Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mukhra Episode 18

Mukhra by Bint-e-Aslam

اسکے جانے کے بعد وہ بیڈ پر ڈھے سا گیا تھا ” یعنی میری محبت کا رشتے کے بغیر وجود نہیں ہے حرام ہے اسے سکون نہیں اسکی سانسوں میں زہر بھرا تھا میں نے اور میں ڈیڑھ سال سے اپنا آپ سوچتا رہا ایک بار بھی اسکی جگہ پر اپنے آپ کو رکھ نہیں سوچا وہ تو پہلے اس چیز بچ رہی تھی میں نے بھی وہی کیا تھا تو داغ دار ہی کیا مگر وہ حلال کرنے کا موقع کیوں نہیں دے کر گئی کیوں یقین نہیں کر پائی کرتی بھی کیسے اس وقت مجھ میں اسفندیار میں کیا فرق تھا ۔” عرصے بعد اس الجھن کا جواب اسی سے ملا تھا جس نے الجھن میں ڈالا تھا ۔انکھیں بند کیں آنسوں کا ریلا بستر بھگو رہا تھا ۔

کسے پوچھو ہے ایسا کیوں ۔۔۔

بے زبان سا یہ جہاں ہے ۔۔۔

خوشی کے پل کہاں ڈھونڈو۔۔۔

بے نشاں سا وقت بھی یہاں ہے ۔۔۔

جانے کتنےلبوں پر گلے ہیں ۔۔۔

زندگی سے کئی فاصلے ہیں ۔۔۔

کیوں سجتے ہیں سپنے یوں آنکھوں میں ۔۔۔۔

لکیریں جب چھوٹے ان ہاتھوں میں یوں بے وجہ ۔۔۔

جو بھیجی تھی دعا وہ جاکے آسمان سے یوں ٹکرا گئی ۔۔

کہ آگئی ہے لوٹ کے صدا ۔۔۔۔

اپنے کمرے میں دروازہ بند کیے نیچے بیٹھی رو رہی تھی ” کیوں ۔۔۔چھوٹے سائیں وہی سوال آپ نے پوچھا جس سے ڈیڑھ سال سے بچ رہی تھی کہ میں نے آپ کو موقع کیوں نہیں دیا کیسے بتاوں ایک لڑکی کے لیے کتنا مشکل ہوتا اس انسان پر یقین کرنا جس سے وہ محبت کرتی ہو اعتبار کرتی ہو وہ انسان اسکے ساتھ یہ کرے تو سب سے اعتبار اٹھ جاتا ہے تھک گئی تھی میں آپکی زندگی میں دوہری شخصیت بن بن کر سوچا اس گناہ کو جواز بنا کر روزینہ دلبند کی زندگی سے چلی جائے گی اور زری کو چھوٹے سائیں کے سامنے گھونگھٹ اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔۔۔” نظر آسمان کی طرف اٹھا لی ” مگر کیا کھیل کھیلا انھیں کے قدموں میں لاکر پٹک دیا ہے دلبند سے روزینہ جان چھڑا کر خوش ہوگئی تھی تکبر آگیا تھا دلا دی نہ زری کو اسکی اوقات یاد ہوگئی خاندانی غلامی حلال بن گئی زری چھوٹے سائیں کی کنیز ۔۔۔”

