Mukhra by Bint-e-Aslam NovelR50490 Mukhra Episode 32
No Download Link
Rate this Novel
Mukhra Episode 32
Mukhra by Bint-e-Aslam
” یہ تو بہت خوشی کی بات ہے دراب شانزے کی شادی پکی ہوگئی ہے ۔” دراب مٹھائی اور شادی کا کارڈ لیکر حویلی آیا تھا دلبند اور زری کی خوشی کو دو ماہ ہوگئے تھے وقت پر لگا کر نکل گیا تھا شہریار ارتشا کو امریکہ لیکر گیا تھا اسکی سرجری اور ٹرپ کے لیے خوشیاں کچھ وقت کے لیے ساکن ہوگئی تھیں اور یہ ایک اور شامل ہوگئی تھی ۔”اچھا دراب لڑکے کا نام کیا ہے ؟” وڈے سائیں نے پوچھا تبھی دلبند کا فون بجا شہریار کا تھا وہ سننے کے لیے اٹھ گیا ” اسفندیار خان ! زری جو ابھی سیڑھیاں اتر ہی رہی تھی نام سن کر قدم لڑکھڑا گیا تھا ” چھوٹی سرکار ! ایک کنیز بھاگ کر اسکی طرف آئی ” آپ کو کچھ چاہیے ؟”مگر اسکے کان تو نام سنتے ہی بند ہوگئے تھے ” اسفندیار خان ! دماغ کھینچ کر ڈھائی سال پہلے لیے گیا تھا ” اسفندیار مجھے چھوڑ دو پلیز !”
” تم نے کہا تھا نہ کچھ بھی کرو گی کرو نہ بس مزاحمت نہ کرو !” سانس ایک دم تیز ہوگئی تھی دلبند فون سن کر واپس آرہا تھا جب زرد رنگت لیے زری پر پڑی بھاگ کر اس تک پہنچا ” زری ! کیا ہوا ؟” اسنے انجان نظروں سے اسے دیکھا ” اسفندیار خان !
اسنے حیرت سے اسے دیکھا اسے لیکر اوپر آگیا بیڈ پر بیٹھایا وہ اب بھی پریشان تھی زری ! زری ! وہ ایکدم اسکے سینے سے لگ گئی ” چچ۔۔۔چھوٹے سائیں ! اسفندیار واپس آگیا میں نے ابھی دراب خان کے منہ اسکا نام سنا ہے وہ واپس آگیا وہ ہم دونوں کو الگ کردے گا ۔”وہ حیران تھا سن کر ” زری اسفند یار ایک ہی نہیں دنیا میں کوئی اور ہوگا اور کوئی ہمیں جدا نہیں کرے گا .”
” میرے بچے کو بھی خطرا ہے اسے وہ مجھے لے گیا تو اسے بھی مار دے گا وہ بہت برا ہے !” اسکے میں گھستی ڈری جارہی تھی اسکا صدمے کے مارے برا حال ہوگیا تھا کھنچ کر خود سے الگ کیا ” پہلی بات کے وہ تمہیں چھو بھی نہیں سکتا دوسری بات ہمارے بچے کو میں کبھی کچھ نہیں ہونے دوں گا وعدہ ہے میرا۔۔۔” اسکے چہرے کو ہاتھوں میں تھامے وہ اسے دلاسے دے رہا تھا جس پر وہ کچھ پر سکون ہوگئی تھی ” زری کا ڈر اسفندیار کا نام تک بن چکا اگر کبھی وہ اسکے سامنے آگیا تو کیا ہوگا ؟” وہ خود پریشان ہوگیا تھا ۔
اسفندیار نے نکاح سے انکار نہیں کیا تھا مگر اب تو اسے سزا دینے کے طریقے سوچنے لگا تھا بس ایک بار میرے نکاح میں آو تمہارے سارے پردے میں گراوں گا .” گرے ہوئے دماغ کی گری پیداوار وہ اپنے کمرے میں بیٹھی تھی ظہیر کو اسنے بلاک کردیا تھا آخر سے لیپ ٹاپ کھولا تبھی فورا میسج آیا ” میں پاکستان میں ہوں نہ تمہارے گاوں آرہا ہوں !” میسج تھا کہ سر پر تلوار گرادی تھی اسنے انبلاک کیا اور کال ملائی ۔۔۔
خدارا پیاسے کانوں کو سیراب کردے ۔۔۔۔
دیدار دے سوکھی آنکھوں کو سیلاب کردے ۔۔۔
کال کنیکٹ ہوتے ہی بولے جانے والے الفاظ اسے اور توڑ گئے تھے ۔” میں پاکستان میں ہوں اور میں کل تمہارے ڈیڈ سے ملنے آ۔۔۔۔۔۔”
” ظہیر کل میرا نکاح ہے ! اسکے الفاظ ابھی منہ میں ہی تھے جب وہ بول پڑی دوسری طرف گھنے جنگل جیسی خاموشی چھا گئی تھی
