Mukhra by Bint-e-Aslam NovelR50490 Mukhra Episode 20
No Download Link
Rate this Novel
Mukhra Episode 20
Mukhra by Bint-e-Aslam
زری ! زری! بختو بڑے دنوں کے بعد حویلی آئی تھی زری سے ملنے مگر سامنے دلبند کو گھونگھٹ کے نیچے سے دیکھ کر آواز تھوڑی مدھم کردی تھی جب دلبند کے کانوں میں اسکی پازیب کی جھنکار سنائی دی وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر باہر آگئی ” بختو تو پاگل ہے اتنی اونچی آواز میں صدا لگا رہی ہے میرا گھر نہیں حویلی ہے یہ وڈے سائیں کی ۔”
” اور تو اس حویلی کی چھوٹی سرکار بن گئی ہے چھوٹے سائیں کی زوجہ !” اسنے ہنس اسکے زور سے گلے لگایا ” بختو کی حالاتوں میں یہ شادی ہوئی ہے تو جانتی ہے کام بول آئی کیوں ہے ؟”
” زری گاوں میں نہ کل میلا لگ رہا ہے ہائے ڈولی وہ آسمانوں میں اڑتی ہے مزے کی ریڑھیاں کپڑے چوڑیاں زیور چاٹ گول گپے تماشے والے ۔۔۔۔”وہ حسرت بھری نظروں سے خلا میں دیکھتی بول رہی تھی
” رک رک بختو کسں سٹیش پر چڑھ گئی ہے تیری گاڑی تو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی !” اسنے اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑا ” تو آئے گی نا زری !”
” پتا نہیں چھوٹے سائیں اجازت دے یا نہیں اب تو انکی کنیز ہوں؟” اسنے کچھ سوچتے ہوئے بولا” کیا کنیز؟” بختو نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھا ” نن۔۔۔نہیں میرا مطلب وہ نہیں تھا اچھا تو جا میں کوشش کروں گی !” یہ کہہ کر اسنے ٹال دیا تھا اور اندر کی جانب چلی
” شہریار ہمارے گاوں میں ہر سال ایک میلا لگتا ہے دیکھے گا کل بہت مزا آتا ہے .” دلبند اور شہریار ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے جب وہ پاس سے گزری ” زری کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے بختو کیوں آئی تھی ؟”
” چچ۔۔۔چھوٹے سائیں وہ کل میلے کا بتانے آئی تھی !”
” ہاں کل چلی جاوں گی خود چچا کے گھر یا میں چھوڑ آو !” گھونگھٹ کے پیچھے آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھیں ایک مسکراہٹ آگئی تھی چہرے پر ” میں چلی جاوں گی شناور کو بول دوں گی مجھے چھوڑ آئے گا !”
” نہیں میں خود چھوڑ کر آوں گا اور شام میں لے بھی آوں گا ۔” اس بات پر اسنے اثبات میں سر ہلایا اور چلی گئی۔
” مجھے بھی دیکھنا میلا کل چلتے ہیں !” شہریار نے پرشوق لہجے میں کہا ” چل ٹھیک !”
وہ حویلی کے باہر نکلی ہی تھی کہ دلبند آگیا ” چلو زری گاڑی وہاں کھڑی ہے ۔”
” نہیں چھوٹے سائیں میں گاڑی میں جانا نہیں چاہتی مجھے تانگے میں جانا ہے !” اسنے حیرت سے اسے دیکھا ۔” جب ہماری گاڑی ہے تو دھول مٹی اڑاتے کیوں جائیں ؟”
” اسی دھول مٹی سے انسان کا تعلق ہے عجیب ہے انسان بھی پہلی اپنے دامن پر لگی مٹی سے نفرت کھاتا نقاہت دیکھتا ہے کسانوں مزودورں کے لگی دیکھ اسے گندا سمجھتا ہے اور مرنے کے بعد اسی مٹی میں کتنی ارام سے سو جاتا ہے اور مٹی ہم سے گھن نہیں کھاتی ہمیں قبول کرتی ہے تو کبھی کبھی ہمیں قبول کر لینا چاہیے میں تو چھٹیوں میں جب بھی گاوں آتی تھی سب سے پہلی اپنی گاوں کی مٹی کو اٹھا کر سینے سےلگاتی تھی اسلیے مجھے اسی دھول مٹی میں جانا ہے آپ آجاو گاڑی میں .”وہ جو مسکرا کر اسکی باتوں میں کھو سا گیا تھا اچانک ہوش میں آیا اور چابی جیب میں ڈالتا اسکے پاس آگیا ” آج میں بھی تانگے میں جاوں گا !”
