Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mukhra Episode 21

Mukhra by Bint-e-Aslam

” آو مائی گوڈ! شہریار کے دنوں ہاتھ بے ساختہ منہ پر آگئے تھے اور وہ شرمندہ سی سر جھکا کر کھڑی تھی ادھر دلبند ابھی بھی متلاشی نظروں سے اسے ڈھونڈ رہا تھا ” یہ میرا دھوکا نہیں ہو سکتا “

” روزینہ تم یہاں اسی گاوں میں دلبند کے ساتھ ہو اور وہ تمہیں ہر جگہ ڈھونڈتا پھر رہا ہے تم یہ سب کیا ہے ۔”

” شہریار بھائی آپ نہیں جانتے میں کون ہوں ؟”

“تم روزینہ ہو!” ۔۔۔۔۔۔” میں زری ہوں روزینہ جھوٹ تھا دھوکہ تھا چھلاوا تھا میرا نام زری ہے ہمیشہ سے زری !”

شہریار حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا “یعنی بچپن سے لیکر اب تک اس گھونگھٹ کے پیچھے روزینہ تھی اور وہ ڈیڑھ سال سے تمہارے لیے روتا رہا تڑپتا رہا اور اسے یہ معلوم ہی نہیں کہ روزینہ ادھر اسکے اتنے قریب اسکے نکاح میں ہے !”

” کھیل قسمت نے کھیل ہی ایسا کھیلا ہمارے ساتھ اس رات چھوٹے سائیں نے بتایا نہیں کیا ہوا تھا ؟”

” بتایا اسنے مجھے سب بتایا پاگلوں والا حال ہوگیا تھا اسکا اور تم فرار ہوکر اسی کے گاوں آگئی گھونگھٹ میں چھپی زری بن گئی !٬

” اس رات جو کچھ بھی ہوا تھا وہ لڑکی کے لیے کوئی عام بات نہیں تھی میں نے چھوٹے سائیں کو ایک محافظ سمجھ کر بولایا تھا مگر ۔۔۔۔۔اسکے بعد میں گاوں آگئی سوچا روزینہ سب کی زندگیوں سے چلی جائے گی تو ٹھیک رہے گا پڑھائی چھوڑ شادی کرکے اس گاوں سے بھی دور جانا چاہتی تھی مگر ۔۔۔۔مگر قسمت نے پھر لاکر چھوٹے سائیں کے قدموں میں ڈال دیا اب دکھاوں تو لگے گا ہمیشہ دھوکا دیتی رہی نہیں دکھاوں گی تو بھی مصیبت !”آنسوں تواتر بہنے لگے تھے ۔

” ٹھیک ہے میں سمجھتا ہوں جو کچھ بھی ہوا تھا دلبند کی غلطی تھی گناہ ہوگیا اس سے مگر وہ بہت رویا ہے دیکھوں اسکا چہرا ۔۔۔۔” دور وہ اب اداس خاموش کھڑا تھا کہ شاید وہ پاگل ہورہا ہے !”

آو اسے اب بتا دیتے ہیں دکھا دو اسے یہ چہرا !” مگر زری نے ہاتھ کھینچ لیا ” نہیں شہریار بھائی مجھے بہت ڈر لگتا ہے پتا نہیں وہ کیا کہے گا کہ میں نے اسے دھوکا دیا ایسے سب سامنے آیا تو سب تباہ ہوجائے گا پلیز شہریار بھائی اسے کچھ مت بتائیں میں خود سمجھا لوں گی ۔” وہ حیرت سے اسکا منہ تک رہا تھا بازو سے پکڑ کر اسکا رخ اس طرف کردیا جہاں وہ اداس خاموش کھڑا تھا ” دیکھو اسے ترس نہیں آتا اس پر روتے نہیں دیکھا اسے !”

وہ شرمندہ ہوگئی تھی ” یہ روزینہ کے لیے روتا ہے زری کے لیے نہیں وہ میرے سیراب کے پیچھے بھاگتا ہے مجھ سے محبت کرتا تو کیا اس گھونگھٹ کے پیچھے بھی احساس نہیں ہوتا اسے کہ میں ہوں !”