سانسوں نے کہاں دل چھوڑ دیا ۔۔۔۔

کوئی راہ نظر میں نہ آئے ۔۔۔۔

دھڑکن نے کہاں دل چھوڑ دیا ۔۔۔

چھوٹے ہوں جیسے میرے سائے۔۔۔

یہی بار بار سوچتی ہوں تنہا میں یہاں ۔۔۔

میرے ساتھ ساتھ چل رہا ہے یادوں کا دھواں ۔۔۔

آنسو صاف کیے اور بستر پر لیٹ گئی نیند کہاں آنی تھی بس فورمیلیٹی وہ ابھی بھی بستر پر ٹوٹ کر بکھرا تھا آج اس دشمن کی ٹوٹ کر یاد آرہی تھی جب اسکی آواز آئی ” سو گئے مسٹر ٹاپر !٬ اسنے ایک دم چہرے سے ہاتھ ہٹایا ” روزینہ تم سچ میں کیوں نہیں مجھے پتا ہے اب بھی میرا خیال ہی ہو تمہیں چھو گا تو مٹ جاو گی مجھے تمہیں چھونا ہے پلیز ۔۔۔۔۔۔” جب اسنے ہاتھ بڑھایا اور وہ دیوانوں کی طرح اسکے پیچھے چل دیا راہدوریوں سے گزرتی اسے اپنے پیچھے لگائی نیچے لے آئی زری کے کمرے کے قریب مگر وہ کمرے میں نہیں تھی نیچے سیڑھیاں اتر رہی تھی وہ بھی اس سیراب کا پہچھا کرتا نیچے اترنے لگا پیر لڑکھڑیا اور سیڑھیوں سے گرنے لگا تبھی زری نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا ورنہ وہ اوندھے منہ نیچے گرتا ” چھوٹے سائیں آپ کہاں جارہے ہیں کچھ چاہیے کیا ۔” ہاتھ سے بازو پکڑ کر سنبھالا ہاتھ اسکے ہاتھ میں تھا ایک جھٹکے سے ہاتھ کھینچا ” کچھ نہیں چاہیے جو چاہیے وہ کبھی نہیں مل سکتا !” دبے ہوئے غصے میں کہتا اوپر چلا گیا ” چھوٹے سائیں روئے کیوں کہیں میری وجہ سے بتا دوں کہ میں ہی روزینہ ہوں نہیں سب پتا چل جائے گا کہ اس گھونگھٹ کے پیچھے ہمیشہ سے ہی روزینہ تھی اور مجھے بتایا نہیں پتا نہیں وہ کریں گے کیا ؟”جھنجھلاتی چلی گئی ۔

ساری رات وہ سویا نہیں تھا بیٹھ کر گزاری تھی ” نہیں روزینہ تم نہیں جاسکتی میرا ہاتھ زری کو تھاما کر نہیں جاسکتی تمہیں واپس آنا ہوگا میں جلوں گا تڑپوں گا میری تڑپ دیکھ کر خدا کو تمہیں مجھے واپس دینا ہوگا کوئی نہیں ہے جو تمہاری باتیں کریں مجھ سے کوئی نہیں سنتا کوئی دوست نہیں ۔۔۔۔” زری چائے کی ٹرے لیے اندر داخل ہوئی وہ صوفے پر بیٹھا تھا ” یہ میری بچپن کی دوست یہ تو سنے گی ۔” ٹرے میز پر رکھ کر وہ خود نیچے بیٹھ گئی چائے بنانے لگی ” زری تیرے پاس وقت میری بات سنے گی ۔”وہ جو ابھی ارتشا سے سر کھپا کر آئی تھی جھنجھلاتی بول پڑی ” سنائے چھوٹے سائیں کنیز ہوں سن ہی سکتی ہوں !” مگر وہ اسکے لہجے کو نظر انداز کرگیا۔

“میری محبت کا نام روزینہ تھا ۔۔” پہلے جملے پر ہی ہاتھوں سے کپ لڑکھڑا گیا تھا ” وہ نہ ایسی تھی جیسے نرم کپاس کے پھول نہیں ہوتے اتنی معصوم تھی جب میں نے اسے پہلی بار دیکھا تھا ایٹریکشن ہوئی تھی ایسے جیسے میرے لیے آئی ہے مگر ایک چھوٹا مزاق کر گئی مجھ سے محبت کا ناٹک!…..اسکے ہاتھ کانپنے لگے تھے اسکی داستان اسی کو سنا رہا تھا ” اور تب پہلی بار میں نے اسکا مکھڑا دیکھا یاد بچپن میں اماں سائیں کہانی سناتی تھیں کہ ایک بار سیف الملوک کی ایک پری زمین پر رہ گئی تھی اسے ایک لکڑہارا ملا تھا لگا تھا وہی ہے ہری آنکھیں قدرت کی پوری ہریالی چھپا رکھی تھی لمبے بال منت کی کالی ڈوری جیسے لگتے تھے تب اس سے محبت ہوگئی مگر جب اسنے میرے کہنے پر پھر سے پردہ شروع کیا عشق ہوگیا مجھے اس سے !” وہ چند لمحے کو رکا جیسے وہ تمام منظر پھر یاد کر رہا ہو فلم تو اسکی آنکھوں میں بھی چل رہی تھی ،” پھر ہم نے ایک ڈرامہ کیا میں پنوں بنا تھا اور وہ سسی اسے منانے کے لیے تیرا طریقہ اپنایا میں نے دھرمندر بن گیا چھت پر چڑھ گیا اتنا ڈرامہ لگایا آخر وہ مان گئی پھر پتہ کیا کہتی کہتی انکا درد سمجھنا ہے نہ پنوں کو سسی بنا پڑے گا ۔۔۔” اس سے آگے الفاظ اٹکنے لگے تھے آنسوں نکل آئے تھے اور نیچے اسکے جوتے پر زری کے اشک گر رہے تھے اسنے اپنے پلو سے وہ پانی صاف کیا ” پھر۔۔۔پھر کیا ہوا چھوٹے سائیں !

