Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mukhra Episode 10

Mukhra by Bint-e-Aslam

اس واقعے کو تین چار دن گزر گئے تھے اور آن دنوں میں اسفندیار اپنے باپ کے ساتھ کسی ضروری کام سے انگلینڈ گیا تھا وہ اپنے باپ کے بزنس میں انٹرسٹ لے رہا تھا دلبند نے محسوس کیا تھا روزینہ اس دن کے بعد سے اس سے کچھ خفا خاموش رہنے لگی ہے ” روزینہ میری بات سنیں کیا ہوا ہے کیوں ناراض ہیں مجھ سے ۔” وہ کوریڈور میں سے گزرتا اس سے پوچھ رہا تھا “

“مسٹر ٹاپر میں ناراض نہیں ہوں میں بس ٹائم ہی نہیں مل پاتا اسلیے ۔۔۔” آگے بڑھتی اسے بتا رہی تھی ۔

” پہلے بھی پڑھائی ہوتی تھی اتنا ہی فوکس کیا جاتا تھا مگر ہم دونوں بات کرتے تھے ۔” وہ التجایا لہجے میں کہہ رہا تھا جب ایکدم آگے آگیا ” میری اس دن والی بات اچھی نہیں لگی اسلیے نکاح کے بعد وہ لہجہ اپنانا چاہتا تھا مگر اس دن اسفندیار کو آپکے ساتھ یہ سلوک کرتا دیکھ خون کھول گیا تھا میں ساکن ہوگیا تھا کچھ پل کے لیے سمجھ نہیں آیا کیا کہوں میں آپ سے سچ میں محب۔۔۔۔۔۔” اسکی بات مکمل ہونے ہی نہیں دے گئی تھی

“ سر کاشف سے کچھ پیپر ڈسکس کرنا ہے !” تیز تیز قدم اٹھاتی وہ آگے بڑھ گئی اور منہ تکتا رہ گیا جب شہریار اسکے پاس آیا اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا وہ بے ساختہ اسکے گلے لگ گیا شہریار وہی لڑکا تھا جو اس سے پہلے دن ملا تھا ان چند مہینوں میں وہ اسکا جگری دوست بن گیا تھا ” شہریار وہ ۔۔۔۔وہ میری کوئی بات سنے کو تیار نہیں اسے لگتا ہے میں بھی اسفندیار جیسا ہوں جو اسکے حسن کا دلدہ ہے مگر میں تو اسے اپنی بنانا چاہتا ہوں یار ۔۔” اس سے الگ ہوکر افسردہ لہجے میں کہتا اس جانب دیکھنےلگا جہاں سے وہ گئی تھی ۔

شہریار کچھ دیر تو اسے ایسے دیکھتا رہا پھر اسے لے گیا پیر کے بعد وہ اکیلی کلاس میں ڈیسک پر سر رکھے بیٹھی تھی آنکھ سے وقتا فوقتا آنسو گر کر قطار بناتا لکڑی میں جذب ہوتا جارہا تھا ہاتھوں میں اسنے بال پوائنٹ پکڑی تھی جسے بار بار اوپن کلوز کر رہی تھی جب اس سے ایک ڈیسک چھوڑ کر شہریار آ بیٹھا خصلت میں وہ بھی بلکل دلبند جیسا تھا روزینہ کو چھوٹی بہن ہی سمجھتا تھا یہی تھا وہ جس نے ارتشا کو اپنے رنگ میں رنگنا تھا لمبا قد درمیانی آنکھیں چہرے پر داڑھی کا رعب اور عزتدار نرم مسکراہٹ وہ ایکدم سیدھی ہوئی ” شہریار بھائی آپ ! وہ اپنے آنسوں اس سے چھپا گئی تھی ۔

“ روزینہ آپ دلبند سے ناراض ہو ؟” اس کی بات سن کر اسکے آنسووں میں روانی آگئی ” نہیں ناراض نہیں ہوں بس اسکی آنکھوں میں جو نظر آتا ہے اس سے اندھی بنا چاہتی ہوں ۔”

