Mukhra by Bint-e-Aslam NovelR50490 Mukhra Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
Mukhra Episode 17
Mukhra by Bint-e-Aslam
حویلی اندھیرے میں ڈوبی تھی جب دروازے کھولنے کشمیراں آئی تھی ” چھوٹے سائیں یہ کون ہے ؟” اسنے ایک نظر اسے دیکھا جو گھونگھٹ کا رخ پھیر گئی ” میری کنیز ! اور غصے سے اندر کی جانب بڑھ گیا سیڑھیاں چڑھ رہا تھا جب کشمیراں کی آواز آئی ” ہائی زری تو اپسرا لگ رہی ہے اج تو پر تیری شادی تھی آج ۔۔۔” اسکا کندھا پکڑے وہ مڑ گئی جب اسے جھانکا مگر صرف پشت ہی نظر آئی تھی جو اوجھل ہوگئی ” مجھے کیا اپسرا ہو یا ۔۔۔۔۔” سر جھٹک کر اوپر چلا گیا کشمیراں کو اسنے ساری روداد سنا دی تھی اسے افسوس ہوا تھا عمر رسیدہ تھیں اسکے آنسوں پونچے اور گلے لگا لیا ” قسمت والی ہے جو چھوٹے سائیں جیسے گبرو جوان تیری قسمت میں ہیں ۔”
” کونسی قسمت خالہ اسے قسمت نہیں کھیل کہتے ہیں جس انسان نے صرف میری عزت بچانے کے لیے مجھ سے نکاح کیا اور میرے کنیز کہنے پر ایک بار بھی انکار نہیں کیا تو کیا سمجھو اپنا مقام انکی نوکرانی ہی ہوں یہی اوقات ہے میری ۔۔۔”
” کشمیراں چھوٹے سائیں کہہ رہے ہیں پانی کا جگ دے کر جاو !” وہ فورا اٹھی جگ بھرا اوپر جانے لگی دروازہ کھٹکھٹایا ” آجا کشمیراں !” وہ منہ چھپاتی اندر آگئیں ” کشمیراں وہ زری ہے اسکا خیال تمہاری زمہ داری ہے !” جب وہ تھوڑی سی روشنی میں آئی موم بتیوں کی روشنی میں لال جوڑا اور بھی چمک رہا تھا سفید ہاتھوں میں پکڑا جگ ٹیبل پر رکھنے لگی جب چوڑیوں کی آواز سے نظر گھمائی ” تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟”
” کشمیراں خالہ کے گھٹنوں میں درد ہے سیڑھیاں نہیں چڑھ پارہی تھیں پھر مجھے یاد آیا میں آپکی کنیز ہوں تو میں ہی رکھ آتی ہوں ۔۔۔” رکھ کر مڑنے لگی جب وہ بولا ” زری بات سنو جو کچھ بھی ۔۔۔۔”
” جو بھی ہوا چھوٹے سائیں فکر مت کریے گا آپ کی بیوی ہوں اس بات کا احساس آپکو کبھی نہیں ہوگا مجھے بھی باقیوں کی طرح حویلی کی کنیز ہی سمجھیں!”وہ اسکی پشت کو دیکھ رہا تھا جو گھونگھٹ زدہ چہرا بھی اسکی طرف نہیں کر رہی تھی اتنی اکڑ ہے تو انکار کیوں نہیں کیا ؟”
” اک مرد ہیں نہ فیصلے مرضی سے لے سکتے ہیں عورت نہیں ہے جب آپکا باپ آپ کے پیروں میں اپنی پگڑی رکھے گا نہ تب میں پوچھو گی کہ انکار کیسے نہیں ہوا !” غصے سے بھری نکل گئی تھی ۔اور وہ حیرت سے منہ کھولے اسے دیکھ رہا تھا ساری رات اسکے کانوں میں زری کے کہے الفاظ گونجتے رہے روزینہ کا سیراب بھی نہیں ہوا تھا کیونکہ حیقیقت نے آتے ہی جھوٹا ہر خیال مٹا دیا ۔
