Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mukhra Episode 3

Mukhra by Bint-e-Aslam

” دیکھیں گے کون کسے چھلنی کرے گا !” اسکا ہاتھ ماتھےپر سے ہٹا کر اوپر چلا گیا ۔

اسفندیار کے حیسن چہرے پر خباثت آگئ تھی وہ تھوڑا سا آگے بڑھا جہاں روزینہ جارہی تھی اڑتا سفید برقع ہاتھ دستاںے سے چھپائے وہ آنسوں پونچتی جارہی تھی تھوڑی دور جاکر اسنے اپنے نقاب کے بچے ہوئے کپڑے کو اٹھایا اور سونگھنے لگی ” دلبند کی خوشبو وہ کتنا اچھا ہے کتنا خوبصورت معصوم ایسا دیکھتے ہی عشق ہوجائے کہیں میرے علاوا بھی کوئی ایسے گرویدہ ہوگی اسکی ۔

زری پتر روٹی بنا دی اپنے ماموں کے واسطے !” وہ ہاتھ صاف کرتی کچن سے آئی تو اسکی مامی نے پوچھا ۔

” جی مامی بنا دی ماموں واسطے بھی بلاول بھائی واسطے بھی ۔”

” تو بلاول کو بھائی نہ بولا کر تجھے تو دھی بنانا ہے میں نے اپنی ۔” جس پر وہ صرف خاموش ہوگئی تھی جانتی تھی. اسکی قسمت اتنی چھوٹی ہے کہ چھوٹا سائیں ہے ہی نہیں مگر دل حیثیت کہاں دیکھتا ہے۔

” تو نہ اتنا کام نہ کیا کر ابھی ابھی تو یونی ورسٹی سے آئی تھی اور کام میں لگ گئی ۔”

” یونی پڑھ کر آئی ہوں مامی پہاڑ توڑ کر نہیں اور آپ اور ماما میرا خرچہ اٹھاتے ہو اسکے بدلے چار کام کر دینے سے میرے ہاتھ گھس نہ جائیں گے ۔”

” ابھی تک میں نے یہاں جتنی لڑکیاں دیکھی ہیں تیرے سامنے کچھ نہیں ہیں پھر بھی نخرا ایسا کے کپڑوں پر داغ نہ لگنے دیں اور تو برتن دھوتی آٹا گوندتی ہے تجھے تیرے حسن کی فکر نہیں ۔”

” مامی ایسے حسن کیا سہج سہج کر رکھنا جس نے ایک دن فنا ہوجانا ہے فانی چیز ایک دن تو ختم ہوجانا ہے رہ تو اعمال ہی جانے ہیں بس وہی حسن ہے اماں ابا جی آپکی خدمت ہی میرا حسن ہے اور ہم غریبوں کی لڑکیاں ہوتی ہیں نہ انھیں چادر دیکھ کر پیر پھلانے چاہیے اسلیے زری یونی ورسٹی میں بھی اپنے کام سے کام رکھتی ہے “

دروازے پر دستک دے کر بلاول اور ماما اندر آئے زری نے فورا گھونگھٹ نکال لیا جس پر بلاول اسکے پاس آیا ” تمہارا چہرا دیکھنے میں مجھے کوئی انٹرسٹ نہیں ہے کیونکہ میں کسی اور سے محبت کرتا ہوں اور جس سے محبت ہو اسکے علاوے کسی کو دیکھنے کی چاہ نہیں ہوتی ۔” اپنا فیصلہ سنا کر اسے سکون دے گیا تھا ” واقعی کسی اور کو دیکھنے کی چاہ نہیں ہوتی مگر میں نے تو جس سے عشق کیا اسے بھی آج تک نہیں دیکھا نام بھی نہیں پتا بس چھوٹا سائیں پتہ ہے مگر میرا دل کہتا ہے وہ بہت خوبصورت ہونگے اور نہیں بھی ہوئے تو زری کے دل کے مالک ہیں اپنا حسن نچھاور کردوں گی ان پر زری دیکھا تو انھوں نے بھی نہیں کبھی تجھے اس دن بھی اگر اماں آواز نہ دیتی تو صورت دیکھا ہی دینی تھی اور دیکھ بھی لینی تھی مگر تب تو بچے تھے اب تو چہرے پر داڑھی مونچھ آگئی ہوگی “