” مگر چھوٹے سائیں گرمی بہت ہے اور۔۔۔۔۔”
” لو ابھی تو کہا اس دھول مٹی کو بھی اپنا لینا چاہیے تو نہیں چاہتے مرنے کے بعد مجھے جگہ نہ دے ۔۔۔” اسکی بات بھی اسے خاموش کر گئی تھی وہ دنوں ایک ساتھ حویلی سے باہر آئے تھے کچھ دور چلنے کے بعد انھیں تانگہ مل گیا تھا وہ چھڑنے لگی تھی مگر پائے دان تھوڑا اونچا تھا اور اسے کوشش کر تے وہ کب سے دیکھ رہا تھا آخر اسنےاپنا ہاتھ آگے کیا کچھ لمحے تو سوچتی رہی ” پکڑ لو لائسنس ہے ! اسنے کندھے اچکا کر کہا آخر اسنے ہاتھ تھام لیا اور پائے دان پر پیر رکھ سیٹ پر بیٹھ گئی وہ خودی سوار ہوگیا تھا ایک چھمک لگی اور گھوڑے کی ٹاپ اور اسکے گلے میں بندھی گھنٹی ساز بنانے لگی وہ پہلی بار گاوں کا ہر منظر آئینے کے بغیر دیکھ رہا تھا بچے سکول کی طرف بھاگتے بستے سنبھالے پیروں میں بوٹ نہیں ہوائی چیل پہنے لولی پاپ منہ میں دیے کچھ تو منہ میں انگوٹھا دیے جارہے تھے ایک بچی چار پانچ سال کی منہ میں انگوٹھا دیے ناک بہتی ہوئی بستہ سنبھالے جارہی تھی جب اسنے شرارت سے کہا ” زری گھونگھٹ اٹھا کر دیکھ سامنے تیرا بچپن ہے !” اسنے ایک آنکھ سے گھونگھٹ ہٹا کر دیکھا اور ساتھ ہی منہ کھل گیا ” چھوٹے سائیں ایسی نہیں دکھتی تھی میں میں تو بہت سندر تھی سکول کی مسٹر رانیاں بھی کہتی تھی کہتی تیری ہری…..” اس سے آگے وہ خاموش ہوگئی تھی اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” ہری کیا ؟”
” ہری چوڑیاں وہ بہت سندر لگتی ہے تیرے چٹے سپید ہاتھوں میں ۔۔۔۔” اسنے نظر گھما کر گود میں پڑے اسکے ہاتھوں کو دیکھا جہاں سپید ہاتھوں میں لال چوڑیاں دمک رہی تھیں ” سچ کہتی تھیں زری مجھے تو اپنا ۔۔۔۔۔” پھر کچھ سوچ کر چپ ہوگیا کہیں اسے برا نہ لگ جائے ۔
” کہہ دیں حق سے چھوٹے سائیں کہ زری میاں ہوں تیرا مجھ سے کیسا پردہ ۔۔۔۔” مگر خاموشی نہ ٹوٹنی تھی نہ ٹوٹی تھی ۔
وہ دونوں زری کے گھر پہنچ چکے تھے وہ اترا تو عرفو بھینسوں کے پاس انھیں دیکھ رہا تھا اور زیبو جھاڑو لگا رہی تھی اپنے پلو سے ہاتھ پونچھتی چہرا چھپاتی آگے آئی ” اماں ! زری چہک خوشی سے اسکے گلے لگ گئی تھی اور عرفو ہاتھ باندھے دلبند کے سامنے کھڑا تھا ” چھوٹے سائیں آپ وہ ۔۔بھی تانگے میں زری تو کیوں لائی اتنی گرمی میں انھیں مجھے سنیہا بھیج دیتی میں آجاتا لینے “
” ابا میں نے ۔۔۔۔۔۔” اسنے ہاتھ اٹھا کر منع کردیا ” چاچا یہ میرا گاوں ہے اور یہاں کسی کی ہمت نہیں ہے میرے ساتھ زبردستی کرنے کی اپنی مرضی سے آیا ہوں اور چاچی یہی کھڑا رکھے گی ؟”اسنے آدھی گھونگھٹ میں چھپی زیبو سے کہا جس وہ اثبات میں سر ہلاتی اندر لے آئی بڑا سے کمرا نیچے فرش اور ٹیرگارڈر سے بنی چھت صاف ستھرا چلتا پنکھا دو چارپائیاں ایک طرف پر لگی چار کرسیاں جن پر نفاست سے کشن اور کور رکھے گئے تھے ایک طرف دیوار کے اندر بنائی گئی الماری اس پر لگایا گیا شیشہ اور اندر پیتل کے برتںوں کا سیٹ بڑے گلاس اور تھالیاں کمرے صفائی اور ٹھنڈک قابل رشک تھی دلبند کا دل تھا کہ وہ ان پیتل کے بڑے گلاس میں لسی لیے مگر ہوا وہی جس کا ڈر تھا شیشے کا گلاس آیا تھا وہ بھی خالص ملائی والے دودھ کا !”اسنےحیرت سے تھوک نگلہ اور لے کر آنے والی کو دیکھا جس نے ٹرے آگے بڑھائی اسنے چپ چاپ گلاس پکڑ لیا اور خاموشی سے پینے لگا ۔
وہ دودھ کر باہر مٹی سے بنے ایک چھوٹے سے باورچی خانے میں آگئی جہاں مٹی کے چولہے پر لکڑیوں کی آگ پر پراٹھے بنے لگے تھے ۔” اماں تو لوگوں نے روٹی نہیں کھائی .”
