Mukhra by Bint-e-Aslam NovelR50490 Mukhra Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Mukhra Episode 14
Mukhra by Bint-e-Aslam
پھوپھا کی طبعیت کچھ خراب تھی آفس کے تمام معملات وہی سنبھال رہا تھا ابھی بھی انکے بزنس پارٹنر کی سیکڑی اسے کوئی فائل دینے آئی تھی وہ اسے کچھ بتا رہا تھا کہ اچانک اس انگلیش لڑکی نے اپنا خوبصورت ہاتھ اسکے نچلے ہونٹ سے شروع کرکے گلے تک لیجا کر اسکی شرٹ کا بٹن کھول دیا ۔” یہ بھی کوئی خاص بات نہیں تھی ہینڈ سم تو وہ پہلے ہی بہت تھا اوپر سے بلیک ڈنر سوٹ بلیک کنگ ہی تھا اسنے کھینچ کر ہاتھ پیچھے کیا “
کین وی پلیز فوکس ان ورک ! اسے تاکید کرتا کام پر لگ گیا جب وہ اٹھی پیچھے سے آکر اسکے کوٹ پر ہاتھ ڈال دیا اسے اتارنے لگی جسکی کوشش بھی اسنے ناکام بنا دی فائل بند کی اسکے ہاتھوں میں تھما دی
I think it’s too late I should be leave !”
وہ جانے لگا تھا جب وہ پھر اسکے پیچھے پڑ گئی پیچھے سے اسکے ساتھ چپک گئی
” You are so hot let’s spend this night together !”
کہتا بھی کیا اپنا کوٹ اتارتا اسے کے ہاتھوں میں چھوڑتا باہر نکل گیا وہ پیچھے منہ بسورتی رہ گئی باہر آیا تو تین مکلے ایک ساتھ گاڑی کے بونٹ پر مارے تھے ” روزینہ آئی لو یو ڈیم مرد ہوتے ہوئے ہر رنگ ہر محبت ہر نظر تمہارے لیے بچا رکھی ہے میں نے ۔۔۔۔”
اچانک اسکا فون بجا اماں سائیں کا تھا ” سلام اماں سائیں !
” دل۔۔۔دلبند تیرے ابا سائیں !” اماں سائیں رو رہی تھیں
” کیا ہوا ابا سائیں کو اماں سائیں ۔۔۔”
” تیرے چچا انسے جھگڑا کرکے بچوں کو لیکر حویلی چھوڑ گئے ہیں تیرے ابا کو دل کا دورہ پڑا ہے تو آجا آجا وہ ٹھیک نہیں ہے ڈاکٹر نے کہا انھیں پریشانی نہیں دینی ورنہ جان چلی جائے گی ۔۔” اماں سائیں ٹوٹتی جارہی تھیں ۔
” میں آرہا ہوں اماں سائیں میں آرہا ہوں !” ایک سال بعد وطن نے آواز دی تھی ٹکٹ کر آئی اور پہلی فلائٹ سے پاکستان آگیا کراچی آئیرپورٹ پر سب سے پہلے اسنے وطن کی مٹی کو چھو کر دل اور ماتھے پر لگایا تھا سلام !
ائیر پورٹ سے باہر آیا تو ایک جلوس نے گھیر لیا ۔
علی مولا علی مولا علی دم دم۔۔۔
علی مولا علی مولا علی دم دم ۔۔۔
زری چاٹی میں لسی بنا رہی تھی کہ اچانک تیز ہوا چلنے لگی ایسے جیسے کوئی پیغام لائی ہو کسی کی خوشبو چرا کر لائی ہو ڈھنڈ تھی تو خنک ہڈیوں میں گھسنے لگی اسکا پورا جسم کانپنے لگا تھا دھوپ نکلی تھی پھر یہ ہوا ۔۔۔
علی مولا علی مولا علی دم دم۔۔۔
علی مولا علی مولا علی دم دم ۔۔۔
لکھ تے کروڑ وری آکھوں دم دم ۔۔۔۔
کراچی سے سکھر تک آیا اپنے گاوں کی خوشبو اپنے اندر اتار رہا تھا ۔فصلیں سب ویسے کا ویسا ہی تھا وہی لہلہاتے کھیت ٹیوب ویل ٹھنڈا پانی دھنک کے رنگ سنہری گندم گاڑی کا شیشہ کھولے وہ ہر منظر دل میں اتار رہا تھا
با غوں میں پھر جھولے لگ گئے۔۔۔
پک گیا مٹھیاں ابیاں۔۔۔۔۔
یہ چھوٹی سی زندگی تے ۔۔۔
راتاں لمبیا لمبیا۔۔۔۔
گھر آجا پردیسی ۔۔۔
کہ تیری میری ایک جندڑی
۔۔۔۔۔۔وہ اپنی زمینوں کو دیکھ رہا تھا کہ اچانک گھونگھٹ نکالے دو لڑکیاں آگے پیچھے بھاگ رہی تھیں ” بختو تو ٹھہر تیری خیر نہیں ! زری پیچھے چلا رہی تھی دلبند نے بھی بڑی غور سے ان دونوں کو دیکھا
علی مولا علی مولا علی دم دم۔۔
علی مولا علی مولا علی دم دم۔۔۔
” زری اور بختو ہیں زری بھی گاوں واپس آگئی ہے ہمیشہ کے لیے !” شناور نے گاڑی چلاتے ہوئے بتا رہا تھا اسنے ڈاڑھی پہلے سے زیادہ بڑھا لی تھی جسم بھی پہلے سے بھر گیا تھا پہلے تو تھی ہی مگر اب لڑکیوں کی جان واقع ہی اسے دیکھ کر نکل جاتی تھی اسنے سب سے پہلے اپنا لباس شلوار قمیض ہی پہنا تھا اپنے وجود جیسا سیاہ !”
