Jaan e Aada By Laiba Nasir Readelle50113 Last Part
No Download Link
Rate this Novel
Last Part
آخری قسط
۔
شہر کی سڑکیں رات کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھیں، جہاں گاڑیوں کی روشنیاں اور ہارن کی آوازیں ایک عجیب سی ہلچل پیدا کر رہی تھیں۔ نوح کی گاڑی تیز رفتاری سے ہسپتال کی جانب بڑھ رہی تھی، اس کی ہر موڑ پر ٹائروں کی چیختی آواز رات کی خاموشی کو چیر رہی تھی۔ نوح ڈرائیو کر رہا تھا۔۔ اس کے ہاتھ اسٹیرنگ پر مضبوطی سے بندھے ہوئے تھے، جیسے وہ اس لمحے کے بوجھ کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہو۔۔
دارم خاموشی سے اگلی سیٹ پر بیٹھا تھا، اس کی آنکھیں سرخ تھیں، آنکھوں کے کنارے نم ہو رہے تھے۔۔ وہ مر نہیں سکتی تھی۔۔ وہ تو اسے سفیان کے ساتھ خوش دیکھ کر بھی خوش تھا۔۔ مگر اسکی تکلیف۔۔ اسکے آنسوں۔۔ اسکی گریہ و زاری۔۔ دارم اصفہان کا دل چیر رہی تھی۔۔ اس کی نظریں پچھلی سیٹ پر جمی تھیں، جہاں صفیان امل کو اپنی بانہوں میں اٹھائے بیٹھا تھا۔ امل بے ہوش تھی، اس کا چہرہ سفید پڑ گیا تھا، اس کے ناک سے خون اب بھی گر رہا تھا۔۔۔ دارم کی نظریں اس کے وجود سے ہٹتی نہ تھیں۔۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، اس کا دل ایک ایسی اذیت میں مبتلا تھا جو اس کی محبت اور بے بسی کو عیاں کر رہی تھی۔۔
صفیان پچھلی سیٹ پر امل کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھا، وہ مسلسل اسے پکار رہا تھا۔۔
“امل مجھے دیکھیں پلیز۔۔ پلیز مجھے دیکھیں نا”_
اس کی آواز میں ایک التجا سی تھی۔۔ وہ کبھی امل کے چہرے پر پڑے بالوں کو نرمی سے ہٹاتا۔۔ کبھی انگلیاں اس کے سرد چہرے پر پھیرتا اسے پکار رہا تھا۔۔ جیسے وہ اسے اپنی محبت سے واپس بلا رہا ہو۔ اس کی آنکھیں بھیگ گئیں تھیں۔۔ جیسے وہ امل کے درد کو اپنے دل میں سمیٹ رہا ہو۔۔
ازورا امل کی دوسری جانب بیٹھی ہوئی تھی۔۔ اسکی آنکھوں سے مسلسل بہ رہے تھے۔۔ وہ اسکی واحد دوست۔۔ اسکی بہن۔۔ اسکی ہمراز سب تھی۔۔ امل شہباز نے کبھی اسے بہن کی دوست کی کمی محسوس ہونے نہیں دی تھی۔۔ اسکا شہباز سے جو بھی رشتہ تھا۔۔ لیکن اسکی تو وہ بہنوں جیسی دوست تھی۔۔ جس نے راتیں جاگ کر اسکے پہلو میں گزاری تھیں تاکہ وہ خوفزدہ نا ہو جائے۔۔
“نوح۔۔ پلیز جلدی کریں۔۔اسے جلدی ہسپتال پہنچائیں”
وہ بری طرح روتی ہوئی بول رہی تھی۔۔ امل کو کچھ ہوتا تو اسکا دار۔۔ دارم۔۔ دارم اصفہان کا کیا ہوتا۔۔
نوح نے ایک گہری سانس لی، اس کی نظریں سڑک پر جمی تھیں۔
اس نے گاڑی کی رفتار مزید بڑھا دی، اس کے ہاتھ اسٹیرنگ پر مضبوطی سے بندھے ہوئے تھے، جیسے وہ وقت سے لڑ رہا ہو۔
دارم کی نظریں اب بھی امل پر جمی تھیں۔ وہ یک ٹک اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا جسے اس نے اپنی ہر سانس کے ساتھ چاہا تھا، جس کی ہر مسکراہٹ اس کے دل کی نقش تھی۔۔ وہ کس طرح مسکراتی تھی۔۔ اسے کیا بات دکھ دیتی تھی۔۔ دارم اصفہان اسکی ہر ادا۔۔ ہر انداز جانتا تھا۔۔
لیکن اب وہ اسے اس حالت میں دیکھ رہا تھا—بے ہوش، بےسدھ۔۔
وہ اسے چھونے کا حق بھی نہیں رکھتا تھا۔۔ وہ اسے تھام نہیں سکتا تھا۔۔
اسے ایمرجنسی میں لے کر گئے تھے۔۔ اندر ڈاکٹرز موجود تھے۔۔ اوہ سب باہر کھڑے تھے۔۔ نوح نے دارم کی جانب دیکھا۔۔ وہ اپنے ہوش میں نہیں تھا۔۔ وہ وہیں شیشے کی دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔۔ اسکی جذباتی حالت کے پیش نظر ڈاکٹر نے اسے اندر آنے نہیں دیا تھا۔۔
نوح کی نظریں سفیان پر تھیں۔۔ اسکی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں لیکن وہ بلکل خاموش تھا۔۔ اسکے تاثرات سے نوح کو اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا کے اسے دارم کی وارفتگی ناگوار گزر رہی تھی۔۔ اندر اسکی بیوی موجود تھی۔۔ جو زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی تھی۔۔ اس وقت اسے صرف اپنی بیوی کی فکر تھی۔۔
۔
“دارم۔۔ بیٹھ جاؤ یہاں۔۔ وہ ٹھیک ہو جائیگی”_
