Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mukhra Episode 19

Mukhra by Bint-e-Aslam

آیم سوری مجھے کرنا پڑے گا بٹ پرامس تمہارا پردا خراب نہیں ہوگا بس تمہارے پاس آوں گا غلط نیت سے نہیں چھووں گا ۔” اسکے قریب آیا بلینکٹ ہٹائی اسکے قریب لیٹ گیا اسکے کانپتے وجود کو اپنے آپ میں بھینچ لیا اسے سینے سے لگائے اسے پرسکون کررہا تھا مگر اس بار تو حق تھا آنکھیں بند کی تو ہر منظر مٹ کر اس لمحے میں قید ہوگیا جب وہ بھی اس میں سمٹ گئی ٹھنڈ میں گرمی جو مل رہی تھی ناجانے کیوں خوبصورت احساس ہورہا تھا گرفت اور مضبوط کر لی کچھ دیر بعد اسکے کانپتے وجود میں کمی آئی تو خود سے دور کرنا چاہا مگر وہ نہیں ہوئی ” چھوٹے سائیں مت جائیں مجھے چھوڑ کر پلیز مت جائیں !” وہ حیران تھا اسکے الفاظ پر غنودگی میں تھی ” نہیں جارہا یہی ہوں تم ٹھیک ہو ؟” اسنے پھر اسے الگ کرنے کی کوشش کی اس بار وہ ہوگئی تھی اٹھا ایک نظر اسے دیکھا ” سوری مگر تمہاری جان بچانا ضروری تھا لیکن اپنے رب کی قسم صرف جان بچانے کی نیت سے ہاتھ لگایا ہے پردہ بھی نہیں ہٹایا تمہارا ۔۔۔” فسٹ ایڈ باکس کھولا کشمیراں ! کشمیراں ! کشمیراں کو آواز دی وہ بھاگ کر اندر آئی ” یہ تھرمامیٹر لگاو اسے ۔۔” اسنے تھرمامیٹر لگا دیا کچھ دیر بعد چیک کیا تھا بخار ایک سو دو تھا ” جب ہوش آئے تو دودھ پلا کر دوائی دینی ہے میں زرا آتا ہوں .” میڈیسن پکڑا کر وہ کمرے سے باہر نکل گیا تھا ۔

ارتشا ! ارتشا ! وہ جو ڈری ہوئی اپنے کمرے میں بیٹھی تھی اور ڈر گئی تھی بازو سے پکڑ کر سامنے کھڑا کیا “یہ کیا بے واقوفی ہے اتنی بارش میں تم نے اسے باہر پھول لینے بھیج دیا زندگی داو پر لگ گئی ہے اسکی نمونیہ ہوگیا تو ۔۔۔” بازو چھڑایا اور غصے سے پھنکاری ” تو ہوجائے گی ٹھیک پھول ہی لینے بھیجا تھا مجھے کیا پتہ تھا اتنی نازک ہے !” اسکی ڈھٹائی پر دماغ خراب ہورہا تھا اسکا ” تمہیں میں نے کہا تھا اس سے دور رہو وہ میری ۔۔۔۔میری بیوی ہے !” کچھ لمحے رک مناسب لفظ ڈھونڈ کر بتایا تھا اسے.

“مجبوری میں نکاح ہوا ہے کوئی معنی نہیں تمہاری نظر میں اسکے بس ہمدردی ہے اس سے تو زیادہ چلاو نہیں سمجھے ۔” وہ بھی اچھے خاصے غصے میں تھی ۔

” میرے لیے اس نکاح کے کوئی معنی ہیں یا نہیں وہ میرا ذاتی مسئلہ ہے تم ہم دونوں سے دور رہو سمجھی !” ڈھاڑتا چلا گیا تھا اور وہ منہ تکتی رہ گئی۔

