Mukhra by Bint-e-Aslam NovelR50490 Mukhra Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
Mukhra Episode 22
Mukhra by Bint-e-Aslam
رات کھانے کے بعد وہ کچن میں آئی ہاتھوں میں اسنے ایک پڑیا پکڑی ہوئی تھی ” کشمیراں یہ دودھ دلبند کے لیے ہے نہ ؟” دودھ گلاس میں ڈالتی کشمیراں اسکی جانب متوجہ ہوئی ” جی ارتشا جی!”
” تو جا میں دے دوں گی وڈی اماں تجھے بلا رہی تھیں !” اسنے جھوٹ بولا تو وہ اثبات میں سر ہلاتی چلی گئی اسنے پڑیا میں موجود سفوف دودھ میں ڈالا اور اوپر لے گئی وہ تو پہلے ہی اداس روزینہ کی یادوں میں کھویا تھا صوفے سے سر ٹکائے آنکھیں موندیں بیٹھا تھا جب وہ اندر آئی ” دلبند دودھ ! اسنے آنکھیں کھول کر دیکھا ” تم کیوں لائی کشمیراں کہاں ہے ؟”
وہ اسے اماں سائیں نے بلا لیا تھا تم یہ لو پیو!” اسنے گلاس اسکی طرف بڑھایا جو اسنے پکڑ کر ٹیبل پر رکھ دیا ” ٹھیک ہے جاو !” وہ کچھ کہتی تو اسے شک ہوجاتا اسلیے چپ چاپ چلی گئی مگر دروازے کی اوٹ سے چھپ کر اسے دیکھنے لگی وہ کچھ دیر تو سوچتا رہا پھر دودھ کا گلاس پی گیا ” یس!!! کچھ دیر اور بیٹھ کر جب وہ اٹھا تو لڑکھڑا گیا کنپٹیوں کو مسلا اسے نشہ چڑھ رہا تھا سر چکرا رہا تھا آگے بڑھا پھر گرنے لگا جب کسی نے تھام لیا نظر گھما کر دیکھا تو دل باغ باغ ہوگیا ” روزینہ ! تم آگئی .
“ارتشا نے منہ بسور کر اسے دیکھا ” وہی نظر آتی ہے بس لیکن آج نہیں آج تم میرے ہو کر رہو گے اتنا مجبور کردوں گی تمہیں کہ تمہیں مجھ سے نکاح کرنا پڑے گا ۔” وہ سے سنبھالتی بیڈ تک لائی وہ خود ہی چکراتے سر کے ساتھ بیٹھ پر گر گیا تھا ” او دلبند یو نو مجھے تم سے کتنی محبت ہے ” اسکی گردن کے گرد بازو حائل کرتی اسکی ناک کے ساتھ ناک رگڑ گئی۔
” زری سن یہ پانی کا جگ چھوٹے سائیں کے کمرے میں رکھ آ وہ رات میں پانی بہت پیتے ہیں .” کشمیراں سے پانی کا جگ پکڑتی وہ اوپر چلی گئی ” ارتشا نے آہستہ آہستہ اسکے کرتے کے بٹن کھولنے شروع کیے ” ہوگا کچھ نہیں مگر تھوڑا تو لگنا چاہیے کچھ ہوا ہے ۔۔۔۔” دروزے کی دہلیز پر کھڑی تھی اور سامنے کا منظر اسکے دہلا گیا تھا بیڈ پر دلبند اور اسکے ساتھ ارتشا اسکے گریبان کو پکڑے ارتشا دروازہ تھوڑا سا کھولا چھوڑ آئی تھی ” ارتشا جی !” اسنے چیخ کر کہا اتنی غصیل آواز سن کر وہ کانپ گئی تھی دلبند ابھی بھی سر پر ہاتھ رکھے اپنا گھومتا سر پکڑ رہا تھا اسے کچھ پتا نہیں. چل رہا تھا نہ سمجھ آرہی تھی وہ اندر آئی تھوڑا سا گھونگھٹ اٹھا کر دلبند کی حالت دیکھی ” تمہیں پتہ نہیں کسی کمرے میں دستک دے کر آتے ہیں .” اس بات پر اسے اور غصہ آگیا تھا “کسی نہ نہیں میرے شوہر کا کمرا اور مجھے دستک دے کر آنے کی ضرورت نہیں اور آپ اس وقت یہاں کیا کرہی تھیں ؟”
” او زیادہ کہ رعب جھاڑنے کی ضرورت نہیں اس رشتے کی حقیقت سب جانتے ہیں کوئی حق نہیں ہے تمہارا اس پر اور میں اس وقت اسے سنبھالنے ہی آئی تھی دیکھو اسکی طبیعت خراب ہے ۔” اسنے اسکی طرف اشارہ کیا جو آدھا بیڈ پر لیٹ گیاتھا “؛روزینہ واپس آجاو پلیزززز تم کہاں چلی گئی ہو !” غنودگی میں ناجانے کیا کچھ بولتا جارہا تھا ۔
” اس رشتے کی وجہ جو بھی تھی حیقیقت یہ رشتہ ہے جو میرے اور انکے درمیان ہے آپکے لیے نامحرم ہیں وہ جائے یہاں سے اس پہلے میں اماں سائیں کو بتا دوں .”
