Mukhra by Bint-e-Aslam NovelR50490 Mukhra Episode 33 (Last Episode)
No Download Link
Rate this Novel
Mukhra Episode 33 (Last Episode)
Mukhra by Bint-e-Aslam
مرد حضرات کی محفل سے فارغ ہوکر وہ کمرے میں آیا جہاں وہ ناگن کی طرح پھن پھیلائے بیٹھی تھی گھونگھٹ میں چہرا چھپائے وہ قدم قدم چلتا اسکے پاس آیا بیڈ پر ہی ٹک گیا ” شانزے ظہیر احمد یاد ہے جب میں نے تمہیں پہلے اس نام سے پکارا تھا تم کتنے غصے میں آگئی تھی ۔”
” اب اچھا لگ رہا یہ نام سب ناموں سے بہتر ہے !” اسنے محبت سے اسکا گھونگھٹ اٹھایا نتھ میں ملبوس چہرا نہایت معصوم لگ رہا تھا اسنے ہاتھ میں ایک ڈئمنڈ کی رنگ پہنا دی جسے دیکھ کر شانزے کو حیرت ہوئی” یہ رنگ !”.دو تین سال سنبھال کر رکھی ہے میں نے امید تھی کہیں نہ کہیں کہ تمہاری انگلی کی زینت بنے گی نہ میں نے امید چھوڑی نہ اسنے اپنی چمک اور دیکھو آج ہم دونوں کا انتظار ختم ہوگیا اسے صرف ایک انگلی ملی اور مجھے پوری کی پوری تم ۔۔” اسکا ہاتھ تھامے لبوں تک لے گیا اسکے لمس سے دی بولڈ شانزے ایک بار تو گھبرا گئی تھی شرما گئی تھی ” یہ وہی شانزے ہے جو لندن میں ان سب کو کامن کہتی تھی اسے شرم آرہی ہے !” یہ اسنے دل میں سوچا تھا دیکھ تو بس اسکا لال گلابی چہرا رہا تھا پھر ہونٹوں تک پھیلی نتھ کر دیکھا اسے ناگواری سی ہوئی سب سے پہلے وہی اتاری تھی اور پھر اسکے ہونٹوں کو اپنے لبوں سے چھو لیا وہ اس پر جھکتا جارہا تھا وہ بیڈ پر حسروتوں بے چینویوں کو تسکین دیتے انکے لیے رات آہستہ آہستہ سرک رہی تھی ۔
انیس اور مہناز سے سرکھپائی کے بعد وہ اپنے روم میں سفید دھویں کی اوٹ میں چھپا تھا ” نو آئی کانٹ لٹ اٹ گو یہ کمینہ خود کو سمجھتا کیا ہے جب سے آیا ہے ہر ہیرے کا محافظ بنتا جارہا ہے اور روزینہ اسے رو شاید نگل ہی گیا یہ پتہ نہیں چلی کہاں گئی وہ مگر اب اس دلبند کا کتھا چٹھا کھلوا کر رہوں گا ۔
” پچھلے دو گھنٹے سے آپریشن تھیٹر کے باہر چکر کاٹ رہا تھا ارتشا کی سرجری چل رہی تھی آخر لائٹ آف ہوئی ” کونگریچولیشن سرجری از سیکسسفل ویری سون یور وائف گوٹ ہر فیس بیک !” وہ خوش ہوگیا تھا کچھ دیر بعد ہی اسے جنرل روم میں شفٹ کردیا گیا تھا ۔ اسکا فیس کور تھا کچھ دیر بعد وہ بھی کھول دیا گیا تھا اسکے فیس پر سرجری کے نشان تھے مگر وہ زخم کافی حد تک مندمل ہوگیا تھا ڈاکٹر نے اسکا چیک اپ کیا ” بس ایک چھوٹی سرجری پھر یہ ٹھیک ہوجائیں گی ۔”یہ کہہ کر ڈاکٹر چلا گیا تھا وہ دونوں کمرے میں اکیلے تھے جب اسنے اچانک حملہ کردیا اسکے ہونٹوں پر شدت سے جھک گیا وہ سینے پر ہاتھ رکھے اسے دھکیلتی رہ گیا مگر وہ من بھر کر اپنی مرضی سے اٹھا تھا ” سوری بٹ چار گھنٹے اتنا مس کیا میں نے !”
