Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mukhra Episode 30

Mukhra by Bint-e-Aslam

” چھوٹے سائیں آپ پہلی دفعہ صرف میرے لیے فلم دیکھنے گئے !” سارا دن گھوما پھیرا کر اسے فلم دکھا کر حویلی واپس لے آیا تھا برقع اسنے اتار دیا تھا لائٹ کریم اور شاکنگ پنک کلر کے میکسی میں بال کھولے وہ سادہ بھی کافی اچھی لگ رہی تھی ۔

“ہاں میں نے سوچا چلو آج میں بھی دیکھ لوں میری زری جس سارا دن کرتی رہتی ہے فلموں میں ایسے ہوتا ہے ویسے ہوتا ہے میں بھی دیکھ آوں کیا ہوتا ہے ” بیڈ پر اسکا ہاتھ پکڑے اسے شرارت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا جو وہ بہت جلد پہچان گئی تھی ” چھوٹے سائیں کیا ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں ۔” اس بات پر وہ اور قریب ہوکر بیٹھ گیا ” میں نے تجھے خوش کیا نہ ؟” اسنے ایک آئی برو اچکا کر پوچھا ” تو ؟”

” تووووو اب میرااا بھی تو حق ہے خوش ہونے کا وہ فلم بہت بور تھی جو تیرے لیے برداشت کی میں نے ۔۔۔” یہ کہتے اسے اپنے پہلو میں گرایا اس سے پہلے وہ اٹھتی وہ اسکے لبوں کو اپنی دسترس میں لے چکا تھا دونوں ہاتھ بیڈ کے ساتھ پن کیے جو گرفت سے نکلنے کی کوشش کررہے تھے مگر وہ تو مدہوش ہوچکا تھا پل سرکتے جارہے تھے مگر من بھر ہی نہیں رہا تھا پھر جب چلتے ہاتھ رکے تو وہ بھی رک گیا اسکا لال ہوتا چہرا دیکھ کر وہ اور لالچی ہوگیا تھا سانس لیتی نتھنے پھلائے اسے گھور رہی تھی ” اب اتنے بھی اچھے نہیں چھوٹے سائیں !”

” او اچھا برا بن کر دکھاوں ! کہتے چہرے اسکی گردن میں گم کرلیا ہاتھ بڑھا کر لیمپ بھی آف کردیا محبت سے چور ایک اور رات گزر گئی تھی ۔اگلی صبح وہ ناشتہ کرکے حویلی کے لیے نکل گئے تھے ۔

” اچھا ہوا تمہارا یہ لائٹ گرین کلر کا لہنگا مل۔گیا شہریار سے جوتے بھی پوچھ لینے تھے ہاہاہا!”وہ اور سوہا مال سے باہر نکل رہی تھیں جب اسفندیار ان سے پھر ٹکرایا اس بار ارتشا کو غصہ آگیا تھا اسلیے آو دیکھا نہ تاو سیدھا تھپڑ اسکے منہ پر مار دیا ” مجھے پتہ چل گیا ہے کسی قسم کے انسان ہو اندر بھی تم ہمیں کی تاڑ رہے تھے شرم نہیں آتی جہاں لڑکی دیکھی نہیں اپنا ٹھرکی پن جھاڑنے آجاتے ہیں گھر میں ماں بہن نہیں ہے کیا یا انکے ساتھ بھی یہی سلوک کرتے ہو “