“ میں دلبند کی فیملی کو تھوڑا بہت جانتا ہوں اماں سائیں سے بھی بات کر چکا ہوں وہ بہت مہربان اور عزتدار گھرانہ ہے اور دلبند اس جیسا تو قسمت سے ملتا ہے وہ چاہتا ہے آپ کو”

“ بات انکے خاندان کی نہیں ہے میرے خاندان کی ہے وہ ایک امیر گھرانے کے شمع چراغ ہیں اور میں مڈل کلاس کلرک کی بھانجی اور ایک کسان محنت کش کی بیٹی میری اور اسکی اوقات نہیں ملتی اور یہ گاوں کے وڈیرے ہمیشہ اپنی حیثیت والوں سے رشتہ رکھتے ہیں ۔”

“ آپ کو رشتہ کس سے رکھنا ہے دلبند سے یا اسکے خاندان سے ؟”

“ دلبند سے جڑا تو ان سے خوبخود جڑ جائے گا !”

“ ہاں یہ تو ہے کڑی تو تم نے خودی بتا دی تم دونوں کو جوڑنے والا وہی تو ہے بات یہ نہیں ہوتی کے دونوں طرف لٹکنے والا وزن بھاری ہے بات یہ ہوتی ہے کہ اس وزن کو سنبھالنے والی رسی کتنی مضبوط ہے آپکا اور اپنے خاندان کا وزن اٹھانے والا انھیں جوڑنے والی رسی دلبند ہے آپ تو ہاں کرو اپنے خاندان کے سامنے آپکے لیے سٹینڈ وہ خود لے لے گا ۔”

“ مگر شہریار ….” اسکی بات مکمل سنے بغیر ہی وہ بولا ” اچھا کوئی اور بات نہیں کم سے کم بات تو کریں اس سے وہ بہت پریشان ہے .” کہتا اسکے سر پر بڑے بھائی کی طرح ہاتھ رکھتا چلا گیا ۔” آپ نہیں جانتے میں کیوں پریشان ہوں وہ روزینہ سے محبت کرنے لگے ہیں اور میری حقیقت زری ہے اور زری کو کوئی قبول نہیں کرے گا ۔”وہ پھر سے ڈیسک پر سر ٹکائے بال پوائنٹ سے کھیلنے لگی ۔پھر ہمت کی اور اٹھ گئی دلبند جو درخت کے نیچے اکیلا بیٹھا اماں سائیں سے بات کرکے اداس ہوگیا تھا کل آخری پیپر تھا اسکے بعد ایک ماہ کی چھٹیاں تھیں سب نے جدا ہوجانا تھا اور روزینہ تو پہلے ہی جدا ہوگئی تھی ” مسٹر ٹاپر آپ تو بڑے ہوشیار نکلے بڑے اچھے پیپر دیا خود اکیلے پڑھ کر اور ہم جو زرا بزی ہوئے تو منہ پھلا کر بیٹھ گئی۔” روزینہ کی آواز سنتے ہی دائیں جانب دیکھا سیاہ برقع میں نقاب کیے وہ اسکے مقابل کھڑی تھی آنکھوں کی چمک سے تو لگ رہا تھا اندر ہونٹ مسکرا رہے ہونگے ” آپ وہ کچھ نہیں بس تنہا تھا تو یہاں آگیا !” مسکرا کر سر جھکا گیا وہ بھی اسکے ساتھ ہی بیٹھ گئی ” تنہا کیوں تھے شہریار کہاں گیا ۔”

“ اسکے بابا کا فون آیا تھا وہ چلا گیا ۔”