کچھ دیر بعد وہ دوبارہ اسکے کمرے میں آیا تھا اسے ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا پیروں کی طرف بیٹھ گیا چہرا اسکا ابھی بھی چھپا تھا ” مسٹر ٹاپر اسکی فکر ہورہی ہے ؟” اسکی طرف بڑھتے ہاتھ پھر اسکی آواز سن کر رک گئے سفید لباس میں آدھے بال آگے کیے سینے پر ہاتھ باندھے مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی اسنے معصومیت سے اثبات میں سر ہلا دیا ” میں بتا رہی ہوں مسٹر ٹاپر یہ میری جگہ لیتی جارہی ہے !” مصنوعی غصے سے انگلی اٹھاتی جب وہ سیدھا ہوگیا ” تو تمہیں جلن ہورہی تو واپس کیوں نہیں آجاتی۔۔۔۔” آہستہ آہستہ قریب آئی اسکے گھنٹے کو پکڑے نیچے بیٹھ گئی چہرا اوپر اسکی طرف اٹھا لیا وہ بھی چہرا قریب کرگیا ” واپس آئی تو سب تباہ ہوجائے گا کسی موت ہوجائے گی میری یا تو زری کی !” اسکے چہرے پر آئی مسکراہٹ اچانک غائب ہوگئی تھی اور اسی کے ساتھ وہ بھی غائب ہوگئی ۔” پانی ! ۔۔۔” پانی مانگتے اسے ہوش آیا اسنے پاس پڑے جگ میں سے پانی ڈال کر رہا ہاتھ بڑھا کر پانی پکڑا تھا تو ہاتھ میں آئے کانٹوں کی وجہ سے تکلیف ہوئی” آہ !”

” کیا ہوا ہے ہاتھ پر ؟” اسکی آواز تو اب سنی تھی کہ وہ بیٹھا ہے سب سے پہلے اپنا گھونگھٹ اور نیچے کھینچ دیا اس بار اسے برا لگا تھا پھر سوچا کہ اگر اسے پتا چل جائے کہ بے ہوشی میں اسکے بہت قریب آیا تھا اسنے تو مر ہی جانا ہے ” ہاہا !” سوچتے اسکی ہنسی نکل گئی تھی عرصے بات اسکے کان میں اسکی ہنسی کی آواز گونجی تھی دل نے بے بے ساختہ ” صدقے چھوٹے سائیں!”

” زری مجھے نہ کبھی کبھی لگتا ہے تو نہ کرنانی چڑیل سے زیادہ ڈراونی ہوگی !” کچھ بھی جب کسی لڑکی کے چہرے پر بات کردو تو اس میں جھانسی کی رانی آجاتی ہے مگر زری کی تو سانس اٹک گئی تھی جب وہ اسکا ہاتھ تھامتا ہوا محسوس ہوا وہ کھینچ رہی تھی مگر وہ پھر کر انگلیوں پر انگلیاں پھیر رہا تھا جہاں کاٹنوں سے ہاتھ زخمی ہوا تھا ” اگر نہیں ٹوٹ رہے تھے تو جڑ سے اکھاڑ لیتی اپنے آپ کو تکیلف کیوں دی ؟”

” وہ۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔چچ۔۔۔چھوٹے سائیں ۔۔۔۔۔۔۔ار۔۔۔ارتشا جی کا۔۔۔۔۔۔حکم تھا !اسنے ناگواری سے دیکھا ” میں نے کہا تھا اس سے دور رہو آئیندہ کے بعد اسکی کوئی بات نہیں مانی!” وہ چپ چاپ اثبات میں سر ہلا گئی جب دلبند کا فون بجا فون اٹھایا اور باہر چلا گیا ” تو آیا نہیں ابھی تک ؟”

” بس یار بارش کی وجہ سے بیچ راستے میں رکنا پڑا بارش ختم ہوتی ہے تو آتا ہوں !” یہ کہہ کر اسنے فون رکھ دیا ۔