” نہ پتر ہم نے تو کھالی ہے تم لوگوں کے واسطے پکانے لگے ہیں .”
” اماں نہ بنا وہ نہیں کھاتے بس ایک وقت کھاتے ہیں اور وہ کھا آئے ہیں ۔۔۔۔”
مگر اسنے پھر بھی پراٹھا توے پر ڈال ہی دیا اوپر گھی ڈالا گرم توے پر گھی چلکا تو دیسی گھی کی خوشبو ہر طرف پھیل گئی ” زری تو خوش ہے چھوٹے سائیں تیرے ساتھ اچھا سلوک تو کرتے ہیں نہ ۔۔۔” اسنے گھونگھٹ اٹھا کر سامنے کمرے میں دیکھا جہاں کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے فیروزی رنگ کا کارٹن کا سوٹ پہنے مسکراتا اسکے دل میں اتر رہا تھا وقتا فوقتا گلاس منہ سے لگا لیتا چاچا کی کوئی بات سن رہا تھا ۔
” رکھتے ہیں نہ بہت خیال رکھتے ہیں میرا اتنا کہ ہر طرف میں ہی میں نظر آتی ہوں اور دور اتنا کہ کبھی خواہش بھی نہیں کی میرا مکھڑا دیکھنے کی میں نے ایک بار کہہ دیا تو مان لیا ایک بار ڈانٹ کر نہیں بولا کہ تو ہوتی کون ہے میرا حق مجھ سے چھپانے والی ۔۔۔۔” زیبو تو کب کی اٹھ کر چلی گئی تھی آدھی بات سن کر مطمئن ہوکر چلی گئی وہ تو اس سے دور اس سے گلے کر رہی تھی اسکے نہ نہ کہنے کے باوجود بھی زیبو نے اسے اچھا بھلا کھلا کر بھیجا تھا شناور کو ایسے گاڑی لانے کا کہہ دیا تھا ” زری میں جارہا ہوں سارا دن مزے کرنا اور شام کو میں لینے آجاوں گا ۔۔۔” وہ مڑنے لگا جب بولی ” میں کچھ دن رہ لوں ؟” اسنے حیرت سے پلٹ کر اسے دیکھا “میں بھی یہی چاہتا تھا مگر کل اماں اور ابا سائیں آرہے ہیں اماں سائیں نے کہا تھا جب میں آوں تو وہ گھر موجود ہو !” اسنے سمجھ کر اثبات میں سر ہلا دیا ۔
سارا دن وہ بختو کے ساتھ اپنے پسندیدہ گھروں میں گئی تھی جہاں بختو ہر گھر کے باہر صدا لگا رہی تھی ” باہر نکلو چھوٹی سرکار آئیں ہیں !” جن کو نہیں پتا تھا وہ بھاگ کر نکلتے مگر جیسے ہی زرے کو دیکتھے کچھ جلن سے تو کچھ رشک سے دیکھنے لگتے ۔”
شام ہوئی تو بڑا میدان روشنیوں کھیل تماشوں سے سج گیا سفید شلوار قمیض پر سندھی اجرک پہنے وہ دونوں حویلی سے نکل گئے تھے چچی ارتشا کشمیراں اور باقی سب بھی نکل گئے تھے زیبو بختو اور زری لال رنگ کا چنیا چولی پہنے چہرا چھپائے وہاں پہنچ گئی تھیں ۔بختو کب سے چوڑیوں والی ریڑھی پر پھنسی تھی ” مزاق نے کرو چاچا بیس کی درجن لی ہیں میں نے تو چالیس کی کہہ رہا ہے ۔”دوکاندار حیرت سے اسکا منہ دیکھ رہا تھا ” پتر کیوں روزی خراب کر رہی ہے چل تو چالیس نہ رہے تیس دے دے ۔۔۔” اسنے منہ بنا کر پیسے نکال لیے زری جو کب سے چھوڑیاں پہنے کی جستجو کر رہی تھی جب دوکاندار نے ہاتھ پکڑ کر پہنانی چاہیے ” نہ چاچا باندھ دے چھوٹے سائیں پہنا دیں گے !” بختو نے شرارت سے کہا جس زری نے تھوڑا سا گھونگھٹ ہٹا کر اسے گھوری سے نوازا وہ کھلکھلا کر ہنس دی ۔
” شہریار اپنے منہ کے آگے ہاتھ کا پنکھا چلا رہا تھا !” او تیری خیر اتنی مرچیں! دلبند ارتشا اور شہریار گول گپے کے سٹال پر تھے اور ارتشا نے جان بوجھ کر اسے زیادہ
مرچوں والا گول گپا کھلایا تھا ” مجھے بھنڈی بولا تھا نہ وہ اسکی آنکھوں سے باقاعدہ پانی نکل گیا تھا جب ” ارتشا یہ کیا تو نے کیوں تنگ کرتی ہے تو اسے کتنا اچھا لڑکا ہے مجھے تو بڑا پسند ہے ” چچی جان نے بڑی گہری نظروں سے ان دونوں کو دیکھا تھا “اچھے لگے گے !”
