Mukhra by Bint-e-Aslam NovelR50490 Mukhra Episode 25
No Download Link
Rate this Novel
Mukhra Episode 25
Mukhra by Bint-e-Aslam
دراب سر جھکائے وڈے سائیں کے سامنے سر جھکائے کھڑا تھا اس کا منصوبہ ایسے سرے عام ظاہر ہوگیا تھا مگر وہ تو وہ دراب تھا ہی نہیں اس دراب کو تو رات اسکی بیٹی نے ہی توڑ دیا تھا ” دراب خان تو نے وڈے سائیں کے خلاف لوگوں کو گمراہ کیا گاوں میں لوگوں کے موویشویوں کی چوری کی یہ سارے الزام ہیں تیرے پر تجھے قبول ہیں ؟”
ہاں ! اسنے نظریں جھکائے کہا جس پر پانچوں سر پنچ حیران رہ گئے تھے دلبند تو خود دنگ رہ گیا تھا ” ہاں میں نے سب کچھ کیا لالچ میں دولت شہرت کے لالچ میں لیکن کل رات میرے سب سے قیمتی سرمائے نے مجھے غلط کہہ دیا میری بیٹی نے کہا میں اسکا دشمن ہوں میں نے اسکی پرورش غلط کی ہے سچ ہی تو کہتی ہے میں نے ہی تو دولت شہرت عیش و آرام کی چاہ میں اسے اپنی روایات سے دور کردیا اور یہی میں ان گاوں والوں کے ساتھ کرتا مجھے معاف کردیں !” وہ روتا ہاتھ جوڑنے لگا تھا دراب کا یہ روپ پورے گاوں کو سکتے میں لیا آیا تھا اور یہ سب دلبند کی وجہ سے ہوا تھا جو انجان بنا کھڑا تھا وڈے سائیں خود دراب کے پاس آئے اسکے ہاتھوں کو تھاما ” او چل بس کر شیر ایسے روندے چنگے نئی لگدے!” اسنے حیرت سے اسے دیکھا جس نے اسے مسکرا کر گلے لگا لیا باقی سر پنچ بھی مسکرا اٹھے تھے ان سب سے دور گاڑی کے پاس سفید برقع پہنے ہاتھوں میں دستاںے پیروں تک کو چھپائے نقاب کیے سر امامہ باندھے حجاب کیے کوئی کھڑا تھا جسے دیکھ کر دلبند کو شک ہوا وہ جھجھکتا ہوا اسکے پاس آیا ” رو۔۔۔۔روزینہ ! ڈارک براون شیڈ آنکھوں کے حیرت سے اسے دیکھا ” میں شانزے ہوں دلبند !
اسنے حیرت سے سر تا پیر اسے دیکھا اسے خوشی بھی ہوئی تھی اور حیرت بھی “یہ سب بہت اچھا لگا !
