Mukhra by Bint-e-Aslam NovelR50490 Mukhra Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Mukhra Episode 24
Mukhra by Bint-e-Aslam
دلبند نے مسکرا کر اسے دیکھا ” بارش تیز ہے اور راستہ طویل کیوں نہ کچھ دیر یہاں رک لیا جائے ۔” شانزے نے فتح مند مسکراہٹ سے اسے دیکھا ” شیور! گاڑی سے اترے بچتے بچاتے اس جگہ پہنچ گئے ۔دلبند مسکرا کر باہر بارش دیکھ رہا تھا وہ گیلے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی تھی دوپٹہ گلے میں جھول رہا تھا جب وہ قدم قدم چلتا اسکے پاس آیا بے حد قریب ” یور آر ٹو ہاٹ!اسے دیکھتے ہوئے کمنٹ پاس کیا جس پر اسنے چہرا اسکے قریب کیا ” آئی نو اٹ ! ” اسکے چہرے پر ایک دلفریب مسکراہٹ آئی پکڑ کر اپنے قریب کرلیا ” تو کیا خیال ہے موسم کے تیور کچھ الگ ہیں آج ۔۔” یہ بات اسکے ہوش گنوا گئی تھی ” دلبند چھوڑو مجھے ! مگر اسکا آرادہ نہیں تھا وہ اسکے چہرے پر انگلی پھیررہا تھا ” نو مجھے پتا ہے تم بھی یہی چاہتی میں کیا سمجھتا نہیں ہوں !”انگلی طواف کرتی گلے تک آگئی تھی ” دلبند پلیز چھوڑو مجھے یہ کیا کر رہے ہو ؟” مگر وہ دوسرے ہاتھ سے اسکے ہاتھ کو لیکر ہونٹوں تک لے جارہا تھا جب وہ چیخی ” چھوڑو ایسی لڑکی نہیں ہوں میں !” اسی وقت اسنے اسے چھوڑ دیا اچھوت چیز کی طرح خود سے دور کردیا وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی کہ چٹاخ! ایک زوردار تھپڑ اسکے منہ پر لگا ” یہ وہ تھپڑ ہے جو تم نے مشرقی عورت ہوکر مغربی طرز اپنا کر مشرق کے منہ پر مارا تھا وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی جب دوسرا بھی دوسری گال پر پڑا ” یہ دوسرا تھپڑ جو تم ایسے لباس میں گوشت کا لوتھڑا بنی ہو اور مجھے نیچ اور گھٹیا سمجھ رہی ہو کے تمہارے اکسانے پر میں بہک جاوں گا ۔ایک لمحے کے لیے سوچا اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا تو کیا ہوتا تمہارا حشر دیکھ کر تمہاری روح تک نے کانپ جانا تھا ہر مرد میرے جیسے نہیں ہوتا کچھ جانور بھی ہوتے ہیں دیکھو خود کو کہا سے تم اچھی لڑکی لگ رہی ہو ہمارے گاوں میں تو لڑکیاں نامحرم کو اپنا چہرا نہیں دکھاتی اور تم نازیبا لباس پہن کر آدھی رات کو باہر گھوم رہی ہو محسوس ہوا جب کوئی اس طرح ہاتھ لگائے تو کیسا لگتا ہے سوچو ایسے چلتا رہا تو تم بھی کسی کی وحشت کا نشانہ بن جاو گی تب کوئی نہیں بچا پائے گا ۔۔” بھیگتا ہوا گاڑی تک آیا اپنی چادر نکال کر لایا ” لو اسے !” اس سے رخ موڑے وہ اسے پکڑا رہا تجا جو اسنے چپ چاپ پکڑ لی ایک یاد زہن کوند آئی یونی کی کلاس کا منظر روزینہ کی پھٹی شرٹ اسکی جیکٹ ۔۔۔” یہی آج اگر تم باہر نہ ہوتی پردہ کرکے نکلتی تو تمہاری عزت کسی اور کو ڈھانپنے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔” شرمندہ سر جھکائے سنتی جارہی تھی چادر اسنے لے لی تھی کافی دیر خاموشی حائل رہی پھر بارش رکی تو گاڑی میں بیٹھ گیا ” جلدی آو !”اسے آتا نہ دیکھ اسنے پھر پکارا وہ چپ چاپ بیٹھ گئی باقی راستے چادر لپیٹے اسکو مضبوطی سے پکڑے کھڑکی سے باہر دیکھتی روتی رہی ” آج اگر تم پردہ کرکے آتی تو تمہاری عزت کسی اور کو ڈھانپنے کی ضرورت نہیں پڑتی !”
