Mukhra by Bint-e-Aslam NovelR50490 Mukhra Episode 31
No Download Link
Rate this Novel
Mukhra Episode 31
Mukhra by Bint-e-Aslam
پر ایسڈ پھیکنے کے بعد وہ رات گئے گھر واپس آیا تھا جہاں مسٹر خان اسکا انتظار کرتے پائے گئے ۔” اسفند یار تم نے وقت دیکھا ہے ۔” ایک تو اسنے پی ہوئی تھی دوسرا کلب کا سرور اسنے بھری دیکھی ” ہاں دیکھا ڈہڈ بڑا مست چل رہا تھا !” اسنے دو انگلیوں کا دائرا بنا کر اشارا کیا ۔
” کہاں تھے اب تک ؟” اسکی سوتیلی ماں بھی نیچے آگئی تھی ” انجوئے ڈیڈ انجوئے کر رہا تھا ہارٹیز کے ساتھ !” وہ آگے بڑھتا گرتا پڑتا بتا رہا تھا چٹاخ ! ایک تھپڑ پڑے گا تمہارے منہ پر ” تم نے آج پھر ایک لڑکی تیزاب پھینکا ؟! سوال چیخ پوچھا گیا تھا وہ گال پر ہاتھ رکھے انھیں دیکھ رہا تھا نشا سارا اتر گیا تھا ۔
” یس ڈیڈ جو مکھڑا اسفندیار پسند آئے گا اور وہ انکار کرے گا اسکا یہی ہوگا بٹ ڈیڈ آئی مسڈ اٹ پورا نہیں جلا پایا ! اسنے افسوس سے کہا جس پر مسٹر خان خود حیرت زدہ رہ گئے تھے ۔” بس اسفندیار بس کرو یہ گناہ جس دن تمہارے چہرے پر کوئی تیزاب ڈالے گا تو کوئی پانی ڈالنے والا نہیں ملے گا ۔۔۔”
” او کم آن ڈیڈ ایسا کچھ نہیں ہوگا ایسا کوئی پیدا نہیں ہوا ۔۔۔۔”طنز کرتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا جب مہناز بیگم نیچے آئی ” اسکی شادی کروا دو یہ خودی ٹھیک ہوجائے گا ۔”
” مگر اسے لڑکی دے گا کون ؟” وہ پریشان ہوکر بیٹھ گئے تھے ۔
“میرا بھائی اسکی بیٹی ہے لندن ریٹرن ہے اسکے جیسی ہے شانزے دراب وہ سدھارے گی اسے اور پھر تمہاری ساری پراپرٹی ہماری ۔۔” دوسرا جملہ اسنے دل میں کہا تھا ۔وہ اثبات میں سر ہلاتے اوپر چلے گئے اور وہ دراب کو فون کرنے ۔
بارات آچکی تھی وہ خود بھی لائٹ گرین کلر کی شہروانی پہنے اپنی دلہن کا انتظار کررہا تھا آخر اسے لے آیا گیا اور اسکے ساتھ بیٹھا دیا گیا چہرا گھونگھٹ کے پیچھے تھا شہریار کی فیملی بہت نوبل تھی انھوں نے بھی ارتشا کو مسکرا کر قبول کیا تھا ۔کچھ وقت بعد ہی انکا نکاح پڑھا دیا گیا تھا ۔” لندی کوتل کے بارے میں صرف ایک بات پتہ چلی ہے وہاں کے زاربند بہت مشہور ہیں شادی کے بعد اسکی دوکان کھولنے کا ارادہ تو میں. دی فیمس لندی کوتل کے زار بند فرام ارتشا شہریار ” سٹیج پر بیٹھے اسکے کان میں سر گوشی کرکے بولا جس پر وہ گھونگھٹ کے پیچھے کھلکھلا کر ہنس دی تھی رخصتی کے وقت بھی عورتیں رو رہی تھیں اور مرد حضرات انھیں دیکھنے میں مصروف تھے زری ارتشا سے مل کر دور ہوئی تو اچانک چکر آگیا گرجاتی مگر جس نے حفاظت کی قسم کھائی تھی اسنے بچا لیا ” کہا تھا نہ ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں !”
