Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mukhra Episode 2

Mukhra by Bint-e-Aslam

دلبند جانے سے پہلے اپنے مویشیوں کے پاس آیا تھا ایک گائے کے سامنے اسکے ماتھے پر ہاتھ پھیر رہا تھا اور وہ خوشی سے پونچھ ہلا رہی تھی ” ادھر نہ اماں سائیں کے بعد سب سے زیادہ تجھے یاد کروں گا میں یہ شہری لوگ تیری عظمت کیا جانے کہ تو کتنے احسان کرتی ہے ہم پر اپنے بچوں کی طرح دودھ پلا کر پالتی ہے اور ہماری دعا دارو ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے قصائی کی چھری کے نیچے آجاتی ہے مگر افف نہیں کرتی یہی خاص بات ہے کہ تجھے خدا کی راہ میں دیا جاتا ہے زبان نہ عقل مگر جو تجھ سے پیار کرے لاڈ کرتے ہے تو ان سے .” وہ اس سے باتیں کررہا تھا. اور وہ ایسے پونچھ ہلا رہی تھی جیسے سب سمجھ آرہی تھی ۔

” اب چلیں چھوٹے سائیں وقت ہورہا ہے ۔” پیچھے شناور مسکراتا بیگ لیے کھڑا تھا وہ شرارت سے اسکے پاس آیا ” مل گیا وقت تجھے اپنے چھوٹے سائیں سے ملنے کا مجھے تو لگا بختو کے ساتھ بخت ہی بنا رہا ہوگا ۔” اس پر وہ ہنس کا سر جھکا گیا ۔وہ لوگ نکلنے لگے جب شناور کو کچھ یاد آیا ” چھوٹے سائیں کچھ بھول تو نہیں رہے ؟”

” نہیں بلکل نہیں بول نعرا حیدری ! ۔۔۔” یاعلی!!!!” نعرا لگا کر وہ نکل گئے ۔

علی مولا علی مولا علی دم دم ۔۔۔

علی مولا علی مولا علی دم دم ۔۔۔۔

” سن بختو یہ دودھ نہ شریفاں خالہ کے پاس لیکر جانا ہے آیا دے آئیں ماما آتا ہوگا میں نے چلی جانا ہے ۔” دودھ کی بالٹی ڈھک کر اٹھائی نکلنے لگی جب بختو نے ہاتھ پکڑ لیا ” کچھ بھول تو نہیں رہی ؟”

” نہیں بلکل بھی نہیں بول نعرا حیدری!….” یا علی !!!” کہتی وہ نکل گئی ۔

علی مولا علی مولا علی دم دم۔۔۔

علی مولا علی مولا علی دم دم۔۔۔۔

وہ دونوں تانگے پر سوار تھیں زری نے پھر گھونگھٹ نکال۔رکھا تھا دلبند گاڑی میں مسکرا رہا تھا جب دونوں گاڑیاں کراس کر گئی دلبند نے ایک بار غور سے اس گھونگھٹ والی لڑکی کو دیکھا اور مسکرا دیا جب کہ زری کا دل زور سے دھڑکنے لگا جب اسنے تانگہ روکا ” چاچا رک جائیں !۔۔چاچا یہ جو سامنے گاڑی گئی ہے کون تھا ۔”

” یہ چھوٹے سائیں کی گاڑی تھی شہر گئے ہیں پڑھنے کے لیے ۔۔۔”تانگے سے اتری گاڑی کے ٹائروں کی مٹی ہاتھوں میں اٹھائی اور تانگے میں بیٹھ گئی ” میری اوقات بس اتنی ہے چھوٹے سائیں !”.

علی مولا علی مولا علی دم دم

وہ شہر پہنچ گئے تھے شناور اسے چھوڑ کر جاچکا تھا کل سے کلا سزز سٹارٹ تھیں تھکا ماندہ ہوسٹل کے کمرے میں پڑا تھا آنکھیں بند کی تو ایک گھونگھٹ زدہ چہرا سامنے آگیا ” وہ تو ہی تھی نہ زری آج بھی مجھے تیرا چہرا دیکھنے کی خواہش ہے شناور نے بتایا تھا کہ بختو کہتی ہے جھنگ سیال کی ہیر سے سوہنڑی ہے تو !

