Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mukhra Episode 16

Mukhra by Bint-e-Aslam

کیا مطلب ابھی بتائیں ابھی آجائے گی ۔پھر کچھ سوچا اور اپنی جیگوار کی چابی نکال کر اسکے ہاتھ میں تھما دی ” زیادہ سے زیادہ مہنگی گاڑی مانگ لیں گے .”

” نہ نہ چھوٹے سائیں انھوں نے مانگی نہیں زری کا سگا ماما ہے کچھ مانگا نہیں انھوں نے مگر بیٹی والے ہیں نہ تو ڈر لگا رہتا ہے کہیں کوئی کسر رہ نہ جائے۔ “

” نہیں رہے گی فکر مت کریں اپنے پاس چابی رکھیں کہیں تق دے دیجیے گا ۔۔۔” کچھ دیر وہاں رک کر وہ واپس آگیا تھا حویلی خالی تھی چچا چچی بھی چلے گئے تھے ساتھ ارتشا بھی کمرے میں آیا اور لیٹ گیا ” پھر تھک گئے مسٹر ٹاپر ! بیڈ کراون سے ٹیک لگائے وہ وہیں بیٹھی تھی ” آج زرا دیر نہیں کردی آنے میں ؟” سیدھا ہوتا اسکے سیراب سے گفتگو کرنے لگا ۔

” میں تمہارا خیال ہوں جب تم مجھے یاد کرو گے تبھی آوں گی تم بزی تھے دیر سے یاد کیا تو دیر سے آگئی ۔”اسکی بات پر اثبات میں سر ہلا گیا ” تم کونسا سچ میں آس پاس ہو !” نظر گھما کر دیکھا وہ پھر نہیں تھی بے بسی سے مسکراتا لیٹ گیا ۔

” رات کے تین بج رہے تھے جب بلاول کی نیند فون کی رنگ ٹون سے کھلی ” ہیلو !”

” ہیلو بلاول مجھے تمہیں کچھ بتا نا ہے !” عروشا کی آواز تھی وہ اٹھ بیٹھا ۔” عروشا تم ؟”

” بلاول میں نے ابا کو منا لیا وہ ہمارے نکاح کے لیے تیار ہیں وہ تم سے ملنا چاہتے ہیں کل لازمی ان سے مل۔لو ۔۔۔”

” عروشا کل۔میری شادی ہے !” عروشا کے ہاتھ سے فون گرتے گرتے بچا ” یہ تم کہا کہہ رہے ہو بلاول یہ نہیں ہوسکتا میں نے اپنے ابا کی ڈانٹ مار کھائی ہے تمہارے لیے تم شادی میں نہیں کرسکتے میں مر جاوں گی تمہارے بغیر !” وہ زارو قطار رو رہی تھی ۔

” ایسا نہ کہو میں مجبور ہوں کوئی اور بھی میرا انتظار کررہی ہے ۔”

” بلاول کل۔اگر وہ لال جوڑے والی آئی تو میں اپنا وجود لال کرلوں گی ۔۔” ڈھاڑتی فون بند کر گئی تھی ۔” یا اللہ کس کشمکش میں پھنسا دیا ہے ایک طرف محبت اور دوسری طرف عزت لیکن اگر عروشا چلی گئی تو میں زری سے محبت نہیں کر پاوں گا تو فائدہ اس سے نکاح کرنے کا اسکی زندگی برباد ۔۔” انھیں پریشانی سے میں رات گزر گئی تھی صبح اسنے اتنی کوشش کی مگر کسی نے اسکی نہیں سنی عروشا بار بار اسے جان مرنے کی دھمکیاں دے رہی تھی دوسری طرف سرخ جوڑے میں سجی زری گلاب کا پھول لگ رہی تھی تمام تیاریاں مکمل ہونے والی تھی بارات شام میں آنی تھی اور رات رکنی تھی مگر شام کیا رات ہوگئی تھی دلہن سجی سجی تھک گئی تھی مگر باارات نہیں آئی تھی کسی کا فون بھی نہیں لگ رہاتھا دلبند ابھی ابھی وہاں پہنچا تھا سب کو ایسے پریشان دیکھ کر وہ خود بھی پریشان ہوگیا تھا ” چاچا کیا بات ہے ؟”

” چھوٹے بارات شام کو آنے والی تھی مگر بہت رات ہوگئی ہے ابھی تک نہیں آئی کوئی فون بھی نہیں اٹھا رہا آخر جن دوں لڑکوں کو بھیجا گیا تھا پتہ کرنے وہ آئے ” دولہے نہیں کسی اور شادی کر لی بارات نہیں آئے گی ۔”