” یو جسٹ شٹ اپ ۔۔۔۔ابھی اتنا ہی کہا تھا جب ایک اور تھپڑ منہ لر پڑا ” مجھ سے اتنی اونچی آواز میں بات مت کرنا جاہل انسان !!” اسے اولفول بکتی آگے بڑھ گئی تھی پیچھے اسکے تن بدن میں آگ لگا گئی تھی ” اسنے اسفندیار کو تھپڑ مارا یہ جو تمہارے حیسن مکھڑا ہے نہ اسکو تو میں بگاڑو گا کسی کو منہ دیکھانے لائک نہیں رہو گی اسنے فون اٹھایا ” شیزی ایسڈ لے کر آ! اسے لوکیشن سینڈ کی گاڑی انکے پیچھے لگالی جو تو وہ بھی گاڑی میں ہی رہی تھی شیزی بائیک پر آیا تھا اترا بوتل پکڑے منہ پر رومال باندھا اور بیٹھ گیا ارتشا اتفاقا ہی روڈ والی سائیڈ اتری تھی جب جلتا گرم پانی اسکے دائیں گال کے قریب پڑا ” آہ! اسکی دل خراش چیخ سن کر سوہا اس تک پہنچ مگر تب تک وہ دونوں آگے بڑھ گئے تھے ” شٹ پورا فیس جلانا تھا “وہ چہرا دونوں ہاتھوں چھپائے رو رہی تھی سوہا نے اسکے چہرے پر پانی ڈالا اور ہوسپیٹل لے گئی آج ایک اور حسین مکھڑا کسی تیزابی سوچ کا تیزاب شدہ ہوگیا تھا حویلی فون کردیا گیا تھا دلبند اور زری جن کو حویلی آئے چند گھنٹے ہی ہوئے تھے خبر ملتے ہی سب روانہ ہوگئے دائیں گال سے نیچے گال اور گردن تھوڑی جل گئی تھی باقی چہرا محفوظ تھا نشانہ چوک گیا تھا اور وہ بروقت رخ نہ پلٹتی تو شاید سب تباہ ہوجاتا وہ اندر ہوش میں تھی کسی سے بھی ملنا نہیں چاہتی تھی ۔

” ہیلو شہریار!” دلبند نے کافی سوچنے کے بعد شہریار کو فون کیا تھا ” ہاں دلبند ارتشا کا فون کیوں بند ہے ؟”

” شہریار ہم یہی ہیں تجھے ایک ہوسپیٹل کی لوکیشن بھیج رہا ہوں وہاں آجا !”

” ہو۔۔ہوسپٹل کیوں سب ٹھیک تو زری ٹھیک ہے ؟” اسنے پریشان آواز سن کر اخذ کیا شاید زری کو کچھ ہوا ہے ” ہاں وہ ٹھیک ہے !”اور ۔۔۔اور ارتشا ؟”

” تو ہوسپیٹل آجا! اسنے فون بند کیا لوکیسشن بھیجی تقریبا آدھے گھنٹے بعد وہ ہوسپیٹل پہنچا وہاں سب تھے چچی سائیں اماں سائیں زری سوہا سب کے آنسو رواں تھے

” کک۔۔۔۔۔کیا ہوا ارتشا کو ؟” دلبند نے اسے گلے لگایا پھر ہمت کرکے بولا ” ارتشا پر کسی نے تیزاب پھینک دیا ہے تھوڑی جل گئی ہے !” شہریار کے کانوں میں تو کسی نے سیسہ انڈیل دیا تھا وہ لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہوگیا ” زیادہ نہیں جلا بچاو ہوگیا ہے بس دائیں طرف اور نیچے گردن پر نشان ہے ۔۔۔۔” اسکی بات آدھی سنے وہ اندر جانے لگا ” وہ کسی سے ملنا نہیں چاہتی !” دلبند نے اسے روکا

” میں کسی نہیں ہوں اسکا شہریار ہوں !” دروازہ کھولا نرس اسکی پٹی دیکھ رہی تھی اسے آتا دیکھ کر کھڑی ہوگئی ” آپ کون ہیں !” ارتشا نے اس طرف دیکھا جہاں وہ خاموش صدمے زدہ اسے دیکھ رہا تھا فورا چہرا چھپا کر رخ پھیر گئی دیکھنے بھی نہیں دیا

میرا ہے پر مجھ سے چھپا ہے کیوں تیرا مکھڑا ..

” مم۔۔میں منگیتر ہوں انکا مجھے ان سے بات کرنی اکیلے میں ۔۔۔” نرس اثبات میں سر ہلاتی باہر چلی گئی وہ اسکے پاس آیا چہرا ہاتھوں سے چھپائے نیچے جھکائے بال آدھے چہرے پر جھکے تھے جنہیں اسنے نہایت محبت سے سمیٹ کر کان کے پیچھے قید کردیا ویسے ہی اسے باہوں میں بھرا ” مجھے مت دیکھیں میں اچھی نہیں رہی !”