دلبند کی باتیں اسے بہت دکھی کر گئی تھیں وہ اپنے کمرے میں بیٹھی منہ پھلائے کھڑکی سے باہر بارش کو دیکھ رہی تھی جو کافی تھم گئی تھی ” دلبند جب سے زری آئی ہے تم مجھے بہت زیادہ ڈاٹنے لگے ہو میری خوشی کی تو کسی کو فکر ہی نہیں کیا مانگا تھا میں نے کہ گلاب کے پھول جن پر پانی کے قطرے ٹہرے ہوں !” اسنے افسوس کھڑکی کے شیشے پر بنی بھاپ کو ہاتھوں سے صاف کیا کہ شفاف شیشے میں کریم کلر کے شلوار قمیض میں ایک لڑکا گاڑی سے اترتا نظر آیا دلبند مسکرا کر اسے گلے لگا رہا تھا ” شہریار کو اسنے کب بلایا ” اسے غصہ تو نہیں آیا خیر خوشی بھی نہیں ہوئی تھی مگر نیچے ضرور آگئی تھی جہاں چچا سائیں اور چچی اس سے مل۔رہے تھے اسکے ہاتھ میں گلاب کے پھولوں کا بکے تھے جو وہ لایا تو ارتشا کے لیے تھا مگر ایسے دے تو نہیں سکتا تھا اسلیے اس میں سے ایک ایک پھول نکال کر سب کر دے رہا تھا ۔” یہ آپ کے لیے ! چچی کے بعد وہ چچا کی طرف مڑا ” آپ کے لیے !”کشمیراں تک سب کو دے دیا تھا جب آخر میں صرف ایک پھول بچا جو اسنے خوشی سے ارتشا کی طرف بڑھایا ” یہ آپ کے لیے !” وہ خوش ہوکر پکڑنے لگی پھر منہ اتر گیا ” اس پر پانی کے قطرے نہیں ٹھہرے !” اسنے بغور اسے دیکھا پھر ادھر ادھر نظر دوڑائی شاور ڈھونڈا اور پانی چھڑک کر کہا ” اب تو آگئے نہ اب تو لے لیں ورنہ یہ مرجھا جائے گا اور میں بھی !” دوسرا جملہ اسنے خاموشی سے ہی کہا تھا مگر وہ خوش ہوگئی تھی فون نکالا آسکی اچھی سی تصویر بنائی اور لیکر اوپر بھاگ گئی ۔وہ پیچھے آہیں بھرتا رہ گیا ۔

“یار تونے بڑا انتظار کروایا ! ” کھانے کے بعد وہ دونوں ایک ہی کمرے میں بیٹھے تھے ” روزینہ کے بارے میں کچھ پتہ چلا ؟”

شہریار نے نفی میں سر ہلا دیا ” اسکے رشتہ داروں نے تو چپ ہی سادھ لی ہے کچھ پتہ نہیں چلا میں کیا کہہ رہا ہوں تو آگے بڑھ جا مجھے نہیں لگتا وہ واپس آئے گی تو اپنے بارے میں ۔۔۔”

” میرا نکاح ہوگیا ہے !” اسکی باتیں سن کر ٹوک کر کہا شہریار کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی روزینہ نہں تو کیا ارتشا!” ککک۔۔۔۔۔کس سے؟”

“زری سے ! شہریار نے حیرت سے اسے دیکھا ” زری وہ تمہاری بچپن کی دوست تمہارے خاندانی ملازم کی بیٹی کیا تھے وہ تمہارے ہاں مزارے مگر کیسے ؟”

اسنے سرد آہ بھر کر ساری روداد سنا دی تھی شہریار سمجھ کر خاموش ہوگیا تھا ” قسمت خیر جو بھی ہے یہ شادی ایک مجبوری تھی تو چاہے اس رشتے آگے بڑھائے یا نہ بڑھائے مگر اچھا کیا اسکی عزت بچا کر ۔۔۔۔” وہ یہ باتیں کرہی رہی تھی جب دروازے پر دستک وہ ٹرے لیے دروزے پر کھڑی تھی ” زری تم کیوں آئی ہو کشمیراں سے کہہ دیتی !”

