوں کو نوچتی ہونٹوں کو رگڑتی بولتی جارہی تھی اور وہ تو بلکل ساکن ہو گیا تھا میں نے اسے داغ دار کردیا اپنی محبت کو بے پردہ کردیا کہ وہ اپنے آپ کو نوچنے لگ گئی میں نے اسے چھو کر گندہ کردیا میں نے ہاں میں نے میں نے اسے داغ دار کیا اسفندیار نے تو بس کپڑے پھاڑے میں تو اسکی سانسوں پر دسترس حاصل کرگیا تو میں نے ہی داغ دار کیا اسے ۔۔۔” اسے اسی حالت میں چھوڑ کر وہ الٹے قدموں واپس جاتا جارہا تھا ۔
حال۔۔۔
وہ دن اور آج کا دن وہ سو نہیں پایا تھا اسکی رودار سن کر شہریار سر ہاتھوں میں گرائے بیٹھا تھا ” یہ کیا کیا تو نے دلبند غلط وقت میں غلط حرکت کرگیا تو تو یہی سب ہونا تھا تین دن سے وہ بھی یونی نہیں آئی ۔۔”اس بات پر اسنے حیرت سے اسکے طرف دیکھا ” کک ۔۔کیا مطلب غائب یونی ورسٹی نہیں آئی ۔”
” نہیں میں نے اسکی دوستوں سے پتہ کیا تھا وہ کہہ رہی تھیں وہ شاید یونی ورسٹی چھوڑ گئی نامکمل !” اس بات پر اسنے اور رونا شروع کردیا تھا ” میری غلطی مجھے اپنے قابو رکھنا چاہیے تھے !”