عرفو کی قدم تو لڑکھڑا ہی گئے تھے اور زیبو تو بین کرنے لگی تھی دلبند خود بہت پریشان ہوگیا تھا ” میری زری زندگی برباد ہوگئی !” عرفو اپنا ماتھا پیٹ رہا تھا شناور اسے حوصلہ دے رہا تھا زری تھک کر کچھ لمحے چل رہی تھی کہ بختو بھاگی آئی ” زری ۔۔۔زری تیری بارات نہی آئے گی بلاول نے کسی شادی کرلی ۔۔۔۔” قدم لڑکھڑائے اور زمین بوس ہوگئی ” زری ! بختو اسکی طرف بڑھی اسے اٹھایا پانی کے چھینٹے مارے مگر ہوش نہیں آرہا تھا ۔”

” چاچا زری بے ہوش ہوگئی ہے ہوش میں نہیں آرہی !” عرفو اور زیبو جو دوہایاں دے رہے تھے اور رونے لگے تھے ۔

“اسکے ہاتھ پیر رگڑو کچھ نہیں ہوگا اسے !” دلبند نے تحمل سے کہا تھا ۔

” لڑکی میں کوئی کھوٹ ہوگا زبردستی کر رہے ہونگے لڑکے ساتھ اسلیے بھاگ گیا !” برادری نے قیاس آریاں شروع کردی تھیں ۔

” ہمیشہ تو گھونگھٹ میں رہتی ہوسکتا ہے کوئی نقص ہو اس لیے لڑکا نہیں مانا !” ایک طرف سے آواز آئی ۔

” کون کرے گا اس سے شادی جس کے ہاتھوں میں کسی اور کے نام کی مہندی لگی ہو نا بابا نا میں تو نہ بیاہوں ایسی لڑکی جس کا دولہا بیاہ کے دن بھاگ گیا ۔”

” اسکا دولہا بھاگ گیا اس میں اسکا کیا قصور ؟” آخر دلبند سنتا چیخ پڑا تھا ۔

” چھوٹے سائیں یہی سماج ہے گناہ چاہے جس کا بھی ہو عزت اور گناہ لڑکی کا ہی نکلتا ہے ہوسکتا لڑکی کے بارے میں اسے کچھ پتا چل گیا ہو یا پھر کوئی اور بات ہو مگر اب اس لڑکی سے کوئی نکاح نہیں کرے گا ۔”

” کیوں نہیں کرے گا وہ تو اسکی کچھ نہیں بنی تھی ابھی پھر اسے کیوں بے عزت کیا جارہا ہے ۔” دلبند گاوں اور برادری کی چھوٹی سوچ سے حیران تھا ۔

” آپ وڈے پڑھے لکھے لوگ ہو مگر غریب ایسا ہی سوچتا ہے اسکی عزت ہی سب سے پیاری ہوتی ہے اب ایک ایسی لڑکی جس کا دولہا اسے بیاہ والے دن چھوڑ گیا لاکر عزت پر انگلیاں اٹھوانی ہیں کے چھوڑی ہوئی لڑکی لے آئے ۔”

چھوڑی ہوئی لفظ پر عرفو گر ہی تو گیا تھا کتنی آسانی سے لوگوں نے اسکی زری کو چھوڑی ہوئی کہہ دیا تھا ۔

زری کو ہوش آگیا تھا زیبو کے سینے سے لگی آنسوں بہانے میں مگن تھی باہر کی آوازیں اب اندر بھی سنائے دینے لگی تھیں ۔

دلبند شناور کے پاس آیا ” شناور تو زری سے نکاح کرے گا ؟” شناور کے پیروں کے نیچے سے تو زمین نکل گئی تھی ۔” چچ۔۔چھوٹے سائیں میں زری سے نکاح نہیں میں زری ہو ہمیشہ سے بہن مانتا آیا ہوں اور میری تو منگنی بختو سے ہوچکی ہے اگر میں نے یہ نکاح کیا تو میں بھی بلاول جیسا بن جاوں گا ۔” وہ صاف منع کرگیا تھا ایسا کرکے دو بہنوں جیسی سہلیاں دشمن کرنی تھی کیا ۔

