Mukhra by Bint-e-Aslam NovelR50490 Mukhra Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Mukhra Episode 8
Mukhra by Bint-e-Aslam
دلبند نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا اور پھر رخ پھیر گیا ” کھویا سسی نے روزینہ کو کسے کھونے کا ڈر تھا مجھے !” بے ساختہ ایک مسکراہٹ چہرے پر آگئی تھی ۔انکا ڈرامہ پوری یونی میں مشہور ہوگیا تھا حد ڈین نے بھی بے حد تعریف کی تھی ۔سٹوڈنٹس نے انکو دلبند روزینہ نہیں سسی پنوں کہنے لگے تھے شہریار دلبند کچھ اور دوست ایک گروپ بنا کر بیٹھے تھے جب کسی نے پوچھا ” اسفندیار کہاں ہے ؟”
“وہیں جہاں روزینہ ہوگی آجکل اسی کے پیچھے پھرتا ہے وہ !” دلبند نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا مگر شہریار ڈر گیا تھا سب کے جانے کے بعد جب دلبند جانے لگا تو اسنے روک لیا ” بیٹھو دلبند مجھے تم سے بات کرنی ہے !” وہ دوبارہ بیٹھ گیا بلو جینز پر لائٹ کریم کلر کی شرٹ اور جیکٹ میں وہ پینڈو شہری بابو لگ رہا تھا جو کسی لڑکی کو نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا پھر روزینہ کی بات تو کچھ اور تھی نہ ” دیکھ دلبند تو بہت اچھا لڑکا ہے اور روزینہ کے لیے تیری آنکھوں میں کیا ہے میں جانتا ہوں .” اس بات پر وہ ہچکچا سا گیا ” فکر نہ کر روزینہ بہت اچھی لڑکی کے شریف اور سمجھدار اور خوبصورت کتنی ہے وہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں نا ہی اسفندیار سے وہ اچھا نہیں ہے !” دلبند حیرت سے اسے دیکھا سمجھ تو وہ گیا تھا ” میں اسفندیار کو جانتا ہوں وہ اچھا نہیں ہے وہ روزینہ اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا اسے روزینہ سے دور رکھ وہ محفوظ نہیں ہے اسفندیار کے ڈیڈ بہت بڑے بزنس مین ہے عیاشی اسکے خون میں خوبصورت جن ہے وہ جو پریاں نگلتا ہے روزینہ کو بچا !” اسے ہکا بکا چھوڑ کر وہ چلا گیا تھا ” اچھا تو وہ مجھے پہلے دن ہی سے نہیں لگتا تھا یعنی وہ اچھا نہیں مگر اس وقت وہ دونوں کہاں ہے ۔” روزینہ سب سے دور ایک کلاس میں چھپ کر بیٹھی پڑھ رہی تھی پیپرز آنے والے تھے جب اسفند یار اسکے ساتھ بیٹھ گیا جان بوجھ کو اسے گلے لگایا جس پر روزینہ حیران رہ گئی دھکیل دیا وہ اب بھی خباثت بھری ہنسی لیے اسے دیکھ رہا تھا ” یہ کیا بدتمیزی ہے اسفندیار !”
” بدتمیزی کی ہی کہاں ہے ابھی میں نے !” اسکے بازو پر انگلیاں چلا رہا تھا اور وہ ہاتھ دھکیل رہی تھی ” اپنی اوقات میں رہو دور رہو مجھ سے شرط کے مطابق تم اب کسی کو تنگ نہیں. کرو گے ۔”
” وہ تو کسی کو نہیں کروں گا تم تو اپنی ہو کسی تھوڑی ہو !” اسکے قریب ہوتا جارہا تھا وہ کھسکتی جارہی تھی جب ڈیسک کے اینڈ پر پہنچ گئی وہاں ایک کیل تھا جو اسکے کرتے میں پھنس گیا تھا اگر وہ اٹھتی تو اسکی شرٹ پھٹ جاتی مگر وہ اسے دور کر رہی تھی ” بڈھے اسفند یار! وہ روزینہ کے قریب ہوا ہی تھا کہ اسے آواز آگئی دلبند کو دیکھ کر روزینہ کی سانس بحال ہوگئی ۔
” تو یہاں ہے وہاں سر کاشف تجھے ڈھونڈ رہے ہیں ؟” اسے دیکھ کر اسفندیار کے ماتھے پر بل آگئے تھے ” کیوں مجھے کیوں ڈھونڈ رہے ہیں ۔”
” وہ پوچھ رہے تھے وہ ہیرو کون ہے جو سسی کا باپ بنا تھا میں اسے ڈین سے ملانا چاہتا ہوں .” یہ بات اسفندیار کے لیے کوئی عام نہیں تھی اسنے کالر جھاڑا” بس ویلیو ہی اتنی ہے اٹھا اور چلا گیا پیچھے دلبند اسے ہنس کر دیکھ رہا تھا ” پاگل !”