ہر کوئی میرے جیسا نہیں ہوتا کچھ جانور بھی ہوتے ہیں !”
اسکا ایک لفظ یاد آرہا تھا کتنی غلط تھی وہ بچپن سے اب تک کتنا غلط سوچتی رہی کہ بولڈنس از پاور نو اٹس اوور کانفیڈنس جو ہمیشہ لے ڈوبتا ہے اصلی پاور تو یہ چادر ہے جو سب چھپا لیتی ہے ۔” ایک دم گاڑی رکنے پر وہ ہوش میں آئی چپ چاپ اتر گئی پھر پلٹ کر اسے چادر تھمائے ” تھینک یو آج آپ نے میری پرورش کردی ایک نئی شانزے کو جنم دے دیا آپ ایک بہت اچھے انسان ہیں ہمیشہ ایسے ہی رہیے گا مجھے رشک آتا ہے اس لڑکی پر جو آپکے نکاح میں ہے میں خدا سے دعا کروں گی مجھے میرا محرم آپ جیسا ملے ۔۔” اسنے چادر پکڑی اور خاموشی سے چلا گیا ۔
وہ روتی ہوئی اندر آئی جہاں دراب بیٹھا تھا ” شانزے میری بات سنو !”
” مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی ڈیڈ!” اسنے چیخ کر کہا تو وہ حیران رہ گیا ” کیا ہوا ؟”
” ڈیڈ یور آر مائی اینیمی نوٹ فادر آپ نے مجھے پیدا ہوتے ہی اس ملک سے اسکی رویات سے حیا سے دور بھیج دیا پیدا ہوتے ہی کان میں آزان کے بعد درس نہیں مغربی موسیقی ٹھونس دی ایک لڑکی کی بجائے سکن شو بن گئی میں جو پردہ مجھے محفوظ رکھ سکتا تھا آپ نے اسے گھٹن بنا دیا میرے لیے آج اس شخص نے میری عزت بچانے کے لیے مجھے ڈھانپنے کے لیے اپنے تن سے چادر اتار کر دے دی مار کر احساس دلایا کہ میں ایک لڑکی ہوں گوشت نہیں وہ تھپڑ آپ نے کیوں نہیں مارا ڈیڈ کیوں مغرب کی عیش و صورت دیکتھے ہیں لوگ یہ کیوں نہیں دیکھ پاتی کہ وہ رویات جہنم کا راستہ ہموار کر رہی ہیں ہم اپنے آپ سے دور ہوتے جارہے ہیں ہمارے کانوں میں درس نہیں سیسہ بھرنے کا سامان ڈالا جارہا ہے یہ سب آپکو کو مجھے سکھانا چاہیے تھا ۔” اسنے اسکا ہاتھ پکڑ کر اوپر ااٹھایا ” یہ ہاتھ میری غلطی پر مجھے مارنے چاہیے تھے میری بے باکی پر خاموش کیوں تھے ڈیڈ کیوں ؟ وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی مگر وہ نظر جھکا گیا ۔وہ اوپر جانے لگی پھر رکی ” میرے لیے ایک خاتون معالمہ کا انتظام کردیں میں اپنے مزہب سے جڑنا چاہتی ہو پردے میں رہنا چاہتی ہوں کسی نامحرم کو اپنا مکھڑا نہیں دکھانا مجھے ۔۔۔۔”
دراب صوفے پر پریشان حال بیٹھ گیا تھا ” میں نے اپنی بچی کی پرورش ٹھیک سے نہیں کی!”
” وڈے سائیں ! وڈے سائیں غذب ہوگیا دو اور بھینسیں چوری ہوگئی ہیں ! عرفو چیختا ہوا حویلی وہ تمام لوگ لان میں ہی بیٹھے تھے اسکی بات سنتے اٹھ کھڑے ” کیا !!”