ہوسٹل کے بیڈ پر لیٹا وہ آنکھیں بند کررہا تھا تو روزینہ آنکھیں کھولتا تھا تو روزینہ ہر طرف بس وہی تھی ۔” یہ تجھے کیا ہوتا جارہا ہے دلبند روزینہ کیوں اچھی لگنے لگی ہے تجھے کہیں اس سے محبت تو نہیں ہوگئی کیا سوچ رہا ہے اسکا پردہ اچھا لگتا ہے بس مگر اچھا لگتا ہے تو تب زیادہ اچھا لگے گا جب وہ تیرے لیے کرے گی پر پتا نہیں وہ تیرے بارے کیا سوچتی ہوگی ۔

وہ تینوں ہی کلاس میں موجود تھے اردو کی کلاس تھی جہاں سر کاشف نے ان سے بڑا دلچسپ سوال کیا تھا ۔” کون کون زوق شاعری رکھتا ہے ۔” کافی سارے ہاتھ اٹھے تھے جن میں اسفندیار اور دلبند بھی شامل تھے روزینہ کا ہاتھ نیچے ہی تھا دلبند نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا تو نقاب کے پیچھے ہونٹوں سے مسکرا کر کندھے اچکا گئی

جی اسفندیار ۔۔۔

سر مجھے پروین شاکر بہت پسند ہیں میں انکی ایک غزل ۔۔

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی ۔۔۔

کچھ تھا تیرا خیال بھی ۔۔۔۔

دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ۔۔۔

ہوتا رہا ملال بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔

بات وہ آدھی رات کی۔۔۔۔

رات وہ پورے چاند کی ۔۔

چاند بھی ہے کہ چیت کا ۔۔۔

اس پر تیرا جمال بھی ۔۔۔۔۔۔

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی

کچھ تھا تیرا خیال بھی ۔

سب سے نظر بچا کے وہ ۔۔

مجھ کو تھا ایسے دیکھتا ۔۔۔

ایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی ۔۔

اسکو نہ پا سکے تھے جب ۔۔۔

دل کا عجیب حال تھا ۔۔۔

اب جو پلٹ کر دیکھتے ۔۔۔

بات تھی کچھ محال بھی ۔۔۔

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی

کچھ تھا تیرا خیال بھی آخر میں پوری کلاس تالیوں سے گونج رہی تھی جب سر کاشف نے دلبند کو مخاطب کیا ۔

” سر شاعر تو سارے بہت اچھے آپ نے پوچھا تھا زوق کون رکھتا مجھے پڑھنے سے زیادہ لکھنا اچھا لگتا ہے اگر آپکی اجازت ہو تو میں اپنی لکھی ایک غزل سنانا چاہوں گا ۔سر کاشف نے اثبات میں سر ہلا دیا اسنے ایک نظر نقاب حجاب سے چھپے روزینہ کے چہرے کو دیکھا گہرا سانس لیا جیسے اسے دیکھتے لفظ جوڑنے لگا

حسروتوں کے دریچوں میں ۔۔۔

کچھ خواب سجا رکھیں ۔۔۔۔۔

پردے کے پیچھے جو دو نین چھپا رکھیں ۔۔۔

کتنے منظر ہیں کتنے نقشے کتنے یار بنا بیٹھے ہیں ۔۔۔

تو ہی چار سواور تو ہی آئینے کے ٹکڑوں میں بکھرا ۔۔۔

میرا ہے پر مجھ سے چھپا ہے کیوں تیرا مکھڑا ۔۔۔

روزینہ کو دیکھتے وہ اسکی دل کی دھڑکن کو منتشر کرتا جارہا تھا اسکی نظروں کی تپش سے اسکا جسم کانپنے لگا اسنے نقاب کے پیچھے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر انھیں تر کیا ۔

