Mukhra by Bint-e-Aslam NovelR50490 Mukhra Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
Mukhra Episode 7
Mukhra by Bint-e-Aslam
۔۔” روزینہ ! اپنا نام سن کر روزینہ کی ہوائیاں اڑ گئی تھیں ” نہیں میں سسی نہیں بنوں گی مجھ سے ایکٹنگ نہیں ہوتی ۔”
” فنکاری کرنے کو کہا کس نے ہے دل سے تو بولنا ہے محسوس کرنا ہے وہ عشق کے پروانے ہمارے اندر ہیں ہم انکا عشق لوگوں کو دکھا رہے ہیں ۔”
” کسی کو اپنے اندر محسوس کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا آخری درجہ ہوتا ہے عشق کا جب ہمارے اندر بھی وہی آجاتا ہے بس جاتا ہے ہم ختم ہوجاتے ہیں اگر انکی محبت کو دیکھانا ہے نہ مسٹر ٹاپر تو پہلے پنوں کو سسی بنا پڑے گا محض ایک ناٹک کے لیے انھیں محسوس کرنا اپنے اندر لانا ناممکن ہے منہ سے لفظ نکلیں گے مگر انکی کہانی کا درد ہم اپنے ناٹک سے لوگوں تک نہیں پہنچا سکتے اسلیے میں نہیں کر سکتی ۔” کتابیں اٹھائیں اور چل دی جب وہ پیچھے سے بولا ” اور اگر پنوں پہلے ہی سسی بن چکا ہو وہ اس میں رچ بس گئی ہو اور وہ اسے بتانا چاہتا ہو کے وہ ۔۔۔وہ نہیں ہے جو وہ سوچتی ہے وہ ۔۔۔وہ ہے جو اسکے وہم و گمان میں بھی نہ ہو تو کیا سسی سنے گی چاہے کچھ کہے نہ ۔۔۔۔” وہی ہوا تھا جس کا اسے ڈر تھا اسنے حیرت سے اسے دیکھا اور نفی میں سر ہلاتی چلی گئی ” نہیں چھوٹے سائیں نہیں میں آپ کو سنو گی بھی نہیں آپکو مجھ سے دور رہنا میں سسی نہیں بنوں گی نہیں بنوں گی کبھی نہیں ۔۔۔”
” اچھا تو عشق کرنے سے پہلے پنوں کو اب سسی کو منانا بھی ہوگا .” اسنے آہ بھر کر سر ڈیسک پر جھکا لیا ۔
ساری کلاس اسے سسی بنے پر مجبور کر رہی تھی سوائے اسفندیار کے ” تمہیں سسی نہیں بنا نہ ۔۔نہ بنوں ہم دونوں مل۔کر سسی کے والدین بنتے ہیں !” روزینہ نے گھور کر اسفندیار کو دیکھا جو دانت نکال رہا تھا” افففف اسفندیار !”
“دیکھ روزینہ بن جاو نہ یار پلیز ورنہ ۔۔۔۔” شہریار کی بات ابھی ادھوری ہی تھی جب انھیں کسی کے چیخنے کی آواز آئی ” سوسائیڈ یونی والو!” ان سب نے ایک ساتھ مڑ کردیکھا دلبند سائنس بلاک کی چھت پر چڑھا ہاتھ میں کوک پکڑے ڈرامے کررہا تھا وہ جیسے ہل ڈل رہا تھا روزینہ کو ڈر تھا وہ گر نا جائے اسلیے سب ایک ساتھ وہاں پہنچے سوائے اسفندیار کے وہ ٹیک لگائے پیر جھنجھلاتا دیکھ رہا تھا ” مسٹر ٹاپر نیچے آئیں ! نام وہ اسکا لیتی نہیں تھی چھوٹا سائیں کہہ نہیں سکتی تھی اسلیے بیچ کا راستہ چنا تھا ۔” نہیں می سوسائیڈ یونی والو یہ جو روزینہ ہے نہ میری سسی بنے والی تھی اور میں پنوں لیکن یہ بڈھا اسفندیار روزینہ کو سسی نہیں پنوں کی ساس بنانا چاہتا ہے ” اسفندیار کود پڑا تھا” بڈھا اسفندیار!”