” ہاں وڈے سائیں کل رات ایک اور چوری ہو گئی اسے سائیں پہرا دینے والے بھی کچھ نہیں کررہے چوری پر چوری ہوتی جارہی ہے ۔”
” گاوں میں نے خود پہرا لگوایا تھا رات تک میں دیکھ کر آیا ہوں بارش میں بھی سب موجود تھے ابا سائیں !!” گاوں میں پہرے کی زمہ داری دلبند کی تھی وہ اس پریشان ہوگیا تھا ۔
” پہرا تھا تو کیسے ہوگئی ؟” وہ پریشانی سے سر جھکا گیا کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا دو دن میں پانچ جانور چوری ہوگئے تھے کچھ معلوم نہیں ہو پارہا تھا ۔
زری بختو اور دو لڑکیاں کھیتوں سے گھوم کر واپس آرہی تھیں صبح دلبند پولیس سے ساتھ پورے گاوں کے راوئنڈ پر تھا مگر کچھ نہیں ملا اسی راستے سے گزرتے ہوئے زری کی نظر ایک بار پھر اسی کھنڈر پر پڑی وہ اس طرف جانے لگی جو دو آدمیوں کی آواز آئی ” وڈے سائیں سے اب گاوں نہیں سنبھالا جاتا اور چھوٹے سائیں تو ٹہرے شہری کبوتر انسے کیا گاوں سنبھلے گا چھوٹی حویلی والے کو اب سر پنچ بنا دینا چاہیے !” اسنے حیرت سے انھیں دیکھا یہ لوگ جن کی خوشی میں وڈے سائیں شامل رہے ہیں یہ انھیں غلط کہہ رہے ہیں انھیں نظر انداز کیا اس کھنڈر کے اندر آگئی وہ دیوار آج بھی تازہ تھی جیسے دوبارا مٹی لگائی گئی ” کچھ تو گڑبڑ ہے !”
” ساری چوریاں۔رات میں ہوئی انتےپرانے کھنڈر میں دیوار پر تازہ مٹی آج رات دیکھتے ہیں کیا ہوگا ۔۔۔۔۔” گاوں میں بڑھتی چوریوں کی پریشانی سے دلبند کی بھی نیند اڑ گئی تھی ۔زری اپنے گھر کی چھت پر موجود تھی اور دلبند حویلی کی زری کا گھر گاوں کے بیچ تھا چھت سے پورے گاوں کا منظر نظر آتا تھا خاص طور پر وہ کھنڈر اسکی نظر ادھر ہی ٹکی تھی مگر کوئی ہل چل نہیں ہورہی تھی کافی دیر ہوگئی تھی مگر کچھ نہیں آخر وہ نیچے اترنے لگی جب شکور پر نظر پڑی ہاتھوں میں ٹارچ پکڑے وہ چھپتا چھپاتا جارہا تھا اسکا پیچھا کرنے کے لیے دبے قدموں نکلی پازیب بھی اتار گئی گھر سے نکلی اور کچھ فاصلے پر اسکے پیچھے چل دی ۔وہ چلتا جارہا تھا اور آخر ایک گھر کے باہر رکا دیوار پھلانگی اور کسی کے ہاتھے میں اتر گیا اندر سے گیٹ کھولا اور ایک بھینس لیکر باہر نکلا وہ اسے آواز دینے لگی تھی جب پیچھے سے کسی نے ہاتھ رکھ دیا گھونگھٹ اوپر تھا پکڑنے والے کی طرف پشت اسنے کان کے قریب جاکر سرگوشی کی ” ششش! کون ہو؟” دلبند کی آواز تھی وہ بھی اپنی چھت سے ان دونوں کا پیچھے کرنے لگا تھا ” دیکھو جو کوئی بھی ہو شور مت کرنا دیکھتے ہیں کہاں لیکر جاتا ہے !”اسنے اسکے منہ سے ہاتھ ہٹایا اسنے فورا گھونگھٹ نیچے کرلیا ” چھوٹے سائیں آپ ؟”
” تم زری ہو اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو ؟” اسے ایسے اکیلے دیکھ کر غصہ آیا تھا ” بتاتی چھوٹے سائیں پہلے دیکھیں یہ کہا جاتا ہے چلیں .” اسنے بھینس کو آگے لیجاتے شکور کی طرف اشارہ کیا ” وہ دونوں اسکے پیچھے لگ گئے وہ اسی کھنڈر کے پاس جارہا تھا جس پر زری کو شک تھا ” دیکھا چھوٹے سائیں مجھے شک ہی تھا اس جگہ پر سے کہتے یہ پاگل سائیں کا گھر تھا ایک دن اسنے خود کا آگ لگا خودکشی کر لی سب کہتے ہیں یہاں اسکا سایہ ہے اسلیے کوئی آتا جاتا نہیں ہے مجھے بھی اس جگہ پر شک تھا سارا گھر ٹوٹا تھا مگر ایک دیوار پر روز تازہ مٹی سے لیپی جاتی تھی اس رات حویلی کے گاوں والوں میں شکور بھی تھا تب سے لگ رہا تھا کہ اس