وہ حیرت زدہ سی اسے دیکھ رہی تھی ” میں مریض ہوں ابھی ابھی میری سرجری ہوئی ہے اور آپ کو رومینس کی پڑی ہے۔”
” ہاں تو سائیڈ فیس سرجری ہوئی لپس سرجری تھوڑی ہوئی ہے نہیں رہا جاتا تمہارے بغیر !” اسنے پیار سے اسکا ہاتھ تھام لیا ” شہریار ہم واپس کب جائیں گے کبھی ڈھونڈے گے اسے ؟”
” بس ایک لاسٹ سرجری اور اسکے بعد تم بلکل ٹھیک ہوجاو گی اور پھر ہم اسکا چہرا بگاڑیں گے ۔۔۔” محبت سے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا ۔
دن گزرتے جارہے تھے زری دلبند اور اپنے ہونے بچے کے ساتھ خوش ارتشا اور شہریار بھی واپس آنے والے تھے زری ممتا کے پانچویں مہینے میں قدم رکھ چکی تھی ظہیر اور شانزے بھی ابھی تک گاوں سے نہیں گئے تھے ظہیر یہی سے کام دیکھ رہا تھا عنقریب وہ لوگ لندن جانے والے تھے ظہیر دراب کے ساتھ باہر گیا تھا شانزے گھر بلکل اکیلی تھی وہ پرسکون تھی مگر ابھی ہر چیز تباہ ہونے والی تھی تین چار لڑکے منہ پر رومال باندھا حویلی میں داخل ہوئے پہرےداروں کے منہ پر ہاتھ رکھے انکی گردن کروڑ دی گئی وہ بے جان ہوتے گرتے چلے گئے وہ لوگ اندر آیا نقاب زدہ چہرے کی کالی سیاہ آنکھیں کمرے میں شیشے کے سامنے کھڑی شانزے کا جائزا لے رہی تھی وہ حجاب کررہی تھی پیچھے سے منہ پر رومال وہ اسکی باہوں میں ہی گر گئی تھی اسنے حوس سے ایک انگلی اسکے چہرے پر پھیری ” ضد بن گئی تھی تم اسفندیار کی !” اسے اٹھایا اور گاڑی میں بیٹھایا اور دھول اڑاتا نکل گیا ۔” اسفندیار نیکسٹ ٹارگٹ دلبند کی وائف !”
” ابے شادی بھی کرلی بڑا کوئی ٹچا عاشق نکلا روزینہ گئی تو دوسری پٹا بھی لی ۔۔۔”
” پتہ تو یہی چلا ہے مگر وہاں جانا اتنا آسان نہیں فیملی ہے پوری ۔۔”
” تو ۔۔۔تو ۔۔۔۔تماشہ لگاوں حویلی کے باہر شکل سے تو بندر تو دکھتے ہی ہو ۔”
” اے مداری والا مداری آیا بند کا تماشہ لایا ! اسفندیار کے دوست مداری والے بنے حویلی کے دروازے پر موجود تھے گاوں وہ حد تک حویلی کے باہر جمع تھے آواز اور شور سن کر اماں سائیں چچی سائیں تمام خواتین باہر آگئی تھیں وڈے سائیں کی طبعیت خراب تھی وہ سو رہے تھے چچا سائیں عرفان دلبند کسی کام سے باہر تھے حویلی ایک جھٹکے سے خالی ہوگئی تھی وہ اپنے کمرے میں بیٹھ بیٹھ کر تھک گئی تھی اب بھی منہ بنائیں بیٹھی تھی جب کھڑکی سے کوئی اندر داخل ” سرپرائز! دلبندز وائف !” وہ آواز سن لی اچانک مڑی اسفندیار اور روزینہ عنقریب تھا دونوں کی چیخ نکل جاتی ” تم!!!”