” بچے کو جب بھوک لگتی ہے نہ تو ماں کو بھی تب تک پتہ نہیں چلتا جب تک وہ روتا نہیں اور جس انسان نے ایک عرصے تک دو وجودوں کو الگ تصور کیا ہے اسے کیسے پتہ چلے گا ایک ہیں میری بات سنو اسے بتا دو سب ۔۔۔۔”

” نہیں میں نے بتا سکتی آپ نہیں سمجھ رہے !” اسنے افسوس سے اسے دیکھا اور وہاں سے جانے لگا “

” کہاں جارہے ہیں ؟” اسے جاتے دیکھ کر ڈر گئی ” اپنے دوست کو سب بتانے !”وہ اس کے پیچھے بھاگی” نہیں شہریار بھائی پلیز اسے کچھ مت بتائیں!”مگر وہ نہیں رکا جب چیخی ” آپ ہوتے کون ہیں میاں بیوی کے بیچ میں بولنے والے!”اسنے صدمے سے پلٹ کر دیکھا ” یہ ہمارا مسئلہ میں اسے بتاوں یا نہ آپ کا کوئی حق نہیں !” یہ بات اسکی آنکھیں نم کر گئی تھیں بھائی بھی کہتی ہے اور کہتی حق بھی نہیں !”ٹوٹے قدموں سے وہاں سے چلا گیا ” آئم سوری شہریار بھائی میرے نکاح کا کوئی حق نہیں ہے میرے پاس یہ ہے مجھے استعمال کرنا پڑا ۔” گھونگھٹ نیچے گراتی وہ بھی چلی گئی۔

خود کو کمپوز کرتا وہ ارتشا کے پاس سے گزرا تھا اور سیدھا گاڑی کی طرف گیا” شہریار کہاں جارہے ہیں ؟”مگر وہ بنا سنے ہی چلا گیا وہ کچھ دیر حیرت سے دیکھتی رہی پھر کندھے اچکا کر چلی گئی زری نے بھی زیبو کو طبعیت خراب ہونے کا بہانہ لگایا تھا وہ بھی اسے لیکر چلی گئی تھی دلبند خاموش ہر جگہ نظر دوڑا رہا تھا کافی دیر ارتشا اور چچی سائیں کے لیے رکا رہا ارتشا نے اسے بتایا تھا کہ شہریار چلا گیا ہے اسنے فون نکالا تو ٹیکسٹ میسج آیا تھا ” دلبند گھر سے کال آیا تھا مما کی طبعیت خراب ہے میں جارہا ہوں ایمرجنسی میں پریشان مت ہونا اور کال مت کرنا فون سوئچ آف ہوگا ۔” میسج پڑھ کر اسنے فون رکھا اور ان سب کو لیکر حویلی آگیا چچی سائیں اندر چلی گئی تھیں وہ دوبارہ گاڑی میں بیٹھنے لگا جب ارتشا نے ہاتھ کھینچ کر اپنی جانب کیا اور منہ میں جلیبی ڈال دی ۔” اب کہاں جارہے ہو ؟”اسنے اکتا کر منہ سے جلیبی نکالی پہلے بھی کہا تھا یہ حرکتیں مت کیا کرو اور ہاں اب میں شادی شدہ ہوں اور میرے لیے یہ رشتہ معنی رکھتا سمجھی !” اسے جھٹک کر ہاتھ چھڑایا اور گاڑی چلاتا نکل گیا. “یہ کچھ زیادہ ہی زری کی طرف نہیں ہوجاتا ایسے تو کھو دوں گی اسے میں ایسا تو نہیں ہونے دوں گی مجبور کردوں گی خود سے شادی کرنے پر میرا نام بھی ارتشا ہے!” ایک انداز سے بالوں کو پیچھے کرتی اندر چلی گئی ۔