” پاپا چاہتے ہیں میرا نکاح انکی بہن کے بیٹے سے انھوں نے بہت مان سے کہا تھا ظہیر میں انکار نہیں کر پائی اسیے ۔۔۔۔”
” کل نکاح میں آسکتا ہوں؟”اسنے حیرت سے فون کو دیکھا ” لیکن ظہیر میں مزاق نہیں کررہی “
” یار اتنی اجازت تو دے دو !” اسنے فون بند کردیا وہ اسے کیا جواب دیتی ” نہیں ظہیر میں نے زہر کھا لینا ہے ۔”
تینوں یاد ہونا اے ۔۔
تیرے گھر بابل ۔۔۔
اک وار میں جمی ساں ہیر بن کے۔۔۔
ادوں تے لیکر بابل آج تیکر رونا رہ گیا میری تقدیر بن کے ۔۔۔
ہیراں زہر کھا کھا آج وی مردیاں نے ۔۔
رانجھے آ ج وہ پھردے نے فقیر بن کے ۔۔۔
سمیں بدلے وقت بدلیا پر۔۔۔
ہیر آج وی اوتھے ہی کھڑی ہوئی اے۔۔۔۔
لال جوڑے کو اسنے کفن سمجھ کر زیب تن کیا تھا ارتشا نہیں آئی تھی زری کو بھی دلبند نہیں لایا تھا اس دن سے اسکی طبیعت کچھ اچھی نہیں تھی اور وہ کوئی خطرا لینا نہیں چاہتا تھا۔ سو وہ اکیلی ہی تھی وڈے سائیں دلبند عرفان اور چچا سائیں ہی آئے تھے بارات کا انتظار کیا جارہا تھا آخر جیگوارز کی قطار دراب حویلی کے باہر رکیں چھتوں میں بالکونیوں میں کھڑی رنگ برنگی تتلیوں نے چوڑیاں کھنکاتے شور مچا دیا ” بارات آگئی !” اسکی سانسوں کی رفتار اور تیز ہوگئی تھی کریم کلر کی شیروانی پر چنبیلی کے پھولوں کا سہارا سجائے وڈیروں کے انداز میں اسے بیاہنے آیا تھا دلبند بھی اس سہرے والے ہو دیکھنے کی تغ و دو میں تھا ” دلبند !”
” آیا ابا سائیں !وہ چلا گیا تھا بارات کو اندر لیجایا جانے لگا مہمانوں کے قطار میں بلیک ڈنر سوٹ میں منہ میں سگریٹ دیے کوئی اور بھی اس سہرے والے کی قسمت پر رشک کررہا تھا
شب لاصل ہے تیری قربت کی ثنم۔۔۔
یہ جسد خاکی تیرا یار ہوگا یا خاک ہوگا ۔۔
دلبند ابا سائیں کی بات سن کر دوبارہ انکی جانب بڑھا جب سٹیج پر بیٹھے دولہے کو دیکھ کر اسکے حواس ہل گئے تھے ” اسفندیار !” اسفندیار یعنی زری کا ڈر سچ تھا شانزے کا ہونے والا شوہر اسفندیار ہے یہ نہیں ہوسکتا مگر میں کیسے روکوں اس شادی کو ۔۔۔۔” وہ ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا جب اسفندیار کی نظر اس پر پڑ گئی وہ بھی سکتے میں آگیا تھا ” دلبند رضا شاہ ! مگر اسکے پکارنے سے پہلے وہ وہاں سے چلا گیا ” او شٹ یہ کھیل بگاڑے گا !” وہ ایکدم سے اٹھا مگر مہناز نے بیٹھا دیا ” اسفندیار بیٹھو یہ شہر نہیں ہے یہاں کسی لڑکی کو چھیڑا تو پورا گاوں ابل پڑے گا ۔”
” بٹ مام ! ..” اسفندیار نکاح کرنا ہے یا نہیں !” انھوں نے پھر کھینچ کر بیٹھا دیا ۔
وہ خود پریشان تھا کیا کرے کیسے روکوں شادی اور شانزے کو اسکے بارے میں پتا ہے اسے ںتاوں ” وہ اسکے کمرے کی طرف گیا جب لڑکیوں نے روک دیا ” دلہن کے کمرے مرد نہیں جا سکتے ” وہ کوشش کرتا رہا مگر ندارد ۔
” نہیں دلبند تو ایک لڑکی کی زندگی ایسے برباد نہیں ہونے دے سکتا مجھے کچھ کرنا ہوگا ۔
” میرا خیال ہے نکاح شروع کردینا چاہیے بچیوں شانزے کو لے آو !” وہ لڑکیوں کی ڈار دلہن کو لینے چلی گئی تھی سب کچھ اتنا جلدی ہوتا جارہا تھا کہ دلبند کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔دلہن کو لاکر بیٹھا دیا گیا تھا ” اسفندیار خان ولد انیس خان آپکو یہ نکاح شانزے دراب ولد دراب خان سے باعوض حق مہر بیس لاکھ سکہ رائج الوقت قبول ہے۔