نوح نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے بیٹھانا چاہا۔۔
“مجھے اندر جانے نہیں دے رہے “_
وہ بےبسی سے بولا تھا۔۔ نوح کو اس پر ترس آیا۔۔ یہ دوسری بار تھا جب اس نے دارم اصفہان کو یوں ٹوٹے بکھری حالت میں دیکھا تھا۔۔ اس روز اسکے اپارٹمنٹ میں۔۔ اور آج۔۔ اور دونوں ہی دفعہ وجہ امل شہباز ہی تھی۔۔ اگر اس روز وہ دارم کے اپارٹمنٹ میں وہ خطوط۔۔ وہ گفٹس نا دیکھ لیتا تو شاید آج وہ اسے جذبات کا نام دے دیتا۔۔ لیکن نوح ارسلان جانتا تھا، اس لڑکی کا وجود دارم اصفہان کے لئے آکسیجن کا کام کرتا تھا۔۔
“تم تمم نے نہیں دیکھا۔۔ کتنا خون۔۔ کتنا خون بہ رہا تھا”_
اسکی آواز بھیگ رہی تھی۔۔
سینئر ڈاکٹر باہر آئیں تو وہ انکی جانب بڑھے۔۔
ہم نے اس کا CT اسکین کیا… اور… اور یہ نروس بریک ڈاؤن سے کہیں زیادہ سنگین ہے… اس کی دماغ کی رگ پھٹ گئی ہے۔۔
“یہ ایک Intracranial Hemorrhage ہے۔۔۔ ہمیں فوراً اسے آپریشن تھیٹر لے جانا ہوگا۔۔ انکے ساتھ کون ہے ؟”
دارم کا چہرہ زرد پڑ گیا، اس کی آنکھیں پھیل گئیں، اور اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔
“میں۔۔ میں ساتھ آؤنگا”_
اس نے ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر کہا تھا۔۔ امل کے ساتھ اور کون ہو سکتا تھا۔۔ اسکے ساتھ ہمیشہ سے وہی تھا۔۔ دارم اصفہان تھا۔۔۔
” میں_ میں اسے اکیلا نہیں چھوڑوں گا!” اس نے اندر کی جانب بڑھنے کی کوشش کی، لیکن نرس نے اسے روک لیا۔۔
“آپ مجھے جانے دیں پلیز۔۔ میں ڈاکٹر ہوں!”
وہ ہوش میں نہیں تھا۔۔ اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔۔
“آپ کا انکے ساتھ کیا رشتہ ہے ڈاکٹر دارم۔۔ ہمیں انکے سربراہ کے سگنیچر چاہئے۔۔ پری آپریٹو کونسنٹ فارم میں_ ڈاکٹر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا، ان کے انداز میں نرمی تھی جو ان کی ہمدردی کو عیاں کر رہی تھی۔۔ انکے سوال نے بہت بیدردی سے دارم اصفہان کو حقیقت کی دنیا میں لا پٹخا تھا۔۔ کیا رشتہ تھا اسکا آخر اس لڑکی سے۔۔ “مجھے صرف اپنا نام دے دیں دارم “
اسکی سماعت میں اسکی بےبس آواز گونجی۔۔ وہ روتی رہی تھی۔۔ بلکتی رہی تھی۔۔ دارم اصفہان کے خوف نے اسے اپنانے نہیں دیا تھا۔۔
۔
“میں ہسبنڈ ہوں امل کا۔۔ آئی ایم ہر گارجن “_
اس نے سفیان کی آواز سنی۔۔ وہ شخص جس نے اسے نام دیا تھا۔۔ اسے اپنایا تھا۔۔ اسے اپنی سربراہی میں لیا تھا۔۔ حقیقت بہت تلخ تھی۔۔ لیکن حقیقت یہی تھی۔۔
امل شہباز جو دارم اصفہان کے دل۔۔ اسکی روح میں بستی اس پر دارم اصفہان کوئی حق ہی نہیں رکھتا تھا۔۔ اس حق سے وہ خود دستبردار ہوا تھا۔۔
“دارم میں مر جاؤنگی “__
کتنی بےبسی سے روئی تھی وہ اس روز۔۔ کتنی تڑپ سے اسکے پاسس آئی تھی۔۔ اور اس نے کیا کیا تھا۔۔ اسے دھتکار دیا تھا۔۔ اس محبت زادی کو۔۔ آج محبت اس سے روٹھ گئی تھی۔۔ امل شہباز مر رہی تھی۔۔ اور اسے لگ رہا تھا اسکے جسم سے کوئی روح کھینچ رہا ہو۔۔
اس نے دیکھا سفیان سائن کر رہا تھا۔۔ اس فارم پر۔۔ دارم اصفہان کے موت کے پروانے پر۔۔۔
چند لمحوں کے بعد وہ انکے سامنے سے سٹریچر پر گزری تھی۔۔ اسکی آنکھیں بند تھیں۔۔ لب نیلے پڑ گئے تھے۔۔ خون صاف کر دیا گیا تھا۔۔ بے جان سا وجود انکی نظروں کے سامنے سے گزر گیا تھا۔۔ سفیان تیزی سے اُسکے قریب گیا۔۔ دعائیں پڑھ کر اس پر حصار کیا۔۔ اسکے بالوں میں شدّت سے لب رکھے۔۔ یہ وہ لڑکی تھی جسکی خاموشی۔۔ جسکی معصومیت نے پہلی نظر میں اسے اپنا اسیر کر لیا تھا۔۔
دارم خالی نظروں سے انہیں دیکھ رہا تھا۔۔ ازاورا اسے یوں دیکھتی تڑپ کر اسکے پاسس آئی تھی۔۔
“دار۔۔ وہ ٹھیک ہو جائے گی دار “_
اسکے شانے پر ہاتھ رکھتی وہ روتی ہوئی بولی تھی۔۔ اس نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔
“اسے کہو ٹھیک ہو جائے ازو۔۔ اسے کہو میں بسس اسے ٹھیک دیکھنا چاہتا تھا۔۔ اسے بتاؤ۔۔ اسے بتاؤ ازو بےانتہا محبت کے باوجود بھی میں نے اسے اس لئے نہیں اپنایا کیوں کے میں اسے نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔۔ اسے کہو ازو یہ مجھے بہت پیاری ہے۔۔ اسے بتاؤ نا یہ مجھے جان سے پیاری ہے “_ وہ اپنے آپ میں کہتا بیٹھتا چلا گیا۔۔ جس محبت کا اطراف وہ خود سے بھی کرنے سے ڈرتا تھا وہ آج دنیا کے سامنے کر رہا تھا۔۔ “اسے کہو یہ مجھے جان سے زیادہ پیاری ہے”_
“اسے کہو میری بےاعتنائی کی سزا میں چاہے میری جان لے لے۔۔ پر اٹھ جائے”_
دارم اصفہان بری طرح بلکتا بچوں کی طرح ضد کر رہا تھا۔۔ لیکن آج وہاں میں قربان کہنے کے لئے اسکی جهلی نہیں تھی۔۔
سفیان آنکھوں میں آنسوں کے ساتھ بےیقینی لئے اسے تک رہا تھا۔۔ یہ کیسا انکشاف تھا اور کس وقت ہوا تھا۔۔ اپنی بیوی کے لئے کسی اور مرد کو یوں تڑپتا دیکھنا اسکے ضبط کا امتحان تھا۔۔ امل کے آنسوں۔۔ شادی کے دن اسکا بخار۔۔ اسکی خالی آنکھیں۔۔ اسکا دعا نا مانگنا۔۔ اسکا اسے روتے ہوئے یقین دلانا کے نکاح کے ساتھ اس نے خود کو اپنے دل کو اسکے نام کر دیا تھا۔۔ ساری گھتیاں سلجھتی جا رہی تھیں۔۔
آدھی رات سے زیادہ گزر گئی تھی۔۔ جب ڈاکٹرز باہر آئیں تھے۔۔
ڈاکٹرز نے کہا تھا کہ وہ لوگ کافی لیٹ ہوگٸے تھے لیکن وہ اپنی طرف سے امل کا علاج کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔۔ سرجری ہو چکی تھی لیکن انہوں نے انہیں کوئی امید نہیں دلائی تھی یا شاید کوئی امید بچی ہی نہیں تھی۔۔
انہوں نے کہا تھا اسکی دماغ کی رگ پھٹی ہے۔۔ وہ اگر بچ بھی گئی تو نوے فیصد چانسز تھے وہ قومے میں رہے گی۔۔
۔
”اسے پلیز کچھ نہيں ہونا چاہیۓ۔۔“
نوح نے اپنے سامنے براجمان ڈاکٹر سے کہا تھا۔۔ اسکی نظریں سامنے بیٹھے تین نفوس پر تھی۔۔ ازورا جو آنکھیں بند کے کچھ پڑھ رہی تھی۔۔ اسکی آنکھوں سے لگاتار آنسوں گر رہے تھے۔۔ سفیان جو نماز پڑھ رہا تھا۔۔ اور دارم۔۔ جو ڈرے سہمے بچے کی مانند انکی جانب دیکھ رہا تھا۔۔ہر شخص شدید صدمے کے زیر اثر تھا۔
امل کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں رکھا تھا۔ اسے آکسیجن لگی ہوٸی تھی۔۔ ان میں سے کسی ایک کو اندر جانے کی اجازت دی تھی۔۔
نوح نے ایک نظر دارم کی جانب دیکھا۔۔ اگلی نگاہ سفیان کی جانب کی۔۔ اسکا امل سے شرعی رشتہ تھا۔۔ وہ بیوی تھی اسکی۔۔ یقیناً اس نے محبت سے رکھا تھا امل کو اسکے حالت سے ظاہر تھا۔۔اب کی بار دارم خود بھی آگے نہیں بڑھا تھا۔۔ سفیان اندر کی جانب بڑھ گیا تھا اور دارم حسرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔۔
نوح خاموشی سے دارم کے بلکل پاس آ کر بیٹھ گیا تھا۔۔ اس نے دیکھا رات بھر جاگنے کی وجہ سے اسکی آنکهوں میں گلابی پن ابھر آیا تھا۔۔
۔
“تمہیں اس سے شادی کر لینی چاہئے تھی دارم”_
اسکی آنکھوں میں لکھی حسرت بھری تحریر نوح پڑھ سکتا تھا۔۔ وہ پڑھ رہا تھا۔۔
“میں اسے بچانا چاہتا تھا”_
وہ خلاء میں دیکھتے ہوئے بولا۔۔ اسکی آواز میں ایک خالی پن تھا جیسے اسکا کچھ بچا نا ہو۔۔
“کس سے۔۔ اپنی محبت سے ؟
نوح نے سوال کیا۔۔
“وہ دیوانی تھی میری۔۔ جھلی۔۔ بلکل جهلی”_
اسکے ذکر پر اسکے لبوں پر غیر محسوس سی مسکان بکھر گئی۔۔
“محبت تو تم بھی کرتے ہو اس سے دارم۔۔ یا محبت سے کچھ بہت زیادہ”_
دارم ایک سرد آہ بھر کر رہ گیا تھا۔۔ وہ میری سانسوں میں بستی ہیں نوح۔۔ اللّه گواہ ہے میں نے ہر رات انکی خوشیوں کی دعائیں کیں ہیں۔۔
۔
“میں۔۔ میں تو بس انہیں بچانا چاہتا تھا کے شہباز کی نفرت میں انکے ساتھ زیادتی نا کر جاؤں۔۔ انہیں کوئی نقصان نا پہنچا دوں”_
وہ بے بسی سے بولا تھا۔۔
۔
“تمہیں تو یہ حق تھا ہی نہیں دارم اصفہان۔۔ یہ حق کس نے دیا تھا تمہیں کے تم یہ فیصلہ کر لیتے۔۔ اللّه بھی کسی اور کے کئے کا بوجھ کسی دوسرے پر نہیں ڈالتا۔۔ نا باپ کا کیا بیٹی پر۔۔ نا اولاد کے کئے کا گناہ والدین کو۔۔ تم نے کیسے ڈال دیا دارم۔۔ تم نے قرآن پڑھا ہے نا دارم ۔۔ اللّه کہتا ہے نا۔۔