خیر میں تو شہر آگیا یہاں اور مجھے نہ روزینہ سے ملنا ہے کون ہے وہ جس کے نام پر میرا دل اچھل جاتا ہے ۔” انھیں سوچوں سے جونجتا سو گیا اگلے دن اٹھا تو شہری بابو لگ رہا تھا بلو جینز پر وائٹ شرٹ پہنے بالوں کو جیل سے بنائے وہ دیسی بابو ہی تو تھا جو انگلیش فراٹے دار بولتا تھا یونی آیا یہاں تمام سٹوڈنٹ سامنے موجود تھے مگر اسکی نظر متلاشی تھی وہ نہیں تھی ” تم دلبند رضا شاہ ہو نہ جس نے اس سال ٹاپ کیا ہے !” ایک لڑکے نے مسکرا کر کہا ” جی میں ہی ہوں وہ !”

” مبارک بہت مبارک ہو وہ دیکھو وہ اسفندیار ہے جو تھرڈ آیا ہے ۔” اسنے سامنے کی طرف اشارہ کیا جہاں بلیک پینٹ بلیک شرٹ لمبا قد کندھے میں بیگ اٹکائے تھوڑے لمبے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا محو گفتگو تھا ۔” اچھا جو لڑکی سیکنڈ آئی ہے روزینہ عارف وہ کہاں ہے ؟”

” بھئی اسکے بارے تم ان لڑکیوں سے پوچھو وہ اسکے ساتھ تھیں ۔” شکریہ ادا کرکے وہ ہچکچاتا ہوا آگے بڑھا ” ایکسکیوزمی ! تینوں لڑکیاں ایک ساتھ پلٹی” آو مائی گاڈ دی ٹاپر دلبند رضا شاہ ! وہ چیخنے لگی تھیں جب وہ ڈر کر تھوڑا پیچھے ہوگیا ” جی شکریہ وہ۔۔۔۔جو لڑکی سیکنڈ آئی ہے روزینہ آپکی دوست وہ کہاں ہے ؟”

” ہاہاہاہا روزینہ مسٹر روزینہ کی شکل تو آج تک ہم لڑکیوں نے نہیں دیکھی تو آپ لڑکے ہو کر روزینہ سے ملنا چاہتے ہو شرعی پردہ کرتی ہے ایڈمیشن ادھر ہی لیا ہے اسنے یہ لو وہ آگئی .” اسنے سامنے گیٹ کی طرف دیکھا جہاں بائیک سے ایک سفید برقع پہنے سفید حجاب نقاب کیے پر کشش آنکھوں والی ہاتھوں پیروں تک کو چھپائے اندر آرہی تھی جس کی جانب سب متوجہ ہوگئے تھے حد کے اسفندیار بھی اسے ہی دیکھ رہا دلبند نے تو پلکیں بھی نہیں جھپکی تھیں . مثلت کے تینوں ٹکڑے ایک دوسرے کی جانب بڑھتے جارہے تھے کندھوں پر بیگ اٹکائے ۔

علی مولا علی مولا علی دم دم ۔۔۔

لکھ تے کروڑ وری آکھوں دم دم۔۔۔۔۔

علی مولا علی مولا علی دم دم ۔۔۔۔۔

وہ آگے بڑھے۔جب وہ دونوں کے بیچ سے برقع سنبھالتی نکل گئی اور وہ دونوں اسے تکتے رہ گئے جب اسفندیار دلبند کی جانب متوجہ ہوا ” دلبند رضا !” اسنے مڑ کر اسے دیکھا مسکراتا گول چہرا داڑھی کہ بغیر بھاری جسامت جو ہاتھ بڑھائے کھڑا تھا دلبند نے آخر ہاتھ ملا ہی لیا ” مبارک ہو !

” تمہیں بھی مبارک ہو دوست !” دلبند نے ازل سے معصوم چہرے سے کہا جس پر وہ مسکرا دیا یہ جانے بغیر کے یہ وہ دوستی سے جو خون سے رنگنے والی تھی ۔

کلاس میں بھی سب کا تعارف ہورہا تھا اور وہ دونوں روزینہ کو دیکھنے میں لگے تھے جب دلبند تو لیکچر کی جانب متوجہ ہوگیا مگر اسفند یار روزینہ کو ہی دیکھ رہا تھا ” کیا بات ہے اسفندیار کہیں محبت تو نہیں ہوگئی اس سے !”

