Mukhra by Bint-e-Aslam NovelR50490 Mukhra Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Mukhra Episode 11
Mukhra by Bint-e-Aslam
بختو کا دل کر رہا تھا ارتشا کا منہ نوچ لے زری کے خلاف تو وہ ایک لفظ نہیں سنتی تھی اور وہ تو چاہتی تھی چھوٹے سائیں اور زری ایک ہوجائیں ۔
” کنیز نہیں دوست ہے میری زری بچپن کی دوست ہے میری !” دلبند نے دبے ہوئے غصے میں کہا تھا جب زری الٹے قدموں پلٹ گئی اسکی پازیب کی جھنکار دلبند کے دل پر ٹھک کرکے لگی تھی ارتشا منہ پھلاتی چلی گئی تھی ” دلبند یہ تمہاری دوست زری کافی جانی پہچانی وائبز آرہی تھیں اس میں سے جیسے کوئی دوست ہو !” شہریار کی بات پر جاتی زری کا پورا جسم کانپ گیا تھا اسے جلد سے جلد نکلنا تھا جب آگے سے چچی سائیں آگئی انھوں نے بھی زری کو کبھی نہیں دیکھا تھا شفیق تھیں انھوں نے مردوں کو ناپاکر تھوڑا سا گھونگھٹ اٹھا کر دیکھا ” ماشااللہ زری تو سچ میں بہت سوہنڑی ہے اچھا کرتی ہے چہرا چھپا کر رکھتی ہے نظریں بڑی ظالم نظریں ہیں لوگوں کی ۔۔” یہ آواز دلبند اور شہریار کے کان میں بھی پڑی تھی ” عورتوں کے منہ سے ہی سنا ہے کہ چچا عرفو کی زری گاوں میں سب سے سندر ہے مگر آج تک کسی مرد نے اسے دیکھا نہیں ہے مجھے بھی بڑا اشتیاق تھا اسے دیکھنے کا مگر روزینہ کے بعد اب کسی کو دیکھنے کا دل نہیں کرتا ۔۔۔” شہریار جھولے پر شرارت سے جھولتی ارتشا کو دیکھ رہا تھا ” مجھے بھی !” بھابھی سائیں اور بچے کو جھولے پر لاکر بیٹھا دیا گیا تھا روایتی لباس پہنے نئی ممتا کی مورت بہت خوبصورت لگ رہی تھی گاوں کی ساری عورتیں روایتی گانے گا رہی تھیں مرد خانہ الگ تھا تمام مرد ادھر تھے زری گھونگھٹ اٹھائے بڑے اشتیاق سے سب کو دیکھ رہی تھی ہری آنکھوں میں چمک تھی بختو نے روایت چھوڑ انڈین گانے گانے شروع کردیے تھے وہ گھونگھٹ اٹھائے مگن تھی جب اچانک نظر وڈے سائیں اور دلبند پر گئی اسنے فورا سے گھونگھٹ نیچے کرلیا ۔
ہونٹوں میں ایسی بات میں دبا کے چلی آئی ۔۔۔
کھل جائے وہی بات تو دوہائی ہے دوہائی۔۔۔۔
ہاں رے ہاں بات جس میں پیار بھی ہے زہر بھی ۔۔۔
بختو مست گانے میں مگن تھی جب کسی عورت نے اسکا پلو بھی نیچے کردیا سب ایک دم خاموش ہوگئے
” تمام عورتوں سے گزارش ہے کھانا کر جائیں کوئی بھوکا نہیں جانا چاہیے ۔۔” وڈے سائیں سب کو کہہ کر چلے گئے تھے جب اماں سائیں زیبو کے پاس آئیں ” زیبو زری کو آج رات یہی رہنے دے کام تھوڑا زیادہ ہے ۔” زری نے گھونگھٹ کے پیچھے منہ بنا لیا تھا ۔
