Mukhra by Bint-e-Aslam NovelR50490 Mukhra Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
Mukhra Episode 5
Mukhra by Bint-e-Aslam
“وہ صرف حسین نہیں ہے سمجھدار بھی ہے کسی کا بھی نام لیے بغیر تم سب کی انسلٹ کرکے گیا ہے شرم آنی چاہیے تم لوگوں کو ۔”اسفندیار کے ساتھ بیٹھے لڑکے اسے جتایا تھا ” ایک جادو تھا اسکی آواز میں دیکھو اپنے آپ کو پانچ سال پہلے چھوڑ دینے والا موسیقی آلات ڈرم جو کبھی اسفندیار کی پہچان ہوا کرتا تھا آج وہ پھر بجا رہا تھا اپنے اصلی روپ میں۔” اسکی بات پر اسنے اپنے ہاتھوں میں پڑی ڈرم سٹیکس کو دیکھا ” اسنے تو ڈرم بجانا چھوڑ دیا تھا اپنی امی کی موت کے بعد انھوں نے ہی تو بجانے سکھائے تھے اور آج بے ساختہ دلبند کی آواز پر وہ بجا رہا تھا ۔اسنے سٹکس پھینکی ڈرمز کو بھی لات مار دی۔
” مجھے سے معافی نہ مانگے اس سے خدا سے مانگے جس کا گھر آپ نے توڑا تھا میں نے تو آپ کو تبھی معاف کردیا تھا ۔” کہتا مسکراتا چلا گیا ۔
چھٹیاں ہوئیں تو گھر جانے کی نوید بھی آگئی دو مہینے بعد
دلبند گھر آیا تھا اور آتے ہی ہر طرف دلبند دلبند ہوگئی تھی وڈا سائیں وڈی سرکار سبھی دلبند کے آگے پیچھے پھر رہے تھے شناور اسکے کے لیے پورے گاوں کی خبریں لایا تھا ارتشا اسے نا دیدوں کی طرح تک رہی تھی وہ گزر رہا تھا جب اسے کسی نے کھینچ کر دیوار سے لگا لیا ” یہ کیا بدتمیزی ہے ارتشا !” اسکے قریب اسکا گریبان پکڑے زبردستی اسکے گلے لگی اسنے کھینچ کر الگ کی ” گھٹیا حرکتیں بند کردو !”
“؛کیا گھٹیا اپنے بچپن کے منگیتر سے ایسے نہیں ملوں گی تو کیسے ملوں گی ۔” اسنے غصے سے رخ پھیر لیا تھا ” یہ رشتہ مجھے منظور نہیں ہے چچا جان کو میں منع کر چکا ہوں ۔”
” تم نے کیا ہے میں نے تو نہیں کیا نہ شادی تو میں ہی کروں گی تم سے کیا چاہیے جو کہوں گے کرنے کے لیے تیار کیا چاہیے تمہیں سب کچھ تو ہے میرے پاس شکل صورت حسن تمہاری ہر بات بغیر کسی چونچڑا کے مان سکتی ہوں کس چیز کی کمی ہے مجھ میں “اسکی شرٹ کے بٹن سے کھیلتے ہوئے اسکی سانسوں کی تپش دلبند کو گلے پر محسوس ہورہی تھیں غصے سے دور پھینکا ” شرم حیا عزت ادب اور احترام کی ۔” پھنکارتا چلا گیا اور وہ پیچھے منہ بسورتی رہ گئی ابھی ابھی وہ گاوں گھوم کر آیا تھا کہ سامنے وڈی سرکار کے دو عورتیں بیٹھی تھیں آہستہ آہستہ آگے آیا تھوڑی سی گردن جھکا کر چہرا دیکھنا چاہا جو زری نے موڑ لیا ” دلبند ! “
” معذرت اماں سائیں غلطی ہوگئی !” شرمندہ سا ہوکر وہ چلا گیا ” شافی بابا پانی تو لا دو !” تھکا ماندہ سا کرسی پر گر گیا ” جا زری پتر شافی بابا ابھی تک نہیں ائے جا چھوٹے سائیں کو پانی پلا دے اور سن جوتے بھی اتار دیں ! اسنے حیرت زدہ گھونگھٹ سے اپنی ماں کو دیکھا جس پر اسنے پھر اثبات میں سر ہلا دیا ” شافی بابا پانی !” آخر وہ اٹھی کچن میں گئی پانی کا گلاس لیا اور ٹرے میں رکھے چھم چھم کرتی باہر آگئی وہ جو سر جھکائے تسمے کھول رہا تھا کانوں کو چھم چھم کی آواز سرور دے رہی تھی ” چچھ ۔۔۔۔۔