Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mukhra Episode 13

Mukhra by Bint-e-Aslam

” نہیں میں نے اسکی دوستوں سے پتہ کیا تھا وہ کہہ رہی تھیں وہ شاید یونی ورسٹی چھوڑ گئی نامکمل !” اس بات پر اسنے اور رونا شروع کردیا تھا ” میری غلطی مجھے اپنے قابو رکھنا چاہیے تھے !”

” اب کیا فائدہ تجھ سے یہ دلبند امید نہیں تھی کہ تو یہ کرے گا ۔”

” محبت کرتا تھا میں اس سے !”….” محبت نچھاور کرنے کے لیے ایک سہی وقت ایک مقدس رشتہ ہوتا ہے تیرا اسکے ساتھ کوئی رشتہ نہیں تھا یہ سچ میں گناہ تھا ایک لڑکی کے دامن پر داغ لگا دیا تو نے !”وہ چہرا ہاتھوں سے چھپائے رو رہا تھا ۔

“پتہ نہیں وہ کس حالت میں ہوگی اسکے گھر پر کیا ہوا ہوگا اٹھ پتہ کریں میں اسکی دوستوں کو کہتا ہوں لڑکیوں کے لیکر اسکے گھر چلتے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو تو روزینہ سے نکاح کرے گا آئی سمجھ اپنی عزت بنائے گا اسے ۔۔” شہریار اسکا ہاتھ پکڑے کھینچ رہا تھا ” میں بھی یہی کہنا چاہتا تھا مگر وہ سن ہی نہیں رہی تھی آج کہے گی ابھی کہے کرلوں گا نکاح کرلوں گا اس سے ۔۔۔”

” چل پھر حالت سدھار اور اٹھ اسے دیکھیں وہ کیسی ہے ؟” وہ فریش ہونے چلا گیا تھا کچھ وقت بعد وہ دونوں اور کچھ لڑکیاں اسکے گھر کے باہر کھڑی تھیں وہ دونوں دور ہی تھے لڑکیاں دروازے پر دستک دے رہی تھیں جب ماموں باہر آئے حیرت سے مسکرا کر انھیں دیکھا ” اسلام علیکم انکل روزینہ !بلاول جو ناشتہ کررہا تھا روزینہ کا سن کر کھڑا ہوگیا صرف وہی جانتا تھا کہ اسنے یونی میں اپنا نام روزینہ لکھاوا یا ہے ماموں کہنے والے تھے کون روزینہ اس سے پہلے ہی بلاول آگیا ” ابا آپ جائیں میں بات کرتا ہوں !” انھیں جانے کا کہہ کر وہ انکی طرف مڑا ” بھائی روزینہ تین دن سے یونی نہیں آئی وہ ٹھیک ہے اسکا فون بھی بند جارہا ہے ۔” باہر دلبند کی سانس بند ہورہی تھی ۔”جی روزینہ اپنے گاوں چلی گئی ہے تین دن پہلے اسنے پڑھائی چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا ۔”اس بات پر انھوں نے حیرت سے اسے دیکھا ” مگر کیوں ؟”

” یہ تو مجھے نہیں پتا مگر وہ جانا چاہتی تھی اسلیے میں اسے چھوڑ آیا ۔”

” اسکے گاوں کا ایڈریس دے دیں ؟” ۔۔۔ ” سوری وہ منع کر کے گئی ہے کہ جو کوئی بھی اسکے بارے میں پوچھنے آئے اسے بتا دیجیے گا اور میرا پتہ مت دیجیے گا ۔” اسکی بات سن کر وہ واپس آگئی تھیں اور ساری روداد انھیں سنا دی تھی دلبند گاڑی کے سٹیرنگ کو زور سے پکڑے ضبط کیے بیٹھا تھا وہ لڑکیاں چلی گئی تھیں شہریار اندر آیا ” وہ یہاں نہیں اپنے گاوں چلی گئی ہے ہمیشہ کے لیے اور پتہ دینے سے بھی انکار کر گئی ہے ۔” شہریار نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بتایا ” وہ چھوڑ نہیں گئی تعلق توڑ کر گئی ہے ہر رشتہ ختم کر گئی ہے دوستی کا بھی !” اسکے گلے لگا وہ پھر رونے لگا ۔

” ڈھونڈیں گے کیسے؟” اسکی پیٹ تھپتھپاتا وہ اسے حوصلہ دے رہا تھا ۔

“وہ چاہتی کے اسے ڈھونڈا جائے تو ہر راستہ بند کرکے نہ جاتی وہ سب سے دور جانا چاہتی ہے میں بھی اسے کبھی اپنی صورت نہیں دکھاوں گا ۔”