” او تیری یہ کیا ہوگیا یہ تو تڑکا لگ گیا تو روزینہ بے بی یہاں ہے یعنی دلبند نگل گیا ۔۔۔۔” اسنے سر سے لیکر پھر تک اسے دیکھا ” او مائی گاڈ! ہاتھ بے ساختہ منہ پر چلا گیا ” روزینہ بے بی کا تو اپنا بے بی آنے والا ہے یہ بائے ون گٹ ون فری ہوگیا !” مگر اسکا چہرا دیکھ کر سر چکرا گیا اس سے پہلے کے وہ گرتی اسنے پکڑ لیا ” تمہارے حصے کا تو کلورو فوم بھی بچ گیا !” اسے چادر میں لپیٹا دھوتی کرتہ تو پہلے ہی پہن کر آیا فھا سر پر سافا باندھا منہ چھپا کر اسے کندھے پر لادا اور لے کر نکل گیا اماں سائیں کے پاس سے جو مداری سے سر کھپا رہی تھیں ۔
وہ انھیں لیکر گاوں میں ہی ایک جگہ لے آیا تھا ان دونوں کو ہوش آیا تو وہ دونوں کرسی سے بندھی تھیں شانزے تو پھر ٹھیک تھی مگر روزینہ اسکی کنڈیشن تو ویسے ہی خراب تھی ” زری ! زری تم ٹھیک ؟ اسکی اکھڑتی سانس دیکھ کر شانزے نے اسے چھونا چاہا مگر ہاتھ بندھے تھے ۔
” میرے رنگ رگنے والی ۔۔
پری ہو یا ہو پریوں کی رانی ۔۔۔
یا ہو میری کریم کہانی ۔۔۔۔۔” ہاتھوں میں ایک بوتل پکڑے سیٹی بجاتا بوتل ہلاتا آیا جسے دیکھ کر دونوں کی سانس ساکن ہوگئی تھی ۔
” نہیں غلط گانا گیا وہ کیا پڑھتے تھری کلاس ہاں
” مچھلی جل کی رانی ہے ۔
جیون اسکا پانی ہے ۔۔۔۔”
کہتے ہی اسنے وہ بوتل کے اندر محلول زری کے چہرا پر پھینک دیا ایک چیخ بلند ہوئی تھی کمرے میں مگر وہ پانی تھا ۔” ایسڈ نہیں تھا تم دونوں کا جلانا ہے مارنا ہے مجھے جو میرا وہ کسی کا نہیں لیکن ایسے مزا تھوڑی آئے گا تمہارے مچھواروں کو تو ٹریلر دکھائیں اسنے ان دنوں کی وڈیوں بنائی اور ان دونوں کو سینڈ کردی ۔دلبند منشی کے پاس بیٹھا تھا جب میسج ٹون بجی اسنے فون دیکھا وڈیو دیکھ رک ظہیر کے تو اپنے حواس ہل گئے تھے چھوڑتے حویلی کی طرف بھاگے ” اماں سائیں زری کہاں ہے ؟”
” اپنے کمرے میں ! وہ بھاگتا اوپر پہنچا مگر وہاں کوئی نہیں. تھا ” حویلی سے میری بیوی غائب ہوگئی اور کسی کو پتہ ہی نہیں !”
وہ اتنی زور سے چیخا تھا کہ اماں سائیں تک کانپ گئی تھیں کشمیراں تو رونے لگ گئی تھی انھیں ویسے ہی چھوڑ کر باہر آیا جہاں ظہیر گاڑی سے اتر رہا تھا ” کچھ پتہ چلا دونوں نے ایک ساتھ کہا مگر پھر دونوں ہی خاموش ہوگئے ۔
” تیرے مچھوارے کو ٹانگ اڑانے کا بہت شوق ہے اور اب تو اس جیسا ایک اور آنے والا ہے یہ کیسے ہونے دے ؟” اسنے معصوم سے منہ بنا کر زری کو دیکھا
” مجھے چھوڑ دو اسفندیار میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں پلیز مجھے جانے دو !” وہ اسکے سامنے روتی ہاتھ جوڑ رہی تھی ۔
” اسفندیار تمہیں میں چاہیے ہوں نہ اسے جانے دو میں تیار ہوں !” اسنے نظریں گھما کر شانزے کو دیکھا ” پکا !
وہ لوگ ہر جگہ تلاش رہے تھے کالز بھی کی جارہی تھیں مگر نمبر بند ” ایک منٹ دلبند وڈیو دوبارا اوپن کرو دیکھو کوئی کلو مل جائے شاید .” ظہیر گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا اسنے وڈیو دوبارا اوپن کی وہ کرسی پر بندھی تھی پیچھے ایک کھڑکی تھی پھر اچانک اسے پیچھے ایک منار نظر آیا زوم کیا ” بدر مسجد !” اسنے ظہیر سے سٹیرنگ پکڑ کر دائیں طرف گھما دیا ۔
” چلو ٹھیک ہے میں زری کو چھوڑ دیتا ہوں مگر یہ تو دو ہیں ایک کو چھوڑ سکتا ہوں ایک کو تو جانا پڑے گا نہ ۔”
” بکواس بند اسفندیار کس قدر گھٹیا انسان ہو تم تمہیں شرم نہیں آتی ۔۔۔” شانزے شیرنی کی طرح دھہاڑی زری کا تو اسکی بات سن کر سر چکرا گیا تھا جب اسنے اسکا چہرا دبوچ لیا ایک چھوٹی سی بوتل اسکے منہ کو لگا دی ” صرف ایک جائے گا !” وہ نفی میں سر ہلاتی رہ گئی مگر اسنے وہ زہر کی بوتل اسکے جسم میں انڈیل دی تھی اس سے پہلے وہ شانزے کی طرف بڑھتا دھڑام سے دروازہ کھولا ظہیر تو آتے ہی شروع ہوگیا تھا دلبند نے ان دونوں کو کھولا اسفندیار اور ظہیر کی درمیان ہاتھا پائی ہو رہی تھی دلبند آگے بڑھا ہی تھا جب زری کے منہ سے خون نکلنا شروع ہوگیا ” زری ! زری کیا کیا ہے تو نے “
” دل ۔۔دلبند اسنے زری کو زہر دیا ہے !” شانزے کی لڑکھڑاتی زبان دلبند کے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ گئی تھی وہ حیرت سے اپنی باہوں میں بے سدھ زری کو دیکھ رہا تھا ۔” دلبند اسے ہوسپیٹل لے کر چلو ” ظہیر اسفندیار کو ادھ موا اسکی طرف مڑا ایمبولینس کو اسنے فون کردیا تھا ” زری آنکھیں مت بند کرنا !”