” رکھ لیں وڈی سرکار آپ ہی کی بیٹی ہے !” زری کا دل کررہا تھا پھوٹ پھوٹ کر روائے !” آخر میں سب چلے گئے تھے بس زری اور باقی ملازم رہ گئے تھے جنہیں لیڈ کرنے کے لیے زری رکی تھی وہ تمام چیزیں اپنی نگرانی میں رکھوا رہی تھی کوئی بارا ایک بجےکا وقت تھا اپنا کام ختم کرکے وہ اماں سائیں کے پاس سونے جارہی تھی جب جگ ہاتھ میں پکڑے دلبند نیچے ” بات سنیے گا !” نیند سے بوجھل آنکھیں لیے وہ اسے مخاطب کررہا تھا ایک تو رات دوسرا تنہائی اور سامنے ستمگر کی لاپرواہی جو جمایاں لیتا پھر پکار رہا تھا ” اگر آپ کو کوئی مسئلہ نہ ہو تو ایک جگ پانی لادیں پیاس لگی ہے پانی نہیں ہے ۔۔” چپ چاپ آگے بڑھی جگ ہاتھ میں لیا اور باورچی خانے چل دیں” کمرے میں دے جائے گا !” اس بات پر زری نے حیرت سے اسے دیکھا رات کہ اس پہر اسکے کمرے میں جب دلبند کو تھوڑا ہوش آیا اور اسے ایسے دیکھ کر وہ کچھ شرمندہ ہوگیا ” مم۔۔میں ادھر ہی کھڑا ہوں آپ لادیں!” وہ پانی لینے چلی گئی تھی جمایاں لیتا انتظار کرنے لگا جب وہ جگ تھماتی مڑنے لگی جب وہ بولا ” زری تو ہے نہ !” اسنے اثبات میں سر ہلا دیا ” وہ۔۔۔ارتشا نے تمہیں میری کنیز کہا تھا تمہیں برا تو نہیں لگا ۔”
” دنیا میں انسان کو ہمیشہ اپنی پہچان اچھی لگتی ہے انھوں نے کچھ غلط تو نہیں کہا جس کی جو حیثیت ہوتی ہے وہی جتائی جاتی ہے ۔” اسکی بات سن کر اسنے مسکرا کر اسے دیکھا ” دلہن کے جوڑے پر جب تک زری کا سامان نہ لگا ہو تب تک وہ صرف عام لال کپڑا ہے اور جب تک مزارے کنیزیں نہ ہوں تو کون وڈا سائیں اور کون چھوٹا سائیں تم ہو تو میں چھوٹا سائیں ہوں اگر تم نہ ہو تو میرا عہدا ایک عام انسان جیسا ہے دلبند کو تمہارے بغیر چھوٹے سائیں کی پہچان کوئی نہیں دے سکتا یہ تمہارے حیثیت نہیں رشتہ ہے تمہارا اور میرا ” کہتا چلا گیا تھا ” چھوٹے سائیں کتنے رشتے بنائے گے مجھ سے روزینہ سے محبت اور دوستی اور زری سے دوستی اور غلامی روزینہ کو دلبند کی پہچان بنانا چاہتے ہیں اور زری کو چھوٹے سائیں کی!”
کبھی بنتی بات بگاڑے۔۔۔۔
کبھی بگڑی بات بنائے۔۔۔
کبھی بھر دے جھولی خالی ۔۔۔
کبھی چھین لے ہاتھوں سے جو سب سے اعزیز ہے ۔۔
یہ نصیبا بھی کیا چیز ہے ۔۔۔۔
اسفندیار اپنے کمرے میں بیٹھا تھا من بھر گیا تھا ان گرل فرینڈز سے اب تو صرف وہ نظر آتی تھی اسنے زری کے ماموں کے گھر کے باہر ایک آدمی کھڑی کر رکھا تھا جو اسے پل پل کی خبر دے رہا تھا کہ وہ اپنے گاوں گئی ہے ۔
” نشہ ہو تم قہر ہو فتنہ ہو روزینہ تمہیں چھوئے بغیر اسفند یار نہیں رہ سکتا آجاو میرے پاس سات پردوں میں چھپا کر سینے سے لگا کر رکھوں گا تمہیں ۔۔۔”ایک گہرا سانس لیکر پھر سگریٹ میں جان جھونک گیا تھا ۔
“:پھولوں کا بہت شوق ہے آپکو ؟” ارتشا باغ میں پھولوں کے ساتھ تصوریریں بنا رہی تھی جب شہریار اسکے مقابل آیا اسکے ہاتھ سے فون گرتے گرتے بچا ” تم کیا چراغ کے جن ہو کہیں بھی ٹپک پڑتے ہو !” اسنے آئیبرو اچکا کر کہا