” آپ اکیلی یہاں کیا کر رہی ہیں ؟” ۔۔۔وہ میں پڑھ رہی تھی پیپرز آنے والے ہیں نہ اسلیے “
” گروپس میں بیٹھ کر پڑھا کریں کچھ جگہوں پر تنہائی سہی ہوتی یا کسی کو ساتھ لیکر بیٹھا کریں ۔” وہ آگے بڑھ گیا جب وہ اٹھی کچھ پھٹنے کی آواز آئی ہاتھ بڑھا کر پیچھے چھوا تو کرتہ بلکل پشت سے پھٹ گیا تھا دلبند نے حیرت سے اسے دیکھا جو پشت پر ہاتھ رکھے شرمندہ سر جھکائے کھڑی تھی دلبند نے نظر گھما کر دیکھا نظر کیل پر پڑ گئی سمجھ گیا وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں رہی تھی کچھ سوچا اور اپنی جیکٹ اتار کے دے دی جو اسنے چپ چاپ پکڑ کر پہن لی آندھے کو کیا چاہیے دو آنکھیں لادو ” انھیں حادثات سے بچنے کے لیے تمام مزاہب نے عورت کو پردے کا حکم دیا ہے چھپ کر رہنے کا کہا کچھ لوگوں کی نظریں اچھی نہیں ہوتی ہر کوئی ڈھانپتا نہیں ہے ۔۔۔” اسے اور شرمندہ کر کے وہ چلا گیا ۔
وہ بستر پر چت لیٹی تھی چھت کو گھورتے ہوئے وہ اسے سوچوں میں لیے بیٹھی تھی ڈرامے میں اسکی قربت اسکے لمس کو ایک ایک لمحہ یاد کرتے ہوئے آنکھیں چمک رہی تھی شرم سی آرہی تھی ۔” چھوٹے سائیں آپ کتنے اچھے ہیں اور اسفندیار کتنا برا آپ سب کی عزت کرتے ہیں ۔آپ کبھی اسفندیار جیسے نہیں بن سکتے آپ کبھی کسی کی عزت پر حرف نہیں آنے دیں گے آپ نے مجھے بنا دیکھے محبت کی تھی مجھ سے میری صورت سے آپ کو کوئی غرض نہیں بتا دوں آپ کو کہ زری ہی روزینہ ہے روزینہ ہی زری ہے اگر آپ نے پوچھا کہ جب چھٹیوں میں گاوں ملے تھے تب کیوں نہیں بتایا تو کیا جواب دے گی انھیں جب پتا چلے گا تو انکی مزارے زری ہے تو کیا وہ روزینہ سے بھی بات کرنا چھوڑ دیں گے نہیں رہنے دے زری کورس ختم ہونے کے بعد وہ اپنے راستے اور تو اپنے راستے کونسا وہ تیری قسمت ہونگےجو بعد میں چہرا دیکھانے میں مصیبت ہوگی ۔” منہ تکیے میں دیا اور سو گئی ۔
اگلے دن وہ سب گروپ میں بیٹھے آج کا پیپر ڈسکس کررہے تھے جب روزینہ آئی پورے کالے عبائے میں نقاب کیے اسلام کی شہزادی بنی تھی جسے دیکھ کر دلبند کو اندر تک سکون ملا تھا اور اسفندیار جل گیا تھا ” یہ ماڈل پھر پردہ دار بن گئی اتنی مشکل سے تو احساس کمتری کا شکار کروا کر پردہ چھڑوایا تھا اسکا اسنے نظر گھما کر دلبند کو دیکھا جو مسکرا رہا تھا ” یہ پینڈو رہا وہی دیسی کا دیسی !” پیر پٹک کر چلا گیا ۔اکیلا کلاس میں بیٹھا سگریٹ پھونک رہا تھا جب ایک لڑکا اسکے پاس آیا ” کیا بات ہے اسفندیار تو آجکل بڑا خاموش ہے کسی گرل فرینڈ کو منہ نہیں لگا رہا ۔”
” بس یار اب نہیں رہا جاتا روزینہ کے بغیر مجھے چاہیے وہ مجھے اسکی طلب ہے اور وہ پینڈو بیچ میں ٹانگ اڑاتا جارہا ہے اسکا کچھ تو کرنا پڑے گا ۔”