” زری پلیز آنکھیں مت بند کرنا !” وہ آنکھیں کھولی رکھنے کی کوشش کررہی تھی اسکا ہاتھ اسنے پکڑ رکھا تھا اسکی سانسیں مدھم چل۔رہی تھیں اسنے بند کرتی آنکھوں سے اسے دیکھا اور طاقت لگا کر اپنا ہاتھ چھڑا لیا وہ حیرت سے اسے دیکھتا رہ گیا خالی ہاتھ وہیں ساکن ہوگیا تھا ۔ وہ اس سے رخ ہی پھیر گئی تھی وہ لوگ قریبی ہوسپیٹل میں پہنچ گئے تھے وہ آپریشن تھیٹر میں تھی اسکا سٹمک واش کیا جارہا تھا ۔ جلی بلی کی طرح گھوم رہا تھا یہ خبر پوری حویلی کو راکھ کر گئی تھی اماں سائیں تو صدمے سے بے ہوش ہی ہو گئی تھیں کشمیراں بین ڈال رہی تھی رضا شاہ کی حویلی میں کہرام مچ گیا تھا ۔” کیا ہوا مسٹر ٹاپر ڈال دی نہ ایک بار پھر میرے جان خطرے میں !” روزینہ کا سیراب عرصے بعد آج پھر نظر آیا تھا ” زری ! تم !….
” زری نہیں روزینہ ہوں میں زری تو مر رہی ہے اور تمہارا بچہ بھی اتنی دیر پہلے بچانے آئے تو عزت داو پر لگا دی اور اب آنے میں اتنی دیر لگا دی کہ سب کھونے جارہے ہو خون بھی اور زندگی بھی تم کچھ نہیں سنبھال سکتے کچھ نہیں …” اسے الفاظ کے کوڑے مارتی غائب ہوگئی ۔تبھی نرس باہر آئی ” میری بیوی کیسی ہے ؟”
” آپ کا بچہ تو نہیں رہا اور بیوی کی حالت ناساز ہے دعا کریں !” وہ گر جاتا اگر ظہیر اسے نا سنبھالتا ” حوصلہ رکھ یار کچھ نہیں ہوگا وہ ٹھیک ہونگی !” وہ حواس باختہ ہوگیا تھا تبھی کانوں میں ایک آواز آئی ۔
“اللہ ھو اکبر اللہ ھو اکبر!” عصر کی آزان کانوں میں پڑی خود کو سنبھالتا وضو کرنے چلا گیا وہیں جگہ ڈھونڈی اور نماز کی نیت باندھ لی ” ایک بار آپ کے پاس تب آیا تھا جب اسے کھو دیا تھا اتنی مشکل سے تو ملی تھی آج پھر کھونے جارہا ہوں اولاد کھو چکا ہوں زندگی کھونے کی سکت نہیں ہے مجھ وہ تو واپس کردو آپ کیسے ایک شیطان کا منصوبہ کامیاب ہونے دے سکتے ہیں مت چھینے زری کو ۔۔۔۔” سجدے میں گرا سر اٹھانا بھول گیا تھا کچھ دیر بعد وہ پھر سے آپریشن تھیٹر کے باہر کھڑا تھا وڈے سائیں عرفان اماں سائیں سب آگئے تھے اسنے کسی سے بھی بات نہیں کی تھی اماں سائیں اسکے پاس آئی جب وہ خود دور ہوگیا ” آپ سب زمہ دار ہیں میرے بچے کی موت کے میری بیوی زمہ داری نہیں سنبھال سکیں کہاں تھے آپ سب !” اسنے پھر چیخ پر پوچھا جس پر سب سر جھکا گئے وڈے سائیں خود اسکے پاس آئے زبردستی اسکو گلے لگا لیا ” ہم سب کو دکھ ہے دعا کر وہ بچ جائے !”