” نہیں میں ٹھیک ہوں چھوٹے سائیں !” اسنے مسکرا کر جواب دیا مگر اسکی فکر نہیں گئی تھی
اسے اپنا کر وہ اپنے گھر لے آیا تھا کمرے میں آیا تو وہ لہنگا پھیلائے بیڈ پر بیٹھی تھی معصوم پری کی طرح چہرے پر پٹی ابھی بھی لگی تھی باقی چہرا محفوظ تھا مگر گھونگھٹ کے نیچے بیڈ پر ہی ٹک گیا ہاتھ بڑھا کر اسکا گھونگھٹ اٹھایا ” یہ منہ تو کئی بار دیکھا ہے اسلیے منہ دکھائی نہیں لایا ” اسنے پرنم آنکھیں اسکی جانب اٹھائیں ” تھینک یو سو مچ یو آر دی بیسٹ ہیومن بینگ ان دی ولڈ !” اسنے اسکا چہرا ہاتھوں میں تھاما ” ہیے رو کیوں رہی ؟”
” ہم جیسی لڑکیوں کو کوئی قبول نہیں کرتا ہمارے چہروں کا یہ حال کردیا جاتا ہے تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے ؟”
اسنے اسے سینے میں بھینچ لیا ” نہیں تم لوگوں کا کوئی قصور نہیں ہوتا قصور ہوتا ہے ان لوگوں کی حوس کا جو یہ کرتے ہیں مردوں کو بدنام کرتے ہیں تم بس یاد رکھو اگر اس جیسے لوگ ہیں تو کچھ مجھ جیسے بھی ہیں جو جسموں سے نہیں روح سے محبت کرتے ہیں ۔”
” شہریار مجھے منہ دکھائی چاہیے ۔۔” اسنے الگ کیا اور کچھ نکالنے لگا ” نہیں یہ سب نہیں مجھے وعدہ چاہیے آپ آوں شخص میرے پاس لائیں گے ڈھونڈ کر جیسے اسنے میرے تیزاب پھینکا تھا مجھے بھی پھینکنا ہے !”
” کون تھا وہ کیسا دکھتا تھا سکیچ بنوا سکتی ہو ؟” اسنے اثبات میں سر ہلا دیا ” اسکی شکل میں اندھیرے میں بھی پہچان سکتی ہوں میں بنواوں گی سکیچ ۔۔۔۔” پھر سینے میں چھپا لیا ” ڈھونڈ لیں گے ۔”
دلبند اور وڈے سائیں حویلی واپس آئے تو ہر طرف خوشیاں کی چہک رہی تھیں مٹھیاں بانٹی جارہی تھیں انھوں نے حیرت سے ادھر ادھر دیکھا ” ارے شناور دیگ تیار کرلی کے نہیں ؟” اماں سائیں بلند آواز میں پوچھ رہی تھیں
” کرلی اماں سائیں میٹھی اور لونی بھی !”
” شبانہ کونسا تہوار ہے جو میں بھول گیا ؟”وڈے سائیں نے اماں سائیں کو روک کر پوچھا جس پر انھوں نے مسکرا کر دلبند کو دیکھا اسکا ماتھا چوما ” میرا رانجھا باپ بنے والا ہے !” وہ حیرت سے اماں سائیں کو دیکھ رہا تھا وڈے سائیں نے اسے زور سے گلے لگایا ” مبارکاں !”
