Mukhra by Bint-e-Aslam NovelR50490 Mukhra Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Mukhra Episode 4
Mukhra by Bint-e-Aslam
اسفندیار ہنستا تالیاں بناتا اسکے پاس آیا جو مسکرا کر سامنے دلبند کا چہرا دیکھ رہی تھی جو کنفیوز تھا روزینہ کے دیکھ کر بنا نقاب اور حجاب کے ۔
” اب تو مانتے ہو اسفندیار ایسی کوئی شرط نہیں ہے جو روزینہ نہ پوری کرسکے شرط لگائی تھی نہ اس سال ٹاپر کو الو بنانا ہے بنا دیا اب دے میری پارٹی !” کھلے بال ہوا سے اڑ رہے تھے ۔
” ہاں بھئی پارٹی تو بنتی ہے آخر اتنے دن اس مکھڑے کو دیکھے بغیر رہا ہوں جسے اپنے ہونٹوں سےخراج تحسین دینا چاہتا تھا اور تم دلبند معاف کرنا یہ سارا کچھ ایک مزاق تھا روزینہ پردے میں رہنا تمہارا اٹریکٹ ہونا وہ لڑکیاں اور وہ لڑکا سب گیم کھیل رہے تھے بس اس سال کے ٹاپر کو بدھو بنانا تھا سوری برو !” دلبند کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی ” میرا روزینہ کو تنگ کرنا اسکا تمہاری طرف اٹریکٹ ہونا یہ سب گیم تھا لائک پرینک جوک ! وہ حیرت زدہ نظروں سے روزینہ کو دیکھ رہا تھا جو اسے دیکھ بھی نہیں رہی تھی بس اور بے عزتی نہیں پوری یونی ہنس رہی تھی وہ چلا گیا تھا ۔” روزینہ کیا بات ہے تمہاری سائنس ٹاپر دلبند رضا شاہ سسکھر کے وڈیرے رضا شاہ کے بیٹے کو الو بنا دیا ” اس بات پر روزینہ کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی اسنے ہری آنکھوں میں حیرت بھر کر اسفندیار کو دیکھا ” کیا کہا تم نے یہ سکھر کے وڈیرے رضا شاہ کا بیٹا دلبند رضا شاہ تھا ۔”
” ہاں وہی تھی !” ہری آنکھیں آنسوں سے بھر گئی تھیں بے ساختہ منہ سے نکل آیا ” چھوٹا سائیں میرے چھوٹے سائیں ! وہ اسکی طرف بھاگی ” چھوٹے سائیں ! چھوٹے سائیں ! میں روزینہ زری آپکی دوست زری ! پھر اچانک رک گئی ” کیا کر رہی ہے زری کتنی بڑی غلطی کر دی تو اسفندیار کے غرور کو توڑنے کے لیے اسکا منہ بند کرنے کے لیے تو نے اپنے چھوٹے سائیں کو دھوکا دے دیا اور تو مل کر کہے گی بھی کیا کہ تو زری ہے انکی کامی کمین نوکر ملازم مزارے! تیرا عشق روٹھ گیا روزینہ روٹھ گیا تیری ضد کی وجہ سے بختو سے تو نے چھوٹے سائیں کا نام کیوں نہیں سنا اور تو نے اتنی دفعہ انکا نام بھی لیا شرم نہیں آئی تجھے ! وہ اپنے بال نوچ رہی تھی نفرت ہورہی تھی اپنے آپ سے ” اب اگر میں نے انھیں سب بتایا تو وہ مار دیں گے تجھے اللہ کیا کرو کیا کھیل کھیلا ہے تیری عافیت اسی میں ہے کہ اب تو چھوٹے سائیں کے سامنے زری نہیں روزینہ بن کر رہ دور رہ ان سے ۔۔۔” وہ رو رہی تھی اور اسکے اس سراپے کو کوئی حوس کی نظروں سے کوئی اور دیکھ رہا تھا ” ہائے زری تیرے جیسا حسن نہیں دیکھا میں نے کبھی مگر کوئی نہیں جال میں تو تو میرے پھنس چکی ہے اب بس چند دن اور پھر تو میری نکاح تو نہیں کر پاوں گا تجھ سے مگر تو رہے گی میرے پاس دلبند تو بچانے آنے سے رہا ۔” اسفندیار خباثت بھرا چہرا لیے چل دیا ۔