آخر طویل انتظار ختم ہوگیا وہ اپنی جگہ سے ہلا بھی نہیں تھا آخر ڈاکٹر کے چہرے پر زندگی کی مسکان آگئی اسنے اب سانس لیا تھا اماں سائیں ابھی بھی روتی اسے دیکھی جارہی تھیں میرا رانجھا مجھ سے ناراض ہوگیا !”وہ خود کے پاس آیا ” معذرت اماں سائیں میں نے غصے میں بول دیا !” انکے سامنے سر جھکائے کھڑا تھا ماں تھی ناراض ہو سکتی تھی بھلا اپنے سینے میں چھپا لیا ” آج کے بعد تو نے ایسا کا نہ کان کھینچوں گی تیرے ۔۔۔۔” اسے جنرل روم میں شفٹ کردیا گیا تھا کافی دیر بعد جاکر اسے ہوش آیا تھا زیبو اور ارفو کے علاوا وہ کسی سے نہیں ملی تھی وہ خود بھی اسکے سامنے نہیں جارہا تھا ہسنا کیا ہوتا ہے وہ تو جانتی ہی نہیں تھی ارتشا اور شہریار کو بھی اس بات کی خبر مل۔گئی تھی شانزے ان سب کا زمہ دار خود کو سمجھ رہی تھی ۔ اسلیے ظہیر نے واپس جانے کا فیصلہ کرلیا تھا سب مل آئے تھے نہ اسنے کسی سے گلہ کیا تھا نہ بات دلبند کا بھی نہیں پوچھا تھا اور یہ بات اسے توڑ رہی تھی ۔تین دن بعد اسے حویلی لے آئے تھے پوری حویلی سوگ میں تھی وہ چپ چاپ اپنے کمرے میں چلی گئی تھی اپنے کمزور جسم کو دیکھ کر رونا آتا تھا ایک ہفتہ گزر گیا تھا مگر ملنے کی اجازت نہیں ملی تھی آخر صبر کا باندھ ٹوٹا اور اسکے کمرے کی طرف چل دیا وہ سامنے کی بیڈ کروان سے ٹیک لگائے غیر مرائی نقطے کو گھور رہی تھی وہ خاموشی سے اسکے پاس آکر بیٹھ گیا بیڈ پر پڑے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا جو اسنے فورا کھینچ لیا اور چہرے کا رخ پھیر گئی ۔
” زری پلیز یہ نہ کرو مجھے خود سے دور مت کرو پلیز!” مگر دوسری طرف کوئی اثر نہیں ہورہا تھا ۔
” زری وہ میرا بھی بچہ تھا مجھے بھی تمہاری ضرورت ہے میرے ساتھ یہ سلوک کیوں کررہی ہو ۔۔۔۔” مگر خاموشی نہ ٹوٹنی تھی نہ ٹوٹی۔۔۔
” تمہیں پتہ ہے میں زبردستی نہیں کرسکتا یہ خاموش جان لے لے گی میری !” وہ اسکے اور قریب ہوگیا مگر اس پر کوئی اثر نہیں ہوا ۔” زری پلیز کچھ بولو خدا کا واسطہ ہے ! اسنے ایکدم اسکا گریبان پکڑ لیا تھا ” آخری سانس بچنے پر کیوں آئے جب مر جاتی تب آتے میں نے کہا تھا وہ واپس آگیا ہے مگر کہہ دیا میری غلط فہمی تھی اپنے ہی گاوں میں مجھے ڈھونڈ نہیں پائے کیوں!” غصے سے لال چہرا لیے اسکا گریبان پکڑے وہ ایک ایسے سوال کا جواب مانگ رہی تھی جو اسے شرمندہ کر گیا تھا ” بولیں چھوٹے سائیں ! “
” کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا جب آیا تب تک دیر ہوگئی تھی تمہاری حالت پہلے ہی ٹھیک نہیں رہتی یہ بتا کر تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا مجھے پتہ نہیں تھا وہ گھٹیا انسان اس حد تک پہنچ جائے گا زری سب میں میرا قصور ہے میں مانتا ہوں مجھے تمہیں چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا یہ غلطی تھی ۔” اسکے ہاتھ اپنے گریبان سے ہٹائے بھی نہیں تھے اسنے گرفت اور مضبوط کرلی ” اسلحے سے بھرا کمرا ہے۔۔۔۔نہ آپکا ایک ایک بندوق کی ایک ایک گولی مجھے اسفندیار کے جسم میں چاہیے آپکے ہاتھوں میں اسے دوسری سانس بھی آئی تو زری آپکو کبھی معاف نہیں کرے گی ۔وعدہ کریں مجھ سے !”