وہاں سے آنے کے بعد اسنے سب سے پہلے کپڑے بدلے تھے چہرا تو رو رو کر دھو لیا تھا ” زری پتر آجا چھوٹے سائیں لینے آئے ہیں !” جسم کانپنے لگا تھا اگر شہریار بھائی نے انھیں سب بتا دیا ہوا تو ؟” ” زری!” دوسری آواز پر گھونگھٹ نکالتی وہ ڈرتی ڈرتی باہر آئی زیبو اسکے گلے لگی ” اپنا خیال رکھنا اور طبعیت کا بھی !” اسنے اثبات میں سر ہلایا جہاں اندر وہ سٹیرنگ میں ہاتھ رکھے افسردہ سا انتظار کررہا تھا گاڑی کھول کر اندر بیٹھی گاڑی سٹارٹ کی اور چلتے بنے ” زری کیسا گزرا دن ؟”اسنے عام سے لہجے میں کہا جس پر اسے کچھ سکون ہوا ” شکر ہے انھیں کچھ نہیں بتایا !” جج۔۔۔جی ٹھیک گزرا تھا !” اسنے آرام سے جواب دیا ۔باقی راستہ خاموشی کی نظر ہوگیا تھا کوئی بھی بات کیے بغیر وہ دونوں اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے ۔

اگلے دن وہ نیچے قالین پر اماں سائیں کے پاس بیٹھی تھی ساری روداد اسکے منہ سے دوبارہ سن چکی تھی دلبند بھی ساتھ ہی صوفے پر بیٹھا تھا گھونگھٹ کے نیچے سے آنسو ہاتھوں پر گر رہے تھے جسے دیکھ کر دلبند کو کچھ خاص اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔اماں سائیں ویسے تو بہت اچھی تھیں مگر یہاں معاملہ بیٹے اور بہو کا تھا زری کو اس بات کا ہی خوف تھا کہ کہیں وہ کچھ اور نہ کہہ دیں وڈے سائیں کا آپریشن کامیاب ہوا تھا وہ اب بلکل ٹھیک تھے وہ بھی پاس ہی بیٹھے تھے ” دلبند کچھ پتا چلا اس لڑکے !”

” ابا سائیں تلاش رہے ہیں کہتے ہیں شہر چھوڑ کر ہی چلا گیا ہے مل ہی جائے گا ۔”

” کیا حق مہر بچی کا !” وڈے سائیں بات سن کر ایک مسکراہٹ آگئی تھی چہرے پر ” وہی جو آپ نے کہا تھا !”

” کیا آرادہ ہے صلح سے طلاق دے کر کسی اچھے لڑکے سے شادی کروا دیں ۔” اسنے حیرت سے وڈے سائیں کی طرف دیکھا ” طلاق ۔۔۔۔۔” کچھ کنفیوز ہوگیا تھا ۔

” اماں سائیں نے شفقت سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا ” دیکھ پتر جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا اب تو مجھے بتا تجھے طلاق چاہیے الگ ہونا چاہتی ہے دلبند سے یا ۔۔۔” اماں سائیں کی بات پر دونوں کی دل کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی ” اماں اور ابا سائیں طلاق کا کیوں کہہ رہے ہیں مگر زری کیا چاہتی ہے؟”

” اسکے آنسووں میں تو روانی آگئی تھی کیا جواب دیتی طلاق ۔۔۔چھوڑ دوں چھوٹے سائیں کو ۔۔۔۔ہمت کر اور بول دے کہ تو عشق کرتی ہے چھوٹے سائیں سے نہیں رہ سکتی اسکے بغیر بتا دے چھوٹے سائیں کو تو ہی روزینہ ہے ۔” مگر زبان سے لفظ یہی نکلا تھا ” چھوٹے سائیں کی مرضی !” اور اٹھ کر چلی گئی اور وہ پر سوچ سے نظروں سے نیچے گھور رہا تھا ارتشا اسکے جواب کی منتظر تھی کہہ دو چاہیے طلاق کسی اور لڑکے سے شادی کروادو اسکی وڈے ابا آگئے ہیں تمہاری زمہ داری تو ختم ہوگئی نہ !٬

” دلبند بول پتر چاہیے زری سے طلاق کسی اور اچھے سے لڑکے سے شادی کروا کر زری کی رخصتی حویلی سے ہوگی ۔

اسکی آنکھوں کے سامنے کئی منظر چل رہے تھے اسکی باہوں میں گری ان دونوں کے درمیان لالٹین تانگے پر ایک ساتھ سفر اسکے غم کو بانٹے والی غمگسار ۔۔۔” نہیں چاہیے اماں سائیں مجھے قبول ہے وہ مگر صرف اسلیے کیونکہ میں اسے چاچا عرفو کے گھر سے سب کے سامنے بیاہ کر لایا تھا اب کسی شادی کروائی تو تھو تھو کریں گے سب یہیں رہے گی وہ ۔۔۔”

