Mukhra by Bint-e-Aslam NovelR50490 Mukhra Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Mukhra Episode 23
Mukhra by Bint-e-Aslam
اسکا یہ عکس چھت پر موجود کسی کی ہری آنکھوں میں چھپ گیا تھا۔” چھوٹے حویلی کا ملازم ان سب کے ساتھ کیا کررہا ہے چھوٹے سرپنچ کا تو ہاتھ نہیں اس میں !” خیر سر جھٹک کر واپس مڑ گئی دلبند اپنے سر کے درد سے جھنجھلاتا اپنے کمرے کی طرف آرہا تھا زری پر اسکی نظر پڑی اس سے پہلے وہ اسے بلاتا وہ راستہ بدل گئی وہ اسے دیکھتا ہی رک گیا آکر اپنے کمرے میں بند ہوگئی ” نہیں چھوٹے سائیں مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی آپکا سامنا ابھی تو بلکل نہیں کرنا میں کل ہی گھر رہنے چلی جاوں گی ۔”سامان باندھ کر لیٹ گئی وہ کمرے میں آیا تو عجیب سا لگ رہا تھا کچھ بھی یاد نہیں آرہا تھا کیا ہوا تھا اسے اسنے دودھ پیا اسکے بعد وہ بیڈ پر کیسے آیا سویا کب ؟” ہر چیز زہن سے محو ہوچکی تھی ۔میڈیسن لی اور لیٹ گیا پریشانی جو تھی سو تھی مگر ایک احساس تھا کہ کچھ بہت خاص تو نہیں تھا جو بھول رہا ہوں جو یاد نہیں آرہا کاش وہ یاد روزینہ سے جڑی ہو ۔” مگر جسے یاد تھا اسکی زبان بند تھی باقی ہر شے بے زبان !”
” ایسے کیسے ہوگیا رضا شاہ تمہارے ہوتے ہوئے گاوں میں چوری !” دراب صبح ہی حویلی آگیا تھا وہ گاوں کے وڈیروں میں سے ایک تھا گاوں کے فیصلوں میں بھی وہ حصہ دار تھا اور رضا شاہ کا حاسد بھی وہ چاہتا تھا گاوں والے رضا شاہ کو چھوڑ کر اسکی بات سنا کریں اب اسکا ان سب میں کتنا ہاتھ ہے کتنا نہیں یہ تو وقت نے ہی بتانا تھا اسکی بیٹی بھی شہر پڑھتی تھی مگر زیادہ وقت اسکا عیاشی میں ہی گزرتا تھا وہ اب بھی اپنے مشغلے میں معصوم تھی دلبند پر نشانہ داگے بیٹھی ” او مائی گوڈ یہ ہینڈ سم پینڈو ہے کتنا بھولا لگتا ہے حویلی بھی پاپا کی حویلی سے کتنی بڑی ہے اسے تو میرا بوئی فرینڈ ہونا چاہیے ۔” کشمیراں بھی اسے بڑی غور سے دیکھ رہی تھی ” نگلے گی کیا !” وہ چائے کا کپ لیکر اسکے پاس گئی اسنے کپ پکڑتے ہوئے پوچھا ” اے سنو یہ جو تمہارے چھوٹے سائیں ہیں انکا نام کیا ہے ؟” کشمیراں نے بھنوے اچکا کر اسے دیکھا “دلبند !”
” او مسٹر کلوز ہارٹ !”