خود سے الگ کیا چہرے سے ہاتھ ہٹانے لگا مگر وہ نفی میں سرہلانے لگی اسنے زبردستی ہٹا ہی دیا جس پر وہ اور رونے لگی ” نہیں ۔۔۔نہیں پلیز مت دیکھیں میں بدصورت ہوگئی ہوں میں اچھی نہیں رہی آپ کے قابل نہیں رہی مجھے داغ لگ گیا ہے مجھے چھوڑ دیں ۔۔۔۔” اسنے گال پر ہاتھ رکھے وہ اسے پیار سے دیکھ رہا مگر وہ روتی نفی میں سر ہلاتی جارہی آگے بڑھ کر اپنے لب اسکے لبوں پر رکھ دیے اسکے ہاتھوں میں اسکے ہاتھ پھڑپھڑانے لگے تھے مگر وہ تو خود کو سکون دے رہا تھا کچھ دیر بعد دور ہوا پورے چہرے کو اپنے لبوں سے چھونے کے بعد اس سے مخاطب ہوا ” میری بات سنو میں تم سے محبت کرتا ہوں تمہارے چہرے سے نہیں تمہیں اگر یہ لگتا ہے کہ اس چھوٹے سے نشان کی وجہ سے میں تم سے محبت کرنا چھوڑ دوں گا تو غلط فہمی ہے تمہاری پہلی سے زیادہ محبت کروں گا تم سے میرا عشق ہو تم کبھی نہیں چھوڑو گا دنیا کے بیسٹ سرجنز کے پاس جائیں گے ہم یہ ٹھیک ہوا تو ٹھیک ورنہ بھاڑ میں جائے سب کچھ تم میرے ساتھ ہوگی تو یہ نظر ہی نہیں آئے گا اتنی محبت دوں گا سب بھول جاو گی اور اب مت کہنا تم بدصورت ہوگئی ہو ہم کل ہی نکاح کریں گے کل ہی سمجھی تم اور اب اگر روئی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔” اسے زور سے اپنے سینے میں چھپا لیا تھا اسے پرسکون کرنے کے بعد باہر آیا ” کون تھا وہ ؟”

” پتہ نہیں جس مال۔میں ہم نے ارتشا کی ڈریس فائنل کی تھی وہاں ملا تھا پہلے ٹکرایا تو کہا غلطی سے ہوگیا دوسری بار جان بوجھ کر ٹکرایا تھا ارتشا نے اسے کافی کچھ سنایا. تھا تھپڑ بھی مارا تھا مجھے پورا یقین ہے اسی نے کیا ہے نام وغیرہ کچھ نہیں پتا ۔۔۔” سوہا کی آخر بات اسے پریشان کر گئی تھی

” انکل مجھے ارتشا سے کل ہی نکاح کرنا ہے !” چچی سائیں نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا ۔” ہاں کل ہی کچھ دیر اسے ڈسچارج مل جائے گا میری امانت اب میرے پاس ہی رہے گی ۔۔۔۔” کہتا وہاں سے چلا گیا ۔

ارتشا کے ڈسچارج کے فورا بعد ہی وہ سب گاوں واپس آگئے تھے سب پریشان تھے مگر ارتشا خوش تھی اسکا شہریار جو نہیں گیا تھا سب خاموش تھے آخر اس سے برداشت نہیں ہوا ” زری تیری ناک. ٹیڑھی ہے اسلیے گھونگھٹ نکالتی تھی نہ ۔۔۔” دلبند اور زری دونوں نے حیرت سے مڑ کر اسے دیکھا ” میں نے دیکھ لی تھی اسلیے چھپاتی تھی تو دلبند کی بھی ٹیڑھی تھی اسلیے اپنا لیا تجھے ۔۔۔” اسنے شرارت سے کہا تھا جس پر سب مسکرا دیے وہ بھی ہنس دی چچی سائیں نے اپنے آنکھوں میں آئے آنسوں صاف کرلیے تھے پوری حویلی میں شور مچا تھاآج ہی کی رات اسکی مہندی تھی پوری حویلی میں جنگا لالا ہو ہو مچی تھی وہ تیار ہوکر ییلو کلر کی لہنگے میں خوبصورت لگ رہی تھی اسکے چہرے پر لگی پٹی بھی کچھ خاص فرق نہیں ڈال پائی تھی ۔اماں سائیں سے لیکر کشمیراں تک نے اسکا ماتھا چوما تھا ” وڈی سرکار شہریار بابو سے کہنا ہماری دھی کو چاندی کی تویتڑی میں چھپا کر رکھے !” اس بات پر سب ہنس دیے تھے جب ارتشا نے اسکا ہاتھ پکڑا ” کشمیراں چل میرے جہیز میں چل شہریار بابو نے کچھ کہا تو خودی پوچھ لینا ۔” ہنستے مسکراتے خوشیاں جھوم رہی تھیں دلبند اور زری کہاں ہیں؟”