اماں سائیں کا نام سنتے ہی وہ چلتی بنی اسنے دروازہ بند کیا دودھ کا گلاس اٹھایا ” اس میں کچھ ملایا ہے کیسی لڑکی ہے کتنی آسانی سے ایک نامحرم کے قریب آرہی تھی واپس جانے لگی جب نظر اس پر پڑی اور ہوش میں نہیں تھا ” ایک بار آجاو مجھے تم بہت کچھ کہنا بتانا ہے تمہیں !!” وہ آہستہ آہستہ اسکے پاس آئی اسکے کرتے کے کافی بٹنر کھلے تھے ” بیہودہ لڑکی !” اسنے آگے بڑھ کر اسکے کرتے کے بٹن بند کرنے چاہیے جب جھکنے سے اسکا گھونگھٹ پھیل گیا اور دلبند کی اس پر نظر پڑ گئی اپنے سینے پر موجود اسکا ہاتھ پکڑ لیا ” روزینہ تم آگئی مجھے پتا تھا تم ضرور آو گی .”اسنے اپنا گھونگھٹ کھینچا اس سے اپنا ہاتھ چھڑایا مگر وہ نہیں چھوڑ رہا تھا ” تم سچ میں ہو میں تمہیں ہاتھ لگا رہا ہوں تم غائب نہیں ہورہی ۔”
” چھوٹے سائیں میں زری ہوں!”مگر اسنے اسے اپنی طرف کھینچ لیا وہ اسکی سینے پر گر گئی تھی اسنے بڑے پیار سے گھونگھٹ چہرے سے ہٹایا اور سانس روکے اسے دیکھنے لگا “روزینہ تم ۔۔۔تم سچ میں ہو میرے پاس میں تمہیں چھو سکتا ہوں محسوس کرسکتا ہوں سنو میرے دل دھڑکن تمہارا نام لے رہی ہیں !” اسکے قریب اسکی دھڑکن کی آواز اسے صاف سنائی دے رہی تھی چہرا آمنے سامنے بلکل قریب تھا وہ کافی دیر ایک دوسرے کو یوہی دیکھتے رہے وقت تھم سے گیا تھا آنکھوں کی پتلیوں تک نے ہلنے سے انکار کردیا تھا ” نہیں زری تجھے بہکنا نہیں ہے وہ ہوش میں نہیں ہیں !”وہ مچل کر اسکی باہوں سے نکلنے کی کوشش کی مگر اسنے ناکام بنا دی اسے اپنے پہلو میں گرایا خود اس پر جھک گیا حسرت سے پھر اسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو دیکھنے لگا ہری آنکھیں آج بھی اسے گہرائیوں میں گراتی جارہی تھی تیکھا ناک گلابی ہونٹ جو تھرتھرا رہے تھے اسنے ڈر سے آنکھیں بند کرلیں تھی جب اسکے چہرے پر ایک بوند گری اسنے آنکھیں کھولیں تو مسکراتا پرنم آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا وہ پھر اٹھنے لگا جب وہ بے بسی سے بولا ” مت جاو چھوڑ کے میں مر جاوں گا !” لہجے میں اتنا دکھ کرب بے چینی کیا نہیں تھا جو اسے ٹھہرنے پر مجبور کرگیا وہ رک کر اسکا چہرا دیکھنے لگی ” تمہیں پتا کتنا تڑپا ہوں تمہیں چھونے کے لیے محسوس کرنے کے لیے روز دکھتی تھی ” اسنے پیار سے اسکی گال پر انگلیاں پھیریں ” مگر ایسا چھو نہیں پاتا تھا تم غائب ہوجاتی تھی میں جانتا اس دن میں نے گناہ کیا تھا مگر میرا آرادہ نیت گندی یا غلط نہیں میں بس تمہیں بتانا چاہتا تھا کہ محبت بھرے لمس اور حوس میں کیا فرق ہوتا ہے مگر بھول گیا تھا حق نہیں تھا میں تمہیں پیار کرنا چاہتا تھا مگر وہاں سے شروع کرنا نہیں چاہتا تھا جانتی کہاں کرنا چاہتا تھا ۔” وہ جو اسکے اعتراف کو غور سے سن رہی تھی بے ساختہ ہاتھ اسکے گال پر چلے گئے ” کہاں چھوٹے سائیں!”