” مسٹر ٹاپر یہ کیا ڈرامہ ہے اترے نیچے کا فلمی سین لگا رکھا ۔”
” نہیں پہلے تم کہوں تم میری سسی بنوں گی ۔” کوک کی بوتل پکڑے وہ تھوڑا آگے ہوا روزینہ کی جان حلق کو آگئی تھی جب اسفندیار چیخا ” وہ نہیں بنے گی تو کود کفن میری طرف سے گفٹ پینڈو ! “
دلبند نے تیکھی نظروں سے اسے دیکھا ” بولو روزینہ بنوں گی میری سسی ورنہ میں سوسائیڈ کرلوں گا می سوسائیڈ پولیس آئنگ پولیس آئنگ بڈھا اسفندیار گوئنگ تو جیل ان جیل بڈھا اسفندیار چکی پیسنگ اینڈ پیسنگ ! وہ چکی چلانے کے انداز سے ہاتھ ہلا رہا تھا جس پر آدھی یونی ہنس رہی تھی ” کرنے والے کرتے ہیں دھمکیاں نہیں دیتے تو کود !!” اسفندیار نیچے سے چیخ رہا تھا ۔
” آج اگر پنوں نے یہاں سے گر کر خودکشی کر لی نہ تو اس یونی میں زلزلے آئیں بھوچال آئے گا سب کے دانت ٹوٹ جائیں گے وہ پوپلے ہوجائیں گے سب کو اتنے بڑے بڑے دانے نکل آئیں گے ۔” سب منہ کھولے اسکی بدعائیں سن رہے تھے ” یار وہ ہمارا مسئلہ ہے ہم دیکھ لیں گے تو کود !!! ” اسفند یار مسلسل چیخ رہا تھا ۔وہ تھوڑا سا آگے ہوا آئی ٹانگ نیچے لٹکا لی ” سنبھال کر چھوٹے سائیں! روزینہ چیخ پڑی تھی جب سب نے اسے دیکھا وہ بوکھلا گئی جب دلبند چیخا ” کیا کہا آو نہیں بھائی ! بھائی نہیں سسی بنو میری ورنہ میں سوسائیڈ ! “
” مم۔۔۔۔میں بنوں گی سسی اپنے پنوں کی سسی ! ” آخر وہ مان گئی تھی وہ خوشی سے پیچھے ہوا ” اور اسفندیار تمہارا بڈھا باپ بنے گا !” وہ پھر چیخا جب اسفند یار بھی چیخا ” نہیں تو کود !”
” میں گر جاوں گا سسی مناوں اسے !” وہ پھر آگے آیا جب روزینہ التجا کرنے جب روزینہ نے کہا ” اسفندیار پلیز ہاں کردو پلیز تم جو کہو گے میں کروں گی پلیز ! اسفندیار نے غور سے اسے دیکھا جب روزینہ کے دل سے آواز آئی ” غلطی ! مگر وہ نظر انداز کر گئی ” چل ٹھیک ہے آ نیچے !” اسفند یار نے چیخ کر کہا جب وہ کوک کی بوتل سینے سے لگائے بولا ” سسی بھی تیار بڈھا اسفندیار بھی تیار اسلیے مرنا کینسل !” بھاگتا دوڑتا نیچے آیا پوری یونی ہنس رہی تھی ہوٹنگ کر رہی تھی “یہ کیا تھا دلبند تم ایسے بھی ہو ؟”
” گاوں میں نے میری ایک دوست ہے زری اسے نہ فلمیں بہت پسند ہیں تو سوچا تھوڑا سا ڈرامہ کرکے دیکھتے ہیں زری نہ سہی ہوسکتا روزینہ مان جائے ۔” زری عرف روزینہ نے ایک گہرا سانس لیا اور نظر جھکا گئی ہیں اسفند یار ابھی بھی سر سے پیر تک روزینہ کو دیکھ رہا تھا ” کچھ بھی !” زیرلب کہتا وہ چلا گیا ۔
ڈرامے کی تیاریاں شروع ہوگئی تھیں سب کو انکے کردار دے دیے گئے تھے آخر وہ دن بھی آہی گیا جب انھیں ڈرامہ پیش کرنا تھا کہانی سن کر روزینہ کو ایسا لگ رہا تھا وہ سسی پنوں نہیں اسکی اپنی کہانی ہے اوقات !”