” تیری نام نہاد بیوی بن کر حقوق دے پاوں گے اسکے مکھڑا تو تونے دیکھا نہیں اسکا ۔۔۔” اماں سائیں نے سیدھی دل پر چوٹ کی تھی ” زری کے حقوق اسکے لیے دل میں جگہ تو روزینہ یہ کیا ہورہا ہے مجھے کیوں نہیں چھوڑ پارہا زری کو ۔” گہرا سانس لیا پھر بولا” دے لوں گا حقوق بھی جب دینے ہوں گے مگر رہی گی وہ یہی ۔۔۔۔” کہتا اٹھ کر چلا گیا تھا۔

ارتشا کے پیروں سے زمین کھسک گئی تھی ” نہیں ایسا نہیں ہوسکتا میں تمہیں کسی اور کا نہں ہونے دوں گی تم میرے ہو مجبور نہ کردیا نہ تو کہنا نکاح تو تم سے کرکے رہوں گی چاہے اسکے لیے مجھے میری عزت داو پر نہ لگانی پڑے۔”

وہ بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے گھونگھٹ اٹھائے رونے میں مصروف تھی جب دروازے پر دستک ہوئی ” کون؟”

” زری دروازہ کھول وڈی سرکار بلا رہی ہیں انھیں تجھ سے ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔” کشمیراں باہر سے چیخ رہی تھی آنسوں صاف کیے ” آرہی ہوں !” الماری میں سے بیگ نکالا اور کپڑے رکھ لیے بیگ پیک کرنے کے بعد باہر آئی اور اماں سائیں کے پاس انکے کمرے میں آگئی ۔” جی وڈی سرکار !”گھٹنوں کے بل بیٹھی سر جھکا گئی تھی انھوں نے آگے بڑھ کر اسکا گھونگھٹ اٹھایا آنسوں سے تر چہرا لال ہوا پڑا تھا ” ہائے ماں صدقے میری نو کنی سوہنڑی اے !” نو (بہو) کہلائے جانے پر اسنے حیرت سے انھیں دیکھا جب انھوں نے اسکے ہاتھ میں ایک کنگن پہنایا ” بچپن میں یہ کنگن دلبند کو بڑا پسند تھا کہتا تھا اماں سائیں میری دلہن کو یہی پہنائے گا .” اسے حیرت پر حیرت ہوتی جارہی تھی جس پر اماں سائیں مسکرا دیں ” وہ تجھے نہیں چھوڑنا چاہتا اور اسے اپنا بنانا تیرا کام ہے مجھے تو پسند ہے ۔” انکی بات پر وہ اور رونے لگی تھی ” وڈی سرکار آپکی ملازم ہوں میں اور آپ مجھے بہو بنا رہی ہیں اکلوتا بیٹا ہے آپکا یہ نہیں چاہتی اسکی گھر والی کوئی اونچی ذات برادری والی ٹھاٹھ باٹھ والی ہو میری جیسی کمی کمین تھوڑی ہوگی .”

” پتر جوڑیاں آسمانوں میں بنتی ہیں تیرا اور اسکا نصیب تھا سو بن گیا اب گلہ کرنا لڑنا جھگڑنا کہ ہائے میری بہو یہ میری نو ایسی میری نو ویسی تو خداکے فیصلے میں سوال اٹھانا ہے اور مجھے میری نو ایسی ہی چاہیے جسکا مکھڑا کسی نے نہ دیکھا کو گائے جیسی ہو سیدھی سادھی زبان تو ہو ہی نہ منہ میں اور تو بلکل ویسی ہی ہے اسلیے مجھے کوئی دقت نہ ہے ۔” انھوں نے پیار سے کہا تھا وہ اور شرمندہ ہوگئی ” جب یہ چہرا چھوٹے سائیں کے سامنے آیا تو کیا ہوگا اچھا ہوتا طلاق کے لیے ہاں کردیتے !”

ہاتھوں میں کنگن پہنے وہ کمرے سے باہر آگئی تھی جب ارتشا کی نظر اس پر پڑی ” ہوووووو! اماں سائیں نے اسے بہو مان کر کنگن بھی دے دیا میرا حق تھا یہ میں چھین کر رہوں گی ۔”