” ادھر بختو اور زری بھی ہاتھ رگڑتی ہونٹوں پر زبان پھیرتی جلیجی کے گول گول چکر دیکھ رہی تھیں زری نے جلیبی منہ ڈالی وہ زبان پر گھل گئی تھی اسنے اس احساس کو محسوس کرنے کے لیے انکھیں بند کرلیں اور اسکی مٹھاس اندر اتارنے لگی ” چھوٹے سائیں سے زیادہ میٹھی ہے !” اسنے کندھے سے کندھا مار کر اسے ہوش میں واپس لایا اسنے جلیبی کا شیرا اسکی چھوٹی سی ناک پر لگائی ” ہاں ان سے بھی زیادہ میٹھی ہے !” اسے وہاں چھوڑ کر آگے چاٹ کی دوکان پر پہنچ گئی وہ بھاگی بھاگی اسکے پیچھے آئی “ہائے بڑی چھپی رستم اور لال دیکھو ہوئی !” اسنے پھر گھور کر اسے دیکھا ” بختو شرم کر ورنہ تجھے ابھی گرم تیل کی کڑاہی میں تل دینا ہے میں نے ۔۔۔”مگر وہ ڈھیٹ باز آنے والی تھوڑے تھی ۔
الے منجھا ماروڑا۔۔۔۔
منجھا جوگی اڑا۔۔۔۔
ماڑو ڑا میٹھرا مہنجائے ۔۔۔
میلے میں ایک جگہ سپیکر پر سندھ کا روایتی گانا لگ گیا تھا لڑکیاں تو جمع ہوگئی تھیں گھومنے لگی تھی میوزک پر گھومتے لہنگے پھولوں کی طرح کھل اور بند ہورہے تھے سب کھانا پینا جھولنا چھوڑ کر انھیں دیکھنے لگ گئے تھے
جوگی آیا مونو سنیاتا ۔۔۔
سامی آیا مونو سنیاتا ۔۔۔۔
گھائل دل کے گھائل ویا۔۔۔۔
الے الے منجھا ماروڑا۔۔۔۔
بختو اسے بھی کھینچ کر لے گئی تھی جھومتی وہ بلکل ہر چیز بھول گئی تھی دلبند بھی اسی گروپ کو دیکھ رہا تھا جب اچانک گھومتے گھومتے زری کا گھونگھٹ اوپر اٹھ گیا تھا دلبند کو اپنے پیروں پر ہل گیا تھا ” روزینہ ! روزینہ ! وہ چیختا آگے بڑھ رہا تھا بچوں عورتوں کو پیچھے کرتا اسے آوازیں دے رہا تھا ” روزینہ !وہ ان عورتوں کے گروپ میں پہنچ چکا تھا سب کے گھونگھٹ تھے ” روزینہ تم یہاں ہو ؟”اسنے چاروں طرف نظر دوڑا کر نہایت شفقت سے پوچھا ” میرا سیراب نہیں تھا وہ لباس وہ انداز وہ سیراب والا نہیں تھا وہ حقیقت تھی تم ہو نہ ؟” مگر وہاں ایک ایک عورت نے نفی میں سر ہلا دیا ” نہیں چھوٹے سائیں ہم میں سے کوئی روزینہ نہیں ہیں !”
اسے کوئی کھینچ کر سٹیج کے پیچھے لے آیا تھا اسنے گھونگھٹ اور نیچے کھینچ لیا تھا ” او پلیز مس روزینہ عارف میں آپکا چہرا دیکھ چکا ہوں دلبند سے زیادہ قریب کھڑا تھا میں ۔۔” جانی پہچانی آواز سن کر اسکی تھوڑی سے چادر اٹھا کر دیکھا ” شہریار بھائی ! اسنے پورا گھونگھٹ اوپر کردیا تھا راز تو کھل گیا