گلابی ہونٹ ہیں کہ چاہتوں کے پیالے۔۔۔۔۔

کالے بالوں پر یہ حجاب سنبھالے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کوکا ہے ناک میں یا چاند آسمان میں۔۔۔۔

سفید رنگت یو چمکے اندھیرے شبستان میں ۔۔۔

اک فتنہ ہے حسن تیرا یا میرا خیال ہے ۔۔۔۔۔

پردے کے پیچھے جو ہے وہ فتنہ دجال ہے ۔۔

چاندی کا ورق یا کہہ دوں چاند کا ٹکڑا ۔۔۔

میرا ہے پر مجھ سے چھپا ہے کیوں تیرا مکھڑا ۔۔۔

اسنے حیرت سے اسکی طرف نظر اٹھا کر دیکھا پھر نقاب میں موجود ناک کو چھوا نوز پن سچ میں تھی اسکی سانس تیز ہوگئی تھی ۔

تیری آنکھوں کے اندھیر نگری میں گم ہوجاو ۔۔۔

تیری گال کے گڑھے میں ڈوب کر ابھر جاوں ۔۔۔۔

تیری گردن میں گم اپنا چہرا کر لوں ۔۔۔۔

اپنے چہرے پر تیری زلفوں کا پہرا کر لوں ۔۔۔

یہ سوچ ہے میری بس یہی پر ملال ہے ۔۔۔

تیری وحشت سے بچتے میرے مفلس میرے امرا

میرا ہے پر مجھ سے چھپا ہے کیوں تیرا مکھڑا

اسنے دیکھا تھا اسے کیسے اسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو بیان کرسکتا ہے وہ میری تصویر اپنے خیالوں میں بنا رہا ہے جو ہو بہو میری جیسی ۔۔۔

تیرا چھونا ۔۔۔۔” بس سر لیکچر ختم ہوگیا نیکسٹ کلاس لینی ہے ۔” اس سے پہلے وہ آگے بولتا روزینہ بول پڑی تھی اور اٹھ کر کلاس سے باہر آگئی تھی لمبے لمبے سانس لے رہی تھی ” عشق دلبند عشق ہوجائے گا تم سے کیوں ہوں ایسے آج تک میرا چہرا کسی نے نہیں دیکھا اور تم وہ غزل ایسے سنا رہے تھے جیسے میں بے پردہ تمہارے سامنے بیٹھی ہوں تصور بھی اتنا ملتا کیسے ہے ۔” وہ یہ سوچ ہی رہی تھی جب وہ مسکراتا نوٹس سنبھالتا کلاس سے باہر آیا ” دد۔۔۔دلبند !” اسنے پلٹ کر اسے دیکھا اور ساتھ کھڑے لڑکے سے جانے کا اشارہ کر دیا ” تت۔۔۔تمہیں برا تو نہیں لگا میں نے تمہاری غزل بیچ میں ٹوک دی ۔”

” نہیں مجھے تو برا نہیں لگا اور ویسے بھی وہ کونسی میں نے لکھی تو لفظ خوبخود جڑتے جارہے تھے ہاں یہ ضرور سوچ رہا ہوں وہ چہرا کس بنا گئے خیر معذرت مجھے ایک ضروری کام ہے ۔” کہتا وہ چلا گیا ” میرا دلبند میرا چہرا بنایا تمہارے لفظوں نے تم ۔۔۔تم عشق روزینہ ہو عشق کہلاوا رہا تھا تم سے آئی لو یو دلبند آئی لو یو اور میں پہلی بار اپنا پردہ اپنی محبت کے سامنے کھولوں گی اسکی چاہت کے مطابق ۔” وہ اسے ہر جگہ ڈھونڈ رہی تھی آخر اسے وہ لائبریری میں مل ہی گیا سفید شلوار کی آستینیں موڑیں کسی بات پر مسکراتا ہوا وہ بے ساختہ اسکے ساتھ جاکر بیٹھ گئی وہ کچھ حیران رہ گیا تھا ” دلبند مجھے تم سے کچھ کہنا ہے ۔”