” بڑے اچھے ہیں چھوٹی سرکار سے بڑی محبت کرتے ہیں !” اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” کون چھوٹی سرکار ؟”
” انکی بیگم زری شادی شدہ ہیں نہ وہ !” اسی کے ساتھ اسکا منہ اتر گیا تھا ” اچھا میں چلتی ہوں ہوں چھوٹی سرکار کو بھی دیکھنا ہے !” اسے جتاتی چلی گئی وہاں سے” ہمم ہوگی کوئی پینڈو عام شکل و صورت والی مجھ سے زیادہ سندر تھوڑی ہوگی ۔” ایک انداز سے اپنے بال درست کرتی خود کلامی کر رہی تھی مگر دلبند نے نہ اسے دیکھنا تھا نہ دیکھا آخر وہ خود ہی اسکے پاس آگئی ٹائٹس پر شرٹ اوپر جیکٹ اور گلے میں سٹالر اسکا تو لباس اسے پسند نہیں آیا تھا وہ دور کی بات ” ہائی مسٹر میں مائی سیلف شانزے دراب !”اسنے ہاتھ آگے بڑھا جو اسنے نظر انداز کردیا ” دلبند رضا شاہ !
نائس نیم اسکا مطلب کیا ہے ؟” وہ اسکے اور قریب ہوئی تو وہ صوفے سے تھوڑا اور کھسک گیا ” پر کشش !”
” اسلیے کہتا ہوں رضا گاوں کی زمہ داری کچھ وقت کے لیے مجھے سونپ دے بیمار رہا ہے تو آرام کر میں گاوں سنبھال لوں گا ۔” دلبند جو پہلے ہی شانزے کے قریب ہونے سے اکتا گیا تھا چڑ کر بولا ” زمہ داری سب سے پہلے گھر کی سنبھالی جاتی ہے دراب خان جو انسان اپنی اولاد نہیں سنبھال سکتا وہ گاوں کیا سنبھالے گا ۔” اسکی. بات سنتے ہی شانزے ایک جھٹکے سے اس سے دور ہوئی اور شرمندہ سی ہوگئی ۔
” بڑی گرمی تیرے خون میں !”….وہ غصے میں آگیا تھا ” پچاس سال سے شاہ کا گھرانہ اس گاوں کی ہر زمہ داری اٹھاتا رہا ہے ایک بھی چوک نہیں ہوئی یہ مسئلہ بھی حل ہوجائے گا ۔” جواب وڈے سائیں نے دیا تھا ۔
” چلو دیکھتے ہیں میں بھی کوشش کرتا ہوں پتہ لگوانے کی ۔۔۔” وہ اٹھ کھڑا ہوا شانزے کے ساتھ باہر آیا ” شانزے بیٹی ۔۔۔۔” اسنے جیکٹ اتار کر کندھے پر ٹکائے ” ڈونٹ وری ڈیڈ دلبند آپکے قدموں میں ہوگا !” کہتی گاڑی میں بیٹھ گئی اور وہ پیچھے خباثت سے مسکراتا رہا ۔
” سب پریشان تھے پورا گاوں تھا مگر شکور کو تو وہاں نہیں ہونا چاہیے تھا کہیں کوئی کھیل تو نہیں کہیں یہ گاوں والوں کو وڈے سائیں سے باغی تو نہیں کررہے مگر جانور چرا کر کیا کر رہے ہیں یہ ۔۔۔” سوچتی خود کلامی کرتی وڈی سرکار کے کمرے میں آئی ” وڈی سرکار وہ ۔۔۔
” اماں سائیں ! اماں سائیں کہا کر !” دروازے سے ہی اسے تنبہ کردی گی تھی اسنے اثبات میں سر ہلا دیا سارے گاوں کی ماں ہی ہیں ۔
“اماں سائیں مجھے کچھ دن اماں ابا کے ساتھ رہنا ہے اجازت ہو تو گھر چلی جاوں ؟”