“ تو کسی اور کو ساتھی بنا لیتے !” اسنے حیرت سے اسے دیکھنا ” ساتھی بنانا اتنا آسان نہیں ہوتا جسے میں ساتھی بنانا چاہتا تھا اسنے اس راستے سے ہی انکار کردیا ۔”اسکے لفظوں کے معانی وہ خوب سمجھتی تھی”ضروری تو نہیں کوئی تنہائی میں ہمسفر ہو تو محبوب ہی ہو ایک اچھا دوست بھی ہوسکتا ہے تو خیال ایک دوست کے بارے میں ۔۔۔” اسکی بات وہ بھی سمجھتا تھا یعنی وقت مانگ رہی ہے لےلو مجھے کونسا جلدی ہے ۔اسنے مسکرا کر اسے دیکھا ہنستے مسکراتے آخری پیپر بھی گزر گیا تھا ” شہریار میں تو آج ہی گاوں جارہا ہوں تمہارا کہاں جانے کا پلان ہے ؟”پیپر سے فارغ ہوکر وہ سب ایک ساتھ بیٹھے تھے روزینہ بھی تھی جس نے کل جانا تھا ۔

“ میں تو سوچ رہا ہوں کچھ دن انجوئے کرو وکیشنز پر ہوں آوں ۔۔”

“ تم ایک کام کرو میرے ساتھ چلو میرے گاوں تمہیں اپنا پورا گاوں گھماوں گا تمہیں ۔۔۔” اس بات پر روزینہ نے انھیں دیکھا کیونکہ وہاں جابجا سامنا تو ہو ہی جانا تھا ” وہاں کہاں تیری حویلی میں رہوں گا کیا ؟”

“ تو اور کہاں رہے گا اماں سائیں تو ویسے تجھے بہت پسند کرنے لگی ہیں اور ابا سائیں بھی تم سے بہت متاثر ہیں تو کیا پرابلم ہے ؟”

“ اچھا چل ٹھیک ہے چلتے ہیں آج ہی !” مسکراتا اسکے کندھا تھپتھپا گیا ۔شہریار نے اپنے گھر پر بتا دیا تھا اسکی پیکنگ ہونے والی تھی اسلیے وہ بھی کل صبح ہی حویلی کے لیے نکلے تھے راستے میں وہ اسے اپنے گھر والوں کے کہ بارے میں بتاتا آیا تھا ابا اماں چچا چچی انکے دو بچے بیٹا بہو اور ایک بیٹی ارتشا ۔۔” حویلی پر اسنے بتا دیا تھا وہ لوگ گاڑی سے اترے جب شہریار کو ایک فون آگیا وہ تھوڑا پیچھے رہ گیا اماں سائیں سے باتیں کرتا دلبند آگے نکل گیا تھا جب شہریار دہلیز پار کر گیا اچانک ایک گلاب کا پھول سیدھا اسکے چہرے پر لگا ” آئے ہائے یہ کس کے لگ گیا دلبند تو گزر گیا یہ ٹیڑھا سا کون ہے ۔” افسوس کرتی اچھے بھلے ڈیشنگ شہریار کو ٹیڑھا کہہ گئی تھی شہریار نے پھول پکڑ کر ادھر ادھر دیکھا کوئی نہیں تھا ” شہریار !” دلبند کی آواز پر وہ آگے آیا ” کہاں رہ گیا تھا ؟”

“ کچھ نہیں یار بس دیکھ رہا تھا تمہارے یہاں استقبال پھول دے کر نہیں پھول مار کر کیا جاتا ہے ۔” پھول کو انگلیوں میں گھماتا دانت نکال رہا تھا ۔” یہ کہاں سے آیا ؟”

“ ابھی اندر آیا تو سیدھا منہ پر آیا !” اپنے ساتھ دلبند کو بھی ہنسا دیا تھا ” ارتشا کی شرارت ہوگی وہ ایسی حرکتیں رہتی ہے .”