وہ چھت پر دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا آنسوں آنکھوں سے خوبخود بہے جارہے تھے جب فون بجنے لگا اماں سائیں کا فون تھا ہاتھوں سے چہرا رگڑا کال کنیکٹ کی ” سلام اماں سائیں! چہرے پر جھوٹی مسکان لیکر وہ بات کر رہا تھا ” دلبند تو رویا کیوں ہے تو ٹھیک تو ہے ؟”اماں سائیں نے اسے دیکھتے ہی پہچان لیا تھا ” نن۔۔۔نہیں اماں میں کیوں روں گا پتہ اماں سائیں زکام ہوگیا تھا آپ فکر نہ کیا کرو میری بس جلدی آجاوں گا میں اپنا خیال رکھنا بعد میں بات کرتا ہوں ۔” ۔۔۔۔دلبند پتر ..مگر وہ فون بند کر گیا ” کیا بتاو اماں سائیں یہاں کے لوگ کتنے بے درد ہیں کتنا فائدہ اٹھاتے ہیں دوسروں کی معصومیت کا اور روزینہ سے تو سچ میں عشق ہوگیا ہے اماں سائیں مگر وہ تو کھیل کھیل رہی تھی مگر میں بھی دلبند ہوں اسے سچ میں خود سے عشق کروا کر پاگل نہ کردیا نہ تو میرا نام بھی دلبند رضا شاہ نہیں ۔” وہ ضد میں آگیا تھا یہ جانے بغیر کہ وہ تو پہلے ہی اسکے عشق میں باندی ہے ۔اٹھا آنسوں پونچے چہرے پر مسکراہٹ اور بیگ اٹکائے نیچے آگیا پوری یونی کا چکر لگایا اور نظر آڈوٹوریم پر جاکر رک گئی آندر آیا خالی تھا پھر کچھ یاد آیا آج تیرا رجب تھا حضرت علی کا یوم پیدائش اندر آیا مائیک سیٹ کیا آنکھیں بند کیں بولو نعرا حیدری یا علی ۔۔۔
ہونٹوں کو مائیک کے قریب کرلیا خدا رسول اور خلیفہ کے بعداسے عشق یاد آیا تھا جو اندر سر جگانے لگا تھا۔
علی مولا علی مولا علی دم دم۔۔
علی مولا علی مولا علی دم دم۔۔۔
لکھ تے کروڑ وری آکھوں دم دم۔۔۔۔
آڈوٹوریم کے اندر سپیکرز پر آتی یہ آواز یونی کے حصوں میں سنائی دے رہی تھی جو زری کے کانوں میں بھی پر گی تھی” چھوٹے سائیں کلام پڑھ رہے ہیں یعنی آج تیرا رجب اپنا فرض آج بھی نہیں بھولے اور زری تو ۔
علی نو یاد کرو ۔۔۔
رل کے فریاد کرو۔۔۔
علی نو یاد کرو ۔۔۔
رل کے فریاد کرو ۔ہاشمایاں دے اہو آسرا ۔۔
علی مولا علی مولا علی دم رم۔۔۔
علی مولا علی مولا علی دم دم۔۔۔
اسفندیار بھی اس خوبصورت آواز کا پیچھا کرتا آڈوٹوریم آگیا تھا جہاں سامنے وہ آنکھیں بند کیے مسکراتا اپنے نشے میں تھا ایسا ہی ہوتا ہے جب کبھی خدا کا زکر کرو انسان سب بھول جاتا ہے یہ بھی کہ کہیں درد بھی ہورہا ہے اور یہی اسفندیار کے ساتھ ہوا بے ساختہ قدم ڈرمز کی جانب بڑھے سٹیکس ہاتھوں میں لے لیں اور بجانے شروع کردیے سٹوڈنٹس جمع ہوتے جارہے تھے ان میں وہ بھی شرمندہ سی موجود تھی جس پر اچانک دلبند کی نظر پڑ گئی تھی ۔
نبی دا پیارا علی نو لاو ۔۔۔
اللہ دا ہے علی اللہ کعبے چ ظہور
علی مولا اودے جدے مولا نے حضور
علی پیر پیراں دا اے دلاں دا سرور ۔۔
ولیاں دے سراں دے تاج علی علی ۔۔۔
مومناں دی بس اے معراج علی علی ۔۔۔
گن گن دساں کی میں علی دے کرم ۔۔۔
علی مولا علی مولا علی دم دم ۔۔
علی مولا علی مولا علی دم دم۔۔۔۔۔
تمام سٹوڈنٹ اسے سن رہے تھے کچھ لڑکے لڑکیاں ڈرم بجاتے اسفندیار کے پاس تھے کافی زیادہ دلبند کے پیچھے جب کسی لڑکی نے روزینہ کو کھینچا اور سٹیج کی جانب چلی وہ تو گزر گئی مگر روزینہ کا پاوں پھنسا اور سٹیج پر گر گئی سامنے دیکھا تو کسی کے پیر تھے نظر اٹھائی تو دلبند خاموش اسے دیکھ رہا تھا وہ اسکے قدموں میں تھی کہیں سے سرگوشی ہوئی ” اوقات !”
