Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mukhra Episode 6

Mukhra by Bint-e-Aslam

وہ لوگ ارفو چچا کے پاس پہلے پہنچ گئے تھے ” ہاں تو چچا جب تو اس لڑکی کا گھونگھٹ اٹھانے لگا تو کیا ہوا ؟”

” ہونا کیا تھا پتر اپنی بہن کا لہنگا پہن کر آئی تھی جیسے ہی میں نے گھونگھٹ پر ہاتھ ڈالا اسکی بہن آگئ غصے میں اور آتے ہی اسے کھینچنے لگی ” اتار میرا لہنگا مجھ سے بنا پوچھے پہن کر آئی تو اتار ابھی اتار ۔۔۔۔” اس بات پر دلبند اور شناور لوٹ پوٹ ہوگئے تھے ” میں نے گھونگھٹ کیا اٹھانا تھا وہاں تو لہنگے اترنے والے تھے میں تو جوتا اٹھا کر بھاگا وہاں سے بعد میں پتا نہیں کیا ہوا ہوگا ۔دلبند کا پیٹ دکھنے لگا تھا کہانیاں سن سن کر کہ اچانک فون بجنے لگا کال اٹھائی جو کٹ گئی سگنل کی وجہ سے شناور کو بتا کر اٹھا اور سگنل ڈھونڈ نے نکل گیا ۔وہ فصلوں کے بنائے د

راستوں میں سے گزرتی لالٹین سے دیکھتے آگے بڑھ رہی تھی راستہ چھوٹا تھا وہ بھی فون کو ہوا میں ادھر ادھر کرتا سگنل ڈھونڈ رہا تھا کی ایک چیز سے ٹکرایا اور فون پانی لگی فصل کے اندر مگر دوسری گرتی چیز کو سنبھال لیا لالٹین اسکے ہاتھ سے پکڑ لی اور اسے گرنے سے بچا لیا ۔اسکی باہوں میں گرنے سے اسکا گھونگھٹ تھوڑا سا ہل گیا تھا جس سے گلابی ہونٹ سے نیچے کا حصہ نظر آنے لگا تھا اسکی کمر میں ہاتھ ڈالے اسکے قریب اور دونوں کے درمیان لالٹین میں جلتا آگ کا شعلہ انکے چہرے کو سنہرا کر رہا تھا زری کو لگ رہا تھا اسکی انگلیوں کے لمس سے اسکی جلد پگھل جائے گی اسکا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا سانس تیز ہورہا تھا اور وہ اسکے ہونٹوں کی حرکت سفید گلے سے اترنی والی سانسوں کو نہایت غور سے دیکھ رہا تھا بس آنکھیں دیکھنی رہ گئی تھیں باقی بیوٹی بون تک صورت نظرآگئ تھی مگر آنکھیں دیکھتا بھی تو کیسے ایک ہاتھ میں وہ تھی دوسری میں لالٹین چھوڑتا تو دونوں گر کر ٹوٹتی ایک کی کمر دوسری کا شیشہ دیکھنے کی حسرت پھر حسرت ہی رہ گئی ۔

میرا ہے پر مجھ سے چھپا ہے کیوں تیرا مکھڑا۔۔۔۔

ایک دم سیدھی ہوئی اور گھونگھٹ نیچے کھینچ لیا دلبند کے ہونٹوں کو مسکراہٹ چھو گئی تھی پھر رات کی تنہائی اور اندھیرا دیکھا ” اتنی رات کو باہر کیوں نکلی ہو ؟”

” وہ۔۔۔۔آ۔۔ابا کو روٹی دینی تھی اماں کے پیر میں موچ آگئی تھی اسلیے آنا پڑا ورنہ بھوکے رہ جاتے ۔۔۔”