چھوٹے ۔۔۔۔سائیں پپ۔۔۔پانی !”اسنے نظر اٹھا کر دیکھا پانی کا گلاس لیا اور چپ کر کے پی لیا جب وہ جھک کر اسکے تسمے کھولنے لگی وہ مسکرا دیا ” زری آج مجھ سے ہاتھ نہیں ملاو گی میں تو تمہارے جتنا ہو نہ میرے پیروں کو ہاتھ کیوں لگا رہی ہو ؟”اسنے تو بچپن کی ایک مسکان لوٹانے کی کوشش کی تھی مگر اسکی آنکھوں میں یونی آڈوٹوریم کا منظر آگیا جو آنکھیں نم کر گیا تھا ” نہیں چھوٹے سائیں میری اوقات تب بھی یہی تھی آج بھی یہیں ہے ۔” مگر وہ اسے کہاں سن رہا تھا وہ تو اسکی ماں کی بات سن رہا تھا “میری زری بھی بہت پڑھی لکھی ہے گاوں میں بچوں کو پڑھاتی ہے جب بھی آتی ہے شہر اپنے ماموں کے پاس رہتی ہے ۔” انکی بات پر اسنے گھونگھٹ میں چھپی زری کو دیکھا ” تم پڑھی لکھی ہو ؟”جس پر شوک پرپل کلر کا گھونگھٹ اثبات میں ہلنے لگا ۔” کتنا پڑھی ہو بارہویں تک ؟”
” گریجویشن !” اسکی بات پر دلبند نے اسکے ہاتھوں سے جوتے اور پیر دونوں کھینچ لیے ” تم اتنی پڑھی لکھی ہو کر یہ ۔۔۔”
” فقیر اگر بادشاہ بھی بن جائے نہ تو اسے اپنی اوقات نہیں بھولنے چاہیے ورنہ یاد دلا نے والے یاد دلا بھی دیتے ہیں ۔”اس کی بات پر دلبند کا دل باغ باغ ہوگیا تھا مگر ایک حجاب سے بے حجاب چہرا سامنے لہرا گیا ” کتنی عجیب بات ہے نہ زری تو بھی پڑھی لکھی ہے مگر میرے پیروں کو ہاتھ لگا رہی ہے اپنا فرض سمجھ کر اور ایک وہ تھی جو محبت کا نام لیکر دل کو ٹھوکر مار گئی ۔” زری کے سامنے روزینہ کو ٹھیس کا کوڑا مارا گیا تھا آنسوں روانی سے بہنے لگے تھے ” ہوسکتا ہے چھوٹا سائیں اسنے آپ کو کچھ اور سمجھا ہو آپکی اصلیت اگر اسے پتا ہوتی تو شاید وہ بھی آپ کے پیر پکڑ لیتی مسئلہ ہی ہوگا کہ آپکا سچ نہیں پتا تھا ۔” اسکی بات سن کر وہ تھوڑا سا آگے ہوا ” مطلب اگر میں اسے یہ بتا دوں کہ جیسا اسنے سوچا تھا ویسا نہیں ہوں تو “وہ تو ناجانے کیا سوچ رہی تھی ” تو ہر رنگ چھوڑ صرف آپکا رنگ پہنے گی اسکی آنکھوں میں جس کا عکس ہوگا وہ آپکا ہوگا اسکی چہرے پر جو مسکان ہوگی آپ کے لیے ہوگی جوبن چھوڑ کر آپکی جوگن بن جائی گی ۔” وہ بھی مسکراتا اسے تصور میں لیے بیٹھا تھا اسکا جو پردہ ہوگا میرے لیے ہوگا اسکے نقشں نقش پر جو لمس ہوگا صرف میرا ہوگا ہری آنکھوں میں جس کی تڑپ ہوگی میری لیے ہوگی وہ رنگ میرے عشق کا رنگ ہوگا زری واہ زری میری ہر مشکل کا حل دے دیا تو نے مجھے اسے یہ بتانا ہے کہ میں کوئی بھنورا نہیں جو ہر پھول پر گھومتا ہے پر وانہ ہوں جو شمع کے گرد گھومتا ہے اور وہیں مر جاتا ۔” خوش ہوتا وہ اوپر چلا گیا اور زری کو ہکا بکا چھوڑ گیا تھا ” یہ کیا کیا تو نے زری اب وہ کیا کریں گے !”
وہ ماں بیٹی حویلی سے باہر آگئی تھیں جہاں کچھ دور شناور بخت کے ساتھ جھولے پر چڑھا تھا اسے وہیں چھوڑ کر وہ چلی گئی ۔
” شناور چھوٹے سائیں جتنے حسین ہیں تجھے کیا لگتا ہے انکی برابر کی لڑکی ملے گی انکو ۔.”