“ ہمم ارتشا کوئی بچی ہوگی ۔۔” کہتا آگے جاتے دلبند کے پیچھے بھاگ گیا ۔کھانے میں وقت تھا وہ اسے پوری حویلی دکھا رہا تھا صفائی مہم چل رہی تھی دلبند کو کسی کی کال آگئ تھی وہ کچھ دور چلا گیا تھا وہ دیکھتا آگے بڑھ رہا تھا جب گیلے فرش سے کسی کا پیر پھسلا اور سیدھا شہریار کی باہوں میں سنبھل گیا تیکھی ناک بڑی بڑی آنکھیں موٹے گلابی ہونٹ اسکا بازو تھامے نیچے کی طرف گر رہی تھی شہریار کی سانس ساکن اور دل چکرا گیا بے ساختہ داڑھی کے پیچھے ہونٹوں پر مسکان آگئی تھی اسکا ہاتھ اسکی کمر پر تھا جو اسنے اور مضبوط کر لیا تھا اوپر کھینچا ہاتھ سیدھا اسکے سینے پر ٹک گئے تھے ۔وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا جب اسنے دھکیل کر پیچھے کردیا آو دیکھا نہ تاو سیدھا تھپڑ جڑ دیا تھا دائیں گال پر ہاتھ رکھے وہ صدمے سے اسے دیکھ رہا تھا ” ارتشا !!! دلبند کی گرج دار آواز پر وہ سر تا پیر کانپ گئی تھی غصے سے اسکی جانب بڑھا جب شہریار نے روک دیا اور زیر لب کہا ” ارتشا “

“ کیا بات ہوئی محترمہ میری بات کونسی بات بری لگ گئی جو یہ قدم اٹھانا پڑا ۔۔”اسنے گھور کر اسے دیکھا ” پکڑا کیوں ؟”دلبند نے حیرت سے شہریار کو دیکھا جس پر اسے نیچے فرش پر اشارہ کہا وہاں گیلا تھا ” انکا پیر پھسلا گرنی لگی تو بچا لیا کیا غلط کیا ؟”

“ تو گرنے دیتے پکڑا کیوں ..” انگلی اٹھاتی لال سرخ چہرا لیا وہ اسکے دل کو قابو کر گئی تھی ” معزرت آئیندہ نہیں پکڑوں گا گرنے دوں گا ۔۔۔”

She is not little cutie…..she is damn beauty !”

دل میں کہتا اسے نظروں میں قید کررہا تھا جب وہ پیر پٹختی چلنے لگی دلبند بھی دوبارہ فون پر بزی ہوگیا تھادوبار پیر پھسلا اور گر گئی ” آوئچ!!!” کمر ٹوٹ ہی گئی تھی نظر اٹھا. کر اوپر دیکھا ایک ہاتھ سینے پر باندھے دوسرا منہ پر رکھے وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا ” پکڑا کیوں نہیں !” اسنے کمر مسلتے ہوئے کہا جس پر وہ منہ کھولے اسے دیکھنے لگا ” پہلی کر کے تھپڑ کھا چکا ہوں پھر کھانے کا من نہیں تھا خودی کہا تھا گرنے دیتے ۔۔” وہ معصومیت سے کندھے اچکا گیا اٹھی اور اختیاط اور تکلیف سے چلنے لگی ایسے دیکھ کر دل کیا تھا پیر زمین پر پڑنے ہی نہ دے فولاد کی طاقت والی بائیں بے بس تھیں ۔

“ شہریار آجا تیرا فیورٹ کورما تیار ہے !” دلبند کی چیخ پر افسوس سے باہر آیا ” کچی ہری مرچ بھی رکھنا اوپر بڑا دل کررہا ہے آج کھانے کا !” اسے جاتا دیکھ کر شرارت بھرے لہجے میں بولا ۔