“اور اگر تمہیں کچھ ہوجاتا تو ؟” ۔۔۔۔۔۔مگر اسکی نظر فصل میں ڈوبے پڑے فون پر پڑ گئی ” ہائے چھوٹے سائیں آپکا کا فون ۔۔۔۔” اسنے ہاتھ بڑھا کر پانی میں سے فون نکالا جو نہا چکا تھا ” چھوٹے سائیں آپکا فون میری وجہ سے خراب ہوگیا مہنگا بھی ہوگا ہائے ابا سے کہوں گی گندم بیچ کر اسکی قیمت ادا کردے معاف کردیں چھوٹے سائیں !” وہ بے لگام بولے جارہی تھی اور وہ اسکا منہ دیکھ رہا تھا ” کوئی بات نہیں خراب ہونے والی چیز تھی ہوگئی کیا کیا جاسکتا ہے اور جو چیز میں خود لے سکتا ہوں اسکے لیے تم اپنا پورے سال کا اناج کیوں بیچو گی ہم نے آج تک منہ میں نوالے ڈالے ہیں چھینے نہیں پاگل لڑکی ۔۔۔۔” اسکے ہاتھ سے فون لیکر کھولا سم نکالی اور فون کنویں میں پھینک دیا ۔ وہ جھکتی دیکھتی جارہی تھی جب مٹی سے پیر پھسلا اندر گر جاتی اگر وہ بازو سے پکڑ کر نہ کھینچتا ” خودکشی کا شوق ہے تو میں مار دو مجھے اپنا خون معاف کردو ڈوب کر کیوں مر رہی ہو ہاہاہا …” وہ ہنسنے لگا تھا وہ صرف سن سکتی تھی وہ بھی مسکرا دی تھی ” اچھا تم چچا کے لیے کھانا لائی تھی کیا لائی ہو ؟”

” وہ ۔۔۔اماں نے بھنڈی بنائی ہے !” ۔۔۔” اور یہ تو مجھے اب بتا رہی ہے چل کھاتے ہیں ۔” اسنے حیرت گھونگھٹ کی پیچھے سے ظاہر کی ” آپ ہمارے ساتھ کھانا کھائیں گے ہمارے گھر کا پکا ۔”

تمہارے گھر بھی کھانا چولہے پر پکتا ہے اور ہمارے گھر بھی کہ تو جادوئی چھڑی سے کھانا بناتی ہے ؟”

” نہیں سرکار ہم آپکے نوکر ہیں ۔۔۔۔” اماں سائیں نے کہا تھا تم لوگ نوکر نہیں ہو حبیب ہو اور میں نے تو تمہیں بچپن میں دوست کہا تھا آجا کھاتے ہیں۔” وہ اسے لیے آگے بڑھ گیا وہاں جاکر عرفو نے اس سے پوچھا تو اسنے سچ سچ بتاو دیے شناور عرفو اور دلبند مزے سے کھا رہے تھے اور اتنا خوش تھا کہ کہاں سے لگ رہا تھا وہ اپنے کمیوں کے ساتھ بیٹھا ” ہمیں عشق ہے آپ سے چھوٹا سائیں آپ سب کی عزت کرتے ہیں سب سے محبت کر تے ہیں ۔”

اسے کھانا کھلا کر وہ باپ بیٹی واپس آگئے تھے ۔ چھٹیاں ختم ہوگئی تھی دلبند ایک بار پھر زری کے گھونگھٹ سے روزینہ کے حجاب تک کا سفر طے کرنے جارہا تھا یہاں آکر بس اسے انتظار تھا تو یونی لگنے کا اس دشمن جاں کا مکھڑا بھی تو دیکھنا تھا یہ جانے بغیر کے ترس تو گھونگھٹ کے پیچھے وہ بھی اسکا چہرا دیکھنے کو گئی تھی ۔کلاس لگ گئی تھی تمام سٹوڈنس جمایاں لے رہے تھے اسفندیار ڈیسک پر ناجانے کیا نقشے بنا رہا تھا دلبند ہمیشہ کی طرح کتابوں میں گھسا تھا جب روزینہ عرف زری آئی ٹی پنک کلر کی شرٹ وائٹ ٹراوزر اور وائٹ شفون کے دوپٹے سے حجاب نقاب کیے اندر آگئی نقاب وہ کلاس میں اتار دیتی تھی صرف حجاب رکھتی تھی ۔ہری آنکھوں میں تھوڑی سی شرم اور خوشی لیے اسنے ایک نظر بھر کتاب پر جھکے دلبند کو دیکھا ” سلام چھوٹے سائیں زری روزینہ بن کر خدمت میں حاضر ہے !” شرماتی اسکے بلکل برابر والے ڈیسک پر بیٹھ گئی جب وہ اٹھا پڑھتا ہوا” بائیوٹیک روزینہ !” اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر بے ساختہ بول پڑا جس پر وہ ہنس دی ” بائیوٹیک روزینہ نہیں بائیوٹیکنولوجی ہوتا ہے مسٹر ٹاپرہاہاہا!”