میں چھوٹے حویلی والے دراب خان کا ہاتھ ہے اور وہی ہو وہ جان بوجھ کر گاوں والوں کے جانور غیب کررہا ہے تاکہ گاوں والے وڈے سائیں سے باغی ہوجائیں !” وہ نہایت غور سے اسکی بات سن رہا تھا اور شکور سامنے دیوار توڑ رہا تھا دیوار کے اندر آیک دروازہ تھا جو چھپایا گیا تھا ” شاباش زری میں بھی شادی شکور پیچھے نہ آتا مگر جب میں نے اسکے پیچھے ایک لڑکی دیکھی تو آیا اور یہ سب پتا لگا ۔۔۔” اسکا ہاتھ پکڑا اور آگے بڑھا ” چلو دیکھیں کیا ہے یہاں ؟” وہ دونوں اس دروازے سے آندر آئے ایک بہت بڑا کمرا تھا جہاں بھینسیں بندھی تھیں اور شکور انکی طرف پشت کیے فون پر بات کر رہا تھا ” جی مالک کل پھر گاوں میں چوری کی خبر پھیل جائے گی ۔۔۔۔ارے نہیں دلبند کو تو پتہ ہی نہیں اسکے پہرے داروں کو تو ہم نے کب کا خرید لیا ہاہا آپ بس سرپنچی سنبھالنے کی تیاری کریں !! ” دلبند کا میٹر شارٹ ہوگیا تھا اسنے لپک کر گردن دبوچی ” اور تو جیل جانے کی !” گرفت اتنی مضبوط تھی کہ فون ہاتھوں سے گر گیا تھا ” دل۔۔۔۔دلبند !”
اسکی گردن دبوچے اسنے آگے دھکیلا زری نے ادھر ادھر دیکھا ایک ڈنڈا ملا بھینسیں کھولیں اور ہانک لیں وہ جگالی کرتیں دم ہلاتی آگے بڑھ رہی تھیں وہ اسے گاوں کے بیچ سے بیچ لے آیا تھا ۔” باہر آو سب ! وہ آوازیں لگا رہا تھا زری کے ہاتھ میں ایک پیتل کی دیگچی آگئی تھی جو اسنے زور زور سے بجانی شروع کردی ” دلبند نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا کچھ ہی دیر میں آدھا گاوں وہاں جمع ہوگیا تھا ” میری چھموں ! ایک آدمی نام لیتا اپنی بھینس کی جانب بڑھا نواز کو بھی اسکی بھینسیں مل گئی تھی ۔” اگل کیا کیا تو نے اور دراب نے بول ورنہ تیرا حشر بیگاڑ دوں گا !”
” یہ ۔۔۔۔یہ مالک کا ہی منصوبہ تھا کہ گاوں والے وڈے سائیں کے سہارے سکون کی نیند سوتے ہیں گاوں میں چوری کبھی نہیں انھوں نے کہا چوریاں کرواوں لوگوں کو کہو کے وڈے سائیں بیمار ہونے کی وجہ سے گاوں سنبھال نہیں پارہے سرپنچی ان سے لے کر مجھے دے دیں جس دن تم نے گاوں میں پہرا دو گنا کیا تھا اسی دن انکو یہ سب پتا چل گیا تھا مگر مالک نے انھیں کثیر رقمیں دے کر خرید لیا اور وہ لوگوں کو تسلی دے کر سلانے لگے اور ہم آسانی سے جانور چوری کرنے لگے سرپنچی ہاتھ آتے ہی دوسرے دن بھینسیں واپس دے دی جانی تھی اور وڈے سائیں کو نااہل کردیا جانا تھا ۔”
عرفو وڈے سائیں کو بھی لے آیا تھا جو خاموشی سے اسکا بیان سن رہا تھا۔شناور شکور کو لے گیا تھا باقی لوگ دراب کی حویلی کی طرف بڑھے جب وڈے سائیں نے منع کردیا ” صبح پنچائت میں کریں گے شکور کو نگرانی میں رکھنا ۔”اسکی بات پر دلبند نے حیرت سے وڈے سائیں کو دیکھا ” مگر ابا سائیں ….” انھوں نے ہاتھ اٹھا کر منع کردیا ” یہ حکم ہے !” کہہ کر چادر اوڑھتے چلے گئے ۔تمام گاوں والے بھی آپس میں باتیں کرتے چلنے لگی زری بھی عرفو کے ساتھ جانے لگی تھی جب اسنے پکارا ” چاچا زری نے کمال کردیا ہے آج شکور اسی نے پکڑوایا تھا بہت بہادر ہے یہ !” عرفو نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا ” پر پتر اتنی رات کو تو اکیلی باہر تجھے کچھ ہوجاتا تو ؟”
” میں نہیں ہونے دیتا اسلیے یہ ابھی میرے ساتھ واپس حویلی چلے گی ۔۔۔” اب کے بار چونکنے کی باری زری کی تھی ” مگر چھوٹے سائیں ابھی تو دو دن ہوئے ہیں !”