” میں وعدہ کرتا اسکو تم اپنے ہاتھوں سے موت دو گی تمہارے پاس میں لیکر آوں گا ۔۔۔” ہاتھ ہٹائے اور اسکے سینے سے لگ کر زارو قطار رونے لگی اسنے اسے مضبوط باہوں کے حصار میں لے لیا تھا آنسوں ٹوٹ کر اسکے بالوں میں جذب ہوگئے ۔مگر ایک سکون اتر گیا تھا اسنے اسے نہیں کھویا ۔
شانزے اور ظہیر کی دو دن بعد کی فلائٹ تھی وہ اسکے سینے پر سر رکھے گہری سوچ میں غرق تھی پھر اچانک بولی ” ظہیر کتنی محبت کرتے ہو مجھ سے ؟” اسکے اس اچانک سوال پر اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” کیا چاہیے اسفندیار کی موت !”
” غصہ نہیں آتا تمہاری بیوی کو ہاتھ لگایا اسنے کیسے چھوڑ سکتے ہو اسے اسنے مجھے بے پردہ کرنے کی کوشش کی ہے مجھے اسکی عزت کی دھجیاں اڑانی ہیں وعدہ کرو اسفندیار میرے پیروں میں ہوگا !” اسنے ہاتھ سامنے کیا بغیر کوئی لمحہ ضائع کیے اسنے ہاتھ ہاتھوں ہر رکھ دیا ” وعدہ !”
ارتشا اور شہریار زری سے مل آئے تھے حویلی پر چھائی افسردگی ارتشا کا مکھڑا دیکھ کر کچھ حد تک چھٹ گئی تھی زری کے چہرے پر بھی ہلکی سی مسکراہٹ آئی تھی اسکا زخم بہت حد تک مندمل ہوگیا تھا جو میک اپ سے چھپ جاتا تھا ” شہریار اب سکیچ بنوائیں ؟” وہ جو اسے محبت پاش نظروں سے دیکھ رہا تھا گہرا مسکرا دیا ” کل صبح پہلے یہی کرنا ہے میں نے سکیچ ارٹسٹ کو بلوا لیا ہے ۔آ ۔۔۔تمہیں ایک چیز دیکھاتا ہوں .” وہ لیپ تاپ لیکر آیا پلے کیا وہ انکا سسی پنوں کا پلے تھے ارتشا کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ آگئی تھی سب نے گیٹ اپس بدلے تھے پلے ختم ہونے پر انکی پکچرز کا سلائیڈ شو تھا زری اور روزینہ کے بارے میں شہریار نے ارتشا کو سب بتا دیا تھا اسلیے اسے کوئی حیرت نہیں ہوئی تھی مگر ایک تصویر پر آکر اسکی سانسیں تیز ہوگئی تھیں ” یی۔۔۔۔یہ ۔۔کک۔۔کون ہے ؟” اسفندیار کی تصویر پر انگلی رکھے اسے پوچھ رہی تھی شہریار نے نفرت سے اسے دیکھا ” یہی ہے اسفندیار خان اسکی پکچر میں ڈیلیٹ کردیتا ہوں”
” یہی تھا وہ شہریار یہی تھا جس نے میرے چہرے پر تیزاب پھینکا تھا یہی ہے وہ یہ تمہارا دوست ہے ۔” شہریار کی تو حیرت سے آنکھیں پھیل گئی تھیں ” نہیں دوست نہیں تھا یونی میں پڑھتا تھا مگر وہ اس حد جاسکتا ہے یہ میں نے نہیں سوچا تھا نہیں چھوڑو گا اسے ۔”
” وعدہ کرو جیسے اسنے میرے تیزاب پھینکا ہے مجھے بھی اسکے چہرے پر تیزاب ڈالنے کا حق دو گے کرو وعدہ !” اسنے بھی ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھ دیے تھے ” وعدہ !” جلا دینے والے انداز سے وہ کمروں سے باہر نکلے ایک ساتھ جیبوں سے فون نکلے ” نام اسفندیار خان کل شام تک چاہیے رقم جو تم کہو!” اپنے اپنے اثر سوروخ سے انھوں نے اسفندیار کے پیچھے شکاری کتے چھوڑ دیے تھے ۔اسکے علاوا شہریار جتنے کیسز جو ریپ اور ایسڈ اٹیک ہے تھے وہ سب سٹڈی کیے تھے ان سے ملا بھی تھا وہ تمام لڑکیاں یا تو عزت کھوئی ہوئی تھیں یا مکھڑا کچھ پر تو تیزاب اتنا حاوی ہوا تھا کہ انھیں نظر بھر دیکھنا مشکل تھا ۔