قُلۡ اَغَیۡرَ اللّٰہِ اَبۡغِیۡ رَبًّا وَّ ہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ وَ لَا تَکۡسِبُ کُلُّ نَفۡسٍ اِلَّا عَلَیۡہَا ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ۚ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ مَّرۡجِعُکُمۡ فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۶۴﴾
“آپ فرما دیجئے کہ کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو رب بنانے کے لئے تلاش کروں حالانکہ وہ مالک ہے ہرچیز کا اور جو شخص بھی کوئی عمل کرتا ہے اور وہ اسی پر رہتا ہے اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا پھر تم کو اپنے رب کے پاس جانا ہوگا ، پھر تم کو جتلا ئے گا جس جس چیز میں تم اختلاف کرتے تھے ۔ “
: (سورة الأنعام – آیت نمبر ۱۶۴)
۔
دارم کا وجود تھم سا گیا۔۔ اس نے پڑھی تھی یہ آیت۔۔ وہ روز قرآن پڑھتا تھا۔۔ نوح اب بھی کچھ کہ رہا تھا۔۔
۔
” یعنی کائنات کی ساری چیزوں کا رب تو اللہ ہے ، میرا رب کوئی اور کیسے ہو سکتا ہے ؟ کس طرح یہ بات معقول ہو سکتی ہے کہ ساری کائنات تو اللہ کی اطاعت کے نظام پر چل رہی ہو ، اور کائنات کا ایک جزء ہونے کی حیثیت سے میرا اپنا وجود بھی اسی نظام پر عامل ہو ، مگر میں اپنی شعوری و اختیاری زندگی کے لیے کوئی اور رب تلاش کروں ؟ کیا پوری کائنات کے خلاف میں اکیلا ایک دوسرے رخ پر چل پڑوں ؟
” یعنی ہر شخص خود ہی اپنے عمل کا ذمہ دار ہے ، ایک کے عمل کی ذمہ داری دوسرے پر نہیں ہے ۔”
۔
دارم کو لگا وہ اگلی سانس نہیں لے سکے گا۔۔ نوح اب بھی بول رہا تھا۔۔
۔
جب اللہ نے واضح کر دیا کہ کوئی شخص دوسرے کے اعمال کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور ہر نفس اپنے کیے کے لیے خود ذمہ دار ہے، تو پھر ہم انسان کون ہوتے ہیں کہ کسی کے عمل کی سزا یا ذمہ داری دوسرے پر ۔۔ باپ کے عمل کی سزا بیٹی کو یا کسی اور رشتہ دار کو دی جائے ، جو کہ اللہ کے عدل کے اصول کے خلاف ہے۔ یہ انسانی کمزوری، عجلت یا معاشرتی رواجات کا نتیجہ ہے کہ لوگ ایک شخص کے عمل کی وجہ سے دوسرے کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ یہ آیت ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ ہمیں اپنے رویوں کو درست کرنا چاہیے اور کسی کو اس کے خاندان یا رشتہ داروں کے اعمال کی سزا نہیں دینی چاہیے، کیونکہ اللہ کے ہاں ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے اور وہی اس کا بدلہ دے گا”__
۔
دارم کی آنکھیں خالی ہو رہی تھیں۔۔ یہ فیصلہ تو واقعی اسکے لئے تھا ہی نہیں۔۔ یہ تو کسی کے لئے بھی نہیں تھا۔۔ اسکا اختیار تو اللّه کے پاسس تھا۔۔
چند لمحوں کے بعد سفیان باہر آ گیا تھا۔۔ نوح نے اجازت طلب نظروں سے سفیان کی جانب دیکھا۔۔ وہ تو خود امل کو اس حالت میں دیکھ ٹوٹ سا گیا تھا۔۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
نوح کے اشارہ کرنے پر وہ اندر داخل ہوا۔۔
اسے اس طرح بستر پر بےجان لیٹے دیکھ کر اسکا دل پھٹ رہا تھا۔۔۔ ڈاکٹر ناجانے کن کن ٹیسٹوں کیلیۓ اسکی رگوں سے خون نکال رہے تھے۔۔ وہ پوری طرح مشینوں میں جکڑی ہوئی آکسیجن ماسک کے ذریعے سانس لے رہی تھی۔۔ اسکی آنکھیں بند تھیں۔۔
وہ آگے بڑھ کر اسے چھونا چاہتا تھا۔۔ اسکی آنکھوں کو۔۔ اسکا ہاتھ تھامنا چاہتا تھا۔۔ اسے بتانا چاہتا تھا کے اس سے کتنی محبت کرتا ہے۔۔ اسے وہ سب دکھانا چاہتا تھا۔۔ وہ تمام خطوط۔۔ وہ تحائف۔۔ اسکےگجرے ۔۔۔ اسکے لئے لی گئی ساڑھی۔۔ اسے بتانا چاہتا تھا وہ اسکی رگوں میں خون کی مانند دوڑتی ہے۔۔
وہ خود ڈاکٹر تھا۔۔ اسکی حالت جو اسے بتا رہی تھی وہ یقین نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔
“امل۔۔۔
اسکے لبوں سے سرگوشی کی مانند الفاظ نکلے۔۔
“امل بسس ایک بار۔۔ ایک بار آنکھیں کھول کر مجھے دیکھ لیں۔۔ بسس ایک بار۔۔ آپ جو جیسے کہیں گی دارم کرے گا “_
وہ التجاء کر رہا تھا۔۔ اسے بلا رہا تھا۔۔ لیکن اسکی آواز پر سننے والی گہری نیند سو رہی تھی۔۔
“دل توڑا آپ کا۔۔ ہماری محبت۔۔ ہماری محبت دھتکاری۔۔ معافی نہیں مل سکتی ؟ معاف کر دیں نا امل”_