اماں سائیں! دروازے میں دل پر ہاتھ رکھے کھڑی اماں سائیں گرنے والی تھیں جب اسنے انھیں پکڑ کر سینے سے لگا لیا ہوش میں آتے ہی منہ سے لیکر سینے تک چوم ہٹی تھیں اسے اور وہ محبتیں محسوس کرتا اندر آیا وہ ابھی بھی اسکے ساتھ لگی تھیں انھیں سنبھالتا وڈے سائیں کے کمرے میں آیا اور پیر پکڑ کر بیٹھ گیا وہ جو چہرے سے کافی کمزور لگ رہے تھے ” ہمیں معاف کردیں ابا سائیں ہمیں آپ کو چھوڑ نہیں جانا چاہیے تھے ہمیں کیا پتہ تھا پیچھے سے یہ سب ہوجائے گا ۔” وہ نکاہت سے اٹھے اسکے سر پر ہاتھ رکھا اسے گلے لگایا ” پتر تیرے چچا سائیں عرفان تو چلا گیا تو وہ بھی چلا گیا میں اکیلا رہ گیا !”
” آپ فکر نہ کریں ابا سائیں میں آگیا ہوں نہ ہمیشہ کے لیے اب سب ٹھیک کردوں گا چچا سائیں کو بھی منا لوں گا جو کہیں گے سب کروں گا بس آپ فکر نہ کرنا اپنے دلبند پر تو یقین ہے نہ !” انھیں سینے سے لگائے حوصلہ دے رہا تھا ان دنوں کو سنبھال کر وہ سیدھا دوسری حویلی چچا سائیں سے ملنا چلا گیا ۔
” گوٹا کناری والی زری ۔۔۔
چڑھی درائے راوی زری ۔۔۔
میری پہچان زری۔۔۔
ہائے بختو دی جان زری ۔۔۔۔
وہ جو ہانڈی بنا رہی تھی بختو پیچھے سے اس سے لپٹنے لگی بہنوں جیسا پیار تھا انکا اسکے گال کے ساتھ گال جوڑے پیچھے چپکی تھی جب اسنے گال پر ہاتھ رکھ دیا ” میری بھی جان بختو خیر تو ہے تو اتنی خوش کیوں ہے ؟”
” خوش کیوں نہ ہوں خبر ہی اتنی بڑی ہے !” اسنے چہک کر کہا ۔اسنے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا ” چھووووٹےےےےے سائیں واپس آگئے ہیں ہمیشہ کے لیے گاوں !” زری کا منہ کھلا رہ گیا تھا دل کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی ” چھوٹے سائیں واپس آگئے ہیں ایک بار پھر انکا سامنا کرنا ہوگا نہیں میں نہیں جاوں گی ۔”
” ارے زری کے ابا ! اتنے میں زیبو بھاگتی باہر آئی ” خوشی منا ہماری زری کے لیے بلاول نے ہاں کردی شادی کی تیاریاں کرو !” یہ خبر زری پر بجلی بن کر گری تھی بختو کا بھی منہ اتر گیا تھا وہ بے بسی سے مسکرائی ” لے یہاں چھوٹے سائیں واپس آئے اور وہاں میرے جانے کے فرمان جاری ہوگئے ۔” لہنگا سنبھالتی برتن اٹھاتی چولہے کے پاس سے اٹھ گئی اور بختو افسوس سے دل لیکر بیٹھ گئی ۔
وہ چھوٹے سے بچے کو گود میں لیے بیٹھا تھا عرفان اور چچا سائیں بھی پاس ہی مسکرا کر اسے دیکھ رہے تھے چچی سائیں اور بھابھی سائیں کھانا بنوا رہی تھیں ارتشا بس چوری چوری تک رہی تھی وہ پہلے سے کتنا حسین ہوگیا تھا ۔سب کچھ تو ٹھیک تھا پھر چچا سائیں نے کیوں حویلی چھوڑی ۔” چچا سائیں آپ ہمیں چھوڑ کیوں آئے ہیں ؟”
” دیکھ دلبند تو میرا پتر ہے جیسے عرفان ارتشا ہیں مجھے اتنا ہی پیارا ہے مگر وڈے بھائی کے ساتھ میرا گلہ ہے !”