اماں سائیں نے ادھر ادھر دیکھ کر سوال کیا ” پتا نہیں وڈی اماں رسم جب شروع ہوئی تھی تب تو ادھر ہی تھے پتہ نہیں کیا چلے گئے ۔

” وہ کمرے سے مٹھائی کے ڈبے لیے نکل گزر رہی تھی جب کسی نے دیوار سے پکڑ کر پن کر لیا سر تا پیر اسکے سراپے کو دیکھا “شوخ گلابی رنگ کا لہنگا پہنے بالوں کو پراندے میں قید کیے ہاتھوں میں کھنکتی چوڑیاں ہائے!! دل پر ہاتھ رکھتا اس پر جھکتا جارہا تھا جب اسنے دور کردیا ” چھوٹے سائیں چھوڑے مجھے اماں سائیں ڈھونڈ رہی ہونگی !” وہ اسکی گردن پر جھک چکا تھا اسکی خوشبو میں گم ہوتا جارہا تھا ” سب ہمیں ہی ڈھونڈ رہے ہیں !” اسنے جیسے اسے بڑے پتے کی بات بتائی تھی اسنے دھکیل کر سیدھا کھڑا کیا ” چھوٹے سائیں “

” یہ جو تو چھوٹے سائیں کہنے کے لیے ہونٹوں کو گول کرتی ہے نہ ایسا لگتا ہے مجھے دعوت دے رہی ہو ۔۔۔” وہ پھر اس پر جھکا اور وہ اسے دور کرنے میں مگن تھی ” کسی نے دیکھ لیا نہ شامت آجانی ہے آپ تو کہیں بھی شروع ہو جاتے ہو ۔۔۔” اسے دھکیلتی چلی گئی اور وہ پیچھے بالوں میں ہاتھ پھیرتا رہ گیا ۔

تقریب سے فارغ ہوکر وہ تھکن سے چور کمرے میں آئی تھی جہاں وہ پہلے سے تھکن اتارنے میں مصروف تھا اسکی طرف آنے لگی کہ اچانک متلی آگئی اسلیے واش روم چلی گئی کافی دیر بعد واپس آئی ” کشمیراں خالہ سے کہاں بھی تھا اتنی مٹھائی نہ کھلائے جتنی ارتشا نے کھائی اتنی اماں سائیں نے مجھے کھلا دی!” بستر پر آکر لیٹ گئی ایک نظر اسے دیکھا اور کروٹ اسکی جانب لے لی ” چھوٹے سائیں میں نہ بختو سے کہتی تھی کہ اگر چھوٹے سائیں میرے ہوئے نہ تو دن رات عبادت کروں گی انکی میں تو آپ سے بچپن سے محبت کرتی ہوں جب آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا دوست تب لگا تھا کتنا سندر خواب ہے مگر خواب ہی رہ جانا ہے آج اسکی تعبیر اتنی خوبصورت ہوگی یہ تو نہیں سوچا تھا مجھ سے اپنی کمی کمین زری سے اتنی محبت کریں گے ۔۔۔” وہ ایکدم اٹھ کر اس پر جھک گیا وہ حیرت اور پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ” تم محبت کرنے کہاں دیتی ہو !” اسنے معصوم سا منہ بنا کر کہا جس پر اسنے بھی منہ بنا لیا ” آپ تو سو رہے تھے !”

” ہاں تو سو ہی رہا تھا لیکن تمہاری خوشبو نے جگا دیا طبیعت کو کیا ہوا ؟”

” اماں سائیں اور کشمیراں خالہ نے ملکر اتنی ساری مٹھائی کھلا دی اسکی وجہ سے متلی ہوگئی ۔۔۔” اسنے فکر مندی سے اسے دیکھا ” ڈاکٹر کے پاس چلیں ؟”

” نہیں صبح تک خودی ٹھیک ہوجائے گا آپ سو جائیں تھک گئے ہونگے ۔۔” اسکی بات پر وہ سیدھا لیٹ گیا اسکا سر اپنے پر رکھ کر بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا ” مجھ سے زیادہ تم تھک گئی سو جاو !” اسنے مسکرا کر بازو اسکے گرد مضبوط کرلی اور آنکھیں بند کرلیں ۔