” بن۔۔۔۔بنا گئی سسی پھر تو رہا اسکی طرح ریت میں ڈھونڈ تو رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔اسکے نشان ملتے ہی نہیں نظر آتی ہے مگر چھو نہیں پاتا اسے ہنستی ہے مجھ پر کیسی محبت تھی میری خوشبو بھی پہچان نہیں پاتے اگر میں آس پاس ہوئی تو مگر وہ خوشبو جس کا احساس ہوتا وہ تو میرے اندر ہے باہر تو ہوا میں نہیں ہے ۔”

” ہاں چھوٹے سائیں ہیں مگر آپ غلط فہمی میں پہچان نہیں پاتے میں ہوں تو آپکے پاس آپکے نکاح میں ۔۔۔” زیرلب بڑبڑاتی جارہی تھی تھوڑا سا گھونگھٹ اٹھا کر دیکھا اسنے چہرا ہاتھوں میں چھپایا ہوا تھا ایک لمحے کے لیے تو دل کیا کہ دکھا دے ہاتھ پردے تک پہنچ بھی گیا مگر ڈر جب حاوی ہوجائے تو کچھ کرنے نہیں دیتا ” یہ کیا کر رہی ہے زری دھوکہ کچھ بھی کہنے سے پہلے کہہ دیں گے دھوکا انھیں نہیں مجھے تو پتا تھا ۔”

ہمت کیا اور زبان کھولی ” آئے گی چھوٹے سائیں آئے گی مگر جب وہ آئے گی کوئی مجبوری کوئی ڈر بتائے گی تو سنے گے ؟٬

” نہیں ! اسنے ایک حرفی جواب دیا تھا” جب وہ واپس آئے گی پہلے چند دن تو اسے اپنے سامنے بیٹھا کر نظر بھر دیکھوں گا پھر کوئی اسے ہاتھ لگا کر محسوس کروں گا کہ اسکے سیراب کی طرح غائب تو نہیں ہوگی پھر اسے سب بتاوں گا کہ اسنے کیا ظلم کیا مجھ پر جی بھر کر شکایتیں لگاوں گا اسے اسکی ہی پھر اسے اپنی محبت کا احساس دلاوں گا ایک ایک خواہش ایک ایک لفظ ایک ایک رنگ جو اسکے لیے بچا کر رکھا اسے دکھاوں گا رنگ دوں گا پھر سکون سے بیٹھ کر بڑھاپے میں اسے سنا ہی تو ہے بس وہ آجائے ۔” اسکے جواب اسے درگور کرتے جارہے تھے مگر یہ لفظ روزینہ کے لیے ہیں اور میری حقیقت زری ہے یہ گھونگھٹ تبھی ہٹے گا جب آپکو زری سے محبت ہوگئی جب اپکی محبت گھونگھٹ والی زری ہوگی ۔” ایک ضد وہ کرگیا تھا ایک ہٹ دھرمی یہ موم بتی جب جلتی ہیں نہ تو شعلے کی تپش سے موم بھی پگھلتی یعنی جب ہمارے اندر رہنے والا جلنے والا دھاگہ تکیلف میں ہو تو اسے اپنے اندر رکھنے والا بھی سکون سے کہاں رہتا تھا دلبند زری کے اندر تھا اور روزینہ دلبند کے سکون فنا ہے !” پیروں کو ہاتھ لگاتی اٹھ گئی جب اسنے پکڑ لیا ہاتھ ملا لیا ” فلموں میں تو دوست ہاتھ ملاتے ہیں پیر تو نہیں پکڑتے ۔۔”مگر اسکے ہاتھوں کے لمس سے دل دھڑکا تھا اسلیے چھوڑ گیا اور وہ چلی گئی ” ایسا کیوں ہوا شاید حائل ہوئے رشتے کا اثر ہے ۔” دل ہلکا ہوگیا تھا آج عرصے بعد کسی سے اسکی بات کرنے سے ایسا لگا تھا وہ آس پاس ہے ” تھینک یو زری !”