اسنے نہایت محبت اور نرمی سے لب اسکے ماتھے پر رکھ دیے اور کچھ دیر وہی رہنے دیے اسنے آنکھیں بند کرلیں تھی حق کا سکون تھا اسکے حصے کا جو اتر رہا ۔”یہاں سے بتانا چاہتا کہ میں عزت کرتا ہوں تمہاری فکر کرتا ہوں محبت کرتا ہوں اسفندیار جیسا نہیں ہوں !”
بات کھلی تو اسے بھی سب یاد آگیا اسلیے گلے کرنے لگی ” مگر اس وقت میرے ساتھ پہلے ہی ایسے ہورہا تھا بغیر کسی حق کے اسفندیار مجھے ہاتھ لگا رہا تھا آپ نے بھی وہی کیا تو غصہ آگیا غلط نہیں کیا تھا ۔” اسنے چہرا اور قریب کرلیا اسے اب بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کررہا ہے ” ہاں غلط کیا مگر معافی بھی تو مانگی نہ تم سب چھوڑ کر چلی گئی کیا نہیں کرسکتا تھا تمہارے گھر والوں سے مارپیٹ کر تمہارا پتا اگلوا سکتا تھا مگر نہیں کیا نہ انتظار کیا دعائیں کیں کفارا اندھیری راتوں میں گم چلہ تک کاٹا مگر تم نہیں آئی آج آئی ہو میرے پاس میرے اتنے قریب بہت بے چین رہا ہوں اس سکون تک پہچنے میں ۔۔” اسنے محبت سے اسکی دونوں آنکھوں کا چھوا سفر گالوں تک پہنچ گیا وہ کوئی مزاحمت نہیں کررہی تھی یہ تو حق تھا پہلی بار تو اسکا عشق حق سے اسکے قریب تھا وہ انگلیاں اسکے ہونٹوں پر پھیر رہا تھا ” انھیں حق چھونا چاہتا مگر اس دن پتا ہی نہیں چلا کیسے وہ سب ہوگیا اب تو ڈر لگتا ہے میں انھیں دوبارا چھو گا تو جاو گی تو نہیں ! نشے وہ بہکی بہکی باتیں کر رہا تھا اسے خود کچھ بھی پتا نہیں تھا وہ حیرت سے اسکا چہرا دیکھ رہی تھی پھر نفی میں سر ہلا دیا اسنے جھک کر اسکے لبوں کو اپنے حصار میں لیا وہ اس میں ہی سمٹ گئی ۔شب خوابی میں ڈوبا کمرا ٹھنڈی ہوا سے اڑتے پردے موم بتیوں کے پھڑپھڑاتے شعلے آسمان پر چکور کا پیار اور باہوں میں یار سماں مکمل ہوگیا تھا۔
آج تو پتھروں میں پھولوں کا کھلنا بنتا ہے۔۔۔
ہم اک عرصے کے بعد ملے ہیں گلے تو ملنا بنتا ہے ۔۔۔
بے شک زندگی میں اندھیرے ہی رہے ۔۔۔۔۔
ہم تیرے نہ ہو کے بھی تیرے ہی رہے ۔۔۔
کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے قریب کرلیا تھا جیسے ہر رافرار ختم کردی ہو ہونٹوں سے آگے ٹھوڑی شہ رگ وہاں سے بیوٹی بون اور آخر چہرا گردن میں گم کرلیا تھا ۔دوسرا ہاتھ مسلسل اسکے بالوں میں چل رہا تھا ۔
تیری گردن میں گم اپنا چہرا کرلوں ۔۔۔
اپنے چہرے پر تیری زلفوں کا پہرا کر لوں ۔۔۔
یہ ہے حیقیقت یہی تعبیر خواب ہے ۔۔۔
جو باہوں میں ہے وہ لاجواب ہے ۔۔۔۔
تیری وحشت سے بچتے میرے مفلس میرے امرا ۔۔۔
میرا ہے پر مجھ سے چھپا ہے کیوں تیرا مکھڑا ۔۔۔
اچانک بالوں میں چلتا ہاتھ رک گیا ” چھوٹے سائیں ! مگر وہ بے ہوش ہوچکا تھا اسنے آرام سے اسکا سر تکیے پر رکھا اسکے ماتھے پر بوسہ دیا خود کو کمپوز کرتی اٹھی کھلے بالوں پر پلو اٹکایا آئینے کے سامنے آئی اپنے آپ کو دیکھا ” زری تیرے چھوٹے سائیں تیرے کتنے پاس تھے !”