قبول ہے ۔
قبول ہے ۔
قبول ہے۔
شانزے نے اپنے لہنگے کو پکڑ لیا تھا دلبند کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ خود پریشان تھا سب کے سامنے بول دوں کہیں شانزے سے نکاح نہ کرنا پڑ جائے مگر اسکی زندگی تباہ ہوتے نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔”
شانزے دراب ولد دراب خان آپکو یہ نکاح اسفندیار خان ولد انیس خان سے ۔۔”
” یہ نکاح نہیں ہوسکتا ہے !” وہی ہوا تھا جس کا ڈر تھا اسفندیار نے ماتھا پیٹ لیا تھا ” اس سالے کو وہیں کیوں ہونا ہے جہاں میرا کام ہوتا ہو ۔”
” دلبند یہ کیا کہہ رہے ہو !” دراب الجھتا اسکے قریب آیا شانزے نے لہنگے پر گرفت ڈھیلی کردی تھی ۔
” چاچا میں سہی کہہ رہا ہے لڑکا اتنہائی بد لحاظ بدتمیز اور گھٹیا انسان ہے !”
” زبان سنبھال کر بات کرو لڑکے !” انیس خان غصے سے اسکی جانب بڑھا
” یہ لڑکا میرے ساتھ شہر یونی ورسٹی میں پڑھتا تھا لڑکیوں کی ساتھ بدتمیز بد لحاظی فطرت ہے اسکی یہ شانزے کی زندگی برباد کردے گا !”
” کیا بکواس کر رہے ہو تم تم ہو کون ؟ اسفندیار کے سوال پر وہ حیرت سے منہ کھولے اسے دیکھ رہا تھا ” تک مجھے نہیں جانتے ؟”
” نہیں ہو کون تم ؟”اس ڈھیٹ نے بھی کندھے اچکا دیے تھے ” اچھا تم مجھے نہیں جانتے ارفع تو یاد ہوگی !” اسفندیار نے حیرت سے اسے دیکھا ” ارفع!!!
” نہیں میں کسی ارفع کو نہیں جانتا !” اپنی دماغ مجں تمام لڑکیوں کو ری کال کرچکا تھا مگر ارفع نہیں ملی ۔
” ارفع وہی جو اپنے ماموں کے پاس رہتی تھی جس نے گھر میں گھس کر اسکے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی تھی جب مجھ سے مار کھا کر گیا تھا ۔”وہ صدمے کی حالت میں اسے دیکھ رہا تھا ” ایسا کچھ نہیں تھا کون ارفع !
” جس کے ساتھ مل کر تم نے مجھے بےواقوف بنایا تھا جس کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی تھی تم نے بدتمیزی کی تھی ۔”
” ابے او ارفع نہیں روزینہ تھی !” وہ بے ساختہ بول گیا تھا دلبند خاموش ہوگیا تھا مہناز ماتھا پیٹ رہی تھی اسفندیار !”
” دیکھا چاچا یہ لڑکا لڑکیوں کی عزت سے کھیلتا ہے یہ شانزے کی زندگی برباد کردے گا ۔” دراب جو حیرت سے اپنی بہن کو دیکھ رہے تھے شرمندہ ہوگئے ۔شانزے اور ظہیر خاموشی سے اگلے فیصلے کے منتظر تھے ۔مہناز چپ چاپ اسفندیار کا بازو پکڑے اسے گھسیٹنے لگی اسنے جاتے ہوئے دلبند کو گھورا “ تو نہیں بچے گا تجھے اتنا درد دوں گا کہ برداشت سے باہر ہوگا تیرے !”وہ رخ پھیر گیا بارات خالی ہاتھ ہی لوٹ گئی تھی ۔شانزے چپ چاپ بیٹھی تھی اسے دیکھ کر دلبند سر جھکا گیا ” میری وجہ سے شانزے کا نکاح ٹوٹا ہے مگر میں شانزے سے نکاح ۔۔۔۔” تبھی ایک ہاتھ اسکے کندھے پر محسوس ہوا دلنشین گندمی مسکراتا چہرا ” بس یار کبھی عزتیں سنبھالنے کا موقع ہم نا چیز کو بھی دو ہم بھی ریڈی بیٹھں ہیں !” وہ شانزے کی طرف مڑا ” اب تو بولو پلیز معجزا مانگا تھا ہوگیا اب قسمت بھی مانگ لو !”