” جی بولیں سن رہا ہوں میں !اسنے اسے بنا دیکھے پوچھ لیا ” مجھ ۔۔۔۔مجھے تم۔۔۔۔سے ۔۔۔محبت….دلبند نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا ” محبت لفظ اردو کا ہے یا انگلیش کا ! ہڑبڑاہٹ میں وہ کیا بول گئی تھی اسے خود نہیں معلوم تھا اس پاس موجود چند سٹوڈنٹ ہنس دیے تھے جنھیں لائبریرئن چپ کروا رہا تھا ” آ۔۔۔۔محترمہ اردو کا ہے .”دلبند کی اپنی ہنسی نکلنے والی تھی مگر وہ شرمندہ ہوگئی تھی ۔

“میرا نام روزینہ ہے محترمہ نہیں تم ہمیں نام سے مخاطب کیا کرو ۔۔۔۔” اسکی بات پر دلبند نے حسرت بھری نگاہ سے اسے دیکھا ” آپ چاہتی ہیں ہم آپکو مخاطب کیا کریں !٬اسکی آنکھوں کی تپش سے وہ پھر بوکھلا گئی ” نہیں ۔۔۔۔۔نن۔۔۔نہ کیا کریں اگر آپ کو اچھا نہیں لگتا تو ۔۔دوسراجملہ آہستہ سے کہا گیا تھا جو وہ نہیں سن پایا تھا ۔اسکا چہرا اتر گیا تھا کتابیں اٹھائیں اور باہر چلا گیا پیچھے روزینہ نے ماتھا پیٹ لیا تھا ” اوکے روزینہ اب بس اظہار محبت ! وہ بھاگتی ہوئی اسکے پیچھے گئی میدان میں کھڑے ہوکر بلایا اسے ” دلبند مجھے کچھ کہنا ہے تم سے !” وہ ایک دم پلٹا چہرا سنجیدہ ہی تھا ابھی بھی ” مجھے ۔۔۔مجھے تم سے محبت ہے ! اسنے آنکھیں بند کرکے آخر کہہ ہی دیا دلبند کے کان سائیں سائیں کر رہے تھے

” ہاں مجھے تم سے بہت محبت ہے بلکہ عشق ہے مر جاو گی تمہارے بغیر آئی لو یو !” تمام یونی اسے گھور گھور کر دیکھ رہی تھی اور ساتھ ہی دلبند بھی اسکا تو چہرا سفید پڑ گیا تھا شرمندگی سے محال تھا اسلیے مڑ گیا ” روکو ایسے مت جاو مر جاو گی تمہارے بغیر زندہ نہیں رہ پاوں گی ۔”

مگر وہ آگے بڑھتا جارہا تھا جب وہ چیخی” اگر تم نہیں رکے دلبند تو آج زلیل تو میں ہوچکی ہوں بے پردہ بھی ہو جاوں گی تمہارے لیے نقاب اتار دوں گی سب کے سامنے !” اسنے حیرت سے پلٹ کر اسے دیکھا افسوس سے سر جھٹکا اور رخ پھیر گیا جب دوبارہ نظر گئی تو اپنے حجاب کی ایک تہ کھول چکی تھی وہ دوسری سفر میں تھی اس سے پہلے وہ نقاب میں ہاتھ ڈال کر نیچے کرتی دلبند نے تڑپ کر اسکا ہاتھ پکڑ لیا ” نہیں روزینہ یہ چہرا صرف میرے سامنے آنا چاہیے میں تو تم سے پہلے دن سے عشق کرتا ہو مگر ڈرتا تھا کہیں تمہاری عزت پر حرف نہ آجائے میں بھی کرتا ہوں اسکی آنکھوں میں سچائی کے آنسوں تھے جو اسکا ہاتھ تھامے کھڑا تھا وقت دونوں کے لیے رک سا گیا تھا جب اچانک دلبند کے کانوں میں تالیوں کی آواز آئی روزینہ نے آہستہ سے ہاتھ چھڑا لیا اور دوبارہ حجاب کھولنے لگی آخر اس پری کا مکھڑا سب کے سامنے آگیا لڑکے تو دور لڑکیاں بھی ماشااللہ کہہ رہی تھیں ” واہ روزینہ واہ آخر یہ شرط بھی تو جیت گئی !”