ڈرامہ ۔۔۔
سٹیج سج چکا تھا تمام کرسیاں بھر چکی تھیں تمام اداکار بھی تیار تھے اسفندیار سسی کا سردار باپ بنا تھا اور بعد میں حلیہ داڑھی مونچھ بڑھا کر دھوبی بھی شہریار نجومی بنا تھا سسی کی سہیلی اسی کی دوست بنی تھی آخر پردہ ہٹا اور اسفندیار ایک سردار کے روپ میں ایک بچہ ہاتھ میں لیے آیا نجومی کی طرف بڑھا ” سلام مجھے میری بیٹی کے بارے میں جاننا ہے ؟” چھوٹی سی سسی کو ہاتھ میں لیے اسکا باپ نجومی کے سامنے بیٹھا تھا نجومی نے اسکا ہاتھ پکڑا اور پیشن گوئی کی “سردار آپکی بیٹی عشق کمائے گی اور تاجر اونٹوں والے کے پیچھے بھاگے گی عشق میں پاگل ہوجائے گی ۔” سسی کے باپ کو اس بات پر بہت غصہ آیا وہ واپس آیا اور ایک فیصلہ کیا ” اس بچی کو دریا میں بہا دو !” جس پر اسکی ماں تڑپ اٹھی تھی ” یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں میری بیٹی مر جائے گی !٬
” زندہ رہی تو ہمیں زلیل کردے گی عشق کرے گی اونٹوں والے کے پیچھے بھاگے گی اسے مار دو لے جاو ! اسکی ماں تو تڑپتا چھوڑ کر سپاہی اسے لے گئے اور ڈیجٹل سکرین پر بنتی ندی میں اسے بہتا ہوا دکھا دیا گیا اتنی دیر میں اسفندیار کپڑے بدل کر دھوبی بن گیا اور پہنچ گیا جب بہتی ہوئی سسی اسے مل گئی اسنے اٹھا لی اسکی کوئی اولاد نہیں تھی اسے گھر لایا اور پیار سے نام رکھ دیا سسی اس دھوبی کے گھر سسی بڑھی ہونے لگی کہ ایک دن اسنے خواب دیکھا صحرا تھل کا صحرا اونٹ اونٹوں والے آوازیں ان میں ایک شہزادہ اسکی آنکھ کھل گئی سسی بڑی ہوتی گئی اور آخر سٹیج پر سب کے سامنے سفید بڑی بڑی چوڑیاں پورے بازووں پر پہنے سفید لہنگا کرتی پہنے دوپٹہ ماتھے پر ٹکائے جوان سسی سب کے سامنے تھی جسے دیکھ کر پنوں سٹیج کے پیچھے دل ہار بیٹھا تھا وہ ہنستی مسکراتی خوش ہورہی تھی ۔” سسی تجھے کیا لگتا ہے تیرے گھر والا کیسا ہوگا ۔”
” میرا وہ نہ بہت سندر ہوگا کوئی آیسا ہو جو دیش بدیش گھومتا ہو ۔۔۔”
” سسی تو کیا تاجر اونٹوں والے سے شادی کرے گی ۔”
” پتا نہیں بچپن سے ایک ہی خواب دکھتا ہے ریگستان اونٹ اور اونٹوں والے ۔۔۔