” اور آپ کو کیلشیم کی بہت کمی ہے آئرن کی بھی کہیں بھی گر جاتی ہیں ۔” وہ پیر پٹختی چلنے لگی جب پھر سے پائپ سے پیر پھنسا اور گرنے لگی اس سے پہلے وہ گرتی شہریار چیخا پکڑ لو ؟” وہ جو گر رہی تھی چیخی ” جی! اور آخر گرنے سے پہلے اسکا دایاں ہاتھ شہریار کے بائیں ہاتھ میں تھآ پاوں پڑنے سے پیچھے موٹر سے پائپ اتر گیا تھا پانی ان پر برسنا شروع ہوگیا تھا
تیرا میرا ساتھ ہو ۔۔
یادوں کی بارات ہو ۔۔
یہی دل چاہے روز ۔۔۔
تم سے ہی بات ہو ۔۔۔۔
دونوں کو نہ بھولے کبھی ایسی ملاقات ہو۔۔۔
جھٹکا دے کر اوپر ااٹھایا وہ سنبھلتی کھڑی ہوگئی اور آخر شہریار نے اسکے منہ سے تاریخی لفظ سنے ” تھینک یو !
” ویسے ایک بات پوچھوں اگر غصہ نہ کریں تو ؟”…وہ جو اسکی شکر گزار تھی جھٹ بول پڑی ” جی ؟”
” آپ اتنی چڑتی کیوں ہیں مجھ سے ؟”
” چڑتی نہیں بس بچپن سے کسی غیر مرد سے بات کرنے کی صورت نہیں ہے پہلے جب آپ نے پکڑا تھا تب پتا نہیں تھا کیسے ہیں مگر ابھی کچھ دنوں میں پتہ چل گیا بچپن سے صرف ایک ہی انسان کے بارے میں سوچا ہے وہ جو اپنا ہوگا تو سب ہوگا ۔۔۔” وہ جو مسکرا کر اسکا اتنا پرسکون روپ دیکھ رہا تھا پوچھ بیٹھا ” کون ہے؟”
” دلبند ! میرا بچپن کا منگیتر ! مسکراتی ایک پھول توڑتی چلی گئی تھی پیچھے شہریار کے جسم سے روح بھی کھینچ گئی تھی ” منگیتر !اگر ارتشا دلبند کی منگیتر ہے تو وہ روزینہ سے مجھے دلبند سے بات کرنی ہوگی ۔
وہ کمرے میں صوفے پر بیٹھا تھا جب وہ آکر چپ چاپ اسکے پاس بیٹھ گیا ” دلبند روزینہ سے کتنی محبت کرتے ہو ؟”اسنے حیرت سے اسکی جانب دیکھا کچھ حیرت ہوئی ” اتنی کے آپنا آپ اسکے سامنے بھول جاتا ہوں بس وہی وہ رہ جاتی ہے !”
” اور ارتشا ؟” اسنے ڈرت ہچکچاتے ہوئے پوچھا کیونکہ یہ وڈیرے محبت بھی رکھتے ہیں اور خاندان بھی ۔” بچپن میں ارتشا کا رشتہ مجھ سے پکا ہوا تھا مگر میں نے ارتشا سے کبھی محبت نہیں کی مگر خاندان کی عزت کے لیے اصول کے لیے مجھے اس سے نکاح۔۔ابھہ اسکی بات ادھوری ہی تھی جب شہریار چیخا
” نہیں دلبند تو دو لڑکیوں کی زندگی برباد نہیں کرسکتا یا تو روزینہ یا ار۔۔۔۔ارتشا! اسکا دل چیخ رہا تھا ارتشا سے انکار کردو دلبند پلیزززز!”
” ارے رکو میں کسی کی زندگی برباد نہیں کر رہا میں نے سوچا تھا کہ خاندان کی عزت کے لیے اس سے نکاح کروں گا پھر سوچا کبھی محبت نہیں کرسکا اسکا حق ادا نہیں کرسکا اسے خوش نہیں رکھ سکا تو باندھ کر کیوں رکھوں اسلیے میں نے چچا سائیں کو انکار کردیا وہ ماں بھی گئے مگر ارتشا بچپن سے صرف مجھے سوچتی آئی ہے تو وہ تھوڑا غصہ رہتی ہے اس بات پر ۔” شہریار کو جینے کا مقصد دے دیا تھا اسنے ” اچھا فیصلہ کیا تو نے !” اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتا باہر آیا ” الحمدللہ !”