” دیکھا چھوٹے سائیں سب پلہ جھاڑ رہے ہیں کوئی اس لڑکی سے شادی نہیں کرے گا ہیں نہ ہم سچے!” برادری میں سے کسی غیر رسیدہ بوڑھے نے کہا تھا اسنے ایک نظر عرفو کو دیکھا جو سر پکڑ کر رو رہا تھا پھر پوری برادری سے جو طنزیہ ہنس رہی تھی ” میں کروں گا زری سے نکاح کیونکہ میرے ابا سائیں نے کہا تھا ایک عورت کی عزت سارے مردوں کی عزت اور آج سوال کسی عورت کی عزت کا ہے تو اسکی کی حفاظت کروں گا کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ ان سب میں مرد ایک میں ہی ہوں باقی سارے سماج کے کھلونے ہیں ۔” عرفو حیرت کے مارے کھڑا ہوگیا تھا زیبو بھی سن کر باہر آگئی تھی بختو چہک اٹھی تھی مگر زری ” نہیں یہ نہیں ہوسکتا میں بھوٹے سائیں سے شادی نہیں کروں گی نہیں پلیزززز اللہ جی نہ کرو یہ ۔۔۔”

تمام برادری کا منہ کھلا رہ گیا تھا اسنے نکاح خواہ کو بلایا ” میرا نام لکھو دلبند رضا شاہ ولد رضا شاہ !” اسنے نام لکھ دیا حق مہر؟نکاح خواہ نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا ” لکھو دلبند رضا کی جان !”

چھوٹے سائیں یہ کیسا حق مہر ہے ؟” شناور نے حیرت سے اسے دیکھا ” ضمانت دے رہا ہوں کہ اگر میں نے زری کے ساتھ کچھ غلط کیا تو میری جان اپنے مہر میں لے جاو۔نکاح شروع کرو !” حکم دیتا خود وہ ایک کرسی پر بیٹھ گیا تھا حویلی کے آدمی سر اٹھائے اسکے پیچھے کھڑے تھے ” دلبند رضا ولد رضا کیا آپ کو یہ نکاح زری عارف ولد عارف کے ساتھ بعوض حق مہر دلبند رضا کی جان قبول ہے ؟”

قبول ہے

قبول ہے

قبول ہے ۔۔

اسنے دستخط کردیے تھے عرفو زیبو نکاح خواہ کے ساتھ اندر آئے تھے بختو نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ” تیار ہوجا زری تو چھوٹے سائیں کی ہونے جارہی ہے !”

” میں یہ نکاح نہیں کروں گی ابا !” اسنے گھونگھٹ کے پیچھے سے کہا ” کیوں زری ؟ بختو نے چیخ کر پوچھا تھا ۔” کیونکہ بختو وہ مجھ پر رحم کھا رہے ہیں ترس کھا رہے ہیں انکے دل میں میرے لیے کچھ نہیں ہے !” وہ اٹھ کھڑی تھی جب عرفو نے اپنا صافا اسکے پیروں میں رکھ دیا ” روند دے میرا صافا اور کردے انکار تیری عزت میرے ہاتھ میں ہے !” وہ حیرت سے منہ کھولے اپنے مجبور باپ کو دیکھ رہی تھی تڑپ کر صافا ہاتھوں سے اٹھایا “لے ابا تیری گائے ہوں ایک کھونٹھے سے کھول کر دوسرے سے باندھ دے !” خاموشی بیٹھ گئی ” زری عارف ولد عارف آپ کو یہ نکاح دلبند رضا ولد رضا شاہ سے بعوض حق مہر دلبند رضا کی جان قبول ہے۔

اسنے لہنگے کو مضبوطی سے پکڑ لیا تھا ” بول زری!” زیبو نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا ۔

قبول ہے

قبول ہے

قبول۔ہے ۔۔

دستخط کے بعد نکاح خواہ باہر آیا ” نکاح مبارک ہو !”