شیطان بھی لعنت بھیجتا ہوگا ان مکھڑوں کا جلانے والوں پر کیا ملتا خدا نے ہر صورت آپنی صورت بنایا ہے کتنے مکھڑے جلاو گے کتنی بار خدا کو جلال میں لاو گے اور جب وہ جلال میں آتا پر تباہی پھیلتی ہے ۔”شہریار ارتشا کی میڈیسن دیکھ رہا تھا جب فون بجا ” سر کلفٹن وائٹ بنگلو نمبر تیرا !” فون رکھتے ہی لوکیشن آگئی تھی جو اسنے ظہیر اور دلبند کو بھیج دی تھی ۔وہ اب بھی افسردہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی جب اسنے پیچھے سے اسکے سر پر چادر دی ہاتھ پکڑا ” چلو !” اسکے ہاتھ پکڑے وہ اسے لے گیا ۔
” ظہیر ہم کہاں جارہے ہیں ؟” وہ نقاب کیے گاڑی میں بیٹھی گاڑی سٹارٹ کرتے ظہیر سے پوچھ رہی تھی ۔
” ایک سرپرائز ہے !” دھول اڑاتا نکل گیا۔
وہ سگریٹ منہ کو لگائے بیس دن سے یہاں چھپا بیٹھا تھا مگر آخر اسکے دوستوں نے مار کھا کھا کر بتا ہی دیا وہ لوگ اس تک پہنچ چکے تھے سکون سے کمرے میں بیٹھا تھا کہ اچانک کئی لڑکیاں اسکے ارگرد کھڑی ہوگئی اسنے چارو اور دیکھا کوئی پھٹے لباس میں تھی تو کوئی جلا ہوا چہرا لیے وہ ایکدم کھڑا ہوگیا ” تت۔۔۔تم لوگ کون ہو اور یہاں کیا کر رہی ہو ۔”
” حیرت کی بات ہے اسنفدیار اپنے گناہ تک یاد نہیں رکھتا !”دلبند ظہیر شہریار ایک ساتھ اسکے سامنے کھڑے تھے وہ تینوں اسکے گرد پھیل گئی شہریار کے پیچھے وہ لڑکیاں کھڑی تھیں جو ریپ ویکٹم تھی ” یہ وہ مکھڑے ہیں جنہیں تو نے اپنی وحشت کا نشانہ بنایا تھا انھیں بے لباس کیا تھاآج تیری باری ہے ظہیر ایسڈ ویکٹمز کے آگے کھڑا تھا ” یہ مکھڑے ہیں جنہیں تو نے جلا کر راکھ کردیا انکے حسن کو اپنی حوس کا نشانہ نہیں بنا پایا تو داغ دار کردیا آج تیرا چہرا بگڑے گا ۔دلبند کے پیچھے صرف زری کھڑی تھی ” اور یہ وہ ہے جسے تونے درد کی انتہا پر پہنچایا پہلے اسکی عزت پر ہاتھ ڈالا اور پھر کوکھ پر اسکے حساب زیادہ ہیں ۔لڑکیاں ایک ساتھ اس پر ابل پڑی تھیں ہر۔غصہ نکالا جارہا تھا ٹانگیں مکے سب چلائے جارہے تھے اسکے کپڑے تک پھاڑ دیے تھے ناک منہ کر جگہ سے خون نکل رہا تھا شانزے ظہیر کے سینے سے لگی اسکا حشر دیکھ رہی تھی ۔” رکو !” اچانک زری کو آواز بلند ہوئی تو سب تھم گیا وہ گن پکڑے کھڑی تھی ” مجھے معاف کردو روزینہ پلیز مجھے معاف کردو میں اپنے سارے گناہ قبول کرتا ہوں ۔” ہاتھ جوڑے اسکے سامنے کھڑا تھا گن والا ہاتھ کانپتا جارہا تھا دلبند نے اپنا ہاتھ اسکے بازو پر رینگنا شروع کیا پیچھے سے اپنے لگا لیا ہاتھ گن تک پہنچااسکی انگلی سمیت ٹریگر دبایا فائر کی آواز سے اسنے آنکھیں بند کرلی تھی مگر وہ گولیاں چلاتا جارہا تھا چار گولیاں اسے لگ چکی تھی جب وہ نیچے گر مگر سرہانے ارتشا کھڑی ہاتھ میں ایسڈ پکڑے ” بہت شوق ہوتا ہے نہ تم مردوں کو ہمارے چہرے جلانے کا تیزاب پھینکنے کا تو محسوس کرو اسکی تکلیف آج تم بھی کہ جب نازک چہروں میں اسکے چھینٹے پڑتے ہیں تو کیسا لگتا ہے ۔” اسنے وہ تیزاب کی بوتل اس پر انڈیل دی تھی اور خود چہرا شہریار کے سینے میں چھپا لیا پورے بنگلے میں اسکی چیخیں گونج رہی تھی آخر دم نکلا اور خاموشی چھا گئی وہ تینوں اپنے محافظوں کے حصار میں تھیں ۔