خدا کا زکر کرتا وہ گیسٹ روم میں چلا گیا جوں تو توں ہنستے کھیلتے ایک مہینہ گزر گیا تھا جاتے ہوئے شہریار محبت نہیں ایک دوست ضرور لے گیا تھا محبت بھی منا ہی لے گا دلبند کو روزینہ کو ملنے کی تھی کہ نہیں جانتا تھا کہ کیا قہر گزرنے والا تھا چند دنوں میں اسفندیار گھائل شیر کی طرح انتظار کررہا تھا روزینہ کا اسے پانے ۔
چھٹیاں ختم ہوئیں تو یونی میں رونق لگ گئی تمام کی محبتں پھر سے ملیں تھیں دلبند روزینہ کو تلاش رہا تھا جب آخر وہ آئی اسکی اوٹ سے ” مسٹر ٹاپر کسے ڈھونڈ رہیں ہیں ؟”
اپنے پیچھے اسے دیکھ کر وہ باغ باغ ہوگیا تھا ” آپ کو !”
اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” مطلب آپ ہی نے کہا تھا کہ دوست کو بھی تنہائی میں یاد کرنا چاہیے ۔ ” اسنے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔
اسفند یار یونی میں آیا تو سیدھی نظر روزینہ پر گئی تھی دماغ میں ایک بار پھر فتور بھر گیا تھا جب دلبند پر نظر گئی ” زہر لگتا ہے تو مجھے پر کوئی نہیں بس چند دن اور ۔۔۔۔
“زری پتر تو بھی چل اکیلی کیسے رہے گی ؟” ممانی جان اسے منا رہی تھی جو ابھی ابھی یونی ورسٹی سے آئی تھی ۔
” نا مامی میرا من نہیں ہے آپ سب جاو مجھے کسی سے کیا خطرا ۔۔۔” برقع اترتی وہ جانے سے انکار کر رہی تھی ۔
اچھا ٹھیک ہے تو دھیان سے رہی ہم کل سویرے تک آجائیں گے تیرا ماموں گھر ہی ہے رات کو آجائے گا ۔”مامی اپنی بھتیجی کی شادی میں جارہی تھی بلاول بھی ماموں جان کام کی وجہ سے گھر پر ہی تھے آفس سے وہ آکثر لیٹ آتے تھے ۔
” دھیان سے رہنا اور کچھ بھی ضرورت پڑے تو فون کرنا ۔۔۔” بلاول اسے تاکید کرتے ہوئے کہہ رہا تھا محبت وہ اس سے نہیں کرتا تھا مگر عزت اور فکر اسکی بہت کرتا تھا ۔
وہ لوگ شام کے چھے بجے نکل گئے تھے وہ گھر پر بلکل اکیلی تھی ۔
دلبند اپنے کمرے میں بے چینی سے ٹہل رہا تھا ٹوٹا بکھرا سرخ آنکھیں جو شب بیداری کی گواہ تھیں بڑھی داڑھی بکھرے بال میلا لباس ایسے جیسے چند راتوں سے ہوش سے حواس سے محروم رہا ہوں شہریار دروازہ کھولا سیدھا اسکے پاس آیا ” دلبند کیا ہوا ہے تو نے اس لہجے میں مجھے کیوں بلایا ۔ ” اسنے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا اور زارو قطار روتا بیٹھتا چلا گیا ” دلبند !! کیا ہوا ہے کیوں میری جان نکالنی ہے بتاو کیا ہوا ہے؟” وہ نیچے بیٹھتا اسکا چہرا تھامے پوچھ رہا تھا جو بلکل ٹوٹا ہوا تھا ” گناہ !! گناہ ہوگیا ہے میرے ہاتھوں روزینہ کے حق میں !!” بتاتا اور ٹوٹتا جارہا تھا ۔شہریار تو کچھ لمحے کے لیے ساکت ہوگیا تھا ۔