“شہر یونی ورسٹی میں پڑھتے ہیں اتنی سندر اور وہ کیا کہتے ماڈرن لڑکیاں ہونگی وہاں کوئی مل ہی جائے گی انھیں بھی ۔”
” شناور میں ایک گل کہو اگر تو غصہ نہ کرے اپنی زری بھی بڑی سندر ہے اگر چھوٹے سائیں کی شادی ۔۔۔۔”
” خبردار جو یہ سوچا بھی زری میری بہن جیسی ہے اور ہمیں پتا ہے ہم کمی کمین لوگ اتنے بڑے سپنے نہیں دیکھ سکتے یہاں لوگ سیرت یا صورت نہیں یہ لوگ اوقات دیکھتے ہیں ہماری اوقات پتا ہے کیا ہے۔” وہ اٹھا پھاوڑا پکڑا اور بھینسوں کا گوبر صاف کرنے لگا ” یہ اوقات ہماری زری کو کوئی اپنی اوقات کے مطابق ہی ملے تاکہ اسے طعنے نہ سنے پڑیں ۔” شناور کی بات سن کر وہ خاموش ہوگئی تھی ۔
رات کا اندھیرا ہر طرف سیاہ تھا حویلی کے علاوہ ہر جگہ بجلی گئی ہوئی تھی مگر ٹھنڈا ہوا ہڈیوں میں رچ بس رہی تھی اپنے کمرے کی کھڑکی میں دیا جلا کر رکھے وہ چاند کو گھور رہی تھی دیے کی لو سے اسکا چہرا سنہرا لگ رہا تھا کوکا بھی چمک رہا تھا وہ اداس تھی چھوٹے سائیں سے ملنے کی کتنی آس تھی زری کو اور مل کون گئی روزینہ اصلی نام تو اسکا زری ہی تھا تو شہر میں یونی ورسٹی میں اسنے روزینہ لکھوا دیا تھا اسکے ماں باپ تک کو پتا نہیں تھا کہ انکی بیٹی پڑھائی میں پورے سندھ میں دوم آئے ہے غرور تکبر نام کی چیز ہی نہیں تھی اس میں اب بھی اداس چاند کی طرف منہ اٹھا رکھا تھا کہ ایک چکور اسے اڑتا ہوا دکھائی دیا ایک خیال سا کوند پڑا زہن میں ” تیری کہانی بھی میری طرح ہے چاند تیری بھی اوقات سے باہر اور میری بھی حویلی روشنیوں میں ڈوبی اور یہاں ایک مٹی کا دیا جس میں سے بھی تیل ختم ہونے والا ہے ۔سامنے چولہے کی آگ جلائے اسکی ماں کھانا بنا رہی تھی ڈبا باندھے وہ کہیں جارہی تھی کہ اچانک اسکا پیر مڑ گیا بھاگ کر انکے پاس گئی ” کی ہویا اماں ؟”
“پتر تیرا ابا وڈے سائیں کی زمینوں پر پانی لگانے گیا ہے روٹی دینے جارہی تھی کہ یہ پیر مڑ گیا چلا بھی نہیں جارہا ۔” اسنے ایک نظر اپنی ماں کو دیکھا بیٹھ کر انکے پیر سے موچ نکالی درد مٹانے والے تیل کی مالش کی اور گرم پٹی باندھ دی ۔” خبردار اماں جو دو دن پیر نیچے بھی رکھا تو کام میں کر لوں گی سارا تو آرام کر اور یہ روٹی مجھے دے میں ابا کو دے آتی ہوں ۔”اسنے اسکے ہاتھ سے پوٹلی لے لی ” مگر پتر اتنی رات کو ۔۔”
“اماں ہمارے گاوں میں دن رات وڈے سائیں کے آدمی پیرا دیتے ہیں مجھ کچھ نہیں ہوگا وڈے سائیں آنکھیں نکال دیں گے اسکی جو کسی نے دیکھا بھی ۔۔۔۔۔” گھونگھٹ نکالا لالٹین لی اور چل دی ۔
” چھوٹے سائیں آپ سارا دن اپنے کمرے میں پڑے رہتے ہیں کبھی باہر نکلیں اپنی زمینوں کو دیکھیں چلیں میرے ساتھ زمین پر چلتے ہیں عرفو چاچا بھی ادھر ہی ہیں اپنی جوانی کی کہانیاں سنائے گے بڑا مزا آتا ہے ۔” شناور بیڈ پر چت لیٹے دلبند کو کھینچ رہا تھا آخر وہ اٹھ ہی گیا فون اٹھایا اور حویلی سے نکل گیا