” اسکے بغیر رہ لے گا اس بوجھ کے ساتھ کہ تجھے معافی مانگنے کا بھی موقع نہیں دیا ۔۔” بے بسی سے وہ سیٹ سے سر ٹکا گیا ۔” تڑپانے کے لیے چھوڑ کر گئی ہے تڑپتا رہوں گا معافی مانگتارہوں گا روتا رہوں گا کبھی تو بخششی ہوگی ۔میں مسجد جارہا ہوں یونی نہیں آوں گا تو جا۔۔”

اسے گاڑی کی چابی دے کر خود پیدل ہی سفر طے کرنے لگا مسجد کافی دور تھی اور یہ سفر اسنے ایسے طے کرنا تھا جیسے صحرا میں سسی نے کیا تھا آج سہی معنوں میں پنوں سسی بن گیا تھا اس کا عشق سب ختم کرگیا تھا ۔

کیوں جڑتا اس جہاں سے تو ایک دن تو گز ہی جائےگا۔۔۔

جتنا بھی سمیٹ لے یہاں مٹھی سے پھسل ہی جائے گا ۔۔۔

پیدل چلتا وہ اسکی یادوں میں گھوم رہا تھا جب اسنے پہلی بار اسے پردے میں دیکھا تھا پردے کے بغیر اسکی ہری آنکھیں نم میں مسکراہٹ کے ساتھ ایک الگ ہی چمک آجاتی تھی ہاتھوں میں دیا سسی کا ہاتھ ” تیز ہوا چل پڑی تھی گرد مٹی اڑ اڑ کر اسکے وجود سے لپٹ رہی تھی ۔مگر فکر کسے وہ تو خود ریت کی طرح بکھر گیا تھا۔

ہر شخص ہے دھول سے بنا۔۔۔

اور پھر اس میں جا ملا ۔۔۔

یہ حیقیقت ہے تو جان لے ۔۔۔

کیوں سچ سے منہ ہے پھیرتا ۔۔۔

وہ دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے ہنستے کھیلتے پھر اچانک وہ منظر جو سب بدل گیا بے قابو ہوکر اسکے ہونٹوں کو چھو بیٹھا تھا اس میں اپنی سانسیں ڈالتے ہوئے وہ اپنے چہرے کو نوچتے ہوئے ہونٹ رگڑتے ہوئے اپنے آپ سے گھن آرہی تھی آخر اندر کا مرد حاوی ہوہی گیا ۔

چاہے جو بھی حسرت پوری کرلے ۔۔۔

بدلے گی نہ یہ فطرت یہ سمجھ لے۔۔۔

مٹ جائے گی تیری ہستی۔۔۔۔۔

بھر نہ پائے گا یہ دل بندیا۔۔۔۔۔

آخر کہیں سے آذان کی آواز آئی اس جانب چل دیا تھا بہت دنوں بعد وہ مسجد آیا تھا اب بھی ہمت نہیں ہورہی تھی کیسے اندر جائے کیا منہ دکھائےگا۔۔

اے خدا گر گیا مٹ گیا ۔۔۔

میں جو تجھ سے دور ہوا مٹ گیا ۔۔

مٹ گیا۔۔۔۔۔

بوجھل قدموں سے اندر آیا اور آتے ہی سجدے میں گر گیا ایک ایک سانس اسکے بغیر مشکل ہورہی تھی ” اللہ جی پلیزززز معاف کردو واپس دے دو اب بہت خیال رکھوں گا پلیززز دوبارہ اسکی مرضی کے بغیر اسے ہاتھ بھی نہیں لگاوں گا جانتا گناہ کر بیٹھا ہوں ۔”روتا جارہا تھا جب تلاوت کے بعد امام صاحب عورتوں کے حقوق کے بارے میں بتا رہے تھے ۔

” بیٹا عورتوں کی عزت مردوں پر امانت ہوتی ہے خیانت اتنی جلدی بخشی نہیں جاتی ۔۔۔۔” اس بات نے اسے اور توڑ دیا تھا ۔شام تک غم غلط کرنے کے بعد وہ واپس آگیا ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا جب لائٹ آن کی تھی سامنے سفید برقع میں ملبوس ہاتھ بڑھا کر پکار رہی تھی وہ بھاگ کر اسکے پاس آیا چھونے لگا پھر ہاتھ نیچے کرلیا ” روزینہ تم کہاں چلی گئی ہو مجھے معاف کردو پلیزززز ۔” جس پر کھلکھلا کر ہنس دی ” مسٹر ٹاپر میں تو ہوں ہی نہیں کسے ڈھونڈ رہے ہیں میں تو چلی گئی ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔۔” دور جاتی غائب ہوگئی ” روزینہ! روزینہ!..