” ارے نہیں وہ آپ ایسے کیوں دیکھ رہی تھیں ؟” ۔وہ شرمندہ سا ہوگیا تھا ” آئم سوری ہمیں آپ سے وہ مزاق نہیں کرنا چاہیے تھا اسفندیار ایک بہت شرارتی لڑکا ہے اسنے مجھ سے شرط لگائی تھی کہ اس سال کے ٹاپر کے ساتھ آخری مزاق کرنا ہے اور اگر میں جیت گئی تو وہ کسی کو تنگ نہیں کرے گا اسلیے ایک اچھا کام کرنے کے لیے گندہ کھیل کھیلا ہمیں معاف کردیں ۔”

” اگر تو اسفندیار کسی کو تنگ نہیں کررہا تو اٹس اوکے !” روزینہ نے ایک نظر ڈیسک پر منہ رکھے پین سے ڈیسک پر شکلیں بناتے اسفندیار کو دیکھا ” کچھ اثر تو ہوا ہے ورنہ ابھی شور مچ رہا ہوتا ۔” اسے دیکھ کر وہ دونوں ہنس دیے جب دلبند نے ہاتھ آگے بڑھایا ” دوست ! ” اسکا ہاتھ دیکھ کر زری کو بچپن کی یاد آگئی تھی جب وہ بھاگ کر آیا زبردستی اس سے ہاتھ ملایا ” آج سے ہم دوست!” اسنے گہرا سانس لیا اور مسکرا دیا ہاتھ ملایا لمس جڑتے ہی جیسے تپش دل تک پہچنے لگی اسلیے دو لمحے بعد ہی ہاتھ چھڑا لیا ۔زری نے تو وہ ہاتھ چھپ کر لبوں کو لگا لیا تھا اور اسنے دل پر رکھ لیا تھا عشق میں پاگل ہوتے جارہے تھے یہ جانے بغیر کے اسفندیار کے کالے کردار کی سیاہی روزینہ کو داغ دار کر دینے والی تھی ۔ سر کاشف کلاس میں آچکے تھے اب انکی جانب متوجہ ہوگئے ۔” اوکے سٹوڈنٹس یونی میں یوتھ فیسٹیول ہے تو آپ لوگوں نے کیا سوچا ہے اسکے بارے میں ؟” وہ ساری کلاس کی طرف متوجہ تھے جب کسی نے کہا ” سر ڈرامہ کوئی پلے ہمارے کلچر سے !”

” گڈ آئیڈیا ! سر کاشف کو پسند آگیا تھا ” کوئی لو سٹوری پرسنٹ کریں !”

ہیر رانجھا ایک نے کہا

لیلہ مجنوں ۔۔۔۔کہیں سے آواز آئی۔

رومیوں جولیٹ ۔دوسرا چیخا روزینہ اور دلبند نے ایک ساتھ کہا ” سسی پنوں !” پھر ایک دوسرے کو دیکھا اور ہنس دیا ” سسی پنوں ہاں یہ لو سٹوری سندھ کی ہے اور یونیک بھی گو آ ہیڈ !” انھیں کچھ سمجھا کر وہ چلے گئے جب سارے سٹوڈنٹس ملبے کی طرح ان پر لپکے وہ نو بہاتا جوڑے کی طرح ہسنے شرمانے لگے ۔” یار وہ تو ٹھیک ہے مگر مین لیڈز کون ہونگے ۔”

” پنوں تو ہمارا دلبند ہی بنے گا ۔” شہریار نے دلبند کے کندھے پر ہاتھ کر کہا جس پر اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” میں کیوں ؟”

” ہم سب میں توہی ہے جو محبت سمجھتا ہے عشق سمجھتا ہے تجھ سے بہتر کوئی نہیں ۔۔” اسنے مسکرا کر ہاں کردی تھی

تو پنوں اگر دلبند بن رہا ہے تو سسی کون بنے گی ؟” ۔۔۔”