“ تم ہی نے کیا ہے تم نے سکھایا کہ یہ ہے میری حقیقت تھینک یو .”اسکی بات پر وہ صرف مسکرا کر اثبات ہلا گیا وہ گاڑی میں بیٹھی اور چلی گئی ۔
حویلی میں خوشی کا سماں تھا دراب شانزے کی وڈے سائیں نے دعوت کی تھی کھانے کے بعد چائے کا دور دوڑا کشمیراں شانزے کو دیکھ کر سکتے میں تھی اماں سائیں نے منع بھی کیا تھا مگر پھر بھی زری سارا کام کررہی تھی وہ اس وقت بھی کچن میں تھی جب شانزے آئی کتنا عجیب منظر تھا پردے کے دو رنگ تھے ایک کی آنکھیں آیا تھیں دوسرے پوری چھپی تھی کچن میں وہ دنوں ہی تھیں اسلیے شانزے نے نقاب اتار دیا” تم دلبند کی وائف زری ہو نہ !” کسی کی آواز سن کر اسنے فورا سے گھونگھٹ نیچے کرلیا ” ارے فکر مت کرو صرف میں ہی ہوں .” اسنے پلٹ کر اسے دیکھا تھوڑا سا گھونگھٹ اٹھا کر اس مسکراتے چہرے کو دیکھا پھر نیچے کرلیا ۔
“ اگر تم برا نہ مانو تو میں تمہارا چہرا دیکھ سکتی ہوں یہاں اور کوئی نہیں ہے؟”اسنے چپ چاپ گھونگھٹ اوپر کردیا سفید رنگ ہری درمیانی آنکھیں تیکھے نقوش گلابی ہونٹوں پر مدھم سی مسکراہٹ ناک میں کوکا اور بالوں کو پراندے میں سمیٹے وہ خوبصورت تھی شیر کے دل کو گھائل کرنے والی ہرنی کی طرح شانزے تو خود اسے چند لمحے دیکھتی رہ گئی تھی ” زری تو کتنی پیاری ہو اور کتنی خوش نصیب بھی تمہاری اور دلبند کی شادی کے بارے میں پتہ چلا کتنا خوبصورت حادثہ ہوا ہے تمہارے ساتھ دلبند جیسا انسان تمہارا ہمسفر ہے ۔۔۔۔”
” حادثہ اچھا ہو یا برا حادثہ ہی ہوتا ہے اس کے اثرات سب کے لیے ایک جیسے نہیں ہوتے کسی کے لیے اچھا ہوتا ہے تو کسی کے لیے سب سے کڑی ازمائش بن جاتا جیسے میرے لیے ۔۔۔” اسنے بے بسی سے مسکرا کر کہا
” تم دونوں کی جوڑی سہی ہے دونوں کی باتیں سمجھ سے باہر ویسے ایک ریکوسٹ تھی تم سے !” اسنے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا ” میں جب سے پاکستان آئی ہوں سب شہر دیکھے ہیں مگر اپنا گاوں ہی نہیں دیکھا تم مجھے یہ گاوں دیکھاو گی ؟”
” اماں سائیں سے پوچھ لیجیے گا میں اور بختو دکھا دیں گے آپکو ہمارا گاوں بہت سندر ہے ۔۔۔” اسکی بات سن کر نقاب اوپر کرتی وہ چل دی وہ بھی کام میں لگ گئی ۔
” ویسے دلبند تمہاری بیوی بہت خوبصورت ہے !” دروازے پر رخصت کرتے وہ شانزے نے اسے آہستہ سے کہا ” آپ نے دیکھ لی ؟”
” لو تم تو ایسے کہہ رہے ہو جیسے تم نے یا کسی نے بھی نہیں دیکھی !” وہ ہنس دی تھی کیا پتہ تھا کہ سچ میں اسنے تو دیکھی ہی نہیں تھی وہ لوگ چلے گئے تھے اسنے ایک نظر پلٹ کر کشمیراں کی مدد کرتی زری کو دیکھا ۔۔۔
