Mukhra by Bint-e-Aslam NovelR50490 Mukhra Episode 27
No Download Link
Rate this Novel
Mukhra Episode 27
Mukhra by Bint-e-Aslam
اسکا رخ اپنی جانب کیا گھونگھٹ اٹھایا اور پیروں کے نیچے سے زمین کھنچ گئی تھی نظریں اب بھی کھڑکی تھیں مگر وہ چہرا اسنے اپنی آنکھیں بند کیں مسلی پھر کھولی مگر وہ غائب نہیں ہورہی تھی اسنے ٹھوڑی سے پکڑ چہرا اوپر اٹھایا ہری آنکھوں سے نکلنے والے آنسوں لال چہرا ناجانے کتنے ہی لمحے ایسے گزر گئے وہ اسکی آنکھوں کے سامنے تھے دو سال بعد بلکل ویسے کی ویسی جیسی تب تھی ایک مسکراہٹ اسکے چہرے پر آگئی تھی ” روزینہ !” پھر اچانک وہ مسکراہٹ غائب ہوگئی تھی ” نہیں ایک منٹ یہاں اس لباس میں زری تھی تو روزینہ یہاں روزینہ ہی زری تھی بتاو روزینہ ہی زری تھی ۔”اسنے پرنم آنکھوں سے اثبات میں سر ہلا دیا وہ لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہوگیا تھا ” چھوٹے سائیں ! اسے پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھائے مگر اسنے دور کردیا ” دھوکا اتنا بڑذ دھوکا دیا اس گھونگھٹ کے پیچھے ہمیشہ سے روزینہ تھی نہیں زری تھی کیا کہوں تمہیں روزینہ جس سے محبت مجھے شہر میں ہوگئی تھی زری جسکی سادگی کا دیوانہ میں ہوگیا تھا یا سسی جو عشق کا روگ لگا گئی کتنے نام ہیں تمہارے ۔۔” اسکو کندھوں سے جھنٹجھوڑتی بلند آواز میں بول رہا تھا اور اسکے رونے میں اضافہ ہوتا جارہا تھا پیچھے دیوار کے ساتھ پن کر لیا ہاتھ قابو میں کیے دیوار کے ساتھ لگا لیے اسکے نہایت قریب چلا گیا
” مجھے روتا ہوا تڑپتا ہوا دیکھا جاتا رہا میری آج سسکیاں سن کر نظر انداز کرتی میرے پاس ہوتے ہوئے تمہارے سیرابوں سے جونجتا جسے دیکھنے کے لیے میں دن رات تڑپتا رہا مجھے بتا ضروری بھی نہیں سمجھا گیا کہ اس گھونگھٹ کے پیچھے وہی مکھڑا ہے !” اسکے سانسوں کی تپش اسے اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی ۔
” چچچ۔۔۔۔۔چھوٹے سائیں میری بات ۔۔۔۔۔۔۔” مگر اسنے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ کر منہ بند کردیا ” چپ بلکل چپ مجھے پہلے کیوں نہیں. بتایا یونی میں کیوں نہیں گاوں واپس آیا تب کیوں نہیں کہ زری اور روزینہ ایک ہی ہیں اصلیت کیا ہے تمہاری زری روزینہ ؟” اسکے منہ پر زور سے ہاتھ رکھے سوال بھی کر رہا تھا اور بولنے بھی نہیں دے رہا تھا ہاتھ ہٹایا بولو!