” جا چلی دلبند نے کہا تھا مجھ سے کے تجھے بھیج دوں گاڑی میں تیار کروا دیتی ہوں ۔”
” کیسی گاڑی اماں سائیں میں خودی چلی جاوں گی !” اسنے پریشان ہوتے ہوئے پوچھا ۔
” شادی کے بعد جب گھر گئی تھی تب کچھ نہیں بھیجا تھا ریت رواج ہوتا ہے کچھ اب وہ صرف ہمارے مزارے نہیں کوڑم بھی ہیں ۔”
” اماں سائیں اسکی ضرورت نہیں ہے !’ اسنے التجا کی مگر انھوں نے چپ کرا دیا ۔گاڑی تیار تھی وہ جارہی تھی اور دلبند تھانیدار کے ساتھ مصروف تھا رپورٹ کے بعد پورے گاوں کی تلاشی ہوگئی تھی مگر کچھ پتا نہیں چلا ۔
حویلی کی گاڑی اور گاڑی سے اترتی زری کو سب رشک سے دیکھ رہے تھے اور اس میں سے نکلتا رواج کا سامان زیبو کے تو آنسو بھی بند نہیں ہورہے تھے اسکے ٹھاٹھ باٹھ دیکھ کر ۔۔۔
نیم کے درخت کے نیچے ماں کی گود میں سر رکھے آج پردے سے آزاد تھی بال بھی عرصے بعد کھلے چھوڑے تھے ۔
” زری تو حویلی میں کتنی خوش ہے وہ تو میں نے دیکھ لیا مجھے یہ بتا چھوٹے سائیں تیرے ساتھ ٹھیک ہیں ؟”
اس بات پر چند رات پہلے کا ہر منظر انکھوں کے سامنے گھوم رہا تھا ” روزینہ تم ۔۔۔تم آگئی !” ہاں اماں بہت محبت کرتے ہیں بہت خیال رکھتے ہیں پھولوں کی طرح رکھا ہے ہر یاد سنجو رکھی ہے روزینہ کی ” گود میں منہ دیتے ہوئے نام بہت آہستہ سے لیا گیا تھا ۔
” اچھا تو پھر میں لنگوٹ سینے شروع کردوں ؟” ماں تھی پرموشن تو چاہتی تھی وہ بدک کر اٹھی ” اماں تو کچھ بھی بولتی !” اٹھ کر اندر بھاگ گئی ۔
” بختو گھر میں چاٹی میں لسی بنا رہی تھی کبھی رسی دائیں طرف کھینچتی کبھی بائیں طرف زری کی بہت یاد آرہی تھی جب اسکی گردن میں کسی نے باہیں ڈال دی ۔
” میری نیک بخت بختو! جلدی بنا لے لسی باغوں میں آم پک گئے ہیں تو ادھر بیٹھی ہے !” اسنے بائیں پکڑے گردن
گھما کر دیکھا ” بختو دی جان زری !”
تو کب آئی ہے ؟” اسے زور سے گلے لگانے کے بعد پوچھنے لگی ” سویرے آئی تھی تو تو آئی نہیں سوچا خودی ہو آوں اب چل باغ میں جھولا بھی انتظار کررہا ہوگا ۔” اسے کھینچتی باہر لے گئی وہ سب سے پہلے اپنے مربعے میں آئے تھے جہاں انھوں نے سبزیاں بیبجی تھیں ” زری دیکھ اس سال ابا نے بھنڈی بھی لگائی ہے ۔” ایک پکی ہوئی بھنڈی پکڑے ہوئے کہا پھر ہاتھ میں حلوا کدو پکڑ لیا ” زری تو تو پڑھی لکھی ہے تو بتا کدو کو انگریجی میں کیا کہتے ہیں ؟”۔۔۔۔پمپ پکن !!
وہ اسکی بات سن کر اسنے کدو کو گھما کر دیکھا ” پپوکن ! یہ کیسا یہ تو میرے چاچے کا ہے پپو!”
