Mukhra by Bint-e-Aslam NovelR50490 Mukhra Episode 28
No Download Link
Rate this Novel
Mukhra Episode 28
Mukhra by Bint-e-Aslam
صبح جب اسکی آنکھ کھلی تو اپنے اوپر وزن محسوس ہوا دیکھا تو اسکا ہاتھ وہ بیڈ پر تھی مگر وہ تو صوفے پر سوئی ایکدم اٹھی آنکھ اسکی بھی کھل گئی تھی مگر خاموش لیٹا رہا ” تو انکے پاس کب آئی اٹھ زری اس سے پہلے انکی آنکھ کھلے ! وہ اترنے لگی جب وہ اٹھ بیٹھا انگڑائی لیتا اسکے چہرے کے نہایت قریب آنکھیں کھولیں تو حیران رہ گیا ” تم! اسکی آواز پر وہ کانپ گئی تھی ” تم یہاں کیا کر رہی ہو میرے ساتھ کہا تھا نہ دور رہو !” مصنوعی غصہ دیکھاتا اسے ستا رہا تھا ” وہ۔۔۔۔مم۔۔۔میں چلی گئی تھی پھر اماں سائیں نے بھیج دیا وہاں سوئی تھی یہاں کیسے آئی پتہ نہیں۔۔۔۔” انگلیاں مروڑتی ڈرتی ڈرتی بتا رہی تھی ۔
“تیرے کہنے کا مطلب تجھے میں یہاں لایا تھا ؟” اس بات پر اسنے نفی میں سر ہلا دیا” نئی ممم۔۔۔۔میں خودی نیند میں چل کر آگئی ہونگی معافی چھوٹے سائیں میں چلی جاتی ہوں ۔۔۔” کہتی بیڈ سے اتری جاتا پہنے کی کوشش کی مگر وہ پہنے میں ہی نہیں آرہا تھا اوپر سے اسکی کھا جانے والی نظریں جوتا ہاتھ میں اٹھایا اور جلدی میں نکل گئی ۔
” ہاہاہاہا !” پیچھے وہ ہنستا پھر تکیے پر گر گیا ” مزا آرہا ہے !”
وہ کشمیراں کھانا لگا رہی تھیں جب نیچے آیا وہ سادہ سفید اور لال رنگ کی فراک پہنے آنچل سر پر لیے کھڑی تھی وہ ویسا ہی لباس پہنے لگی تھی جیسا سوہا اور ارتشا پہنتی تھی دوپٹہ کے نیچے سے اسکے کھلے بال اسے اور بھی حسین بناتے تھے ۔وہ وڈے سائیں کے ساتھ والی کرسی پر آکر بیٹھ گیا ایک غصیل نظر اس پر ڈالی ہارٹ پاٹ اسکے ہاتھوں سے گرتا گرتا بچا ” زری دلبند کو روٹی دے دو !” سوہا نے مسکرا کر اسے کہا ” جی بھابھی سائیں !
ڈرتی ڈرتی اسکے پاس آئی روٹی رکھنے جب اسنے روک دیا ” میں خود لے لوں گا !” کہتا جوس کا گلاس منہ کو لگا ناشتہ کیا اور اسے بنا دیکھے اٹھ گیا ” اماں سائیں کچھ ضروری کام ہیں رات کو دیر سے آوں گا !” انھیں بتاتا باہر چلا گیا وہ واپس باورچی خانے میں آئی ہارٹ پاٹ شیلف پر رکھتی خود ٹوٹ سی گئی رونے جب کسی کے قدموں کی آواز آئی آنسوں صاف کیے اور مسکرانے لگی وہ سوہا تھی ” تم دونوں میں سب ٹھیک تو ہے ؟” اسنے مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیا ۔
” ہونا بھی چاہیے بہت محبت کرتا ہے تم سے وڈے ابا کے فیصلے پر پہلی بار انکار کیا ہے خدا تم دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے !” وہ چلی گئی تھی اور اسے اور افسردہ کر گئی تھی ۔
سارا دن وہ بجھے بجھے دل سے کام کرتی رہی تھی اب بھی رات کے دس بجے اکیلی کمرے میں بیٹھی تھی وہ ابھی تک نہیں آیا تھا سب سو گئے تھے بیٹھے بیٹھے کمر اکڑ گئی تھی اسکی جب وہ فون دیکھتا اندر آیا نظر اٹھائی تو سامنے وہ بیٹھی دکھ گئی اس سے پہلے وہ کچھ کہتی اسنے زور سے اسکی کلائی پکڑی ” چلو !وہ اور ڈر گئی تھی آنچل سر سے اتر گیاتھا کھلے بال کمر پر ڈولنے لگے تھے “؛کک۔۔۔کہاں چھوٹے سائیں !” مگر اسے کھینچتا نیچے لے جاتا جارہا تھا ” مجھے گھر سے مت نکالیں اس وقت گھر گئی تو ابا اماں پریشان ہوجائیں گے ۔۔۔”
” منہ بند رکھو اور چلو !” سیڑھیاں اترتا وہ اس سے اپنی کلائی چھڑا رہی تھی ” رحم چھوٹے سائیں اس وقت نہ نکالیں میں صبح ہوتے ہی چلی جاوں گی ۔” اسے گاڑی میں ڈالا اور دوسری طرف آکر بیٹھ گیا ” میں آپکے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں !” اسکے جڑے ہاتھوں کو نظر انداز کرتا گاڑی ڈرائیو کرگیا وہ روتی خاموش ہوگئی وہ اسے لیکر دوسری حویلی آیا تھا اسنے حواس تو دیکھتے ہی گم ہوگئے تھے دروازہ کھولا اسے کھینچ کر باہر نکالا بڑے پیار سے اپنے ساتھ لگایا ” چلو !” اسے لیے وہ اندر آیا حویلی اب بھی اندھیرے میں ڈوبی تھی کمرا کھولا فون کی لائٹ آن کی کچھ بیگز اٹھائے اور اسے پکڑا دیے ” پہن کر آو ! اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” جج۔۔جی ؟”
” کہا پہن کر آو وہ رہا واش روم !” لائٹ سے دروازہ دیکھاتے اسنے آرام کہا۔وہ اس طرف چلی گئی تقریبا آدھے گھنٹے بعد وہ باہر آئی تو پورا کمرا مومبتیوں سے روشن تھا وہ جو موم بتی جلا رہا تھا نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور دیکھتا ہی رک گیا ریڈ سمپل کلر کی فراک جسکی آستینیں نہیں تھیں نہیں تھی جالی دار دوپٹہ جو ہاتھوں تک پھیلایا ہوا تھا مگر اس جالی میں سے بھی اسکی رنگت صاف نظر آرہی تھی کھلے بال آدھے آگے آدھے پیچھے تھے کانوں میں بڑے گولڈن کلر کے جھمکے اسکی پسند بے شک لاجواب تھی اسنے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر موم بتی کے پھڑپھڑاتے شعلے کو دونوں میں کوئی فرق نہیں تھا وہ قدم قدم چلتا اسکے پاس آیا دو انگلیاں اسکے بازو پر پھیرتا ساتھ ساتھ پھیلا دوپٹہ بھی سمیٹتا جارہا تھا جو کندھے پر ٹکا دیا انگلیاں گردن پر پھیرتا بال بھی ایک طرف کردیے ایک ہاتھ اسکے کمر میں ڈالے اپنے ساتھ لگایا دوسری بازو سے بھی دوپٹہ سمیٹ دیا ” تمہیں پتا ہے میں نے یہ موم بتیاں ہمارے وقت کو خوبصورت بنانے کے لیے لگائی تھیں مگر اب تم جل رہی ہو تو انھیں بجھا دیتے ہیں اسکے کان کے قریب خمار آلودہ آواز میں بولا اسکی بازو پر رینگتا ہاتھ اسکے ہاتھ تک پہنچا اسکی انگلیوں سمیت موم بتی اٹھائی اسکی چہرے کے بلکل قریب لے آیا ” دیکھو اسکو تمہیں دیکھ کر کیسے پگھل رہی ہے یہ ۔۔۔” اسکے کان کے قریب سے اسنے پھونک ماری جو گزرتے ہوئے اسکا جھمکا بھی ہلا گئی اور موم بتی بجھا گئی ۔