وہ سب کھانے کے میز پر موجود تھے ارتشا کا بڑا بھائی اپنی بیگم کو کھلانے میں لگا تھا خدا نے خوشی جو دی تھی جو آنے والی تھی ۔ارتشا نہیں تھی نوکرانی کو بلانے کے لیے بھیجا گیا ” شہریار پتر تو نہ جم کے کھانا پینا اور موج منانا یہاں اپنی ہی گھر سمجھ اسے اور مجھے اماں سائیں ہی کہنا ۔” اماں سائیں اسکے سر پر ہاتھ پھیرتی اسکی پلیٹ بھرتی کہہ رہی تھی جس پر وہ مسکرا کر اثبات میں سر ہلا گیا ۔ارتشا دلبند سے ڈرتی کرسی پر آکر بیٹھی شہریار کی سیدھی نظر اسکے کنفیوز چہرے پر گئے دل ایک دھڑکن چھوڑ گیا تھا وہ اس سے متاثر نہیں فدا ہوگیا تھا لائک لو ایٹ فسٹ سائٹ ہوگیا تھا اسے وہ مسلسل نچلا ہونٹ داتنوں تلے دبا رہی تھی ” دلبند بتا تو نہیں دے گا یا اسکا دوست کے میں نے اسے تھپڑ مارا تھا ابا سائیں بہت ڈانٹے گے “اسے ایسے اپنے ساتھ ظلم کرتے شہریار کو غصہ آرہا تھا ” یہ میرا حق ہونا چاہیے !”

“ ارتشا پتر کیا ہوا ہے میری بچی کا منہ کو اترا ہے عارف تونے کچھ کہا ؟” وڈے سائیں نے اسکے سر پر پیار دیتے اسکے ابا سے پوچھنے لگے جب اسنے آنسو رواں ہوگئے ” وڈے ابا وہ۔۔۔۔وہ دلبند کے دوست کو میں نے غلط فہمی میں تھپڑ مار دیا ہے وڈے ابا سائیں ہمیں معاف کردیں انھوں ہمیں بچانے کے لیے پکڑا تھا اور ۔۔۔۔ہم۔نے انھیں تھپڑ مار دیا ہم آپ سے بھی معافی مانگتے ہیں ۔” ڈری ہچکچاتی وہ اسے معصوم سی بچی لگ رہی تھی ” اووو سو کیوٹ !”اسکی معافی پر وہ مسکرا کر سر جھکا گیا ۔

“ وڈے سائیں نے حیرت سے شہریار کو دیکھا ” سب غلط فہمی سے ہوا تھا انھوں نے تبھی معافی مانگ لی تھی اب پھر سے کوئی بات نہیں !” اسے بچانے کےلیے اسنے جھوٹ بولا تھا ۔

“ ارتشا !! اپنے باپ کی اتنی گرج دار آواز سن کر وہ سہم گئی جب اس سے بھی اونچی وڈے سائیں کی آواز آئی ” عارف!!! بچی نے سچ بول معافی مانگی ہے نہ تو خبردار جو اسے کچھ کہا ۔وہ مسکرا کر ارتشا کی طرف مڑے ” کوئی بات نہیں پتر اچھی بات ہے تونے غلطی مان کر معافی مانگی اور پتر تم معاف کردو بچی ہے ۔”

“ جی انکل کوئی بات نہیں ۔” اسنے شریف زادوں کی طرح جواب دیا ” یہ بچی میری جان بن چکی ہے اس سے مار نہیں کھاوں گا تو کس سے کھاوں گا مگر نکاح بعد معاف نہیں کروں گا ۔” وہ چپ چاپ کھانا کھانے لگے جابجا وہ ارتشا کو دیکھ رہا تھا وقت ٹہر ٹہر کر چل رہا تھا بھابھی سے بات کرتی وہ اچانک مسکرا دی تھی ۔اتنی معصوم مسکراہٹ دیکھ کر شہریار اور منتشر ہوگیا تھا جب اماں سائیں نے ہاتھ بڑھا کر اسکے بالوں کی ایک لٹ پیچھے ٹکا دی اور وہ خوش ہوکر اماں سائیں سے لپٹ گئی اب سانس لینا دوبھر کر گئی۔