وہ اب رو رہا تھا۔۔ بری طرح رو رہا تھا۔۔ سسک رہا تھا۔۔
امل کی آنکھ سے ایک آنسوں نکل کر اسکے ہاتھ پر گرا تھا۔۔ دارم نے سر اٹھا کر اسکی جانب دیکھا۔۔ اسکی بند آنکھوں سے واقعی آنسوں گر رہے تھے۔۔ اس نے ساتھ رکھے مانیٹر کی جانب دیکھا جو سیدھی لکیر دکھا رہا تھا۔۔ اس پر زندگی کی کوئی رمق باقی نہیں تھی۔۔
دارم کو لگا ہسپتال کی چھت اسکے سر پر آ گری ہو۔۔ وہ بےیقین سا اسکا بےجان وجود دیکھ رہا تھا۔۔ کبھی کبھی ہماری تمام دعائيں جیسے آسمان تک پہنچ ہی نہيں پاتیں_ امیدیں جیسے ٹوٹ جاتی ہیں۔۔
وہی ہوا تھا جس سے ہر شخص ڈر رہا تھا۔۔ وہ چلی گئی تھی ہمیشہ کیلیۓ_ کبھی نا واپس آنے کیلیۓ۔۔ دارم اصفہان تھا اسکے پاسس جب اسکی روح نے پرواز کیا تھا_ ۔ “امل۔۔ امل اٹھو۔۔ تم یہ نہیں کرسکتی ۔۔ مم میں اسے اس طرح جانے ننہیں دونگی نوح ” نوح کو اپنا دل رکتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔ وہ کیسے سمبھلتا۔۔ ازورا کو۔۔ دارم کو۔۔ ۔ رومیسہ اسکے بےجان وجود سے لپٹ گیں تھیں۔۔ انہیں نوح نے ہی خبر کی تھی وہ ابھی ابھی پہنچی تھیں۔۔ لیکن یہ نہیں جانتی تھیں کے یہاں انکی بیٹی نہیں رہی تھی۔۔ سفیان اسے سینے سے لگائے رو رہا تھا۔۔ اسے پکار رہا تھا۔۔ اور دارم۔۔ دارم اصفہان پتھر کا ہو گیا تھا۔۔ ایک دم سب کچھ ساکت ہوا تھا۔ دارم نے اپنا دھڑکتا دل بند ہوتے محسوس کیا تھا۔ اسکی سماعت جواب دے گٸی تھی۔ اسکا دماغ سن ہوچکا تھا۔ وہ تو امل سے محبت کی دعوے دار تھا۔۔ وہ جاچکا تھی اور وہ اب تک زندہ تھا۔۔ ۔ اس نے دیکھا نوح نے آگے بڑھ کر سفید چادر اس پر برابر کر دی تھی۔۔ وہ اب نظر نہیں آ رہی تھی۔۔ ”إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ“ اس نے نوح کی آواز سنی تھی۔۔ رومیسہ چیخ چیخ کر رو رہی تھیں۔۔ ازو کے رونے کی آواز آ رہی تھی۔۔ اور وہ۔۔ وہ سفید چادر دیکھ رہا تھا۔۔ “اسے اسے ہٹاؤ “
وہ سفید چادر دیکھ کر دیوانوں جیسے بولا تھا۔۔
“میں نے تو سرخ ساڑھی لے کر رکھی تھی اسکے لئے۔۔ سرخ چوریاں۔۔ گجرے رکھے تھے۔۔ یہ سفید چادر۔۔۔ نہیں۔۔ اسے سفید رنگ نہیں۔ پسند۔۔ مجھے بھی نہیں پسند۔۔ یہ میری لائی سرخ ساڑھی پہنے گی۔۔ امل۔۔ امل۔۔ پہنیں گی نا “__
وہ سفید چادر میں چھپے اسکے وجود سے مخاطب تھا۔۔ اسے سفید رنگ سے وحشت ہو رہی تھی۔۔ وہ اب ان خطوط کو پڑھ نہیں سکتی تھی۔۔ ان تحائف کو دیکھ نہیں سکتی تھی جو دارم اصفہان نے سمبھال رکھے تھے۔۔ اس نے بہت دیر کر دی تھی۔۔۔
۔
امل کی تدفین کے بعد وہ یہاں آیا تھا۔۔ تہہ خانے کی دیواریں سرد اور نم تھیں، ان سے ٹپکتے پانی کے قطرے زمین پر گر رہے تھے، ہر قطرے کی آواز اس گہری تاریکی میں ایک ایسی دہشت پیدا کر رہی تھی جو شہباز ضمیر کے دل کو چھید رہی تھی۔ ہوا اتنی سرد اور گھٹن بھری تھی کہ ہر سانس اس کے گلے میں زہریلے خنجر کی مانند چبھ رہی تھی۔ زنگ آلود دھاتی کرسی، جو کبھی اس کی طاقت کی علامت تھی، اب اسے رسیوں سے جکڑے ہوئے اس کی بے بسی کا تماشا بنا رہی تھی۔ اس کی کلائیاں رسیوں سے کٹی ہوئی تھیں، خون کے سرخ دھبے اس کے ہاتھوں سے بہہ کر زمین پر گر رہے تھے، جیسے وہ اس کی گناہوں کی گواہی دے رہے ہوں۔ اس کی پھٹی ہوئی قمیض اس کے جسم سے چپکی ہوئی تھی، اس پر خون، دھول، اور سگریٹ کے جلے ہوئے نشانات اس کی زبوں حالی کو عیاں کر رہے تھے۔ اس کا چہرہ زرد اور پسینے سے شرابور تھا، اس کی آنکھیں، جو کبھی طاقت اور فریب کی علامت تھیں، اب خوف، درد، اور بے بسی سے بھری ہوئی تھیں۔ اس کی سانس ہلکی لیکن بھاری تھی، جیسے ہر سانس اس کے وجود سے ایک ٹکڑا چھین رہی ہو۔
شہباز ضمیر زمین پر گرا ہوا تھا، رسیاں اب بھی اس کی کلائیوں کو جکڑے ہوئے تھیں، لیکن اس کا جسم اس کرسی سے گر چکا تھا جو اسے سہارا دے رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں امل کی نفرت کی آگ جھلک رہی تھی، اس کی چیخیں اس کے کانوں میں گونج رہی تھیں۔۔
۔
“آپ… آپ تو ایک درندے نکلے بابا!”