میرا ہے پر مجھ سے چھپا ہے کیوں تیرا مکھڑا ۔۔۔
” شانزے جی یہ گڑ بن رہا ہے ! بختو شانزے زری ارتشا چاروں لڑکیاں ایک ساتھ گاوں گھومنے نکلی تھیں راستہ میں انھیں کہیں گڑ بنتا دکھ گیا شانزے فوٹوگرافر تھی شوشل میڈیا پر بہت فیمس بھی تھی مگر صرف دوسرے شہر اور ممالک کے کبھی اسنے کسی گاوں کی خوبصورتی کو کیمرے کی آنکھ میں قید نہیں کیا اب کررہی تھی ایک بڑا سا پتیلا اس میں پکتا گڑ پرانے پسینے سے بھرے لباسوں میں چمچ ہلاتے سروں پر صافے باندھے گڑ نکالتے ہوئے معصوم پینڈو سادہ سے لوگ اس لڑکی کو حیرت سے دیکھ رہے تھے جو انکی تصوریریں بنا رہی تھی ” گڑ گنے سے بنتا ہے اور اسے گنے کے کاڑھ کر اس میں سے وائٹ شوگر بروان شوگر شکر گڑ نکلتا ہے اسکے علاوا اس میں میوے ڈال کر بھی گڑ بنتا ہے جو شہروں میں لوگ بہت شوک سے کھاتے ہیں گڑ اور شکر کی چائے وائٹ شوگر سے کم خطرناک ہوتی ہے وائٹ شوگر اسکی راب سے بنتی ہے پھر شاور سے دھویا جاتا ہے مگر شہروں میں بعض اوقات اسے صاف کرنے کے لیے کیمیکل بھی استعمال ہوتا جو شوگر کے چانسز بڑھا دیتا ہے ۔” یہ ساری انفارمیشن زری دے رہی تھی اور تصوریریں بناتی جارہی تھی ۔اسکے بعد وہ اسے کپاس کی فصل میں لے گئیں جہاں کافی ساری عورتیں نرمے کی فصل سے کپاس نکال رہی تھی ” اسے کپاس کہتے ہیں یعنی روئی کپاس دو قسم کی ہوتی ہے دیسی اور فارمی دیسی فارمی سے زیادہ بھاری ہوتی ہے اور کم اگائی جاتی ہے پھر انھیں شہر منڈی میں بیچا جاتا ہے یہ عورتیں جو کپاس چن رہی ہیں انکی دنوں کے حساب سے انھیں مزدوری ملے گی جن سے یہ اپنا گھر خرچ کرتے ہیں گندم کی کٹائی کے فورا بعد کپاس بو دی جاتی ہے جو جوالائی اگست میں شروع ہوتی ہے اور دسمبر تک رہتی ہے گاوں والوں روئی خریدنے کی ضرورت پیش نہیں آہنی بیٹیوں کی شادی کے لیے اسی میں سے جمع کرلیتی ہیں ۔” وہ اسے بتا رہی تھی مگر وہ اس میں موجود ایک چھوٹی سی بچی جس کی سکن فریکلڈ تھی انکھیں ڈارک بروان لائٹ بروان کے بال جس پر دوپٹے کا ایک پلو باندھا تھا اس طریقے سے کہ پیچھے ایک جھولی بنتی تھی جس میں اسنے ڈھیر ساری کپاس اکٹھی کی تھی ۔وہ تصویر صرف تصویر نہیں تھی اس میں اس بچی کی معصومیت سادگی محنت اور آنکھوں میں حیرت کی جھلک صاف تھی .