” کیسا گلہ ؟” اسنے بچے کو نیچے اتارتے ہوئے پوچھا
” میرے سے چھوٹی سے غلطی ہوگئی پورے گاوں کے سامنے اس انسان سے معافی منگوا دی !”
” تو غلطی بھی تو انکی تھی رات کو پی کر اس کسان کی کھڑی فصل پر ٹریکڑ چڑا دیا تباہ ہوگئی بھائی سائیں نے کچھ غلط نہیں کیا !” چچی سائیں منہ بناتی پیچھے سے آئیں اسکے سامنے ہاتھ میں پکڑے کر سموسہ کردیا جو اسنے ماں کے ہاتھ کیطرح کھا لیا ” بہت کمزور ہوگیا ہے !” انھوں نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا جس پر عرفان نے اسکی پیٹھ پر زور سے چپت لگائی جس سے اسے اچھا بھلا درد ہوا تھا ” کمزور ہٹا کٹا ہے لگتا گوریوں نے بہت دھیان رکھا ہوگا !” گوریوں کے نام پر ارتشا کا دل دھڑک اٹھا تھا مگر وہ ہنس دیا تھا ” اتنا بھی ہٹا کٹا نہیں کے بڑے بھائی کا ہتھوڑے جتنا ہاتھ برداشت کرلوں۔” اس پر سب ہنس دیے تھے ” تاتو مدھے بھی دوووری چاہیے !” ( چاچو مجھے بھی گوری چاہیے !”) یہ الفاظ اسکے بھتجے کے تھے جو دو سال کا تھا اور بولنا بہت جلد سیکھ گیا تھا ۔” پہلے بلے تو ہوجاو!( پہلے بڑے تو ہوجاو!” ) دلبند نے اسکا منہ چومتے ہوئے کہا
” ارتشا کہاں ہے ؟” آخر اسنے اسکا پوچھ ہی لیا تھا وہ دھڑکتے دل کے ساتھ سامنے آئی ” ارتشا کیسی ہے تو ؟”
شرماتی سر جھکا کر اثبات میں سر ہلا گئی ۔
“چچا ابا سائیں کی طرف سے میں معافی مانگتا ہوں پلیز گھر آجائیں مالک ہونے کے ناطے کسانوں کی لوگوں کی مدد انکا کام ہے اس میں کئی بار اپنوں کے ساتھ بھی باقیوں جیسا سلوک کرنا پڑتا ہے وہ بہت اکیلے رہ گئے ہیں بھائی بازو ہوتے ہیں وہ آپکے بڑے بھائی ہیں اور عرفان میرا ہمیں آپکی ضرورت ہے مہربانی کرکے سب واپس آجائیں حویلی کاٹنے کو دوڑتی ہے ابا سائیں بہت بیمار ہیں !” وہ ہاتھ جوڑے انکے سامنے بیٹھا تو عرفان نے پکڑ کر نیچے کیے اور اسکے سر پر چپت دی ” آیا بڑا ہاتھ جوڑنے والا پاگل ہم آئے گے ہے نہ ابا !” اسنے چچا سائیں کی طرف دیکھا جو رخ پھیر گئے مگر وڈے سائیں کی طبعیت کا سن کر انکا دل پریشان ہوگیا تھا ایسا ہی ہوتا ہے بھائی بہن کا رشتہ ایک پل میں غصہ اور جیسے ہی کوئی کھروچ آجائے تو جان نکل جاتی ہے فکر ہورہی تھی باپ کی طرح پالا تھا انھوں نے آخر دلبند امید چھوڑتا اٹھ کر دروازے تک آگیا جب وہ چیخے ارتشا کی ماں سامان باندھو میں جارہا ہوں عرفان سب کو لیکر حویلی آجانا میرے بھائی کو میری ضرورت ہے !” کپڑے درست کرتے دلبند کے پاس آئے اور اسے زور سے گلے لگایا ” چلو! انھیں لیتا وہ حویلی کے لیے نکل گیا آتے ہی اسنے سب سے بڑی خوشی واپس موڑ لی تھی پتہ تھا اپنوں کو کھونا کیا ہوتا ہے آج تک تڑپتا ہے ۔