” اور ان دو دن میں تم خود کو جگا جاسوس سمجھنے لگی ہو اور رہی تو جھانسی کی رانی بن جاو گی یہ خطرناک ہوگا اسلیے چلو …” وہ یہ کیوں چا رہا تھا کہ وہ آجائے یہ وہ احساس تھا جو اسے آج ہوا تھا اس سے بات کرنے کا اسے دیکھنے کا “
” تجھے پیکے ہی رکھنا ہوتا تو بیاہتے ہی کیوں تو جا چھوٹے سائیں کے ساتھ ۔” عرفو نے بھی اسے اجازت دے دی۔وہ چپ چاپ اسکے ساتھ چل دی بارشوں کی وجہ سے کل سے ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھی گاوں میں پھیلی کچی مٹی اور جلی لکڑی کی خوشبو ستھ میں بیٹھے لوگ آگ وہیں چھوڑ کر جاچکے تھے جن سے کوئیلے بن چکے تھے راکھ پڑنے سے گم ہوتے تو ہوا خاک اٹھا کر لے جاتی وہ پھر چمکنے لگ جاتے دہکتے ہوئے اب بھی گرمائیش دے رہے تھے دور کھیتوں سے آتی ٹیوب ویل کی آواز اور کسی ٹریکڑ میں چلتا گانا۔
آپکی نظروں نے سمجھا ۔۔
پیار کے قابل مجھے ۔۔۔۔
آپکی منزل ہوں میں ۔۔۔
میری منزل آپ ہو۔۔
میں کیوں طوفانوں سے ڈرو ۔۔۔
میرا ساحل آپ ہو۔۔
جاو طوفانوں سے کہہ دو۔۔۔
مل گیا ساحل مجھے ۔۔۔
آپکی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل مجھے ۔۔۔
اور ان الفاظ میں ساز بناتی اسکی پازیب کی آواز بلکل ہی اس منظر میں گم تھا وہ گھونگھٹ نکالے وہ آگے بڑھتی جارہی تھی اور وہ مسکراتا پیچھے آرہا تھا جب سے وہ زری کو سوچنے لگا تھا روزینہ کم آتی تھی بنا دیکھے وہ اسکا عادی ہوتا جارہا تھا اس دن جب وہ میری باہوں میں نیم بے ہوش تھی تو کیوں ایسا لگ رہا تھا کہ وہ لمحہ کبھی ختم نہ ہو اسکے پاس ہر مشکل ہر سوال کا جواب ہوتا ہے تانگے کا وہ سفر آسمانوں میں اڑنے سے زیادہ خوبصورت تھا آج تو تمہارا مداح ہوگیا روایات کے ساتھ فرض بھی نبھا رہی ہو مجھے ہمیشہ سے اشتیاق تھا تیرا چہرا دیکھنے کا پر مگر کیوں تو میرے نکاح میں ہے تو کیوں نہ دیکھوں حق ہے میرا .”وہ اچانک رک گیا تھا وہ جو چپ چاپ اسکے ساتھ چل رہی تھی بنا دیکھے آگے بڑھ گئی ” زری مجھے تیرا چہرا دیکھنا ہے!”زری کے قدم تو وہیں پتھر ہوگئے تھے سانس تیز ہوگئی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کہے اور وہ اسکی خاموشی کو ہاں سمجھتا آگے بڑھا بازو پکڑے رخ موڑ نے لگا جب کچھ یاد آیا ” نہیں چھوٹے سائیں میں نے قسم کھائی تھی جو محبت کرے گا اسی کو چہرا دیکھاوں گی ” نہیں دلبند تو صرف اپنی خواہش کے لیے اسکی قسم نہیں توڑ سکتا تجھے اس سے محبت ہے یا نہیں کچھ بھی پتا نہیں ۔۔۔۔۔” آہستہ سے بازو چھوڑ کر دو قدم آگے بڑھ گیا پیچھے زری کا دل ٹوٹ گیا تھا ” کیوں رک کیوں گئے چھوٹے سائیں میں تو انتظار کررہی تھی کہ آپ خود میرا گھونگھٹ اٹھائیں گے میرا چہرا دیکھیں گے تو سب بتا دوں گی کیوں آج بھی یہ راز راز ہی رہ گیا ۔”