منظر بدلا ایک بازار سجا ہوا دکھایا گیا جہاں بہت سارے لوگ خریداری کر رہے تھے جب سسی کی نظر ایک شخص پر پڑی اور پلٹنا بھول گئی سفید شلوار قمیض سر پر بھاری پگ باندھے پنوں بلوچ وقت اس کے لیے جیسے تھم سا گیا ہر منظر دھندلا ہوگیا رہ گیا تو صحرا آوازیں اونٹوں کی چاپ اور شہزادہ وہ بے ساختہ ایک دوسرے کی طرف چلنے لگے شرماتی اسے دیکھ رہی تھی ” میرا نام پنوں ہے ہم یہاں تجارت کے لیے آئیں ہیں وہاں تھل کے ریگستان میں خیمے اور اونٹ ہیں ہمارے ۔۔” سسی پر اشتیاق نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ” اب سمجھ آیا چھوٹے سائیں جب عشق ہوتا ہے کیوں انسان اپنا آپ بھول جاتا ہے کیونکہ وہ توکہیں پہلے اسکے اندر موجود ہوتا ہے جیسے رسول حضرت محمد کہیں پہلے نور کی صورت موجود تھے خدا کے پاس اور پھر وہ مادی جسم لیکر اس دنیا میں آگے عشق جسم لیکر آگیا دنیا کو آپ کی آمد کا پتا چل گیا اور جب وہ آئے تو پہچانے گئے جو رسول کی اطاعت کرلیتا ہے اسے پھر اپنا آپ بھی یاد نہیں رہتا میری اوقات بھی بچپن سے مجھے دلا دی جاتی رہی ہے کہ آپ کے پیر کی خاک ہوں ماتھے کا سہرا کبھی نہیں بن سکتی ۔”
چاہت بڑھنےلگی تو ملاقاتیں بڑھنے لگی سسی تھل کے ریگستان میں اونٹوں والوں سے ملنے جانے لگی ” سسی ناجانے کیوں مجھے ایسا لگتا ہے ہم پہلے سے ایک دوسرے کے ساتھ میں نے بھی ایک خواب دیکھا تھا یہی ریگستان میں سفر کرتے اسی لباس آیک لڑکی نظر آئی تھی مجھے بھی کہیں وہ تو ہی تو نہیں ؟”سسی کا ہاتھ تھامے بڑی محبت سے اس سے پوچھ رہا تھا ۔
” ہمارا ساتھ تو تب سے جڑا ہے جب ہم لوگ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے کتنے رشتے آتے تھے میرے مگر دل کو کوئی اچھا ہی لگتا تھا اونٹ کھینچتے تھے اپنی طرف تو مجھ محبت کرتا ہے نہ پنوں مجھے چھوڑ کر تو نہیں جائے گا ؟”
” نہیں تو میرا عشق تجھے کبھی چھوڑ کر نہیں جاوں گا میرے ساتھ جائے گی میری حویلی میں راج کرے گی ۔” دلبند کی آنکھوں میں سچائی تھی کس کردار وہ تو سسی سے کہہ رہا تھا زری سے تو نہیں کتنے خوبصورت تھے یہ لمحے اسکا ہاتھ پکڑے اسکے برابر چھوٹے سائیں بیٹھے تھے سسی پنوں کے کردار اپنائے آخر دل تھا معصوم خواہشیں تو کرتا ہے اسنے بے ساختہ سر اسکے کندھے پر ٹکا کر آنکھیں بند کرلیں ۔
ہنستی مسکراتی سسی گھر واپس آئی جہاں اسکا دھوبی باپ اسفندیار بیٹھا تھا ” سسی تو اونٹوں والوں سے ملنے کیوں جاتی ہے ؟”
” ابا وہاں کا ایک تاجر ایک پنوں بلوچ مجھے بڑا اچھا لگتا ہے ۔” اپنے باپ کی لاڈلی تھی ” پتر پردیسوں سے دل نہیں لگاتے یہ چھوڑ جاتے ہیں اور ویسے بھی کہاں ہم دھوبی اور کہاں وہ تاجر امیر سردار ہماری اوقات نہیں ۔”