” زری زری ہوں میں روزینہ ایک جھوٹ تھا روزینہ ایک طالب علم تھی جو گاوں سے شہر پڑھنے گی تھی ہمیشہ سے ان دو شخصیات کو الگ رکھا تھا میں نے مگر یہ اس طرح جڑ جائیں گے کبھی سوچا نہیں تھا اس۔۔۔۔۔اس رات جو کچھ بھی ہوا میں روزینہ مار آئی تھی وہیں ۔۔۔۔”
” اور میں پاگلوں کی طرح اسے ڈھونڈتا رہا جو تھا ہی نہیں اس گھونگھٹ کا سہارا لیے چھپی تھی یہاں جب نکاح اس دن نہیں بتا سکتی تھی ؟”اسکے بالوں میں ہاتھ پھنسا کر چہرا اپنے قریب کرلیا وہ خاموش تھی نظر ایک بار پھر اسکے چہرے پر ٹک گئی ہونٹوں پر نظر گئی تو دوسال پہلے ہونے والا گناہ یاد آگیا مگر اب تو نہیں تھا انھیں چھونا لگا تو اپنے آپ سے گھن سی محسوس ہوئی اس سے بھی ” نہیں یہ میری محبت کے لائک نہیں ہے دھوکے باز ہے یہ !” اسے چھوڑ کر خود باہر چلا گیا گاڑی نکالی اور دوسری حویلی آگیا وہ روتی دیوار کے ساتھ ہی بیٹھتی چلی گئی وہ غصے غم اشتعال میں رش ڈرائیونگ کررہا تھا حویلی آیا پوری حویلی اندھیرے میں ڈوبی تھی یہ چھوٹے دادا سائیں کی حویلی تھی جن کے بیٹے عارف چاچا تھا ان دونوں بھائیوں میں بلا کی محبت تھی اسلیے یہ حویلی سونی کی سونی ہی رہی نہ وہ کبھی الگ ہوئے نہ یہ آباد ہوئی مگر یہاں نفیس چاچا اسکو ہمیشہ سنبھال کر رکھتے تھے صفائی ستھرائی کا دھیان رکھتا تھا کبھی بھی اس میں شفٹ ہوا جاسکتا تھا اندر آیا اور چپ چاپ اوپر والے کمرے میں جانے لگا جب نفیس چاچا کی آواز آئی” چھوٹے سائیں آپ ہیں ؟”اندھیرے میں اس ہیولے نہ اثبات میں سر ہلا یا۔” چھوٹے سائیں آج تو آپکی تقریب تھی اور آپ یہاں ؟” اسے بغیر کوئی جواب دیے اپنا مخصوص کمرا کھولا اور راکنگ پر بیٹھ گیا سگریٹ وہ پیتا نہیں تھا مگر آج منہ سے لگائے بیٹھا تھا ” انکے محبت کے درد کو دیکھانا ہے تو پہلے پنوں کو سسی بنا پڑے گا ۔” ” محبت تھی تو اسکے جسم کی خوشبو کیسے آگئی ۔” ” مجھے تم سے محبت ہے دلبند .” ” میں آپکی کنیز ہوں چھوٹے سائیں میری اوقات یہی ہے ۔”” میں نے تو محافظ کو بلایا تھا تم تو بھیڑیے نکلے ۔” ” میں نے قسم کھائی تھی چھوٹے سائیں جو محبت کرے گا صرف اسے ہی چہرا دکھاوں گی ۔” ۔۔۔۔اسکے دو چہروں کی زبان سے نکلےالفاظ کانوں میں گونج رہے تھے اسنے غصے سے ایش ٹرے دیوار میں دے ماری ” یہ کیا کھیل کھیلا ہے میرے ساتھ روزینہ مانگی تھی نہیں دی زری دے دی اور جب زری مانگی تو روزینہ واپس کردی کس اسمنجس میں پھنسا دیا ہے دو چہرے دو چہرے ایک وجود میرے دل سے جذبات سے دو بار کھیل گیا اتنا بڑا دھوکا دے رہا صرف ایک غلطی کی وجہ سے جسکی معافی میں نے رو رو کر مانگی تھی !” بلند آواز میں کہتا ٹیبل توڑتا چیزیں توڑنے لگا ” کیوں میرے ساتھ ہی کیوں ہر بار یہ لڑکی اپنے چہرے سے دھوکا دیتی ہے مجھے ہمیشہ سے میری محبت میرے اتنے پاس میرے نکاح میں تھی اور مجھے پتا بھی نہیں چلا اگر مجھے کبھی زری محبت ہی نہ ہوتی تو یہ مکھڑا ہمیشہ گھونگھٹ کے پیچھے ہی قید رہتا اچھا رہتا مگر کسے اپناو زری کو یا روزینہ کس سے محبت کروں جھوٹ سے یا حقیقت سے روزینہ وہ جسکے حسن کو دیکھ کر اسکی طرف کھینچا چلا گیا اور غلطی کر بیٹھا یا زری جسکی صورت دیکھے بغیر اسکے بنا رہنا مشکل ہوگیا کتنی اچھی فنکار تھی نہ آہٹ بھی نہیں ہونے دی کہ دو لوگ بن کر میری زندگی میں رہ رہی ہے شہر میرے برابر بیٹھنے والی گاوں میں میرے جوتوں کو ہاتھ لگانے سے دریغ نہیں کرتی تھی شہر میں مسٹر ٹاپر کہنے والی یہاں چھوٹے سائیں کے راگ الاپتی تھی واہ زری واہ بڑے سے بڑا اعزاز بھی تیرے لیے کم ہے زری پر میں کیا کرو ؟ کیا کروں میں کس سے محبت کروں کیا دیکھوں تیری محبت یا تیرا دھوکا میری تڑپ دیکھ کر بھی اپنا چہرا نہیں دیکھایا!” سر ہاتھوں میں گرائے وہ بیڈ پر بیٹھ گیا آنکھیں لال ہوگئی تھیں رات تھی کے کٹ ہی نہیں. رہی تھی پھر آخر سورج کو رحم آیا تو پہلی کرن دیوار کے ساتھ سر گھٹنوں میں دیے زری پر پڑی وہ روتے. روتے وہیں سو گئی تھی دروزے پیٹنے کی آواز پر اسکی آنکھوں کھلی اٹھی خود کو کمپوز کیا دروازہ کھولا “کشمیراں تھی ” چھوٹی سرکار چھوٹے سائیں کہاں ہیں ڈریور کہ رہا تھا وہ اسنے رات کو باہر جاتے دیکھا ” اسکی بات سن کر وہ حیران ہوئی وہ حویلی سے ہی چلے گئے ہیں ” وہ ۔۔۔۔وہ رات کو انھیں کوئی ضروری کام تھا اسلیے چلے گئے تھے !”
” اچھا میں تجھے تیار کردوں کچھ عورتیں آئی ہیں تجھے دیکھنے وڈی سرکار کی رشتہ دار ہیں ۔۔۔”وہ اسے تیار کرکے نیچے لے گئی آسمان رنگ کے جوڑے میں وہ نہایت حسین لگ رہی تھی عورتیں گھونگھٹ اٹھاتی ماشااللہ کہتی تحفہ دیتی اور بیٹھ جاتی ۔” شہریار حویلی کے باہر مسلسل اسکا فون ملا رہا تھا ” اتنی صبح وہ باہر کیوں چلا گیا کیا ہوا تھا اسے پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی ۔
” شناور دلبند کہاں جاسکتا ہے تمہارے خیال ؟”
” چھوٹے سائیں دوسری حویلی گئے ہونگے وہ آکثر اپنے ضروری کام کا سامان وہیں رکھتے میں دیکھ آوں !” شناور جانوروں کا کام ہی کررہا تھا جب اسنے مخاطب کیا ” نہیں تم مجھے راستہ سمجھا دو میں چلا جاتا ہوں !” شناور نے اسے راستہ سمجھا دیا تھا گاڑی لیے وہ دس منٹ میں دوسری حویلی پہنچ گیا تھا جہاں نفیس چاچا پودوں کا پانی لگا رہے تھے ۔” چچا دلبند یہی ہے؟” نفیس نے ایک نظر اس شرٹ پینٹ پہنے لڑکے کو دیکھا چھوٹے سائیں کے دوست ہیں ۔” جی بابو کل رات سے ادھر ہی ہیں ۔” اثبات میں سر ہلاتا اندر چلا گیا وہ ڈرائنگ روم میں زمیں پر غیر مرائی نقطے کو گھور رہا تھا ” دلبند تم یہاں ہو اور فون کیوں نہیں اٹھا رہے ؟” اسنے نظر اٹھا کر شہریار کو دیکھا ” تجھے پتہ ہے میرے ساتھ کیا ہوا ہے ؟”
” دھوکا ! دھوکا ہوا ہے تیرے ساتھ !” اسکے پاس آکر بیٹھا پر اطمینان لہجے میں بولا مگر اسکی تو حیرت کی انتہا تھی ” تجھے پتہ تھا ؟”
” ہاں مجھے پتہ تھا کہ زری ہی روزینہ ہے !” اسنے اسکے بے رنگ چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا اسکی آنکھوں میں خون اترنے لگا تھا ” کب سے ؟”