اگلا مقام اینٹیں بنانے کا بھٹہ تھا ” یہ وہ جگہ ہے جہاں انسان اپنا گھر بنانے کے لیے سارا دن اس بھٹی کی آگ میں جلتے ہیں سرکار کہہ رہی ہے ان بھٹوں کو بند کردیں یا اسکی چمنی پر فلٹر لگائیں حکومت کو چاہیے انھیں وہ مہیا بھی کریں آج اگر یہ سب بند ہوجائیں تو حکومت کو اپنا کوئی بھی منصوبہ پورا کرنے کے لیے اینٹ نہیں ملے گی ہزاروں گھر بھوکے سوئیں گے ۔۔۔” شانزے نے ایک افسردہ سے نظر بھٹے میں اینٹیں بناتے مزدوروں کو دیکھا جن کی پیروں میں جوتے بھی نہیں تھی نیچے پھٹیاں لگا کر کپڑا باندھا گیا تھا گھر میں اینٹوں سے بنا جو کسی مسالے سے جڑی ہوئی نہیں تھیں صرف کھڑی کی گئیں تھیں ایک زوردار جھٹکا اور سارا گھر ڈھیر مگر ان سب پر بھی اسکی نظر چار سال کی ایک بچی پر پڑی جو اپنے باپ کے کندھوں پر بیٹھی تھی سر پر نام نہاد تنکا تنکا بال بھٹے کے دھویں سے جھلسی رنگت سامنے کے ٹوٹے ہوئے دانت انکی نمائش کرتی جس کا باپ اسے مسکراتے ہوئے پھسلا رہا تھا ” میری بیٹی تو شہزادیوں سے بھی سوہنڑی ہے میری پری ہے !” اس آدمی کے چہرے کا سکون اطمینان ہر مجبوری پر بھاری تھا جو اسکی آنکھیں. اشکبار کرگیا تھا ارتشا تو یہ سن سن کر بور رہی تھی اور بختو اسے گھورنے پر مگن تھی ” شوخی!”وہ لوگ اپنی زمینوں پر واپس آگئے تھے جہاں ایک ٹھنڈے پانی کا پکا سووا تھا جس میں انسان آدھا ڈوب جاتا تھا ” یہ ہے ہمارا منرل واٹر لوگ یہاں کپڑے بھی دھوتے ہیں نہاتے بھی ہیں فصلوں کو بھی لگایا جاتا ہے پینے کے پانی کے لیے وہ نلکا لگا ہے ان دونوں پانی کی ڈگیاں الگ الگ ہیں ۔۔۔” وہ اسے لیے ایک نلکے ( ہینڈ پمپ ) پاس آئی نلکے کا لوہا ٹھنڈا تھا گرمی میں ایک سکون سا مل تھا اسے چھونے سے بختو دوسرے والے کے ساتھ شرارتیں کر رہی تھی اسنے نلکا چلانا شروع کیا تھا پانی نکلنا شروع ہوگیا فصلوں کی خاموشی میں لوہے کے چلتے نلکے کی آواز اس سے نکلتا ٹھ۔نڈا پانی شانزے نے ہاتھ پانی کے نیچے کیا تو اسکی دھار اسکا ہاتھ دھکیلنے لگی ” آو مائی گوڈ اس کا پانی تو اتنا ٹھنڈا ہے جیسے فریزر کا ہو !”
” جی یہ زمینی پانی ہے اسلیے ٹھنڈا لوہے کا نلکا دھوپ میں چاہے جتنا جلے پینے والے کو نہیں جلاتا زمین سے کھینچ کر ٹھنڈی پھوارے لے آتا ہے یہ بے جان ہوکر اپنا کام نہیں بھولتا اور ہم جاندار ہو کد لوگوں کو زندہ جلا دیتے ہیں کبھی آگ سے تو کبھی زبان سے ۔۔۔۔۔” اسکی بات سنتی شانزے نے چوری سے اسکی نلکا چلاتی کی تصویر بنائی کرتی کی آدھی آستینوں نظر آتے اسکے سفید بازو ان میں موجود ہری چوڑیاں نچلے ہونٹ سے لیکر بیوٹی بون تک کا چہرا ہری شیشوں سے بھری فراک اور نیچے ہلکی لال پٹیالا شلوار جس کے پائنچے بند اور اوپر سے کھلی تھی سر پر ناک سے نیچے ہلکا لال شیشوں والا گھونگھٹ حسن تھا کس کا رویات کا سادگی کا رواج کا احترام کا اسنے حفاظت سے وہ تصویر اپنی گیلری میں سیف کی ” واو!” وہ اسے ایک سوکھے کنویں کے پاس لائی ” پہلے زمانوں میں لوگ کنویں بنا کر پانی نکلتے تھی عورتیں بھی یہاں کپڑے دھوتیں گھڑے بھرتیں گھونگھٹ نکالے گھڑا سر پر رکھے ننگے پیر جایا کرتی تھیں بالٹی پھینکنی پانی نکلنا سارا دن یہاں چہل پہل رہتی تھی مگر جب نلکے لگے ٹیوب ویل لگ گئے تو یہ رونقیں ختم ہو گئیں بختو شرارتے کرتی بلا وجہ ہی بالٹی کنویں کے اندر پھینک رہی تھی یہ لمحہ شانزے اپنے کیمرے میں قید کر چکی تھی ” زری چل نا اس کھالے پر چلتے ہیں !” وہ انھیں لیے پھر ایک سووا نما جگہ پر آگئی اس میں پانی کا بہاوں تیز تھے بختو دیکھتے ہی دیکھتے اسکے اندر اتر گئی تھی اسنے چہرا کھلا چھوڑا تھا کپڑے بھگوتی خود پر پانی ڈالتی کھیل رہی تھی جب اسنے زری کا کاتھ کھینچا اور وہ بھی سیدھا پانی میں آگئی اسکی ساری چادر گیلی ہوگئی تھی وہ اس پر مسلسل پانی پھینک رہی تھی اور وہ ہاتھ اٹھائے اسے روک رہی تھی ۔
“شناور اس طرف والی فصلوں کو پانی کم ملتا ہے اور ان میں یہ بوٹیاں بھی بہت اگی ہیں ان پر سپرے کروا دو یا ایک کام کرو گاوں والوں سے کہوں جسکو ضرورت ہے جانوروں کے لیے چارا لے جائے ” دلبند اور شناور زمینوں کے دورے پر تھے بلیک کلر کی شلوار قمیض پہنے ہاتھ پیچھے باندھے ہر طرف نظر دوڑاتا جارہا تھا
” بختو تو نہ پاگل ہے میرے سارے کپڑے گیلے کردیا !” وہ کپڑے جھاڑتی پانی سے باہر آئی اسکا دوپٹہ گیلا تھا کپڑے بھی گیلے ہوکر چپک گئے تھے وہ بلند فصلوں کی اوٹ میں آئی دوپٹہ اتارا گیلے بال کھول کر جھاڑے بالوں میں ہاتھ پھیر نے کی اسکی چوڑیاں شور مچا نے لگی تھی جن کی کھنک کسی اور کے کانوں میں بھی پہنچ گئی تھی وہ اسی سمت چل دیا وہ اپنا گیلا دوپٹہ چلتی ہوا میں سکھا رہی تھی ” میں کچھ مدد کردوں !” شانزے کیمرا ایک درخت سے لٹکاتی اسکے پاس آئی ” جی آپ اسکا ایک سرا پکڑ لو میں دوسراا!” اسے ایک طرف کے سرے پکڑا کر خود پکڑتی دور ہوگئی وہ دونوں فصلوں کی اوٹ میں دوپٹہ اوپر نیچے ہلا رہی تھیں ۔ اسکی چوڑیاں اور بڑھ کر شور کررہی تھی وہ وہاں پہنچا تو کمر تک کھلے گیلے بال ان میں موجود فراک کی ڈوریاں کان کی لو سے لیکرنظرآتی گردن اور ہلنے سے ہلکتا جھمکا ” دلبند تم یہاں ؟” دلبند کے نام پر اسکے چلتے ہاتھ رک گئے تھے چوڑیاں خاموش کر ڈھک گئیں ہونٹوں پر خشکی آگئی تھی وہ آہستہ سے آگے بڑھ رہا تھا ” آجاو تمہاری بیوی ہی ہے ڈر کیوں رہے ہو ؟” اس سے پہلے وہ پہنچتا زری نے شانزے کے ہاتھ سے دوپٹہ کھینچا اور چہرا چھپا لیا اور وہاں سے چلی گئی ” ہائے ! اتنی شرم .”