دسمبر کے خنک دن میں بارش ہورہی تھی ارتشا حویلی سے باہر گلابوں پر گرے قطروں کو دیکھ رہی تھی دل تو زری کا بھی مچل رہا تھا مگر سردی بہت تھی اسلیے سکون سے کام کررہی تھی جب ارتشا کی نظر اس پر گئی ” مجھے ڈانٹا تھا دلبند نے یہ کہہ کر کے میری بیوی ہے اتنی اوقات اسکی ابھی بتاتی ہوں اسکا مقام ۔۔۔۔” زری بات سنو !” وہ جو ڈسٹنگ کر رہی تھی خاموشی سے اسکے پاس آگئی ” باہر وہ باغ میں پھول دیکھ رہی ہوں مجھے وہ لاکر دو !” زری نے کھڑکی سے باہر دیکھا ” ارتشا جی بارش ختم ہوتی میں لا دیتی ہوں سردی بہت ہے باہر !”

ارے بارش والے ہی چاہیے تب تک ان پر موجود وہ قطرے ختم ہوجائیں گے اور تم کنیز ہو جو میں کہوں وہ کرو جاو !”

” مگر ارتشا جی ۔۔۔۔” کہا نہ جاو ! اسنے اونچی آواز میں کہا اور شال سنبھالتی باہر آگئی ٹھنڈی پانی کی بوندیں جسم پر پڑتے ہی کپکپاہٹ طاری ہوگئی تھی پھول بھی ضد پر اڑ گئے ٹوٹ ہی نہیں رہے تھے کانٹوں سے ہاتھ زخمی ہوا سو الگ جسم کانپتا جارہا تھا اور پھول ٹوٹ نہیں رہے تھے گھونگھٹ کے پیچھے دانت بجنے لگے تھے جب دلبند حویلی میں داخل ہوا چھتری تانے فون پر بات کررہا تھا جب نظر کانپتی زری پر پڑی فون چھوڑ کر اسکی طرف بھاگا آخر تھک کر گرنے والی تھی جب اسنے پکڑ لیا اٹھایا اسی حالت میں اندر لے آیا ” کشمیراں ! کشمیراں ! آوازیں دیتا آرہا تھا ادھر ارتشا کا گلہ سوکھ گیا تھا ” یہ تو بے ہوش ہی ہوگئی اتنی کمزور تھی ۔” کشمیراں اسکے ہاتھ پکڑتی آئی دلبند نے اسے بیڈ پر لیٹایا کپڑے گیلے تھے ” کشمیراں اسکے کپڑے بدل پہلے !” بات سمجھ کر اسنے گھونگھٹ ہر ہاتھ ڈالا جب وہ رخ موڑ گیا کپڑے بدل کر مجھے آواز دینا میں آیا ۔۔۔۔” پیچھے زری کا چہرا کھلا پڑا تھا اور وہ فسٹ ایڈ باکس لینے چلا گیا تھا کشمیراں نے لائٹ آف کر کے اسکے کپڑے بدل دیے تھے گھونگھٹ بھی کردیا تھا آدھی بے ہوش آدھی ہوش میں بس کانپتی جارہی تھی وہ اسکے ہاتھ رگڑ رہا تھا اور کشمیراں اسکے پیر ارتشا باہر ڈری ڈری سی دیکھ رہی تھی کمبل رضائی ڈبل اسے اوڑھا دی گئی تھی مگر اسکی کپکپاہٹ کم ہی نہیں ہورہی تھی ” یہ باہر کیا کر رہی تھی !” اسنے چیخ کر پوچھا اسکی گرج سے باہر ارتشا بھی کانپ گئی تھی ” پتا نہیں چھوٹے سائیں باہر ہی تھی باغ میں کب گئی پتہ ہی نہیں چلا !” دوسری کنیز گھونگھٹ اوڑھے اسے جرابیں پہنانے لگی جب اسنے بتایا ” میں اور زری باہر سے صفائی کررہے تھے جب ارتشا جی زری کو باہر پھول لینے بھیجا اسنے منع بھی کیا مگر ارتشا جی نے ضد کی تو وہ چلی گئی ۔”

اسنے خونخور نظروں سے دور کھڑی ارتشا کو دیکھا جو وہاں سے بھاگ گئی اسکی کپکپاہٹ میں کوئی کمی ہی نہیں آرہی تھی ہونٹ نیلے ہوگئے تھے ” اتنی بارش میں ڈاکٹر بھی نہیں آئے گا۔” کشمیراں تو رونے لگی تھی ۔ اسکی حالت دیکھ کر آخر اسے وہ حق استعمال کرنا پڑا جو اسکی زندگی بچا سکتا تھا ” باہر جاو ! اسنے چیخ کر کہا ” یہ چھوٹے سائیں !

“کہا جاو ! ۔۔۔۔۔دوبارا چیخ کر کہا وہ دونوں چلی گئی تھی “