” میلے والے دن ان عورتوں کے گروپ میں تو نے سچ میں روزینہ کو ہی دیکھا تھا میں نے دیکھا تھا میری بات بھی ہوئی تھی اس سے میں نے اس سے کہا تھا کہ تمہیں بتا دے مگر اسنے مجھے یہ کہہ چپ کروا دیا کہ وہ تمہیں خود بتائے گی جب سہی وقت آئے گا وعدہ کیا تھا اسنے مجھے اسلیے میں اس رات گاوں سے چلا گیا ۔” اسکے اصل الفاظ وہ ہضف کرگیا تھا ۔اسنے غصے سے ٹانگ ٹیبل پر مار کر اسے دھکیل دیا تھا ” میرے علاوا سب نے دیکھا تھا میری ملکیت مجھ سے چھپی تھی ۔”
” دیکھ دلبند میں جانتا ہوں جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا مگر تو یہ سوچ وہ تیرے پاس ہے تیرے اپنی جانا تو خدا سے مانگتا رہا سوچ اس دن اگر تو گاوں میں نہ ہوتا اسکا نکاح کسی اور ہوجاتا تو برداشت کرپاتا تجھے تو خدا کا شکر کرنا چاہیے کہ اسنے تیرے قسمت میں لکھ دی وہ اسکی کوئی مجبوری ہوگی وہ نہیں بتا پائی مشکل ہوتا ہے جس انسان پر بھروسہ کرکے ٹوٹا ہوں دوبارہ اسکا سامنا کرنا مشکل ہوتا ہے اور لڑکیاں تو ویسے بھی نازک ہوتی ہیں وہ ڈر گئی تمہارے اس رد عمل سے مجھے پتا ہے تو نے اسکے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا ہوگا مگر ایسے حویلی چھوڑ کر یہاں نہ رہ دیکھ مہمان بہت ہیں بات محو گفتگو بن جائے گی اٹھ مل کر بعد میں دونوں حل کر لینا !” اسکے بازو کو کھینچتا وہ خود اٹھ گیا مگر وہ نہیں ہلا ” مجھے نہیں جانا وہ بھی وہیں ہوگی !”
” دلبند اسکا نہیں تو ان چہ مگوئیوں کا سوچ جو تیرے غیر موجودگی میں حویلی کے خلاف ہو گی اٹھ چل !” اسے گھسیٹتا باہر لایا گاڑی بٹھایا اور واپس لے آیا آتے ہی نظر سب سے پہلے آسمانی گھونگھٹ پر پڑی گود میں پڑے ہاتھ آج بھی ایک دوسرے کو نوچنے میں لگے تھے ۔
“ارے دلبند پتر تو آگیا آجا زری کے ساتھ بیٹھ جا !” اسکی خالہ اسے کھینچ کر صوفے پر لے آئی اور بیٹھا دیا زری کی دل کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی اسنے ایک نظر خود میں سمٹتے وجود کو دیکھا اور منہ پھیر گیا۔
انھیں دعائیں دینے کے بعد کھانا کھانے کے بعد وہ عورتیں چلی گئی تھیں کشمیراں اسے کندھوں سے پکڑ کر اٹھاتی اوپر لے گئی وہ اٹھ کر پھر باہر جانے لگا جب وڈے سائیں نے کسی ضروری کام سے روک لیا انکے بتائے کام کرتے اسے رات ہوگئی تھی اماں سائیں نے منع بھی کیا تھا مگر وہ نہیں رکا کاموں سے فارغ ہوکر رات گئے وہ اپنے کمرے میں آیا وہ کمرے میں نہیں تھی اسکی غیر موجودگی اچھی بھی نہیں لگی تھی مگر کوئی رد عمل بھی نہیں دیا جوتے اتارتے اسکی کانوں میں پازیب کی جھنکار سنائی دی نظر اٹھا کر دیکھا تو سادہ سی فراک میں دوپٹہ سر پر اوڑھے کھانے کی ٹرے لیے کھڑی تھی گھونگھٹ سے عاری معصوم ڈرا ہوا چہرا اسکے دل میں اتر گیا تھا ڈرتی ڈرتی اندر آئی ” کک۔۔۔کھانا ۔۔۔۔۔اماں سائیں ۔۔۔۔کک۔۔کہا تھا تم دے ۔۔۔۔دینا اسلیے۔۔۔۔جاگ ۔۔جاگ رہی تھی ۔۔۔۔آ۔۔۔آپ کھالیں میں برتن لے جاوں گی ۔! جلدی سے بات ختم کرتی مڑ گئی ” مجھے بھوک نہیں ہے لے جاو اسے !”