امل کی آواز اس کے دل کو چھید رہی تھی، جیسے ہر لفظ اس کے وجود کو کاٹ رہا ہو۔ اس کی آنکھوں کے سامنے امل کا چہرہ گھوم رہا تھا—وہ چہرہ جو کبھی اس کی مسکراہٹوں سے بھرا تھا، جو اس کی بیٹی کی محبت کی علامت تھا، اب اس کی آنکھوں میں نفرت کی آگ لیے اسے گھور رہا تھا۔
“آپ… آپ میری آنکھوں میں اپنی موت دیکھ رہے ہیں…”
اس کی آواز اس کے کانوں میں گونج رہی تھی، جیسے وہ اس کی ہر سانس کو زہر بنا رہی ہو۔
شہباز کی سانس رکنے لگی، اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے، اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، جو اس کے خون آلود چہرے پر گر رہے تھے۔
“امل”_ اس کی آواز ایک سرگوشی سے زیادہ نہ تھی، لیکن اس میں ایک ایسی بے بسی تھی جو اس کے دل کی شکست کو عیاں کر رہی تھی۔ “میں… میں نے تم سے محبت کی تھی… لیکن… لیکن میں اندھا ہو گیا…” اس کی آواز سسکیوں میں ڈوب گئی، اس کا جسم رسیوں میں جکڑا ہوا تڑپ رہا تھا، جیسے وہ اپنی بیٹی کی نفرت کے بوجھ تلے دب رہا ہو۔۔ تہہ خانے کا دھاتی دروازہ زور سے کھلا، اور اس کی گرجتی آواز دیواروں سے ٹکرا کر ایک خوفناک گونج بن گئی۔ نوح اندر داخل ہوا، اس کے چہرے پر آج کوئی جذبہ نہیں تھا۔۔ نفرت کا بھی نہیں۔۔۔ وہ شہباز کے قریب آیا، اس کی نظریں اس کے زرد چہرے پر جمی تھیں، جیسے وہ اس کی بے بسی کا تماشا دیکھ رہا ہو۔۔ “امل کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو ؟ اس نے شہباز کی جانب دیکھا جو بہت امید سے اسے تک رہا تھا۔۔ ۔ “بہت معصوم تھی وہ۔۔ تمہارا خون ہوتے ہوئے بھی تم سے بہت مختلف۔۔ حقیقت برداشت نہیں کر پائی تمہاری۔۔ دوسروں کی بیٹیوں بیویوں کی عزتیں پامال کرتے بھول گئے تھے تم کے بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔۔ نازک جذبات رکھتی ہیں۔۔ کانچ کی گڑیا جیسی ہوتی ہیں۔۔ دوسروں کے کانچ توڑو گے تو کرچیاں اپنے ہاتھوں میں بھی تو چبھتی ہیں۔۔ بھول گئے تھے تم “_
“تمہاری حقیقت تمہاری بیٹی کو کھا گئی شہباز”_
نوح کی آنکھیں سرخ ہو گئیں، اس کی آواز میں اذیت تھی۔۔ تکلیف تھی۔۔
شہباز کی آنکھیں پھیل گئیں، اس کا چہرہ درد سے مسخ ہو گیا۔ “نہیں… نہیں… امل… نہیں”_
وہ چیخ رہا تھا۔۔ اس کا جسم رسیوں میں جکڑا ہوا تڑپ رہا تھا۔
“وہ میری بیٹی ہے!”
اس کی آواز سسکیوں میں ڈوب گئی، اس کے ہونٹوں سے خون بہہ رہا تھا، اور اس کی آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے۔
“میری بیٹی۔۔ میری امل کیسے مر سکتی ہے۔۔ اس کی آواز ہلکی ہوتی جا رہی تھی، جیسے اس کی سانس اس کے جسم سے نکل رہی ہو۔
نوح نے اس کی طرف دیکھا۔۔
۔
شہباز کی آنکھوں کے سامنے امل کا چہرہ گھوم رہا تھا—وہ چہرہ جو کبھی اس کی مسکراہٹوں سے بھرا تھا، جو اسے “بابا” کہہ کر پکارتا تھا، اب اس کی آنکھوں میں نفرت کی آگ لیے اسے گھور رہا تھا۔
“آپ… آپ شہباز ضمیر آج مر گئے ہیں، بابا… امل یتیم ہے…”
امل کی آواز اس کے کانوں میں گونج رہی تھی، جیسے وہ اس کی ہر سانس کو زہر بنا رہی ہو۔ اس کا جسم رسیوں میں جکڑا ہوا تڑپ رہا تھا، اس کے ہونٹوں سے خون بہہ رہا تھا، اور اس کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔ “۔
نوح نے ایک گہری سانس لی، اس کی نظریں شہباز پر جمی تھیں۔۔
اس کی آواز میں ایک ایسی سردی تھی جو اس کے دل کی نفرت کو عیاں کر رہی تھی۔
۔
“اپنوں کی موت۔۔ انکی تکلیف۔۔ ان سے دوری۔۔ اسی طرح تڑپاتی ہے شہباز ضمیر۔۔ تم نے میری ماں کو اس وقت مارا جس وقت ہم ایک نئے وجود کا انتظار کر رہے تھے۔۔ وہ کہ رہی تھیں تمہیں۔۔ اس نے بتایا تھا تمہیں۔۔ تم نے میرے باپ کو خود کشی کے دہانے پہنچا دیا۔۔ لیلیٰ یاد ہے وہ پھر کبھی اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو سکیں۔۔ اور ازورا۔۔ ازورا تو تمہاری بیٹی امل جیسی تھی۔۔ تمہیں امل کا چہرہ نظر نہیں آیا اس میں۔۔ اسکی تڑپ میں۔۔ اسکے رونے میں۔۔ اسے تکلیف دیتے ہوئے ایک لمحے کے لئے یہ نہیں سوچا تم نے کے وہ بھی تمہاری ہی بیٹی جیسی نازک ہے۔۔ اتنی ہی پاکیزہ۔۔ اسے چھونے کا حق بھی صرف اسکے محرم کو ہے ” _ اس نے شہباز کی طرف ایک آخری نظر ڈالی، اس کی آنکھوں میں ایک ایسی نفرت تھی جو اس کے برسوں کے درد کو عیاں کر رہی تھی۔ شہباز کی سانس رکنے لگی، اس کا جسم زمین پر گرا ہوا تھا، اس کی آنکھیں امل کی نفرت کی آگ سے بھری ہوئی تھیں۔ “امل… میری جان۔۔ بابا کی جان”_
اس کی آواز سسکیوں میں ڈوب گئی، اس کے ہونٹوں سے خون کی ایک پتلی سی لکیر بہہ رہی تھی، جو زمین پر گر کر اس کے گناہوں کی گواہی دے رہی تھی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے امل کی چیخیں گونج رہی تھیں، اس کی نفرت اس کے دل کو چھید رہی تھی، جیسے وہ اسے اپنی موت کی طرف دھکیل رہی ہو۔