” زری کے یا روزینہ کے ؟” آئینے میں روزینہ کا سیراب کھڑا تھا سفید لباس میں حقارت سے اسے دیکھتا ہوا ۔
” بتاو زری دلبند کی محبت کس کے لیے تھے زری کے لیے یا روزینہ کے لیے وہ اپنی باہوں میں کسے محسوس کررہا تھا حقیقت کو یا جھوٹ کو ۔۔۔وہ روزینہ سے پیار کر رہا تھا زری سے نہیں اس مکھڑے سے محبت ہے اسے زری کے گھونگھٹ سے نہیں ۔۔” آئینے میں اسکا جھوٹ اسے طنز کے تیر مار رہا تھا
” زری اور روزینہ ایک ہی ہے !” اسنے دبی ہوئی آواز میں کہا
” ہاہاہاہا دلبند کو پتہ ہے زری اور روزینہ ایک ہی ہیں نہیں نہ ہمیشہ سے روزینہ سے محبت کرتا ہے اس گھونگھٹ پیچھے زری کون ہے کیسی دکھتی اسے کوئی غرض نہیں تیرے جھوٹ سے عشق اسے اور تیری حقیقت سے ہمدردی آج بھی اسکے پہلو میں تو تھی مگر پیار وہ روزینہ سے کر رہا تھا چوں چوں تیرے جھوٹ نے تجھے دوسری عورت بنا دیا زری جا دکھا دے اپنا مکھڑا دلبند کو دے دے اسے اسکی روزینہ پھر زری ہمیشہ کے لیے ختم ۔۔۔۔”
” نہیں روزینہ جھوٹ تھا حقیقت میں ہوں چھوٹے سائیں کو مجھ سے محبت کرنی ہے چھوٹے سائیں کو زری کے گھونگھٹ سے محبت کرنے پڑے گی ۔”
” پھر غلطی کر رہی ہے زری اپنے دھوکے کی رسی طویل نہ کر کے وہ دونوں سے جان چھڑا جائے بتا دے اسے ۔۔۔۔” مگر وہ غصے سے رخ پھیر گئی اور وہ سیراب بھی غائب ہوگیا ۔
گھونگھٹ نیچے گرایا اور اسکے پاس آئی جو سکون سے آنکھیں موندیں لیٹا تھا نیچے اسکا ہاتھ تھامے بیٹھ گئی ” میں جانتی ہوں میں غلط کررہی ہوں مگر میں نے آپ کو اپنا چہرا دکھایا تو زری کو چھوٹے سائیں کبھی نہیں ملے گے جس دن آپکو زری سے محبت ہوگئی اس دن یہ گھونگھٹ ہمیشہ کے لیے کھل جائے گا اور اگر نہیں ہوا تو روزینہ ہمیشہ کے لیے اس پردے کے پیچھے قید ہوجائے گی” دبے پاوں کمرے سے نکل گئی۔حویلی ملگجی اندھیرے میں ڈوبی تھی ایک نیا عزم لے کر نکلی تھی وہ کہ چھوٹے سائیں کو زری کا بنانا ہے وہ نیچے اتر رہی تھی کہ حویلی کے باہر آدھی رات کو شور مچ گیا لوگوں کی آواز بھاگ گم بھاگ مشعلیں چل رہی تھیں وہ الٹے قدموں بھاگی خاموش حویلی میں اسکی پازیب اور چوڑیوں کی جھنکار شور مچ رہی تھی چھت پر آئی نیچا دیکھا تو کچھ لوگ ہاتھوں میں مشالیں پکڑے بھاگ رہے تھے چادر سے آدھا چہرا اسنے چھپا رکھا تھا آنکھیں نظر آرہی تھیں اور ان آنکھوں میں آگ کے شعلے کا عکس سب لوگ حویلی باہر کھڑے تھے