” میرا خیال دوپہر بہت ہوگئی ہے آپ لوگوں کو حویلی واپس جانا چاہیے شناور آیا ہے وہ آپ سب کو لے جائے گا !” زری کی اس حرکت پر اسکو اچھا خاصا برا لگا تھا ۔
شناور زری اور ارتشا کو لے آیا تھا شانزے اپنی گاڑی میں گئی تھی اور بختو تو ویسے ہی آوارہ پنچھی تھی ۔سارے کام دلبند اور عرفان سنبھال رہے تھے اسلیے کام کی وجہ سے وہ حویلی میں کم ہی نظر آتا تھا رات تک واپس آیا تو موڈ کافی خراب تھا سب لوگ کھانا کھا چکے تھے وہ اپنے کمرے میں آیا غیر معمولی انداز سے چادر اتاری کف کھولے اور جوتے اتارنے بیٹھ گیا غصہ اتنا تھا کہ وہ کھل ہی نہیں رہے جب دروازے پر کسی کی پائل کی جھنکار ایک بار پھر سنائی دی وہ کھانا لاکر میز پر رکھنے لگی اور وہ نہایت غور سے اسے دیکھنے لگا اٹھ کر اسکے قریب آگیا غصہ ہی اسی بات کا تھا جو اس نے آج شانزے کے سامنے کیا تھا وہ اٹھ کر جانی لگی جب بازو کھینچ کر اپنے قریب کرلیا بغیر گھونگھٹ اٹھائے اس سے مخاطب ہوگیا ” مجھے نرم رہنا صرف تب تک پسند ہے جب تک مجھے کوئی دبانے کی کوشش نہ کرے !” غصے سے ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہہ رہا تھا اسکے تو حواس گم ہوگئے تھے اسے کیا ہوا ہے ” کک۔۔۔۔کیا ہوا چچ۔۔۔۔چھوٹے سائیں !”جب اسنے بازو پر دباو بڑھا دیا اسے تکلیف ہونے لگی تھی ” میں تمہارے پردے کا احتارم کرتا ہوں تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ تم میرا مزاق بناتی پھرو مجھے تمہارا چہرا دیکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے تو جو بھی ہو جیسی بھی مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا آج کے بعد تم اس حویلی سے ایک قدم بھی باہر نہیں نکالو گی ورنہ نہ تم رہو گی نہ تمہارا پردہ ۔۔۔” جھٹکے سے اسکی بازو چھوڑی دور کردیا دوبارہ بیٹھ کر اپنے جوتوں سے جونجنے لگا مگر ہوکس تھی جو کھولنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی اسکا یہ روپ تو اسنے پہلی بار دیکھا تھا چپ چاپ وہاں سے چلی گئی جوتے اتارے ایک اچٹتی سی نظر کھانے پر ڈالی اور منہ پھیر کر لیٹ گیا ” کیوں مجھے اتنا فرق کیوں پڑ رہا ہے جب اس سے محبت ہی نہیں ہے تو جو مرضی کرے کیوں برداشت نہیں ہورہا میرے علاوا اسے سب دیکھتے ہیں کیوں اسے باہر نکلنے سے منع کردیا ۔۔۔”وہ اپنی ہی حالت سے بیزار ہوتا جارہا تھا روزینہ بھی نہیں آتی تھی اب تو ۔
وہ چپ چاپ اپنے کمرے میں آگئی تھی رو نہیں رہی تھی غصے میں تھی منہ پھلا کر بیٹھ گئی ” ہاں تو میں نے کہا تھا انیسویں صدی کے ہیرو بنے کے لیے اتنا ہی غصہ آیا میرے چہرے چھپانے پر تو زبردستی دیکھ لیتے خودی نہیں دیکھتے میں نہ کونسا روکا ہے اب کیا لڑکی خود اپنا گھونگھٹ اٹھا کر کہے دیکھو میرا منہ !” نتھنے پھلائے خود کلامی کر رہی تھی ۔
شانزے نے وہ ساری تصویریں اپنے انسٹا گرام میں ڈال دیں تھیں کمنٹس فورا آنے شروع ہوگئے تھے جن میں آکثر انگلش تھی واو! بریلینٹ ! اوسم ! ہارٹ ٹچنگ ایک کمنٹ پر جاکر نظر رک گئی ” مغرب کے حسن کی مداح مشرق کی سادگی میں کیسے ڈوب گئی ؟”لکھنے والا کا نام پڑھ کر ہارٹ بیٹ تیز ہوگئی تھی ” ظہیر احمد!” ایک جھٹکے سے لیپ ٹاپ بند کیا اور بیڈ کراون سے ٹیک لگا لی آنکھیں بند کی اور لنڈن یونی پہنچ گئی ۔