ان سے جان چڑھا کر وہ اوپر کمرے میں آیا جہاں وہ بستر پر ٹیک لگائے لیٹی تھی کشمیراں زبردستی اسکے منہ کو دودھ کا گلاس لگا رہی تھی ” نہیں خالہ میرا دل نہیں کررہا صبح سے کھلائی جارہے ہو !” اسنے آگے بڑھ کر کشمیراں کے ہاتھ سے دودھ کا گلاس پکڑا اور اسے جانے کا اشارہ کر دیا اسے دیکھتے ہی اسنے رخ موڑ لیا تھا اپنا لال گلابی چہرا اسے دکھایا بھی نہیں ماتھے پر بل آگئے تھے ۔
میرا ہے پر مجھ سے چھپا ہے کیوں تیرا مکھڑا
اسکے پاس ہی بیٹھ گیا ” اچھا تو دو دن سے طبعیت یہ خراب تھی ؟”
” صبح چکر آیا تو بے ہوش ہوگئی اماں سائیں نے حکیم کو بلایا تھا انھوں نے بتایا ۔۔”اسنے دودھ کا گلاس اسکے سامنے کیا ” نہیں چھوٹے سائیں مجھے نہیں پینا صبحا اسے کھلائی جارہے ہیں کھلائی جارہے ہیں !”
” پیو اسے ! اسنے تمحکانہ لہجے میں کہا مگر اسنے پھر نفی میں سر ہلا دیا اسنے اسکا منہ پکڑا اور زبردستی پلا دیا پلا کر گلاس ہٹایا “گڈ گرل !”کھاجانے والی نظروں سے سے دیکھتے ہوئے منہ صاف کیا ۔” کیا ہے پیار آرہا ہے ؟”
اسنے غصے سے رخ پھیر لیا ” مگر مجھے تو آرہا ہے !” وہ اسکے اور قریب ہوکر بیٹھ گیا چہرا اسنے پھر بھی نہیں موڑا زبردستی اپنی طرف کیا اور ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لے لیا وہ مزاحمت کرتی رہ گئی مگر کوئی اثر ہی نہیں تھا خوشی جو اتنی بڑی تھی ۔
پورا کمرا دھوئیں سے بھرا تھا خود وہ ایک اور سگریٹ منہ سے لگائے کوئی ہالی ووڈ فلم دیکھ رہا تھا جب اسکے فون پر ایک میسج آیا پہلے تھے اگنور کردیا پھر جب نام پڑھا تو اٹھا لیا ” مام نے کیا بھیجا ہے ؟”تصویر ڈاون لوڈ ہوئی تو آنکھوں میں حوس اتر آئی تھی یورپین لباس پہنے بالوں کو ہوا میں اڑاتی شانزے کی تصویر تھی جو کافی پہلے کی تھی اس شانزے اور اب کی شانزے میں بہت فرق تھا وہ خباثت سے مسکراتا دیکھ ہی رہا تھا جب مہناز بیگم آگئی ” شانزے دراب تمہارے ہونے والی بیوی !
” وقت!! بیوی شادی او کم آن مام یہ شادی وادی مجھ سے نہیں ہوتی مگر یہ مجھے چاہیے ۔۔۔۔” اپنے ہمیشہ سے کمینے لہجے میں بول رہا تھا۔
” نو یہ میری بھتیجی ہے تمہیں اس سے نکاح کرنا پڑے گا بلکل تمہارے جیسی ہے سوچ لو بہت حسین ہے نکل جائے گی ۔”اسنے ایک نظر پھر اسکی تصویر کو دیکھا “ٹھیک ہیں کردیں مگر میں اسکا ہوکر نہیں رہوں گا ہمیشہ !”کہتا اپنا فون اٹھاتا باہر نکل گیا ۔
” اب تم تو پہلے ہی میرے ہاتھوں میں ہو سگی ماں نہ سہی سوتیلی تو ہوں میں اور میری بھتیجی ہی تو تمہیں اس تمہاری ماں تک پہنچائیں گے اسنے فون نکالا ” ہیلو دراب بھائی ۔۔۔۔”
شانزے نے آخر آج فیصلہ کرہی لیا تھا کہ وہ اپنے ڈیڈ سے ظہیر کے بارے میں بات کرکے رہے گی ۔ دروازے پر دستک دے کر اندر آئی ” ڈیڈ مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے !” وہ ابھی ابھی فون پر بات کرکے بیٹھے تھے ” مجھے بھی کرنی ہے !”
” پہلے اب بتائیں !” انکا موڈ اچھا دیکھ کر وہ خوش ہوگئی تھی ۔” پہلے میری بیٹی بتائے گی!