” اپنے ہاتھوں سے اسکے برقع حجاب کی ایک ایک پٹی کھولنا چاہتا ہوں میں صرف ایک رات کے لیے باقی مجھ اس سے کوئی مطلب نہیں ۔”

” حیرت کی بات ہے تمہیں تیسرا مقام دے کس نے دیا جو انسان اتنی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی یہ نہیں جانتا ہے کسی لڑکی کے بارے میں بات کیسے کرنی ہے اسکی کیسے عزت کرنی ہے تو لعنت ہے اسی تعلیم پر ۔۔۔۔” اسفندیار کے پیچھے بیٹھے دلبند کو آگ لگ گئی تھی ۔

تمہیں اتنی آگ کیوں لگی ہے کہیں تمہیں تو محبت نہیں ہوگئی اس سے ؟” اسنے گہرا سانس لیکر روزینہ کو دیکھا جو نقاب کیے نظریں جھکائے کچھ لکھنے میں مصروف تھی سفید نقاب اور اسکی آنکھوں کے گرد رنگت یکساں تھی مگر آنکھیں ہی ڈبوئے جارہی تھی اسے ۔۔

میرا ہے پر مجھ سے چھپا ہے کیوں تیرا مکھڑا۔۔۔

” کسی مرد اور عورت کے بیچ کوئی رشتہ نہ ہونے سے پہلے بھی ایک رشتہ ہوتا جسے عزت ادب اور احترام کہتے ہیں ہماری اماں سائیں کہتی ہیں اصل مرد وہ ہے جسکی نظر عورت کو دیکھ کر جھکنا جانتی ہیں اسے عزت دینا جانتی ہے میرا اور انکا وہی رشتہ ہے احترام کا اور جہاں تک رہی محبت تو وہ قسمت ہے ۔”اسنے مسکراتے ہوئے اسکی بے عزتی کی تھی جو اسفندیار سمجھ گیا تھا گھورتا آگے دیکھنے لگا

کلاس کے بعد وہ باہر کی طرف جارہی تھی جب اسفندیار نے اسکا ہاتھ پکڑ نے کی کوشش کی مگر اس سے پہلے وہ چھوتا دلبند نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا اسفند یار نے ناگواری سے اسے دیکھا ” کہا نہ عزت کرنا سیکھو ورنہ دلبند لوگوں کے دل بند کرنا بھی جانتا ہے ۔”

یہ منظر اچانک مڑی روزینہ نے بھی دیکھ لیا تھا دلبند کی باتیں اسنے پہلے بھی سنی تھی اور اب بھی نقاب کے پیچھے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ آگئی تھی ” تمام مشرق مرد نہیں کھوئے ابھی ! چلی گئی ۔اسفندیار نے مسکرا کر اسے گلےلگایا ” یار تو تو غصہ ہی کرگیا یہاں یہ سب چلتا ہے ۔چل آیا کینٹین میں کچھ کھاتے ہیں ! وہ اسے گھسیٹ رہا تھا جب اسنے انکار کردیا وہ کتابیں اٹھائے میدان کی طرف بڑھ گیا ایک درخت ڈھونڈا فون نکالا اور اماں سائیں کو ،وڈیو کال کردی ” سلام اماں سائیں کیسی ہیں آپ !

” ہائے ماں صدقے جائے میرا رانجھا خیر خریت سے پہنچ گیا ؟” اماں سائیں نے سکرین میں سے ہی اسکی بلائیں کے لیں ۔

” ہاں جی اماں سائیں پہنچ گیا اور پہلا دن بھی اچھا گیا ہے اماں سائیں وہ لڑکی بھی مل گئی روزینہ عارف اماں وہ شرعی پردہ کرتی ہے بلکل ویسی ہے جیسی تو کہتی تھی اسکا مکھڑا کسی نے نہیں دیکھا ۔”

” اچھا پر میں نے تو پوچھا ہی نہیں تو دیکھنا چاہتا ہے ۔”

” نہ اماں مجھے کوئی لگاو نہیں اسکا چہرا دیکھنے میں مگر اماں یہاں بہت عجیب لڑکے بھی ہیں جو عجیب باتیں کرتے ہیں لڑکیوں کے بارے میں .”