” پپوکن نہیں پمپ پکن ہاہاہاہا پاگل !” اسنے ہنس کر اسکے سر پر تھپکی دی ” ہائے زری تو ہنستی ہوئی بڑی سوہنڑی لگتی ہے چھوٹے سائیں تو فدا ہوجاتے ہوں گے !”تعریف گی کردی تھی اور ہنسی کی وجہ بھی چھین لی تھی ” بختو چل نہ ٹیوب ویل پر چلتے اس وقت کوئی نہیں ہوگا وہاں ! اسکا ہاتھ پکڑتی اٹھ گئی ۔
ہاتھوں میں آم پکڑے ہونٹوں سے لگائے وہ ٹیوب ویل کے اوپر درخت پر چڑھی تھیں پاوں ہلاتی جیسے نیچے ٹیوب ویل سے نکلتے ٹھنڈے پانی کو تیور دکھا رہی ہوں ہر طرف ہریالی میٹھی میٹھی ہوا پانی کے ٹھنڈے چھینٹے گرمیاں ہونٹوں کے ساتھ لگا لنگڑا آم گھونگھٹوں سے عاری سادہ دلنشین چہرے دور کہیں سے بھٹے کی چمنی سے نکلتا دھواں اور سامنے لہلہاتے کھیتوں کے اوپر نارنجی ڈوبتا سورج پیرس کے آئیفل ٹاور سے لیکر دبئی کے برج خلیفہ کا سویٹ بھی اس منظر کی برابری نہیں سکتا تھا گاوں ہمارے ملک کا وہ خوبصورت حصہ ہوتا ہے جہاں سادگی عروج پرہوتی ہے حسین سے حسین ہاتھ میں بھی پکڑی درانتی بھی محنت اور سادگی زبان ہوتی ہے آدھے کھلے چہروں پر پانی کے گھڑے اٹھائے کچے چولہے پر پکتی چائے دن رات محنت کی آگ میں جلتا بدن اور حیا کے تقاضوں میں ماوں کے ہاتھ میں ہوتے بچوں کے جنم وہ سب روایات ہیں جو شہروں کی بھیڑ اور اونچے طرز زندگی میں کہیں کھو سے جاتے ہیں شہر اپنی جگہ خوبصورت گاوں اپنی جگہ حسین
” بختو شہر میں نہ یہ سب نہیں ملتا کہتے ہیں گاوں والے غریب ہوتے ہیں میں کہتی ہوں وہ امیر ہوتے ہیں یہ شہروں میں لوگ قیمتی بیچ رہے ہیں اور ہم گاوں جب چاہیں کسی کے بھی درخت سے توڑ کر کھالیں کوئی کچھ نہیں کہتا وہاں حدیں بہت ہے مگر سکون نہیں یہاں سکون ہے اور حد نہیں خوشیاں ہی خوشیاں ہیں .”
” اسلیے مجھے شہر اچھا نہیں لگتا یہاں دیکھ نہ کنا سکون اے میں تو شادی بھی ادھر ہی کروں گی ۔”
” ہائے ماں صدقے بڑی جلدی ہے تجھے بیاہ کی دو مہینے ہوئیں ہیں منگنی کو کچھ صبر کر لے ۔۔۔”
” لو بھئی خود تو کرلی مجھے نہ کرنے دینا خود تو کہتی تھی چھوٹے سائیں میری قسمت میں کہاں اور اب تو نظر بھی نہیں ڈالنے دیتی اگر کبھی میں چھوٹے سائیں کے قریب ۔۔۔۔” اسکی بات ابھی ادھوری ہی تھی ۔
” بختو !!! وہ صرف میرے ہیں کسی کے نہیں !” اسکا لال چہرا دیکھ کر اسے مزا آرہا تھا ۔” ہائے اتنی اگ اففف !! کہیں چھوٹے سائیں کو جلا نہ دے اسنے تھپکی کندھے پر ماری جس سے وہ گرتے گرتے بچی وہ اسے پیٹنے لگی تھی شام گئی وہ دونوں گھر واپس آرہی تھی دن ابھی ڈھلا نہیں تھا ایک ٹوٹے کچے مکان کے قریب سے گزرتے ہوئے اسکی نظر ایک دیوار پر پڑی سارا گھر مٹی کا تھا ٹوٹا کھنڈر میں آیک دیوار تھی جس پر تازا مٹی کا لیپ ہوا تھا وہ اس طرف جانے لگی جب بختو چیخی ” یہاں نہ جائیں زری یہاں سایہ ہے کوئی نہیں جاتا آجا! اسکے کہنے پر اسنے ایک نظر اسے دیکھا پھر چلی گئی ۔