” کل گاوں جارہا ہے اپنے واپس مروا دے تیرے لیے کونسا نئی بات ہے !” اس لڑکے نے کندھے اچکا کر کہا
اسنے فون نکالا کسی کال ملائی اور سگریٹ پیروں کے نیچے مسل دی ۔
دلبند دو دن کی چھٹی پر گاوں اماں سائیں کی طبعیت دیکھنے جارہا تھا پچھلی بار گاڑی وہ ساتھ لے آیا تھا کالے کارٹن کے شلوار قمیض میں ملبوس وہ گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا کہ اچھا ایک گولی سیدھا گاڑی کے سائیڈ مرر میں لگی مگر وہ ڈرا نہیں اسنے گاڑی کے شیشے بند کیے گاڑی بلٹ پروف تھی ۔فائرنگ ہوئی جسکا اس پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا کہ اچانک اسے شیشے میں کوئی تعاقب کرتا نظر آیا ہونٹوں پر بے ساختہ ایک مسکان آگئی.
Oh! babies want to meet Dilband Raza Shah ok then I will show you what I am !
اسنے فون نکالا شناور کو فون کیا اور گاڑی کا سٹیرنگ گھما دیا وہ گاڑی اسکا پیچھا کرنے لگی جب وہ ایک حویلی کے باہر جاکر رک گیا وہ گاڑی بھی وہیں رک گئی جیسے ہی ان آدمیوں نے قدم باہر رکھے انکے چھتڑے اڑ گئے تھے کس کے کتنی گولیاں لگی تھی کسی کو کس کچھ نہیں معلوم تھا چھے آدمی مر چکے تھے سوائے ایک جو اپنے ساتھیوں کا حشر دیکھ رہا تھا جب ایک گاڑی سے پشاوری چپل پہنے ایک قدم باہر آیا پھر پورا کال مسکراتا ہوا دلبند رضا شاہ اور اسکے پیچھے کالے لباسوں میں چند گاڈز جن کی ہاتھوں میں سںائپرز تھیں اور اسکے ساتھ شناور ان سب کو لیڈ کرتے ہوئے ۔
” تمہیں لگا ایک پینڈو کو مارنے جارہے ہو اتنا آسان ہے ایک وڈیرے کو مارنا اسفندیار سے کہنا پینڈو تو نہیں مرا مگر اپنی جان کی خیر منائے ۔۔۔” یہ کہہ کر اسنے اسے بھاگنے کا اشارہ کیا وہ سر پٹ دوڑنے لگا دلبند نے اپنا دایاں ہاتھ بڑھایا شناور نے اسکے ہاتھ میں گن رکھ دی وہ اس سے بہت دور تھا اسنے گولی چلائی جو اس آدمی کے دماغ سے آرپار ہوگئی ماتھے پر بڑا سا سوراخ کر گئی ۔” میں خودی بتا دوں گا .”
اسنے ایک نظر سب گاڈز کو دیکھا جو حویلی میں گئے اور دھوتی کرتا سروں پر سافے باندھ آئے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہوگئے ” سلام چھوٹے سائیں !
اسنے اثبات میں سر ہلایا اور گدھے کے سر سے سینگ کی طرح بندوقیں غائب ہوگئی اسنے ان آدمیوں میں سے ایک کا فون نکالا ” ہیلو سر !”
” ہاں بولو کردیا کام تمام ؟” اسکے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی ” جی سر سارے مارے گئے مگر دلبند نہیں مر سکا باقی سب مر گئے ۔۔۔” اسنے منہ بنا کر کہا اسفندیار کے ہوش اڑ گئے تھے ” تم کون ہو پھر ؟”
” دلبند رضا شاہ ! کہہ کر فون بند کردیا اور حویلی کےلیے نکل گئے ۔