منہ پھر اتر گیا جب پھر سے آواز آئی ” انکے کی کہانی کو بتانا ہے نہ مسٹر ٹاپر تو پہلے پنوں کو سسی بنا پڑے گا اسکے درد کو محسوس کرنا پڑے گا ۔” دوسری طرف کھڑی پھر اسے سمجھا رہی تھی .

” بن گیا سسی بن گیا پنوں آج احساس ہورہا ہے جیسے وہ گیا تھا تو سسی پر کیا گزری ہوگی پلیزززز واپس آجاو پلیزززز!” ہاتھ جوڑتا روتا جارہا تھا جب وہ پھر غائب ہوگئی آخر اسنے تنگ آکر لائٹ ہی آف کردی مگر وہ پھر آگئی ” کیا لگتا ہے اندھیرے میں میں میری یاد نہیں آئے گی میں تو پھر بھی آوں گی ۔۔” وہ اسکے سیرابوں کو اپناتا خاموش ہوگیا تھا ۔

ایک ہفتہ ہوگیا تھا اسکا دل کہیں بھی نہیں لگ رہا تھا پتہ بھی کچھ نہیں لگ رہا تھا ۔وہ تنگ آگیا تھا ان سیرابوں سے رو رو کر تہجد سے لیکر عشا تک کوئی نماز اسنے نہیں چھوڑی تھی مگر سکون کہیں بھی نہیں تھا پھر آخر ایک فیصلہ کیا اور ابا سائیں کو فون کردیا ” سلام ابا سائیں مجھے آپ کو ایک بات بتانی ہے ۔”

” دلبند میرا شیر کی گل اے ایسے کیوں پریشان ہیں ؟”

” ابا سائیں مجھے امریکہ پھوپھی کے پاس جانا ہے وہ بھی بلا رہی تھیں ۔”

” کیا اتنی دور کیوں کیا ہوا ہے تو حویلی بھی نہیں آیا ؟”

” ابا بس کچھ نہیں بس جانا چاہتا ہو پھوپھی بھی بلا رہی ہیں کل میں گاوں آوں گا اور کراچی کے لیے نکل جاوں گا ۔۔۔”یہ کہہ کر اسنے فون بند کردیا تھا اگلے دن وہ گاوں پہنچ گیا تھا فلائٹ کل کی تھی اماں سائیں روتی رہیں پوچھتی رہیں مگر کوئی جواب دیے بغیر چلا گیا ۔۔

” ہاں اماں سائیں پہنچ گیا ہو اور اماں سائیں بار بار مت پوچھیں گا کہ واپس کب آوں گا مجھے خود نہیں پتہ کب آوں گا ۔” دو ٹوک بات کرکے فون بند کردیا تھا امریکہ میں اسکی پھوپھی اور پھوپھا رہتے تھے انکی اولاد نہیں تھی کوئی وہ تو باغ باغ ہوگئ تھیں عرصے بعد کوئی اپنا انسے ملنے آیا تھا وہ بھی اپنا سگا بھتیجا وہ اسے اپنے بیٹے کی طرح ہی پیار کرتی تھیں ۔

ارتشا ٹوٹی پھوٹی سی بیٹھی تھی وہ اتنا دور چلا گیا تھا بکھرا ہوا لگ رہا تھا خود کو سمیٹنے کا موقع بھی نہیں دیا جب فون بجا شہریار فون آیا ۔

” ہیلو ارتشا !”

“مجھے آپ سے بات نہیں کرنی دلبند چلا گیا اور آپ نے اسے روکا بھی نہیں کیا ہوا ہے اسے مجھے سب بتاو ۔۔۔”

” آخر شہریار نے اسے روزینہ اور دلبند کے بارے میں سب بتا دیا تھا ۔وہ اس لیے پریشان ہے وہ چھوڑ کر چلی گئی ہے ہمیشہ کے لیے تمہیں مجھے بھی کچھ بتا نا ہے کہ میں تم سے ۔۔۔۔” اسکی بات سنے سے پہلے ہی وہ بول پڑی تھی

“یعنی دلبند اور میرے درمیان کا راستہ صاف ہوگیا وہ چلی گئی دلبند میرا تھا اور میرا ہی رہے گا تھینک یو شہریار مجھے بس اسکا انتظار کرنا ہے وہ آکر رہے گا میری محبت اسے واپس لائے گی ۔” خوشی سے نہال اسنے فون بند کردیا تھا اور اسے توڑ دیا ” ارتشا میری بات سن لیتی کہ مجھے تم سے محبت ہے جتنی تمہیں دلبند سے ہے ۔”