دلبند رات گئے شہر سے واپس گاوں آرہا تھا بارش ہورہی تھی جب سامنے کوئی گاڑی کا بونٹ کھولے جھکا تھا گاڑی قریب کرکے اسنے شیشہ نیچے کیا ” سب خیریت”
مگر سر اٹھاتے وجود کو دیکھ کر اسکا دل کیا آگے بڑھ جائے ۔رات اور دوسرا بارش تیسرا لڑکی اس لیے کھڑا رہا اسنے ایک نظر اسکے لباس کو دیکھا ٹخنوں سے اوپر کیپری گھٹنوں سے اوپر شرٹ نام نہاد لیا دوپٹہ اور بارش میں بھیگی اسے غصہ آرہا تھا اس پر مگر وہ ضبط کر گیا ” وہ ۔۔۔۔میری گاڑی خراب ہوگئی ہے فون ڈیڈ ہے تو گھر کال نہیں کر پارہی مجھے ڈراپ کردو گے ۔”
” بیٹھیں !” اسنے بنا دیکھے کہا تو خود کو سنبھالتی اسکی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی وہ چپ چاپ ڈرائیو کر رہا تھا جب ڈرائیونگ کرتے ہاتھ پر اسکا ہاتھ محسوس ہوا اسنے حیرت سے دیکھا ” تمہاری انگھوٹھی میں موجود پتھر فیروزا ہے نہ ؟”اسنے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
” مجھے بھی سٹونز کا بہت شوق ہے اصل میں میں لندن میں رہی ہوں یہاں ایک سال پہلے ہی آئی ہوں جو چیز سب سے زیادہ دلچسپ لگی وہ تھے یہ پھتر ملطب لوگ ستارے دیکھتے ہیں اور اسکے حساب سے پتھر پہن کر لگتا ہے سب. ٹھیک ہوگا اور ہوتا بھی ہے “
” بات پتھر کی نہیں ہوتی بات یقین کی ہوتی ہے یقین سے منہ میں خاک کا زرہ بھی ڈالو گے تو وہ شفا دے گا مگر یقین کے بغیر مہنگے سے مہنگا علاج بھی افاقہ نہیں کرتا مشرق میں لوگ سائنس سے زیادہ خدا پر یقین رکھتے ہیں اسلیے جو چیز بھی خدا کی نام سے جڑی ہوگئ وہ ضرور کریں گے ۔”
” واو تم تو فلاسفر بھی ہو باتیں تو بڑی اچھی کرتے ہو ! وہ اور اسکے قریب ہوگئی جو اسے برداشت نہیں ہورہا تھا بجلی کڑکی تو وہ اسکے ساتھ لپٹ گئی دلبند کی بس ہوتی جارہی تھی ایک ہاتھ سے دور کیا ” ٹھیک سے بیٹھے !” اسنے تنبہ کرتا وہ آگے دیکھنے لگا ” تم بہت ہینڈ سم ہو ! اسنے کمنٹ پاس کیا جس پر اسنے کوئی خاص توجہ نہیں اسنے اسکی بازو پر اپنی انگلی کا ناخن پھیرا جس پر اسنے ایک جھٹکے سے گاڑی روکی وہاں ایک جگہ تھی جہاں سے وہ بارش میں بچ سکتے تھے دلبند نے مسکرا کر اسے دیکھا ” بارش تیز ہے اور راستہ طویل کیوں نہ کچھ دیر یہاں رک لیا جائے