” شہریار صبح بارات لیکر آتو جانا ہے آپ نے سو جائیں !” ارتشا پہلے ہی تھک گئی تھی اور سے وہ مسلسل تین گھنٹے سے فون کیے اسے سنا رہا تھا بولنے سے اسی نے منع کیا تھا ۔

” حد ہوگئی یار صبح ہونے میں چھے گھنٹے پڑے ہیں میرا گزارا نہیں ہورہا تمہیں سنا ہی تو ہے اور مجھے تمہاری سانسوں کی آواز ۔۔۔۔”

” ہاں تو میں تھک گئی ہوں نہ صبح آپکی ہوجانا ہے میں نے ۔۔۔۔۔” جمائی لیتی وہ اس سے التجا کر رہی تھی ۔

” اچھا تم بور نہ ہو مجھے ایک بات بتاوں تم ہنی مون میں کہاں جانا چاہتی ہو ۔” اسکی بات پر وہ کچھ دیر سوچ میں پڑ گئی پھر بولی ” لندی کوتل !”

” ہیں !! کونسے ہوٹل ؟” اسنے تو یہ نام ہی پہلی بار سنا تھا ۔” ہوٹل نہیں لندی کوتل جگہ ہے کہتے ہیں بہت اچھی مجھے وہاں جانا تم دیکھو گوگل سے کہاں ہے ؟”

” اچھا تم سونا مت میں چیک کرتا ہوں سو نا مت اچھا !” اسے کہتا کال کاٹ گیا ” شکر ہے!” اسنے فون سوئچ آف کیا اور سو گئی ۔اور وہ گوگل پر لندی کوتل ڈھونڈنے لگا رہا ۔

” ظہیر رات کے دو بج رہے ہیں تمہیں نیند نہیں آرہی؟”شانزے بھی دو گھنٹے سے اسے سن رہی تھی جو اسے دو سال کے حالات بتا رہا تھا ۔

” نیندیں اڑانے والے پوچھتے ہیں نیند کیوں نہیں آتی !” شاعرانہ مزاج تھا اسکا اسلیے آکثر ایسے ہی بات کرتا تھا ۔” ویسے شانزے میں کبھی کبھی سوچتا ہو ہمارے بچے شاعر ہونگے یا فوٹوگرافر ؟”اسکی بات پر اسنے ہنس کر فون کو گھورا” پہلے شادی تو ہوجائے بچے پھر خودی ڈیسائڈ کر لیں گے !”

” میں یہ سوچ رہا ہوں کچھ دن تک پاکستان آجاو اور پھر تمہیں اپنی بنا کر لندن واپس میری فیملی فل ریڈی ہے اور تمہاری ۔۔۔” اس بات پر وہ کچھ پریشان ہوگئی تھی ۔

” میں نے ابھی تک ڈیڈ سے بات ہی نہیں کی ہے مجھے ڈر لگتا ہے مطلب یہاں لڑکیاں ایسے اپنی پسند اپنے والدین کو نہیں بتاتی پتا نہیں وہ کیسا ریکٹ کریں میں پھر بھی کوشش کروں گی ۔”

” اوکے ٹیک یور ٹائم مگر کر ضرور لینا اب تمہارے بنا گزارا نہیں ہے ۔اور تمہیں پتا ہے ۔۔۔۔۔”

” افففف ظہیر بس کردیں جتنے پتے آج آپ بتا دیے ہیں نہ میں ایڈریس بک لکھ سکتی ہوں ایک کام کریں گے میرا ؟” آخری جملہ نہایت محبت سے کہا گیا ۔

جان چاہیے ؟” وہ بھی شاعر تھا ” نہیں میں نے پرسوں انسٹا پر ایک پکچر دیکھی تھی ہسٹوریکل سی تھی اس میں ایک لیڈی نے بے بی پکڑا تھا اور پیچھے ساری عمارت ٹوٹی ہوئی تھی آپ مجھے وہ ڈھونڈ دیں مجھے وہ سکیچ کرنی ہے .”

” میں دیکھتا تم سونا مت اچھا میں کال کرتا ہوں !”

” جی ۔۔جی جاگ رہی ہوں !” کہتے اسنے فون بند کردیا ” آئی لو یو بٹ آئی لو میں سلیپ مور گڈ نائٹ ! فون سوئچ آف کردیا اور سو گئ یہ خوش تھے ایکساتھ تھے یہ جانے بغیر کے کوئی کالا سایہ بن کر لوٹ آیا تھا