وہ کمرے میں آکر لیٹا ہی تھا کہ لائٹ آن کرنے لگا ” پھر نظر آئے پھر تڑپائے گی پھر رونا آئے گا پھر سانس بند ہوجائے گا ۔۔”اندھیرے میں ہی بیٹھ کر وہ جوتے اتار نے لگا جب وہ نیچے بیٹھی کر اسکے جوتے اتار نے لگی ” مسٹر ٹاپر تھک گئے آج میں ہیلپ کردوں ” اسنے گہرا سانس لیکر اسے خوش آمدید کہا اب تو عادت ہوگئی تھی ان سیرابوں کی مسکراتی کھلے بال سفید کپڑے اٹھ کر اسکے ساتھ بیٹھ گئی اسکا کوٹ اتارنے میں مدد کرتی چہرا اسکے قریب کر گئی وہ دم سادھے اسے دیکھ رہا تھا ” کیا دیکھ رہے ہیں مسٹر ٹاپر اتنا پیار آرہا ہے مجھ پر تو کرلیں میں نے روکا ۔”اسنے نفی سر ہلا دیا ” تم سے پیار کرنا گناہ بن گیا میرے لیے تمہیں چھونا سزا بن گیا اب بھی یہی حال ہے چھووں گا تو تم پھر چلی جاوں گی ایسے کم سے کم دکھتی تو ہوں ۔” اور وہ مسکراتی ہوئی اسکی ٹائی نکال رہی تھی ” تم پھر اتنا کیوں تڑپنا بھول جاوں مجھے جانے دو !” اسے ہاتھ لگائے بغیر چہرا اسکے قریب کرلیا ” سانس نکل جانی ہے تمہیں چھوڑ دیا تو جو چند سانسیں تمہاری میرے اندر ہیں میں تو انھیں سانس بند کرکے قید کرنا چاہتا ہوں اور تم کہتی ہو چھوڑ دوں ۔”

” تو کیا فائدہ اتنی محبت کا مجھے تو احساس نہیں دلا پائے ۔۔۔” بالوں میں ہاتھ پھیرتی اسے پیار کررہی تھی ” پہلے چلی گئی موقع ہی نہیں دیا میں تو تمہیں بتانا چاہتا تھا کہ مجھے عشق ہے تم سے پاگلوں والا ۔۔۔” کہتا اس پر جھکتا جارہا تھا اور وہ نیچے بیڈ پر لیٹتی جارہی تھی اسکے گریبان کو زور سے پکڑے کہ اچانک وہ غائب ہوگئی وہ بیڈ پر اکیلا ہی تھا وہ نہیں تھی منہ میٹریس میں گھسا گیا پتہ نہیں کہاں ہوگی کیا کر رہی ہوگی اسے کوئی دلبند یاد بھی ہوگا کہ نہیں ۔۔۔

“بختو اتر نیچے ورنہ گنا پھینک کر ماروں گی !” بختو درخت پر چڑھی وڈیروں کے آم توڑ رہی تھی اور زری ڈرتی اسے نیچے اترنے کے لیے ڈانت رہی تھی ” رک زری اتنے بڑے آم ہیں مجھے کھانے دے ۔”

” وڈے سائیں کا باغ ہے کسی دیکھ لیا تو ۔۔۔”

” تو وڈے سائیں اور وڈی سرکار ہمیں بیٹیاں کہتے ہیں کچھ نہیں کہیں گے ۔” چھلانگ لگا کر نیچے کودی ہاتھ جھاڑنے لگی

” ہاں انکے اتنے اچھے ہونے کا فائدہ اٹھائیں وہ کچھ کہتے نہیں ہے تو ؟”

” ہائے اچھے تو چھوٹے سائیں بھی بہت تھے شناور کہہ رہا تھا ایک سال ہوگیا ہے چھوٹے سائیں کو باہر کے ملک گئے ابھی تک واپس آنے کا نام نہیں لے رہے پتہ نہیں کب ائیں گے ؟”دلبند کے زکر پر ایک سال پہلے ہونے والا ہر منظر زری کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا تھا ہر چیز تباہ کر دی اسنے بھاگ آئی سب چھوڑ کر اپنا خواب بھی آج بھی سانسوں میں اسکی سانسوں کی خوشبو آتی تھی جس سے دم گھٹتا تھا ۔” تجھے بھی یاد آتی ہے نہ چھوٹے سائیں کی ؟” بختو نے کندھا مار کر اسے خیال سے باہر نکالا

” میرے ساتھ چھوٹے سائیں کی بات نہ کیا کر بس جو ہوگیا سو ہوگیا چھوٹے سائیں کا خیال اپنے دل سے نکال چکی ہوں ۔”کہتی پیر پٹخ کر چل دی ۔” اسے کیا ہوگیا ایک سال میں تو یہ بھی بہت بدل گئی ہے پہلے ہر بات اس سے شروع ہوتی تھی اور آج اسکے نام پر بات ہی ختم کر دیتی تھی ۔