” نہیں پہلے میرے ڈیڈ بتائیں گے !” وہ انکے قریب ہی صوفے پر بیٹھ گئی۔
” ایک کام کرتے ہیں دونوں مل کر کہتے ہیں ون ٹو تھری وہ گن رہے تھے ” اسفندیار !….” ظہیر !”
دونوں کے منہ سے ایک ساتھ دو الگ نام نکلے تھے دونوں ہی حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے پھر شانزے مسکرا کر بولی ” اسفندیار مہناز پھوپھی کا بیٹا !
” ہاں وہ تجھے اسفندیار کے لیے مانگ رہی ہے میں نے تو کہہ دیا میری شانزے میری کوئی بات نہیں ٹالتی اسفندیار بہت اچھا لڑکا ہے تمہیں منظور ہے نہ ۔۔۔” انھوں نے سر پر ہاتھ رکھ کر نہایت مان سے کہا تھا کیسے منع کرتی ” جی ڈیڈ مجھے منظور !” ہاں کرکے باہر آگئی ایک عرصہ ڈیڈ صرف نافرمانی ہی کی ہے آپ کی خوشی کے لیے مجھے یہ فرمان قبول ہے فون پر ظہیر کی کال آرہی تھی ” آیم سوری !”فون ہی سوئچ آف کردیا ۔
کچھ دن بعد اسفندیار اور شانزے کی پہلی ملاقات تھی گرے کلر کی شلوار قمیض مضبوط جسامت منہ پر ڈاڑھی ہاتھوں کی تنی رگیں کالی سیاہ آنکھیں وہ خوبصورت تھا تو برفانی بھیڑیے جیسا جو اپنی پتھر توڑ نظر سے اسے دیکھ رہا تھا اسنے سفید رنگ کو برقع پہنا تھا چہرا اب بھی چھپا رکھا تھا ” یہ نقاب حجاب تو کھولا آئی وانٹ ٹو سی یو!” آخر وہ ناگواری سے بول پڑا ۔
” جج۔۔۔۔جی وہ میں ۔۔۔۔۔نامحرم کے ۔۔۔۔۔۔”
” او پلیز یہ ڈرامہ میرے سامنے مت کرو مام تو کہہ رہی تھی تم لنڈن ریڑن ہو بولڈ یہ تو کوئی دیسی لڈو ہے یورپین براونی نہیں !” ایک نظر اسے دیکھ کر رخ پھیر گیا ۔
” او ہیلو مسٹر میں پہلے ویسی ہی تھی مگر یہ میری حقیقت جو میں نے اپنا لی ہے اپنانا ہے تو ایسے ہی اپناو ورنہ بھاڑ میں جاو !” مسکرا کر اسے دیکھا ” آئی ۔۔آئی شیرنی واپس اب سچ بتاو بس ایڈوینچر کے لیے یہ پردہ کرتی ہو نہ کم آن بےبی اوپن اٹ مجھے اچھا نہیں لگتا ہماری شادی ہونے والی ہے !” اسنے بیزاری سے اسے دیکھا ” شادی کے بعد دیکھ لینا ! پرس اٹھایا اور چل دی جب وہ شرارت سے بولا ” یو مین فسٹ نائٹ میں ! اسنے پلٹ کر اسے دیکھا جو ابھی بھی اسے ویسے ہی دیکھ رہا تھا آس پاس لوگ بھی حیرت سے انھیں دیکھ رہے تھے ” خود ہی کہا شادی کے فسٹ نائٹ میں ہی دیکھو گا نہ سب!” بولڈ لہجے میں کہتا اس سے پہلے چلا گیا وہ پیچھے پانی پانی ہوگئی تھی گاڑی میں بیٹھی اور ٹوٹتی رونی لگی ” بدتمیز ایسا لگ رہا ہے جیسا سب کے سامنے بات نہیں بے لباس کرکے گیا اللہ جی کوئی معجزا ہی کردو ! اسنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی قبولیت کا وقت تھی شاید قبول ہوگئی تھی ۔