علی مولا علی مولا علی دم دم۔۔

علی مولا علی مولا علی دم دم۔۔۔۔

برادری کا منہ بند ہو چکا تھا زری کی شادی گاوں کے مالک کے ساتھ ہوگئی تھی زری حویلی والی بن گئی تھی عرفو نے نیچے بیٹھ کر دلبند کے پیروں پر ہاتھ رکھ کر رو رہا تھا ” چھوٹے سائیں آج آپ نے عزت رکھ لی ورنہ میری زری تباہ ہوجاتی !” اسنے کندھوں سے پکڑ کر اسے اٹھایا ” وہ اب میری عزت ہے رخصتی کی تیاری کریں ۔” زیبو نے وہی گاڑی کی چابی جو اسنے کل انھیں دی تھی واپس کردی تھی ” آپکی کی امانت آپ ہی کے پاس واپس آگئی چھوٹے سائیں !” سچ ہی تو تھا کہ وہ اسی کی امانت تھی زیبو عرفو کے پاس اور جب خدا نے اس سے کہہ دیا تھا مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کرتا ہوں تو زمین آسمان ٹل سکتا ہے اسکی کہی بات نہیں کرلی تھی قبول دعا مگر ابھی اسے کتنا اور تڑپنا تھا یہ وہ دونوں ہی نہیں جانتے تھے ۔کھانے کے بعد بیس منٹ سے زری اپنے باپ کے گلے لگی تو رہی تھی ” ابا ۔۔۔۔میں اتنا بوجھ ۔۔۔۔بن گئی تھی ۔۔۔۔کہ ۔۔۔۔برداشت نہیں ۔۔۔۔ہوئی اور ایک کو چھوڑ ۔۔۔۔۔دوسرے کے حوالے کردیا ۔۔۔۔کیا میں تنگ کرتی تھی خواہشیں کرتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔روٹی زیادہ کھاتی تھی جو پوری نہیں ہوتی تھی ۔۔۔۔۔۔کیوں کیا ابا ایسا ۔۔۔” ہچکیوں سے روتی وہ گلے کر رہی تھی ۔

” پتر میرے سامنے سارے تجھ میں نقص نکال رہے تھے تو نہیں جانتی بیٹیاں بیاہنا کتنی بڑی زمہ داری ہے میں مجبور تھا اور چھوٹے سائیں تو قسمت والوں کو ملتے ہیں تو قسمت والی ہے ۔” اسنے ایک نظر دروازے کے باہر کھڑے دلبند کو دیکھا سفید شلوار قمیض پر بلیک کوٹ پہنے بھاری داڑھی اور لمبا قد وہ حیسن تھا تو کہساروں پر چڑھی برف جیسا اور فورا گھونگھٹ نیچے کرلیا ۔

رخصتی ہوچکی تھی دلبند اپنی روزینہ کو زری میں روپ میں لے جارہا تھا پورے گاوں میں آگ کی طرح خبر پھیل گئی تھی اماں سائیں اور وڈے سائیں کو اسنے سب بتا دیا ” شاباش دلبند بہت اچھا کیا ہے یہی کرنا چاہیے !”اماں سائیں اداس تھیں کی ایک ہی بیٹا تھا کتنے چاہ تھے شادی کے ” او کر لیں سب پوری کرلیں بچی عزت کا سوال تھا اسلیے کیا تو اپنی مرضی سے دوسری کراں دی ۔”صرف عزت ہی بچائی تھی اسکی محبت تو کرنا چھوڑ گیا تھا ایک سے کرکے ختم کردی تھی لال سرخ جوڑے پر شال اور گھونگھٹ کے پیچھے چھپا چہرا آج بھی دلبند نے نہیں دیکھا تھا وہ فرنٹ سیٹ پر اسکے ساتھ بیٹھی تھی سٹیرنگ پر ہاتھ رکھے وہ اسے دیکھ بھی نہیں رہا تھا ” زری جو کچھ ہوا تو بھی جانتی ہے مجبور تھے تو اب میری محرم ہے چاہے تو یہ گھونگھٹ ۔۔۔۔”

” نہیں چھوٹے سائیں میں یہ گھونگھٹ نہیں اتارو گی آپ نے صرف میری عزت بچانے کے لیے مجھ سے نکاح کیا ہے میں نے بھی قسم کھائی تھی جو محبت کرے گا اسے ہی دکھاوں گی آپ ہی زندگی میں میرا کیا مقام ہے مجھے پتا ہے اسلیے مہربانی ہوگی مجھے گھونگھٹ اٹھانے کا نہ کہیے گا ۔” ہاتھ جوڑے اس سے بات کررہی تھی اور وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا ” ٹھیک ہے مجھے بھی کوئی غرض نہیں تمہیں دیکھنے کی حویلی میں تمہارا مقام ۔۔”

” آپکی کنیز ہی رہوں گی !” اسکے بولنے سے پہلے ہی وہ بول پڑی اسے بھی اسکی اکڑ پر غصہ آگیا تھا میں اسکی عزت بچا کر لایا ہوں اور یہ مجھے اکڑ دکھا رہی ہے غصہ غالب آگیا ” ہاں کنیز یہی مقام ہے تمہارا دلبند کی باندی !!” کہتا گاڑی چلا گیا