اوقات اوقات یہ لفظ ہر عشق میں کیوں ہے عشق تو اوقات نہیں دیکھتا خدا اوقات نہیں دیکھتا تو دنیا کیوں دیکھتی ہے کیا دنیا کو نہیں پتا اسکی اوقات مکڑی کے جالے جتنی ایک انگلی اور سب ختم پھر بھی ہر کسی کو ادھورا کرنا ہے اس اوقات لفظ نے چاہے سسی پنوں ہویا زری دلبند ! ” یہ اسنے دل میں سوچا تھا ڈئیلاگ تو یہ تھا ” ابا وہ بہت اچھا ہے وہ مجھے کبھی نہیں چھوڑے گا ۔
” کیا کہا پنوں نے آنے سے انکار کردیا ۔” ایک تاجر نے پنوں کے باپ سردار کو سب بتا دیا تھا کہ وہاں کام ختم ہوگیا ہے لیکن شہزادے نے آنے سے انکار کردیا ہے ۔”
” وجہ کیا ہے کیا چیز پسند آ گئی ہے اسے وہاں ؟” وہ کافی غصے میں تھے ” سردار ایک لڑکی ہے سسی دھوبیوں کی بیٹی ہے وہ چھوٹے سردار کے آگے پیچھے پھرتی ہے اسی کے لیے آنے سے منع کردیا ۔”
” کیا دھوبیوں کی بیٹی کی اتنی اوقات میرے بیٹے سے عشق لڑانے چلی ہے پنوں کو زبردستی لے آو اور اس لڑکی کو وہیں مرنے کے لیے چھوڑ آو ریگستان میں جب تپتی جلتی دھوپ پیروں میں جلے گی ہوش ٹھکانے آجائیں گے ۔”
حکم جاری ہوتے ہی کام شروع ہوگیا تھا ۔
” پنوں میں نے ابا سے بات کی ہے وہ کہتے پردیسی چھوڑ جاتے ہیں تو نہیں جائے گا نہ ورنہ یہی مر جاوں گی میں زندہ نہیں رہ پاوں گی ۔۔”
” تو کیوں ڈرتی ہے میں تجھے کبھی نہیں چھوڑو گا ہم ہمیشہ ساتھ رہیں گے ۔” محبت کی باتیں کرتے رات سسی وہیں اسکے ساتھ صحرا میں ہی سو گئی تھی آدھی رات کے قریب چند لوگ آئے پنوں کے ہاتھ پیر باندھے منہ باندھا اور اسے لے گئے خیمے اٹھائے اونٹ لیے اور بھاگ گئے ۔صبح سسی کی آنکھ کھلی تو تاحد نگاہ ریت ہی ریت تھی جان لیوا تھل کی ریت وہ اکیلی تھی پیچھے ڈیجٹل سکرین پر صحرا دکھایا جارہا تھا دلبند اپنا کردار ادا کرکے سٹیج کے پیچھے کھڑا تھا اور سٹیج پر اکیلی سسی جو صدا لگا رہی تھی تمام لوگ کہانی میں کھو سے چکے تھے جیسے کے آپ میرے پڑھنے والے وہ روتی پیٹتی صدا لگا رہی تھی پنوں ! پنوں ! مگر کوئی نہیں جانتا تھا سسی کی آنکھ سے بہنے والے آنسوں اصلی زری کے تھے جو دل میں صدا لگا رہی تھی ” چھوٹے سائیں! چھوٹے سائیں! وہ ایکٹنگ نہیں تھی سچ تھا اسکا درد ڈر تھا جو سٹیج پر بکھر رہا تھا شائقین کی آنکھیں اشکبار کر گیا تھا ریت کا طوفان تھا وہ ادھر ادھر اسے تلاش کر رہی تھی پنوں ! پنوں تو کہاں چلا گیا .”