دعا بار ہو تم۔۔۔

ستم ڈھانے والے ۔۔۔

فریبے محبت میں الجھانے والے۔۔۔

یہ رنگین کہانی تمہیں کو مبارک ۔۔

ہماری طرف سے یہ نظریں ہٹا لو۔۔

ہمیں زندہ رہنے دو اے حسن والوں ۔۔۔

ارتشا کی اچانک نظر اس پر گئی تھی وہ مسکرا کر سر جھکا گیا نظر گھما کر دلبند کو دیکھا چہرے پر ایک پر سکون مسکراہٹ آگئی تھی ” کب مانو گے تم بچپن سے لیکر اب تک کتنا انتظار کتنی محبت کی ہے تم سے اتنی جلدی تو اس روزینہ وہ جو کوئی بھی ہے اسے اپنا حق نہیں لینے دوں گی ۔” پلیٹ میں چمچ ہلاتے ہوئے اسنے اچانک آنکھیں بند کیں مسکراتی آنکھیں اور نقاب سے ڈھکا چہرا چارسو پھیل گیا تھا ” کب مانو گی تم اب تو سانس لینا مشکل ہوتا جارہا ہے ایک مہینہ کیسے گزرے گا ۔۔۔”

” زری پتر بس کردے کھانے کھا لے ابھی تو آئی ہیں اور پہنچ گئی بھینسوں کو نہلانے ۔۔۔” زیبو زری کو آوازیں دے رہی تھی جو موٹر چلائے پائپ سے بھینسوں کو گیلا کر رہی تھی وہی لہنگا کرتی سر پر پلو ہاتھوں میں چوڑیاں ناک میں کوکا اور پانی کے چھینٹو سے گیلا چہرا وہ حسین تھی پھول پر شبنم کے قطرے جیسی جہاں جاتی اسی رنگ میں رنگ جاتی تھی شہری تو پوری شہری دیسی تو پوری دیسی پی ایچ ڈی کر رہی تھی مگر مجال ہو انگلیش کا ایک لفظ بھی اسنے گاوں آکر بولا ہو ۔” اماں آپ تو نہلاتے نہیں ہو دیکھو کیسے شکایتیں لگا رہی ہیں مجھے کہ زری اماں اور ابا نے ہمارا خیال نہیں رکھا ۔” اسنے پیار سے گائے کے بچھڑے کو گلے لگایا وہ بے زبان بھی پیار سے اسکے کندھے پر سر رکھ گیا ۔

” پتر کام سے وقت ہی نہیں ملتا ابھی بھی کل پرسوں تک وڈے سائیں کے ہاں انکے بھتیجے کی اولاد آنے والی ہے کہہ رہی تھیں سب عورتوں نے آنا ہے کام ہے اور خوشی بھی کرنی اچھا ہوا تو آگئی مل کر چلے گے ۔” اماں کی بات سن زری کا. چہرا اتر گیا تھا ” حویلی جانا ہے یعنی چھوٹے سائیں بھی وہیں ہونگے اور اب تو شہریار بھائی بھی ہیں کیسے جاوں گی چلو گھونگھٹ کا سہارا تو ہے ۔”

وہ تینوں دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے جب حویلی سے پیغام آگیا ” وڈے سائیں کے پوتا ہوا ہے کل تقریب یاد سے آجانا زیبو !!!” پورے گاوں میں نگاڑا بجا دیا گیا تھا دلبند کا بھتیجا آیا تھا ۔زری کی سانس اٹک گئی تھی ” ابھی خبر آنی تھی ایک مہینے بعد نہیں آسکتی تھی کیسے جاوں گی اور اگر نہیں گئی تو وڈی سرکار خود لینے آجائیں گی بیٹی کی طرح تو چاہتی ہیں مجھے وڈی سرکار آپ اتنی اچھی کیوں ہیں !” منہ بناتی پیر پٹختی چلی گئی .