” سس۔۔۔سویرے سے کک۔۔۔کچھ نہیں کھایا آپنے کھالیں ورنہ صحت۔۔۔خ۔۔۔۔” وہ ایک جھٹکے سے وہ اسے نہایت قریب آگیا تھا اسکے آنکھوں سے جھلکتے غصے کو دیکھ کر کانپ گئی تھی ” بس کرو یہ فکر کا ڈرامہ کرنا اور جاو یہاں سے نیند بھوک پیاس چھین کر ہمدرد بن آئی ہو جاو !” اسکی دھار سے ڈر گئی تھی اسلیے الٹے قدموں واپس چلی گئی اماں سائیں واپس اپنے کمرے میں جارہی تھیں نیند سے بوجھل آنکھیں ” زری پتر تو کہاں جارہی ہے دلبند آگیا ؟”
” جی اماں سائیں آگئے ہیں انھیں کھانا بھی دے دیا ہے اب کمرے میں جارہی ہوں”اسنے جلدی سے بات ختم کرنی چاہی اور آگے بڑھ گئی انھوں دوبارا کھینچ کر اپنے سامنے کرلیا ” ادھر کس کمرے میں جارہی ہے تیرا میرا تو اس طرف ہے اپنے میاں کے کمرے میں جا دیکھ اسنے کھانا کھایا یا نہیں ؟”
” اماں سائیں انھوں نے مجھے کھا جانا ہے مجھے نہیں جانا! یہ بات اسنے نہایت مدھم آواز میں کہی تھی مگر اماں سائیں کے کہنے پر وہ چپ چاپ واپس چلی گئی آندر وہ بازو آنکھوں پر رکھے مدھم سے لیمپ آن کیے لیٹا تھا وہ دبے پاوں اندر آرہی تھی بلکل ویسے جیسے پنک پینتھر آتا تھا اپنے سپیشل چوروں والے میوزک کی طرح یاد آیا وہ جاگ رہا تھا اسے آتے ہوئے اسنے دیکھ لیا تھا مگر کچھ کہا نہیں وہ اسے دیکھتے کوئی شور کیے بغیر آرہی جب ماتھا الماری میں میں ٹھوک بیٹھی ” آئی! ماتھا رگڑتی نہایت دھیمی آواز میں چیخی دلبند کے چہرے پر ایک شرارتی سی مسکراہٹ آگئی تھی آگے بڑھی آہستہ سے الماری کھولی بستر نکالا اور صوفہ دیکھا اور لیٹ گئی چادر منہ تک تان لی ” شکر ہے سو رہے ہیں ورنہ کھا ہی جاتے صبح انکے اٹھنے سے پہلے ہی چلی جاوں گی ۔۔” تکمینے لگاتی نیند کی وادیوں میں چلی گئی کافی دیر تو اسے ایسے ہی دیکھتا رہا ” چورنی سب چرا کر لیجاتی ہے غصہ بھی مگر اتنی آسانی سے تو نہیں کچھ تو تنگ کرنا میرا بھی حق بنتا ہے .” مسلسل پر سکون سانسوں کی آواز آئی تو اٹھا نیچے اسکے بیٹھ کر چادر آہستہ سے اسکے چہرے سے ہٹائی آگے آئی کچھ آوارہ لٹوں کو پیچھے کیا “تم آج بہت اچھی لگ رہی تھی جب کھانا دینے آئی تھی غصہ کیا سوری مگر تم ڈزرو کرتی تھی اتنا بڑا گیم کیا میرے ساتھ دنیا والے کہتے ہیں محبت صرف ایک بار ہوتی ہے مگر عجیب بات ہے مجھے دوسری بار بھی ہوئی تو تم ہی نکلی خوش قسمت ہوں میں !” نرمی سے اٹھایا اور بیڈ تک لے آیا لیٹااسکے ماتھے کو لبوں سے چھو کر دور ہوگیا ” گڈ نائٹ!” اسکے پہلو میں لیٹے ایک بازو اسکے اوپر رکھے سو گیا۔