گھونگھٹ سمیت لہنگا سنبھالتی اپنے باپ کے پاس آئی ” ڈیڈ یہ ظہیر احمد ہے لنڈن یونی میں میرے تھا پڑھتا تھا اسکی فیملی لنڈن میں سیٹل ہے پر ڈیڈ یہ بہت اچھا اپنے مذہب کے بہت قریب ہے میں اسی بتانا چاہتی تھی جب آپ نے اسفندیار کا نام لیا تھا مگر پھر خاموش ہوگئی ۔” وہ حیرت سے اسکی جانب موڑا ” پہلے کیوں نہیں بتایا ؟”
” آپ نے اتنے مان سے کہا تھا کہ میری شانزے میری کوئی بات نہیں ٹالتی کیسے ٹال دیتی !” انھوں نے شفقت سے ہاتھ اسکے سر پر رکھا ” میری خواہش کے لیے خود کو قربان کرنے چلی تھی تیری مری ماں کے سامنے گنہگار کرنا چاہتی تھی مجھے یہی ابھی اسی وقت تیرا نکاح ظہیر سے ہوگا ۔” بینڈ باجا ایک بار پھر بجنا شروع ہوگیا تھا ۔آخر وہ دونوں نکاح کے پاکیزا رشتے میں بندھ ہی گئے اسنے خوشی سے آنکھیں بھر کر دلبند کو دیکھا ” کتنے احسان کرو گے مجھ پر پہلے مجھے گناہوں سے بچایا پھر میری محبت مجھے دلا دی یور آر اینجل تم فرشتے ہو دلبند !”
“ظہیر تم میری بیٹی کو پھر مجھ سے دور لے جاو گے ؟” رخصتی کے وقت وہ انکے گلے سے لگی رو رہی تھی
” نہیں انکل فلحال تو ہوٹل میں سٹے کیا مگر ہم سب نے فیصلہ کیا ہے پاکستان شفٹ ہونے کا ۔۔۔”
” ہوٹل میں کیوں تم ادھر رہو گے حویلی میں کچھ دن پھر چلے جانا ۔۔” انکی بات پر اسنے شانزے کو دیکھا جو لال ناک لیے شانزے کو دیکھا ” اوکے انکل میں پاپا کو بتا دوں !وہ فون کرنے چلا گیا تھا ۔دلبند بوجھ اتار کر حویلی واپس آگیا تھا تھکا ہارا اوپر کمرے میں آیا تو وہ کمبل سے تھوڑا سا منہ باہر نکالے سو رہی تھی ” آج اگر یہ چلی جاتی اسکی جان تو اسے دیکھ کر ہی نکل جانی تھی ۔” فریش کو سادہ ٹی شرٹ اور ٹراوز میں ملبوس اسکے ساتھ لیٹ گیا اسکا رخ اپنی جانب کیا سر سینے کر رکھ لیا آنکھ تو اسکی بھی کھل گئی ” شانزے کا نکاح ہوگیا ؟”
” ہاں شانزے کا نکاح ظہیر سے ہوگیا ۔” اسنے چہرا حیرت سے اسکی جانب دیکھا ” اسفندیار نام سنا تھا میں نے !”
وہ مدھم سے مسکرا دیا تھا ” نہیں ظہیر احمد تھا غلط فہمی ہوئی تھی !” اسنے دوبارا سر اسکے سینے پر رکھ دیا ” اچھا مجھے لگا شکر ہے وہ نہیں ہے !”اسنے بازو اسکے گرد حائل کیے ” سو جاو !”
” آپ نے جگا دیا نیند نہیں آرہی !” اسکا سر تکیے پر رکھا اور اس پر جھک گیا ” اچھا تو ؟” اسنے شرماہٹ کے ساتھ رخ پھیر لیا اسنے نرمی سے اسکے لبوں کو اپنے حصار میں لیا اسنے بھی بازو اسکی گردن کے گرد حائل کردیے ۔انکی یہ رات بھی کر مسرت اور سکون سے گزر رہی تھی۔
