Jaan e Aada By Laiba Nasir Readelle50113 Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
“” جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ٩
۔
وہ جس وقت گھر میں داخل ہوا اس وقت صبح ہو گئی تھی۔۔ وہ خاموشی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگا۔۔ اس وقت وہ دادو کا سا نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔
“کیا وہ کسی تکلیف میں ہے ؟”
سیڑھیوں کے جانب بڑھتے نوح کے قدم وہیں تھم سے گئے تھے۔۔
اس نے رخ موڑھ کر انھیں نہیں دیکھا۔۔ وہ تو اسکے قدموں کی لڑکھڑاہٹ سے بھی اسکے اندر کا حال جان گئے تھے۔۔ وجہ ازورا لاشاری کے علاوہ کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا۔۔
نوح ارسلان کی زندگی اس لڑکی کے علاوہ کوئی ایسا نہیں تھا جسکے لئے وہ اپنے خول سے باہر آتا۔۔۔
ارسلان شیروانی کی خودکشی کے بعد سے نوح ارسلان ایک بت بن چکا تھا۔۔ جو اپنی انا کا ہی پجاری تھا۔۔
اس نے اللّه سے مانگنا چھوڑ دیا تھا۔۔ شاید مانگنے کے لئے کچھ تھا ہی نہیں۔۔
مگر جب اللّه سے بات کرنے کے لئے زندگی میں کچھ نا ہو تو کیا وہ زندگی ہوتی ہے۔۔
اسکی زندگی بھی زندگی نہیں تھی وقت تھا جو گزر رہا تھا۔۔
اس نے کچھ نہیں کہا۔۔ وہ لڑکھڑاتے قدموں سے انکے سمت آیا تھا۔۔
خاموشی سے انکی گود میں سر رکھتے انکے ہاتھ سینے پر دل کے مقام پر رکھ گیا تھا۔۔
اسکی دھڑکنیں سست تھیں۔۔ جیسے جینے سے بےزار تھیں۔۔
اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے اختر شیروانی کی آنکھوں سے دو آنسوں نکلتے نوح کے بالوں میں جذب ہوئے تھے۔۔
۔
“تم اسکے پاسس گئے تھے نا “
وہ اس سے پوچھ نہیں رہے تھے وہ اسے بتا رہے تھے کے وہ جانتے ہیں۔۔
“وہ ٹھیک نہیں ہے دادو “_
وہ ٹوٹے لہجے میں بولا تھا۔۔ اسکی آواز بھیگ رہی تھی۔۔
اسکی آنکھیں خشک تھیں۔۔ نوح ارسلان کی آنکھوں کو رونا نہیں آتا تھا۔۔
ان آنکھوں نے کبھی آنسوں کو محسوس نہیں کیا تھا۔۔
جب بھی نہیں جب اسکی ماں کسی کی درندگی کی بھینٹ چڑھ گئی تھی۔۔
جب بھی نہیں جب اسکے باپ نے اس دنیا میں رہنے سے زیادہ حرام موت کو گلے لگانا آسان سمجھا تھا۔۔
جب بھی نہیں جب اسکی زندگی واحد خواہش اسکی نظروں کے سامنے چھین لی گئی تھی۔۔
وہ رونے سے قاصر تھا۔۔
وہ اپنے اندر کا غبار آنسوں کے ذریعے باہر نہیں نکال سکتا تھا۔۔
“تم اسے ٹھیک کر دو گے۔۔ اسے یہاں لے آؤ نوح۔۔ میرے پاس ۔۔ اپنے پاس “_
وہ سمجھتے تھے اسکی ضرورت کو بھی جو وہ نہیں کہ پاتا تھا۔۔
“بہت جلد لے آؤنگا اسے ہمارے پاس “_
انکے ہاتھوں کو آنکھوں سے لگا کر چومتا وہ محبت سے بولا۔۔
دور مسجدوں سے آذان کی مدھر آواز آ رہی تھی۔۔ وہ ساری رات یونہی اسکے سامنے بیٹھا رہا تھا۔۔
وہ امل کی گود میں سر رکھے بےخبر سو رہی تھی۔۔۔
وہ پرسوچ نگاہوں سے اسکی جانب دیکھ رہا تھا۔۔ وہ خود اذیتی کی انتہاء پر تھی۔۔
اور دارم اپنے وجود میں اسکی اذیت محسوس کر رہا تھا۔۔
اسے ہمیشہ محسوس ہوتا تھا کوئی ایسا ڈر خوف تھا جو ازورا اس سے چھپاتی تھی۔۔
ازورا سے ہوتی اس کی نظریں امل کے سراپے میں الجھی تھیں۔۔