پر وہ آگے آئی اور خاموشی سے ٹرے رکھ دی شہریار کی باتیں سن کر وہ بہت افسردہ تھی یہی تھا اس رشتے کا نام یہاں تھا دلبند اور زری کا تعلق مجبوری !” چپ چاپ واپس چلی گئی وہ حیرت سے اسکا منہ تکتا رہ گیا ۔

“اب تو دیکھا ہوگا اسکا چہرا ؟” اس پر اسنے نفی میں سر ہلا دیا اور ہنس دیا ” کہتی ہے کنیز میں ہوں آپکی ایک مجبوری اور مجبوریوں سے سانجھے داریاں نہیں بڑھاتے کہتی صرف اسے چہرا دیکھائے گی جو محبت کرتا ہوگا مجھے دیکھنے کا کوئی اشتیاق نہیں رہا اسلیے کبھی کہا نہیں کوشش نہیں جسے میں دیکھنا چاہتا ہوں وہ تو پتہ نہیں کیا سوچ کر چھپی بیٹھی ہے ۔”ٹوٹے قدموں سے وہ سیڑھیاں اتر رہی تھی ” یہ رشتہ ایک مجبوری ہے ! ” شہریار کے آلفاظ اسکے کانوں میں گونج رہے تھے ” تو اس رشتے کو آگے بڑھائے یا نہ بڑھائے!” سب سے زیادہ تکلیف دے رہی تھی دلبند کی خاموشی ” تو کیا چھوٹے سائیں کو کبھی میری حیقیقت سے محبت نہیں ہوگی میرے جھوٹ کا انتظار کرتے رہیں گے ساری زندگی کے لیے روزینہ کا چہرا زری کے گھونگھٹ میں چھپ جائے گا تو انکی کنیز بن کر رہ جائے گی !” اسے بخار بھی تھا مگر وہ پھر بھی کام کر نہیں بیٹھی تھی سیڑھیاں اترتی ارتشا سے ٹکرا گئی ” آندھی ہو تم گر خود جاتی اور دلبند پھر مجھ پر برس پڑتا !” مگر وہ اسے کوئی بھی جواب دیے بغیر نیچے اتر گئی اور وہ غصے سے منہ بناتی اوپر چلی گئی جہاں سے شہریار باہر آرہا تھا ” ارتشا!” اسنے پلٹ کر دیکھا ” کیا ہے ؟”اسکے لہجے پر اسے کافی حیرت ہوئی تھی ” ویسے آپس کی بات ہے میں نے نہ پڑھا تھا کہیں کہ حمل میں نہ عورتوں کو بہت کچھ کھانے کا من کرتا ہے اور بار بار !”اسنے ناگواری سے اسے دیکھا ” ہاں تو میں کیا کروں!”

” نہیں تم ابھی کچھ نہ کرو بس یہ بتاو آنٹی کہیں کریلے تو نہیں کھاتی رہی بھنڈی جتنی لڑکی میں کریلے جتنی کڑواہٹ ہے !” اسکی بات پر وہ منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی ۔” تم نے مجھے بھنڈی کہا !”

” نہیں میں نے تمہیں کریلا کہا ہے ۔” وہ منہ پھلا کر کھڑی ہوگئی تھی جب اسنے تھوڑا جھک چہرے اسکے پاس لاکر کہا پھولے گالوں کو چھو کر کہا ” اینڈ ائی لو کریلے خاص طور پر ایسے بھرے ہوے!” اسکے چھونے سے اسکی دل کی رفتار تیز ہوگئی تھی اور وہ دور ہوتا چالا گیا ” جتنی پیاری دکھتی ہو اندر سے بھی اتنی ہو میں جانتا ہو بس جب کوئی نظر انداز کرے تو برداشت نہیں کرپاتی ہر وقت اینٹینشن چاہیے !” چلتا رک کر کہنے لگا اور اسکا دل اور زور سے دھڑکا گیا تھا اسنے دل پر ہاتھ رکھا ” تو تو چپ کر دلبند کی باری تو تجھے کچھ نہیں ہوتا اور اسکے قریب آتے ہی ایسے دھڑکتا ہے جیسے ابھی مردہ ہوجائے گا اسے کیسے پتا مجھے نظر انداز ہونا پسند نہیں ہے .” سوچتی پھر سر جھٹک کر چلی گئی ۔