ایک بوڑھا آدمی اسکے پاس آیا ” بیٹی تو اس ریگستان میں کسی ڈھونڈ رہی ہے۔”
نہیں” یہاں پر بلوچ تاجر تھے میرا پنوں تھا کہاں چلا گیا رات کو سونے سے پہلے تک میرے ساتھ تھا ۔” اس بوڑھے نے اسے حیرت سے دیکھا ” تو اس سے عشق کرتی ہے جس کی آنکھ عشق میں لگ گئی ہو وہ تو آنکھ موند کر نہیں سوتے کون جانے رات کے کس پہر کیا ہوجائے عشق والے نہیں سوتے عشق میں تو سب سے پہلے نیند ہی جاتی اور تو سو گئی ۔” اس بزرگ کی بات سن کر وہ شرمندہ ہوگئی ” کیوں سوئی میں !” وہ اس ریت کے ایک ایک زرے سے پوچھنے لگی ” میرے پنوں کو کون لے گیا ؟ مگر جواب ندارد وہ ریگستان میں اونٹوں والوں کو ڈھونڈتے پوچھتی بھاگنے لگی اسکے والدین اسے لینے بھی آئے ” نہیں ابا میں نے جاوں اس ریت میں میری پنوں کی یادیں وہ واپس آیا اور میں نہ ہوئی تو میں نہیں جاوں اسی ریگستان میں مر جاوں گی .” یہ خبر ہر طرف پھیل گئی تھی کہ تھل کہ ایک ریگستان میں ایک لڑکی اونٹوں والے کے پیچھے بھاگتی ہے ہر آتے جاتے سے کہتی ہے اسکا عشق ہے ان میں مگر ڈھونڈ نہیں پاتی یہ خبر اسکے سردار والد کو بھی مل۔گئی تھی کہ آخر نجومی کی بات سچ ہوگئی راز کھل گیا کہ وہ ایک امیر خاندان کی بیٹی مگر وہ وہیں ریت میں اپنے پنوں کے نقش تلاشتی کمزور ہوتی جاتی ہے ” پنوں تو تو کہتا تھا تو کبھی نہیں جائے گا تو کہاں چلا گیا صدا لگاتی روتی آخر سسی وہیں سٹیج پر گر گئی ریت اسکے پر اکٹھی ہونے لگی ” پنوں یہی تیرا تھل کے ریگستان میں انتظار کروں گی ۔۔۔۔” آخر سانس بند ہوئی تو سسی پنوں کی کہانی تمام ہوگئی ۔” ڈرامہ ختم ہوگیا تھا پردہ گر گیا ” مجھے چھوڑ کر مت جاو پنوں مت جاو ! روتی وہ آنکھیں بند کرتی جارہی تھی ۔کچھ لمحے گزرے لوگوں کی تالیوں کی آواز آرہی تھی جب شہریار نے دلبند سے کہا ” دلبند ڈرامہ ختم ہوگیا مگر یہ روزینہ اٹھ کیوں نہیں رہی ؟” وہ سٹیج پر گری روزینہ کو دیکھ رہے تھے بھاگ کر اسکی جانب گئے دلبند نے اسے کندھے سے ہاتھ لگایا مگر وہ نہیں اٹھی وہ نیچے بیٹھا اسکا سر گود میں رکھا ” روزینہ ! روزینہ ! اسکی گال کو تھپتھپا رہا تھا مگر اسے نہ ہوش میں آنا تھا نہ آئی بے ساختہ اسے باہوں میں اٹھایا اور بیک سٹیج لے آیا لیٹا کر پانی کے چھینٹے اسکے منہ پر مارے گئے ۔اسفندیار شہریار اور دلبند دور کھڑے تھے اسکے گرد بس لڑکیاں ہی تھیں آخر اسے ہوش آگیا ” تم ٹھیک ہو روزینہ تمہیں کیا ہوگیا تھا بے ہوش کیسے ہوگئی ؟” اسنے پرنم آنکھوں سے دلبند کو دیکھا ” سسی نے پنوں کو کھو دیا ہمیشہ کےلیے ۔