علی مولا علی مولا علی دم دم ۔۔۔۔۔
علی مولا علی مولا علی دم دم۔۔۔
لکھ کروڑ وری آکھوں دم دم۔۔۔۔
” اماں وڈے سائیں تو وڈے ہیں لیکن چھوٹے سائیں تو میرے جتنے ہیں انکے پیروں کا ہاتھ کیوں لگاوں !” ناجانے کہاں سے بچپن میں کہے یہ الفاظ یاد آگئی تھے ” تیری تب بھی اوقات انکے پیر تھے اور آج بھی زری ہو یا روزینہ تیری اوقات یہی ہے ۔دل توڑا تونے انکا عاشق خدا و رسول کو صدا لگائی انھوں نے تیری اوقات تو بتانا تھی ۔” مگر اسنے اسکی طرف سے پیر موڑ لیے ” روزینہ تم ٹھیک ہو چوٹ تو نہیں لگی ؟” ایک لڑکی نے اسے کندھوں سے پکڑ کر اٹھایا اسنے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
” ہمارے گاوں میں یہ روایت ہے تمام خلیفہ کا یوم پیدائش منایا جاتا ہے غریبوں کو کھانا کھلایا جاتا ابا سائیں نے آج بھی کیا ہوگا محفل سجتی تھی اور کلام پڑھا جاتا تھا جو بچپن سے میں پڑھتا ہوں خدا کا زکر آتے ہی مجھ سے رہا نہیں جاتا ایک سرور ہے اب دیکھیں ایک بچہ جب تک گانے موسیقی کی آواز سنتا ہے جاگتا رہتا ہے لیکن جیسی ہی ماں گود میں لیکر اللہ ہو کہتی ہے وہ نیند میں چلا جاتا ہے اب اس بچے کو تو نہیں پتا اللہ کون ہے کیا ہے پھر بھی اسے نام اتنا سکون دیتا ہے کہ وہ سو جاتا ہے ہم تو بچے نہیں ہمیں تو پتا ہے وہ کون ہے کیا ہے تو اپنا سکون ہم مشغلوں میں کیوں ڈھونڈ رہیں ہیں خدا کا نام آنکھیں بند کرو دل پر ہاتھ رکھو گہرا سانس لو اور کہوں ” اللہ ہو !”
سکون مل جاتا ایسے جیسے ہر مشکل کا حل مسکرا کر ہمیں دیکھ رہا ہو خوش رہیں مزاق کریں لیکن ایسا نہیں کہ دل ہی توڑ دے کسی کا بلھے شاہ کا شعر ہے ۔
مندر ڈھا دے مسجد ڈھا دے ڈھا دے جو کج ڈھیندا ۔۔۔
اک بندے.دا دل نا ڈھائیں رب دلاں وچ رہندا ۔۔۔۔
دل خدا کا گھر ہوتا ہے اسے توڑ کر آپ اگر سکون میں ہیں نہ تو مسجد توڑ کر بھی گناہ نہیں کیا آپ نے اگر مسجد توڑنا گناہ ہے تو دل توڑنا عام بات کیسے اور محبت کھیل نہیں ہوتی آپ اگر مذاق کر رہے ہو تو دوسرا دل اور جذبات کے ساتھ محبت کررہا ہے ہاکی کرکٹ فٹبال کھیل ہیں وہ کھیلیں دلوں کو دھکے مار کر نہ کھیلیں ۔” بیگ سنبھالتا وہ مائیک چھوڑ کر چلا گیا بھیڑ میں سے گزرتا جارہا تھا جب اسکے کانوں میں کئی آوزیں ایک ہی لفظ بولتی سنائی دیں ” سوری ٹاپر ! ہمیں معاف کردو !”
وہ تمام لڑکیاں وہ لڑکا سب تھے سوائے اسفندیار اور زری کے وہ سر جھکائے کھڑی تھی اسفندیار کو آگ لگ رہی تھی ” یہ پینڈو لڑکا کچھ زیادہ فیمس نہیں ہوتا جارہا ۔”