اسکی سانسوں کی تپش سے اسنے آنکھیں بند کرلیں تھیں اسنے جھمکے کو دیکھا جو نیچے اسکی گردن کو چھو رہا تھا اسنے ہاتھ بڑھا کر اسے اتار دیا ” میرے علاوا اس مقام کو کوئی نہیں چھو سکتا !” ٹھیک اسی جگہ اپنے لب رکھ دیا وہ اسکی گرفت میں ہی سمٹتی جارہی تھی دوسرا بازو اسکے گلہ کے گرد حائل کردیا جب ہٹایا تو دوپٹہ بھی ساتھ ہی ہٹتا چلا گیا ” میں ہوں نہ تمہارا سب سے بڑا زیور میں ساتھ ہوں تو کچھ اور زیب تن کرنے کی ضرورت نہیں !” اسکے گال کو چھوتا مد ہوشی میں بول رہا تھا جب اسکی دل کی دھڑکن کی آواز صاف سنائی دینے لگی دھک ! دھک!ایک خوبصورت سی مسکراہٹ چہرے پر در آئی تھی اسکا ہاتھ تھام کر اسکے دل کے مقام پر رکھا ” زری اسے کہو زرا تھم کے دھڑکے اسکے مالک نے آج اس پر دسترس حاصل کرنی ہے !” اسے لیے موم بتی پر جھک گیا پیچھے گئے بال جھکنے سے پھر آگے آگئے تھے موم بتی کا شعلہ اسکے چہرے کو سنہرا کررہا تھا ” پل پل اس پگھلتی رات میں بوند بوند پگھل رہی ہیں یہ میری طرح جیسے میں تم میں ڈوبتا جارہا ہوں ۔” وہ تو اس پر اپنی محبتیں نچھاور کررہا تھا مگر وہ کچھ اور ہی سوچے بیٹھی تھی ” یہ کونسا طریقہ ڈھونڈا ہے چھوٹے سائیں مجھے سزا دینے کا مجھے مجروح کرنے کا۔۔۔” وہ اسی سوچ کے ساتھ سلگ رہی تھی ۔تمام موم بتیاں بجھانے کے بعد اسنے اسکا رخ اپنی جانب کیا بالوں میں انگلیاں پھنسائے اسکے ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لے لیا وہ سینے پر ہاتھ رکھے اسے دھکیلنے والی تھی ” کس حق سے تو دھکیلے گی انھیں یہ تو انکا حق ہے ۔” طویل لمحوں کے بعد اپنی مرضی سے چھوڑا گھما کر اسکی پشت کو اپنے ساتھ لگایا زپ کھلتی ہوئی محسوس ہوئی تو جان لبوں پر آگئی تھی ” رحم چھوٹے یہ سزا نہ دیں ! آخر اسکا ڈر ابل پڑا تھا اسکا رخ اپنی جانب کیا ” کیا ؟”
” میں جانتی ہوں آپ یہ سب مجھے سزا دینے کے لیے کر رہے ہیں آپ ناراض ہیں مجھ سے میرے دھوکے سے ۔۔۔۔۔۔اس لیے یہ سب کررہے ہیں نہ کریں مجھے چھوڑ دیں کوئی اور سزا دے دی مگر میرے جسم میری روح کے ساتھ کھیل کر سزا نہ دیں پلیز!” اسکی بات پر وہ صدمے میں آگیا تھا “۔کھیل تمہیں لگتا میں تمہارے ساتھ کھیل رہا ہوں تمہیں جسم کے ساتھ کھیل رہا ہوں سزا دے رہا ہے یہ سب تمہیں سزا دینے کے لیے کررہا میرے الفاظ تک پر یقین نہیں ہےمیں جو یہاں تمہارے لیے یہ سب کر رہا ہوں تمہیں بتانے کے لیے کتنا محبت کرتا ہوں تجھ سے اور تو کہہ کے میں تیرے جسم کا بھوکا کھیلنا چاہتا ہوں اور کیا کہا چھوڑ دوں تجھے تاکہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھو یاد نہیں تیرے حق مہر میں جان ہے میری چھوڑ دوں گا تو مر جاوں گا مگر تو ہمیشہ سے یہی سوچتی رہی ہے تجھ سے جو محبت کرے گا اس مکھڑے سے کرے گا اسلیے چھپا رکھتی تھی اسے جا نہیں چاہیے چھپا لے پھر سے تو نے تو یہ کہہ میری محبت کو ہی داغ دار کردیا !” الٹے قدموں واپس چلا گیا تھا اسے اکیلا چھوڑ کر دوسرے کمرے میں اسے پیچھے شرمندگی کے گڑھوں میں چھوڑ کر ” زری مجھے تو تیرے گھونگھٹ سے محبت ہوگئی !