” دیکھ دلبند اگر تیرے سامنے کسی لڑکے نے کسی لڑکی پرایک حرف بھی کسا اور تو چپ رہا تھا تو دیکھ اپنے باپ کا مرا منہ دیکھے گا !” وڈے سائیں نے سنجیدا چہرے سے کہا جو اچانک آگئے تھے ۔” عورتوں کی عزت مردوں پر امانت ہوتی ہے خیانت نہ کرنا دلبند !”

” جی ابا سائیں اسی لیے منہ توڑ جواب بھی دیا تھا میں جانتا ہوں کہ جس مرد سے باہر عورت محفوظ نہیں اسکا خطرا گھر پر بھی منڈلاتا رہتا ہے اچھا اماں سائیں میں فون رکھتا ہوں پھر بات کروں گا اسنے فون رکھ دیا جب اچانک درخت کے اوٹ سے نقاب پوش چہرا نکلا ” معزرت میں نے آپکی باتیں سن لیں ۔” اسے دیکھ کر اسکا دل بھی دھک سے رک گیا تھا “آپ کی اور اسفندیار کی باتیں بھی سنی میں نے سہی مقام ہے آپ دونوں کے وہ تیسرا رہ گیا اور آپ ہر سوچ کے ساتھ اول “

” بات مقام کی نہیں محترمہ مقام دیکھ کر سوچ نہیں آتی سوچ دیکھ کر مقام ملتا ہے ہمارےابا سائیں نے بچپن سسے سکھایا ہے کہ عورت سکون ہے اور ہمارے شاعر بھی تو کہتے ہیں وجود زن سے ہے تصوریریں کائنات میں رنگ اسکا مکھڑا ہی تو ہوتا ہے جسے دیکھ کر مرد اپنی تھکان بھول جاتا ہے اسے ہی زلیل کریں گے تو کہاں کے مرد ہیں کیا ظرف ہے ہمارا ۔

“بہت اچھی سوچ ہے آپکی دلبند آپکا نام بہت خوبصورت ہے دلبند یعنی پر کشش یعنی دل چرا لینے والا بلکل نام جیسے ہیں آپ ۔۔۔” اسے حیرت میں چھوڑ کر وہ خود بھی چلی گئی تھی برقع ہلاتی سنبھالتی ۔

کلاسزز شروع ہوگئی تھیں۔ اسفندیار جابجا روزینہ کے پیچھے رہتا تھا اور روزینہ معصوم خاموش دلبند کے پیچھے وہ سیڑھیاں اتر رہی تھی جب پیچھے سے اسفندیار اسے دیکھتا پیچھے آرہا تھا وہ ہڑبڑی میں آگے بھاگی جب اتر کر دلبند کے اندر لگ گئی اسکے سینے سے لگی ہاتھ پیچھے اسکی پشت پر باندھ لیے اسفندیار کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی ” دلبند یہ ۔۔۔۔یہ میرا پیچھا کرتا ہے ہانک لگاتا ہے تنگ کرتا ہے مجھے ڈر لگتا ہے اس سے ! “

دلبند نے نرمی سے اسے خود سے الگ کیا ” محترمہ آئیندہ ہمارے قریب ایسے مت آئے گا اور جائے یہاں سے !” اسنے دبے ہوئے غصے میں کہا تو وہ چلی گئی وہ اسفندیار کی جانب مڑا ” پہلے بھی کہا تھا اب بھی کہہ رہا میری معصومیت شریف پن صرف شریفوں کے لیے ہے ورنہ ابا سائیں نے گولی شہ رگ اور دماغ میں بھی اتارنی سکھائی ہے ۔”اسکی بات پر اسفند یار نے دو انگلیوں سے بندوق بنا کر اسکے ماتھے پر رکھی اور مسکرا دیا ” اور میرے ڈیڈ نے یہاں! “