چیخ و پکار کی وجہ سے خبر پولیس تک بھی پہنچا دی گئی تھی ” لاش کے کپڑے بھی پھٹے تھے چہرا بھی جلا تھا اور گولیاں بھی لگی تھیں وہ تینوں اپنی محبتوں کو لیکر نکل گئے تھے انسپکیڑ نے ایک نظر لاش کو دیکھا اور پھر ان بدحال لڑکیوں کو اسکی اپنی روح تک کانپ گئی تھی اسنے ہاتھ اٹھا کر دیکھا جہاں بازو کر رونگٹے کھڑے ہوئے تھے ۔
” کس نے مارا ؟” آخر اسنے پوچھ لیا مگر جواب تو وہ بھی جانتا تھا سب نے ایک ساتھ کہا ” میں نے !” انسپکیڑ نے گہرا سانس لیے ایک لڑکی کے ہاتھ سے گن لی جو اتنے ہاتھوں سے گزر چکی تھی کہ نشان پانا ناممکن تھا ایسڈ کی بوتل کا حال بھی کچھ الگ نہیں تھا آخر ڈیڈ باڈی اٹھائی گئی اور لڑکیاں مسکراتی فخر سے پولیس نے پیچھے چل دی ۔
جلا دو گے چہرا میرا پر ہمت کیسے توڑو گے ۔۔
عورت نے تو تیزاب شدہ مکھڑا بھی کھول رکھا ہے ۔
ڈیڑھ سال بعد۔۔۔
ارتشا اسے مجھے دو تم تیار ہوجاو ہم لیٹ ہوجائیں گے !” شہریار نے اسکے ہاتھوں سے چھوٹے سے رسام کو کیا جو نہایت گول گپو تھا اور ہر وقت ارتشا سے چپکا رہتا تھا
” یہ بھی آپ جیسا ہے ہر وقت میں ہی چاہیے ہوں !” اسنے ڈریس اٹھاتے ہوئے کہا شہریار نے اسے کمر سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگا لیا ” چلو شکر ہے یہ تو مانا کہ مجھے کر وقت تم ہی چاہیے ہو ۔۔” کہتا اسکے ہونٹوں کی جانب بڑھتا جارہا تھا جب اسنے دھکیل دیا ” دل پھینک !” اور واش روم میں گھس گئی ۔شانزے اور ظہیر لندن میں سیٹل ہوگئے تھے انکی ایک بیٹی تھی ارحم جو بلکل اپنے ماں پر گئی تھی ۔
وہ افسردہ سہی آئینے کے سامنے بیٹھی اپنی رپورٹس دیکھ رہی تھی ڈیڑھ سال ہوگیا تھا اسکی اولاد کو گئے مگر آج بھی زخم ہرا ہی تھا دلبند کی حالت بھی اس سے کہاں الگ تھی اسکی گردن میں ہاتھ ڈال کر تھوڑی اسکے سر پر ٹکا دی ” یاد آرہی ہے ؟”اسنے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
” مجھے بھی مگر ہر وقت ایسے رہو گی تو کیسے چلے گاآج کی تقریب کے لیے اسنے گرین کلر کا جوڑا پہنا تھا جسکا پلو اسنے اسکے سر پر دیا اسکے گال پر ہاتھ رکھے محبت سے اسکے ہونٹوں کو چھوا ” اب چلیں سب انتظار کررہے ہیں ۔” مسکرا کر اٹھی ڈریس سنبھالتی بیڈ تک گئی دو ماہ کے امن کو گود میں اٹھایا دلبند کا ہاتھ تھامے نیچے چل دی جہاں سب اسکا انتظار کررہے تھے گھونگھٹ اسنے نہیں نکالا تھا وہ امن سمیٹ جھولے پر آکر بیٹھ گئی جہاں نئی ناویلی دلہن بختو پھولوں سے چھیڑ خانی کررہی تھی اسنے کچھ یاد کرتے ہوئے اسے دیکھا ” بختو دیکھ تیری دعا قبول ہوگئی تو نے میرے لیے جھولا بھی سجایا اور دیکھ میری گود میں بچہ بھی ہے جو میرا اور چھوٹے سائیں کا !” اس بات پر اسنے اسے زور سے گلے لگایا ” بختو دی جان زری !”ہاتھ بڑھا کر اسکا گھونگھٹ نیچے کرنے لگی جب دلبند نے روک دیا
” آج یہ مکھڑا سب کو دیکھنے دو !”