“بابا کے دل کا ٹکڑا۔۔ میری جان”_ اس کی آواز ہلکی ہوتی جا رہی تھی، اس کا جسم رسیوں میں جکڑا ہوا تڑپ رہا تھا، اور اس کی سانس رکنے لگی۔۔ اسے ازورا کی گھٹی گھٹی سسکیوں کی آواز آ رہی تھی۔۔ روشی کی التجائیں ۔۔ لیلیٰ کی چیخیں۔۔ “ازو بےبی “_
کیسے سہم جایا کرتی تھی ازورا اسکی آواز پر۔۔ اسکی ہر بات پر خوف سے اثبات میں سر ہلایا کرتی تھی۔۔ اسکی آنکھوں میں وحشت دیکھ کر وہ قہقہہ لگا کر ہنسا کرتا تھا۔۔
“ممم میں پریگننٹ ہوں پپلز ممجھے جانے دو۔۔ پلیز مجھ پر رحم کرو “__
روشی کے جڑے ہاتھ۔۔ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے آنچل سے اپنا وجود اسکی گندی نظروں سے چھپا رہی تھی۔۔
“اللّه کا واسطہ ہے مجھے جانے دو۔۔ یہ نہیں کرو۔۔
یہ لیلیٰ تھی۔۔ جسے اس نے اس بےدردی سے بھنبھوڑا تھا کے وہ پھر کبھی کھڑی نہیں ہو سکی۔۔
“آپ ۔۔ آپ تو درندے نکلے بابا۔۔ آپ ظالم نکلے۔۔ کیوں بابا۔۔
امل۔۔۔ اسکی امل۔۔ اسکی امل کی آواز تھی۔۔ دنیا کی واحد عورت جس سے اس نے محبت کی تھی۔۔ اسکی بیٹی۔۔ اسکی امل جو اسے درندہ کہ گئی تھی۔۔ اسے درندے کی بیٹی کہلانا منظور نہیں تھا۔۔ اس نے موت کا انتخاب کیا تھا۔۔ اسکی امل جسے اس نے سرد ہواؤں سے بھی بچا کر رکھا تھااسکی حقیقت کھا گئی اسے۔۔
۔
تہہ خانے کی تاریکی ایک عجیب سی خاموشی میں ڈوب گئی، جیسے شہباز کی چیخیں اور سسکیاں اس کی دیواروں میں جذب ہو گئی ہوں۔ اس کا جسم زمین پر گرا ہوا تھا، اس کی آنکھیں کھلی تھیں، لیکن ان میں زندگی کی کوئی چمک نہ تھی۔ امل کی نفرت اس کے دل کو کھا گئی تھی، اس کی درندگی اس کی بیٹی کو نگل گئی تھی، اور اب وہ خود اپنی موت کے عذاب میں ڈوب گیا تھا۔
نوح نے ایک آخری بار شہباز کی طرف دیکھا، اس کی آنکھیں سرخ تھیں، لیکن اس کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا، جیسے اس کی نفرت کو آخر کار انصاف مل گیا۔۔
تہہ خانے کی دیواروں سے ٹپکتے پانی کے قطرے اب بھی زمین پر گر رہے تھے، لیکن اب وہ شہباز کی سسکیوں کے ساتھ نہیں مل رہے تھے۔ اس کی موت اس کے ظلم کی نہیں، بلکہ اس کی بیٹی کی نفرت کی وجہ سے تھی۔ امل کی چیخیں، اس کی نفرت، اور اس کے آنسو اس تہہ خانے کی دیواروں میں گونج رہے تھے ، جیسے وہ اس کہانی کی آخری آواز ہوں۔۔
امل شہباز کے انتقال کو چھ ماہ گزر چکے تھے، لیکن اس کی یاد اب بھی ہر دل میں ایک ٹیس کی مانند بسی ہوئی تھی۔ شہر کے قلب میں واقع العنکبوت کا دفتر، جو ظلم کے شکار لوگوں کی آواز بن چکا تھا، آج ایک ایسی کانفرنس کی میزبانی کر رہا تھا جو معاشرے کے ایک گہرے زخم کو چھو رہی تھی۔ ہال کی روشنیاں نرم تھیں، لیکن وہ ہر چہرے پر عزم کی چمک کو نمایاں کر رہی تھیں۔ دیواروں پر قرآنی آیات کے فریم لٹک رہے تھے
۔
ہال میں کرسیاں ترتیب سے لگی تھیں، اور سامعین میں خواتین، مرد، اور چند بچے شامل تھے، جو خاموشی سے کانفرنس کے آغاز کا انتظار کر رہے تھے۔ اسٹیج پر لیلٰی اپنی وہیل چیئر پر بیٹھی تھی، اس کا چہرہ سکون سے بھرا تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں برسوں کے درد کی کہانی جھلک رہی تھی۔ اس کے پہلو میں ازورا کھڑی تھی، جو اب العنکبوت کی مستقل رکن تھی۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں، لیکن اس کے چہرے پر ایک ایسی مضبوطی تھی جو اس کے عزم کو عیاں کر رہی تھی۔
ازورا نے مائیک سنبھالا، اس کی آواز میں ایک ایسی گہرائی تھی جو اس کے دل کے زخموں اور عزم کو عیاں کر رہی تھی
آپ… آپ سب کو خوش آمدید “ے…”
اس کی آواز ہال میں گونج اٹھی، اور ہر شخص کی نظریں اس پر جمی تھیں
“آج ہم یہاں ایک ایسی سنگین اور غیر منصفانہ سوچ پر بات کرنے آئے ہیں جو ہمارے معاشرے کی رگ رگ میں سمایا ہوا ہے… وہ سوچ جو کہتی ہے کہ اگر کوئی مرد، باپ، یا بھائی کوئی سنگین جرم کرتا ہے،، کسی کی عزت پر ہاتھ ڈالتا ہے۔۔ تو اس کی سزا اس کے گھر کی عورت کو بھگتنی پڑتی ہے… کہ اس کی بیٹی یا بہن کو اس کے گناہ کا بدلہ دینا پڑتا ہے…” اس کی آواز میں ایک ایسی شدت تھی جو اس کے دل کے درد کو عیاں کر رہی تھی۔
“یہ سوچ نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ قرآن پاک کے اصولِ عدل کے سراسر خلاف ہے…” اس نے ایک رپورٹ اٹھائی، جس میں اعداد و شمار درج تھے۔
“2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں 42 فیصد خواتین کو جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا … یہ اعداد و شمار ہمارے معاشرے کی اس غیر منصفانہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں…”