دلبند چھوٹے سے بھتیجے کو لیا پورے کمرے میں گھوم رہا تھا ” بھابھی سائیں یہ تو ہم پر گیا بھائی پر تو گیا ہی نہیں ۔” شہریار اسکے ساتھ ہی تھا اور ارتشا دلبند کے آگے پیچھے پھر رہی تھی ” دلبند مجھے بھی تو دے کب سے لیکر پھر رہے ہو !” شہریار نے شرارت بھری نظروں اسکی جانب دیکھا ” ہاں کرو میں دیتا ہوں نہ !” وہ پھر خودی نظر جھکا گیا باہر پوری حویلی سجائی جارہی تھی جس میں زری بختو اور زیبو بھی پیش پیش تھے بختو اور زری جھولا سجا رہی تھیں دونوں نے گھونگھٹ نکال رکھا تھا ” زری ہائے کب وہ موقع آئے گا جب میں تیرے لیے ایسے جھولا سجاوں گی تیری گود میں چھوٹا بچہ ہو اور دل کی بات بتاوں ۔۔” اسنے مسکراتے ہوئے زری کو دیکھا جو گھونگھٹ اوپر کیے اسے دیکھ رہی تھی اسنے بھی اٹھا رکھا تھا ” وہ بچہ نہ تیرا اور چھوٹے۔۔۔۔” بختو!!!! شرم کر کیا بکواس کر رہی ہے بولنے سے پہلے کچھ تو سوچا کر !” جملہ مکمل کرنے سے پہلے ہی زری نے اسے جھاڑ پلا دی تھی غصے میں اسکا چہرا سرخ ہوگیا تھا جب آواز آئی ” سلام چھوٹے سائیں ! سلام چھوٹے سائیں ! دلبند شہریار کے ساتھ سیڑھیاں اتر رہا تھا انھوں نے فورا گھونگھٹ نیچے کر لیے تھے شہریار کا منہ کھلا رہ گیا تھا تمام عورتوں نے سوائے حویلی کی سب نے منہ چھپا رکھے تھے جب دلبند نے اسکا چہرا دیکھا ” یہ سب ہمارے مزاروں کی لڑکیاں ہیں ہمارے گاوں کا رواج ہے یہ نامحرموں کو اپنا چہرا نہیں دیکھاتی اور نہ مالکوں کو ۔”شہریار نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا ” یعنی اس گھونگھٹ کے پیچھے جو مکھڑا ہے وہ اسے ہی نظر آئے گا جس کا حق اور کسی کو نہیں ؟” دلبند میں نفی میں سر ہلا دیا ” اتنا مقدس رواج میں بھی سوچو تیرے خون میں اتنی پاکیزگی کیوں ہے ۔”

وہ مسکراتا ہوا آگے بڑھ گیا جب وہ اسے جھولے پاس نظر آگئی وہ خود حیران تھا گھونگھٹ سے بھی وہ اسے کیسے پہچان لیتا ہے وہ شہریار کولیے اسکے پاس آیا گھونگھٹ کے نیچے سے وہ صرف اسکے پیر دیکھ سکتی تھی بوٹ اور پشاوری چپل پہنے چار قدم اسکی طرف بڑھ رہے تھے ” زری ! دلبند کی پکار پر اسکا دل دھڑک اٹھا تھا ” شہریار یہ زری ہے اماں سائیں کہتی ہیں یہ ہمارے خاندانی مزارے ہیں رفاقت زری کا دادا دادا سائیں کے ملازم تھے اسکے ابا چچا عرفو ابا سائیں کے اور یہ انکی اکلوتی بیٹی ۔۔۔۔۔۔۔” دلبند ابھی بول رہا تھا جب ارتشا آگئی ” اور یہ دلبند کی کنیز !” دلبند اور شہریار نے حیرت سے ارتشا کو دیکھا تھا اور زری نے گھونگھٹ کے پیچھے کرب سے آنکھیں بند کرلیں تھیں ” کنیز چھوٹے سائیں کی کنیز