” دیکھ دلبند نے تجھ سے نکاح مجبوری میں کیا ہے اس پر کوئی حق نہ سمجھنا ممجھ سے محبت کرتا ہے تو زرا دور ہی رہنا اس سے ۔” ارتشا آتے ہی زری کی کلاس لگائے بیٹھی تھی گھونگھٹ کے پیچھے وہ آنسوں سے تر چہرا لیے بیٹھی تھی کتنا کچھ سنا پڑے گا ” آپ فکر نہ کریں ارتشا جی انھوں نے کل رات ہی مجھے میرا مقام بتا دیا تھا مجھے نوکرانی سمجھے بھول جائیں میرا اور انکا کچھ رشتہ بھی ہے۔”ارتشا خوش ہوگئی تھی ” جاو میرے لیے ایک کپ چائے بناو اور ہاں پہلے میرے یہ جوتے اٹھا کر کمرے میں رکھ آو اور سامان بھی ” اسنے حیرت سے نیچے پڑے جوتوں کو دیکھا سیڑھیوں پر کھڑا دلبند بھی یہ گفتگو سن رہا تھا وہ نیچے جھک کر اسکے جوتے اٹھانے لگی جب وہ چیخا ” زری ! وہ سر سے پیر تک کانپ گئی تھی اپنی چیز پر اور حق جمائے تو آگ لگ جاتی ہے جو بھی تھا مگر اسکو عزت بنا کر لایا تھا کیسے برداشت تھا کوئی اسکی تزلیل کرے اور اگر اسکو یہ پتا ہوتا کہ ارتشا کے جوتوں کو ہاتھ اسکی روزینہ لگا رہی ہے تو ارتشا کی گھورنے والی آنکھیں نکال دیتا نیچے آیا ” تجھے میں لایا ہوں خبرادر جو میرے علاوا کسی کی بات سنی یہاں تو ویسے ہی لوگوں کی کمروں میں سریا ہے جو جھکنا نہیں جانتی جا یہاں سے !”وہ ڈرتی وہاں سے چلی گئی تھی پیچھے ارتشا نے منہ بنا۔لیا تھا ” ہے تو ایک کنیز ہی ہمارے مزارے کی بیٹی ہماری غلام تو ۔۔”
” میری بیوی ! میری بیوی ہے اب وہ اور مجھے برداشت نہیں اس سے کوئی اونچی آواز بات بھی کرے مجبوری میں بیاہی ہے اسکا مطلب یہ نہیں کسی کے کچھ بھی کہنے کے لیے چھوڑ دوں ۔”
وہ باورچی خانے کے پاس کھڑی سب سن رہی تھی وہ اسکا دفاع کر رہا تھامگر جو دل میں اسکے لیے سختی آگئی تھی وہ نرم نہیں پڑنے دے رہی تھی ۔
” چھوٹے سائیں ایک تناظہ آیا ہے !” وہ ڈرائنگ روم میں بیٹھا تھا جب شناور نے اسے آکر بتایا وہ اٹھ کر بیٹھک میں آگیا کشمیراں زری کو حویلی اور اسکے کام سمجھا رہی تھی “چھوٹے سائیں یہ شہزاد ہے اور یہ شہباز شہزاد نے شہباز کی بہن کو پیار میں پھنسایا اور پھر اسے ۔۔۔۔” اس سے آگے شناور نظر جھکا گیا تھا دلبند سمجھ گیا نفرت زدہ نظروں سے اس شخص کو دیکھا شہباز ہاتھ جوڑے بیٹھا تھا شکل سے ہی نشئ لگ رہا تھا اور شہزاد اپنی حالت سے پریشان تھا اور بھی پنچ بیٹھے تھے وہاں جب زری بیٹھک کے سامنے سے گزری اور ایک شخص کی آواز سن کر قدم رک گئے ۔” انصاف تو یہ کہ جو شہزاد نے شہباز کی بہن کے ساتھ کیا شہزاد کی بہن کو شہباز کے ساتھ ونی کردیا جائے ۔” وہ لوگ دلبند کے بڑے تھے ان تناظوں کا فیصلہ وہ پہلی بار کررہا تھا ۔
” نہیں چھوٹے سائیں میری بہن دس سال کی ہے شہباز چالیس کا ہے شرابی ہے مارتا ہے اپنی بیوی کو میری بہن کے ساتھ کیا سلوک کرے گا ۔” اس پر تو خود روزینہ کے پیروں سے زمین نکل گئی تھی ۔
” اپنی بہن پر ائی تو تڑپ اٹھے اسکی بہن کے ساتھ کرتے ہوئے شرم نہیں آئی یہی حل ہے اسکا !” ایک سرپنچ بولا ۔
آخر دلبند کو فیصلہ سنانے کا حکم ہوا ” شہزاد کی بہن کو شہباز کے ساتھ ۔۔۔۔۔”
” رحم چھوٹے سائیں رحم!” دلبند کے بات پوری کرنے سے پہلے زری چیخ پڑی ۔