وڈے سائیں اور چچا سائیں بھی باہر آگئے تھے ” دلبند کہاں ہے ؟” انھوں نے ادھر ادھر نظر دوڑا کر کہا ” کشمیراں دلبند کو بلا !”وڈے سائیں کی بات سن کر زری پریشان ہوگئی تھی ” چھوٹے سائیں تو بے ہوش ہیں !” کشمیراں سے پہلے اسے کمرے میں پہنچنا تھا چھت پر ہونے کی وجہ سے وہ جلدی پہنچ گئی تھی ” چھوٹے سائیں ! اسنے پانی کی چند بوندیں اسکے چہرے پر ڈالیں جس سے اس میں حرکت ہوئی اسکے آنکھیں کھولنے سے پہلے وہ وہاں سے چلی گئی تھی سامنے سے کشمیراں کو آتے دیکھ وہ چھپ گئی جس نے آتے ہی دروازہ بجانا شروع کردیا ” چھوٹے سائیں ! چھوٹے سائیں ! کنپٹیاں مسلتا باہر آیا ” کیا بات کشمیراں کیوں شور مچا رہی ہے؟”
” چھوٹے سائیں گاوں پر کوئی مصیبت آگئی ہے وڈے سائیں بلایا ہے !” اسکی بات سنتے ہی اسنے چادر اٹھائی وڈیروں کے انداز میں لیتا باہر آگیا جہاں وڈے سائیں عرفان سب موجود تھے سامنے تمام گاوں کے مرد پریشان حال کھڑے تھے عرفو بھی تھا ” کیا بات ہے عرفو خیریت تو ہے اتنی رات کو کیا آتے آن پڑی ؟”
وہ ہاتھ باندھے ایک بوڑھے کو ساتھ لیے آگے آیا ” وڈے سائیں گاوں میں چوری ہوگئی ہے یہ کرم دین ہے اسکی تین بھینسیں کوئی چوری کر کے لے گیا ؟” وڈے سائیں حیراں رہ گئے تھے گاوں میں چوری اور وہ بھی میرے ” وڈے سائیں میرا سارا گھر ان بھینسوں کا دودھ بیچ کر چلتا ہے مہربانی ہوگی میری بھینسیں واپس دلا دیں آپ ہی سائیں ہیں ہمارے !” ہر طرف ایک پل کے لیے خاموشی چھا گئی تھی پھر دلبند نے پوچھ گچھ شروع کی ” جب بھینسوں چوری ہوئیں تم کہاں تھے ؟”
” چھوٹے سائیں میں ادھر ہی سو رہا تھا مگر پتا ہی نہیں چلا کے انھیں کیسے چپ چاپ لے گئے ۔”
” اتنے بے سدھ سوتے ہو ؟” اس بات پر وہ شرمندہ ہوگیا تھا ” چھوٹے سائیں ہمارے گاوں میں کبھی چوری ہوئی ہی نہیں کسی بات کا ڈر کبھی رہا ہے نہیں پہلی دفعہ کا واقع ہے کہ چوری ہوئی ہے سارے گاوں کے بندے دیکھے بھولے جان پہچان والے ہیں الزام بھی لگائیں تو کس پر ؟”
” اچھا صبح تھانیدار کو بلا کر رپورٹ لکھواتے ہیں !” دلبند نے اسے تسلی دی اور سب کو بھیج دیا سب پریشان تھے سوائے چھوٹی حویلی کے دراب کا ملازم شکور اس پریشانی میں بھی مونچھوں کو تاو دے رہا تھا اسے کسی نے نہیں دیکھا مگر اسکا یہ عکس چھت پر موجود کسی کی ہری آنکھوں میں چھپ گیا تھا۔”