اس نے ایک لمحے کے لیے رُک کر سامعین کی طرف دیکھا، اس کی آنکھیں ہر چہرے سے ایک جواب مانگ رہی تھیں۔
“سورہ انعام کی آیت نمبر 164 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ‘ولا تکسب کل نفس الا علیھا ولا تزرو وازرۃ وزر اخریٰ’…
یعنی ہر نفس وہی کچھ کماتا ہے جو اس نے کیا، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا… یہ آیت ہمیں واضح طور پر بتاتی ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے…”
۔
ازورا کی آواز میں ایک ایسی شدت تھی جو ہر دل کو جھنجھوڑ رہی تھی
“اگر ایک باپ نے ظلم کیا، تو اس کی سزا اس کی بیٹی کیوں بھگتے؟ اگر ایک بھائی نے جرم کیا، تو اس کی بہن اس کا بوجھ کیوں اٹھائے؟” اس نے ایک اور رپورٹ اٹھائی۔
“ہیومن رائٹس واچ کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں ہر سال ہزاروں خواتین کو سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، صرف اس لیے کہ ان کے خاندان کے کسی مرد نے جرم کیا… یہ رویہ جاہلیت کے دور کی باقیات ہے، جب قبائلی نظام میں پورے خاندان کو ایک شخص کے جرم کی سزا دی جاتی تھی…”
اس کی نظریں لیلٰی پر جمی تھیں، جو خاموشی سے اس کی بات سن رہی تھی۔ “قرآن پاک اس اصول کو بار بار دہراتا ہے… سورہ نجم، آیت 38 میں اللہ فرماتے ہیں: ‘ان لا یزر وازرۃ وزر اخریٰ’… یعنی کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا… اور سورہ نور، آیت 4-5 میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے الزامات کے لیے سخت شرائط اور ثبوت کا تقاضا کیا ہے، تاکہ بے گناہ لوگوں کی عزت محفوظ رہے…” اس کی آواز میں ایک ایسی گہرائی تھی جو ہر دل کو چھو رہی تھی۔
“ہمارے معاشرے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ‘اس کی ماں یا بیٹی کے ساتھ بھی یہی ہوگا’… لیکن یہ سوچ قرآن کے عدل کے اصول کے خلاف ہے…” اس نے ایک گہری سانس لی، اس کی آنکھیں سرخ تھیں۔ “اگر ہم واقعی اللہ کے بندے ہیں، تو ہمیں اس کے نظامِ عدل کو ماننا ہوگا… ہمیں یہ رواج ختم کرنا ہوگا کہ ایک شخص کے جرم کی سزا اس کے خاندان کی عورت کو دی جائے… یہ نہ صرف غیر شرعی ہے بلکہ ایک سنگین جرم ہے…”
لیلٰی نے آگے بڑھ کر ازورا کا ہاتھ تھاما، اس کی آواز میں ایک ایسی نرمی تھی جو اس کی ہمدردی کو عیاں کر رہی تھی۔ “آپ… آپ ٹھیک کہتی ہیں، ازورا… ہم نے اپنی زندگیوں میں اس ظلم کو دیکھا ہے… لیکن ہم اس سوچ کو نہیں جیتنے دیں گے…” اس کی نظریں سامعین پر جمی تھیں، جیسے وہ ہر شخص سے ایک عہد مانگ رہی ہو۔ “العنکبوت اس سوچ کے خلاف لڑے گا… ہم ہر اس عورت کی آواز بنیں گے جو دوسروں کے گناہوں کی سزا بھگت رہی ہے…”
سامعین سے تالیوں کی آواز بلند ہوئی، لیکن اس میں ایک ایسی گہرائی تھی جو اس عزم کی گواہی دے رہی تھی۔ ازورا نے ایک گہری سانس لی، اس کی نظریں ہال میں موجود ہر چہرے پر جمی تھیں۔ “ہم… ہم اس تحریک کو جاری رکھیں گے… ہم انصاف، مساوات، اور عزت کے اسلامی اصولوں کو فروغ دیں گے… تاکہ ہمارا معاشرہ اللہ کے نظامِ عدل کے مطابق چلے…” اس کی آواز میں ایک ایسی شدت تھی جو اس کے عزم کو عیاں کر رہی تھی۔
امل کے انتقال کو چھ ماہ گزر چکے تھے لیکن اس کی یاد اب بھی اسکے دل میں موجود تھی۔۔ وہ تو اب ہمیشہ ہی رہنی تھی۔۔ وہ کانفرنس روم سے کچھ دور ایک بنچ پر بیٹھا تھا۔ رات کی خاموشی میں چاند کی روشنی زمین پر چاندی کی مانند بکھری ہوئی تھی۔ ہوا ہلکی ہلکی چل رہی تھی اور درختوں کے پتوں کی سرسراہٹ اسکے دل کے زخموں کو اور گہرا کر رہی تھی۔
“میں دارم اسفہان ہوں۔ اور میں نے امل شہباز سے بے پناہ محبت کی تھی۔ اس کی مسکراہٹ۔۔ اس کی ہر بات میرے وجود کا حصہ تھی۔ اس کی ہر ادا میری سانسوں میں بسی تھی۔ لیکن میں نے اسے خود سے دور کر دیا۔ میں نے سوچا کہ میری محبت اسے نقصان پہنچائے گی۔ اس کے باپ کی درندگی کا بوجھ میں اس پر نہیں ڈال سکتا تھا۔ لیکن میں غلط تھا۔ میں نے اسے کھو دیا۔ وہ میرے سامنے دم توڑ گئی۔ اور میرے پاس یہ حق بھی نہ تھا کہ میں اسے چھو لوں۔ اس کا آخری لمس اپنے ہاتھوں میں سمیٹ لوں۔۔ جس لڑکی کو تمام عمر چاہا۔۔ اسے چھونے کا حق بھی نہیں تھا میرے پاسس۔۔ میں اسے سرخ جوڑے میں دیکھنا چاہتا تھا۔۔ سرخ ساڑھی میں لیکن وہ میرے سامنے کفن میں موجود تھی۔۔ میری دنیا وہیں رُک گئی تھی جہاں امل نے اپنی آخری سانس لی تھی۔ ۔
وہ میری محبت تھی جو کبھی اپنی منزل نہ پا سکی۔۔
میں دارم اسفہان ہوں۔ یہ میری کہانی ہے۔ ایک ایسی کہانی جو کبھی مکمل نہ ہوئی۔۔ ایک ایسی تنہائی جو اب میری سانسوں کا حصہ بن چکی ہے۔ یہی میری ہیپی اینڈنگ ہے۔۔
ختم شد