” معافی چھوٹے سائیں مگر ایک کی زندگی برباد ہوچکی ہے دوسری کی نہیں کتنی لڑکیاں ان اصولوں رواجوں کی بھینٹ چڑھیں گی ایک کی عزت محبت لے گئی دوسری کی زندگی کا فیصلہ تباہی ہے یاد نہیں تو میں یاد دلا دوں نبی پاک نے آخری خطبے میں کیا کہا تھا کہ اپنے جرم کا زمہ دار وہ انسان خود ہے نہ باپ کے جرم کی سزا بیٹے کو نہیں ملے گی اور نہ بیٹے کی سزا باپ کو تو اگر نبی اور خدا جو اتنے بڑے منصف ہیں وہ یہ کہہ گئے ہیں تو آپ کس حق سے ایک لڑکی کی عزت کے بدلے دوسری بے گناہ کو وحشت کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔خدا نے آپکو انصاف دینے والا بنایا ہے منصف بنے ظالم نہیں اس لڑکی کی شادی اس لڑکے سے کرواں دے جس نے اسے پامال کیا اسکے ساتھ بتائیں لمحوں کو حلال کردیں ان پر ۔۔۔”دلبند ایک ٹانگ پر دوسری رکھے بغیر دیکھے اسکی بات سن رہا تھا ” آنکھوں کے سامنے اسکا اور روزینہ کا وہ منظر چل رہا تھا جس نے سب بدل دیا تھا ان لمحوں کو حلال کردیں ۔”
زری جاو یہاں سے ! اسنے تحمل سے کہا جس پر وہ چپ چاپ چلی گئی” شناور شہزاد اور اس لڑکی کا نکاح اپنی نگرانی میں کرواوں گے اور حق مہر وہی لکھنا جو میرا تھا ۔” فیصلہ سنا کر وہ اٹھ گیا تھا جب وہ لڑکا ڈرتا ڈرتا شناور کے پاس آیا ” وہ لڑکی کون تھی ؟”
” شناور نے مسکرا کر کہا ” چھوٹی سرکار چھوٹے سائیں کی بیوی !”
اور انکا حق مہر کیا تھا ؟” وہ یہ سوچ رہا تھا کہ کہیں کوئی بہت بڑی رقم تو نہیں تھی ۔” چھوٹے سائیں کی جان حق مہر ہے اسکا تیرا بھی یہی ہوگا اگر اس لڑکی کو چھوڑا یا تکلیف دی تو تمہیں مار کر مہر لے جائے گی اپنا ۔” شناور کی بات سن کر اسکا منہ کھلا رہ گیا تھا ” جس کا حق مہر اتنا عجیب ہے وہ رشتہ کتنا عجیب ہوگا ۔”
سارا دن اسکا انھیں جھمیلوں سے گزرا تھا مگر ایک سوال تھا کہ ان لمحوں کو حلال کرنے کا موقع ہی نہ دیا گیا ہو تو ۔ رات دیر سے حویلی واپس آیا تھا سب سو گئے تھے مگر کچن سے آواز آرہی تھی وہ آگے گیا تھا وہ برتن سمیٹنے میں مصروف تھی گھونگھٹ اوپر تھا مگر اسکی طرف پشت تھی ” زری! ” اسکے پکارنے پر اسنے فورا گھونگھٹ نیچے کرلیا اسے تھوڑی حیرت ہوئی
میرا ہے پر مجھ سے چھپا ہے کیوں تیرا مکھڑا۔۔
” چھوٹے سائیں آپ کھانا لگا دوں ؟” غالبا وہ اسکے کھانے کے لیے ہی جاگ رہی تھی ۔” ہاں کمرے میں لے آو !” کہتا اوپر چلا گیا وہ کھانے کی ٹرے لیے اوپر آگئی دروازے میں کھڑی ہوگئی دستک دی وہ چادر اتار کر کف کھول رہا تھا ” آجاو !” اندر آکر ٹرے میز پر رکھی اور نیچے بیٹھ کر اسکے جوتے اتارنے لگی ناجانے کیوں سکون سا مل۔رہا تھا ” زری تم کون ہو ؟” اسکے سوال پر زری کے ہاتھ لڑکھڑا گئے تھے یہ ایسا سوال کیوں پوچھ رہے ہیں کہیں انھیں سب پتا تو نہیں چل گیا ہمت جمع کی اور بولی ” آپ کی کنیز !” جوتے اتار کر انکی جگہ پر رکھ گئی اسکا موڈ کافی اچھا تھا آج اس کے کرارے جواب سنے کا دل کر رہا تھا ” مجھے تو لگا کوئی فلاسفر ہے !” بیڈ پر سیدھا ہوتا ٹرے اپنی طرف کھسکا گیا ۔
” جنہوں نے خود وہ تکیلف برداشت کی ہو وہ فلاسفر نہیں مظلوم ہوتا ہے ۔۔” سیدھی چوٹ اسکے اور اپنے نکاح پر کی گئی تھی ۔ایسے ہی تو ہوا تھا ابا سائیں نے اپنی عزت کے لیے اور چھوٹے سائیں نے عزت بچانے کے لیے لوگوں نے اپنی سوچ کے تحت سب کیا ان سب میں زری کہاں تھی اسکی مرضی کہاں تھی۔
” زری تو نے کہا اگر زندگی میں کچھ لمحے ایسے آجائیں جو جائز نہ ہو تو انھیں اپنا کر حلال کر لینا چاہیے مگر تو بتا اگر دوسرے نے حلال کرنے کا موقع ہی نہ دیا ہو تو ؟”” اسکی دل کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی وہ لمحہ آئی بار پھر نظروں میں گھوم گیا تھا ایک بار پھر اسکی سانسوں کی خوشبو اپنے اندر محسوس ہونے لگی تھی گلہ سوکھ گیا تھا اسلیے چلی گئی ” معزرت چھوٹے سائیں اس وقت میرا آپکے کمرے میں ہونا ٹھیک نہیں !” کہتی جانے لگی جب وہ آہستہ سے بولا ” بیوی ہے تو میری تو نہیں ہوگی تو کون ہوگا وہ جو ہے بھی اور نہیں بھی ہے !” جس دہلیز کو پار کرکے وہ گئی تھی وہیں سفید میں اسکا سیراب کھڑا تھا ” مسٹر ٹاپر کل مجھے یاد نہیں کیا اور شادی بھی کرلی بس اتنی سی محبت تھی مجھ سے کہ ڈیڑھ سال مانگنے کے بعد بس ہوگئی !” وہ دور کھڑی اس سے گلہ کر رہی تھی ۔
” عشق آج بھی تم سے ہے وہ بس ایک ایسی انسان ہے جو ناچاہتے ہوئے ہمسفر بن گئی اور جہاں تک رہی بات کل۔کی تو کل میں زری کی وجہ سے پریشان تھا ۔”
تو اسنے آتے ہی میری جگہ لے لی ؟” اسنے منہ بنا کر کہا اس سے پہلے وہ جواب دیتا وہ دوبارہ چھم چھم کرتی اندر آگئ پانی رکھنے آئی تو وہ پھر اس سیراب کو چھوڑ کر اسکی طرف متوجہ ہوگیا جس وہ غائب ہوگئی ۔
” تم نے جواب نہیں دیا ؟” پھر روک کر پوچھ لیا ” بتا دوں ہوسکتا ہے تمہارا ایک جواب مجھے سکون دے دے یا میری پریشانی میں کمی کردے ۔” آخر وہ مڑی ” کیوں آپ نے ایسا کچھ کیا تھا ۔”کیا بتاتا اسے کردوں انکشاف بتا دوں !” کچھ سوچ کر اثبات میں سر ہلا گیا ۔اسکے اقرار پر اسکا دل ایکدم دھڑک اٹھا تھا
” عشق ہے میرا اسکی بھی عزت بچانا چاہتا تھا کہ اسے پرسکون کرنے کے لیے اسکے بہت قریب چلا گیا تھا اتنا کہ جتنا حق نہیں تھا اسے لگا میں بھی باقیوں جیسا ہوں میں نے اسے داغ دار کردیا مگر میں کیسے کرسکتا ہوں میں تو محبت کرتا تھا میرا لمس اسے گندا کیسے کر سکتا ہے۔۔” وہ دونوں ایک ساتھ اسی لمحے پر پھر پہنچ گئے تھے بے ساختہ بول پڑی ” محبت تھی تو جسم کہاں سے آگیا بغیر کسی حق کے اسے چھونے کا من بھی کیسے کرلیا جس سے محبت ہو اسے تو نظر بھر کر دیکھنا مشکل ہوتا ادب اور احترام سے آپکو اسکی جسم کی خوشبو کیسے آگئی وہ پہلے ہی اپنے جسم کو نوچنے والے سے بچ رہی تھی اور آپ نے اسکی عزت بچا کر بھی اسکے جسم کو چھو لیا وہ تو پہلے ہی ایک مرد کی وحشت دیکھ چکی تھی دوسرے نے بھی وہی کیا تو کیا اپنا دکھ اپنا غصہ نکالنا حق نہیں تھا اسکا کیسے یقین کرلیتی جو انسان نکاح سے پہلے اسکا احترام نہیں کرسکا اسکی عزت حفاظت نہیں کرسکا وہ نکاح کے بعد کرے یا نہیں ایک لڑکی جو پہلے ہی جھاڑیوں سے اپنا آپ اپنا لباس بچا کر چل رہی تھی مدد کے لیے کسی کا ہاتھ تھاما تو اسنے ایسے کھینچا کے بے لباس ہی کردیا تو دکھ نہ کرتی تو کیا کرتی آپکو اسے پرسکون کرنا تھا تو دور رہ کر کرتے اسے سمجھا کر کرتے نامحرم کا لمس محبت بھرا بھی ہو تو جسم میں زہر کے سوا کچھ نہیں بھرتا اور ۔۔۔۔۔”
” بس زری خدا کے لیے بس کردو جاو یہاں سے ۔۔۔” اسکی باتیں سن کر اسکے ماتھے پر پسینہ آگیا تھا ۔