وہ اس وقت بیڈ کی پائینتی سے ٹیک لگائے بیٹھے بیٹھے سو رہی تھی۔۔
ہلکے سبز رنگ کے سادہ سے جوڑے میں ملبوس، جوڑے کا ہی دوپٹہ چہرے کے گرد حجاب کیے وہ بہت معصوم دکھتی تھی۔۔
اسکی رنگت سانولی تھی۔۔ وہ بہت صاف کمپلیکشن کے لوگوں میں شمار نہیں ہوتی تھی۔۔۔ البتہ اسکی آنکھیں بہت زیادہ بڑی تھیں۔۔ پھیلی ہوئی پرکشش آنکھیں، اور ان پر پلکیں دراز کا پہرہ۔۔
نازک لب بھینچ رکھے تھے۔۔ اسکے گال پر آنسوں کے نشان خشک ہو گئے تھے ۔۔
وہ رنگت اور نقوش میں رومیسہ جیسی تھی۔۔ شہباز کافی فیئر کمپلیکشن کا مالک تھا۔۔اسکے چہرے پر ایک الگ سا سکون تھا۔۔
کتنی طمانیت تھی۔۔ جس سکوں کا وہ پوری زندگی تمنائی رہا تھا۔۔
نظروں کی تپش تھی کے وہ کسمسا کر اٹھنے لگی تھی۔۔
دارم نے لمحے کی ہزارویں حصّہ میں اپنی نظروں کا رخ موڑا تھا۔۔
مندی مندی آنکھیں کھول کر اس نے ارد گرد کا جائزہ لیا۔۔
وہ ازورا کے ہی کمرے میں تھی شاید کل وہ اسکے پاس ہی سو گئی تھی۔۔
اپنا دوپٹہ ٹھیک کرتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ اس نے کھڑکی سے باہر دیکھتے دارم کو دیکھا۔۔ وہ اب بھی رات والے حلیے میں موجود تھا۔۔
سرخ ہوتی آنکھیں تمام شب بےخوابی کے فسانے سنا رہی تھیں۔۔
ایک نظر اس پر ڈال کر وہ خاموشی سے جانے لگی۔۔
“امل “_
امل نے حیران ہو کر اسکی سمت دیکھا۔۔ کیا اس نے پکارا تھا اسے۔۔
کاش وہ جان پاتا اسکے لبوں سے اپنا نام سننا اسے کتنا اچھا لگتا ہے۔۔
۔
“جی “_
دل کی حالت پر قابو پاتے وہ دھیرے سے بولی۔۔
“سٹرونگ سی کافی لے آئیں دو کپ “_
وہ سنجیدگی سے اسکی جانب دیکھ کر بولا۔۔ انداز سادہ سا تھا۔۔
مگر اسے تو اسکا مخاطب ہونا بھی نظم سنانے جیسا لگتا تھا۔۔
اسکے لبوں پر بےاختیار مسکراہٹ ابھری تھی۔۔
“امل بی بی مراقبے سے نکل آئیں ۔۔ کافی لانے کہا ہے۔۔ کوئی غزل نہیں سنا رہا میں آپ کو۔۔ ازو کو پلانی ہے ۔۔ نشے کا زور تو کچھ ٹوٹے”_
اب وہ اسے کیا بتاتی کے اسے تو اسکا بات کرنا بھی نظم سنانے جیسا لگتا تھا۔۔
وہ جی کہتی کچن کی جانب بڑھ گئی۔۔
کچھ دیر بعد وہ دو کی جگہ تین کپ لے کر کمرے میں آئی تو وہ ازورا کو جگا رہا تھا۔۔
“ازو۔۔۔ اٹھو بیٹا ۔۔ اٹھو بچے۔۔ یہ کافی پی لو پہلے میری جان “_
اس نے امل کے ہاتھ سے ٹیبل پر رکھتے ازورا کو جگا رہا تھا۔۔
۔
“دار ۔۔ آنکھیں نہیں کھل رہیں۔۔
وہ اسکے شانے پر سر رکھتی دکھتے سر کو تھام کر بےبسی سے بولی تھی۔۔
“دار کی گڑیا ۔۔ میں ہوں نا تمہارے پاس ۔۔ کوشش کرو ۔۔ آنکھیں کھولو “_
اس کے بکھرے بالوں کو نرمی سے سمیٹتے وہ نرمی سے کہ رہا تھا۔۔
امل نے رشک سے یہ منظر دیکھا تھا۔۔
کتنی محبت سے بچوں جیسے خیال رکھتا تھا وہ ازو کا۔۔
“چلو شاباش “_
اسکے لبوں سے کپ لگاتے وہ نرمی سے اسے ڈیل کر رہا تھا۔۔
بری شکلیں بناتی وہ کافی ختم کر کے دوبارہ سونے لگی۔۔
“نہیں ازو سونا نہیں ہے۔۔ اٹھو بچے شاباش۔۔ امل ہیلپ کر دینگی تمہاری فریش ہو جاؤ “_
وہ امل کو اشارہ کرتا اسکے کمرے سے نکل گیا۔۔
“میں نماز پڑھنے جا رہا ہوں مسجد “_
وہ ان دونوں سے ہی مخاطب تھا۔۔ امل نے ازورا کو تھامتے اثبات میں گردن ہلآئ۔۔
وہ بچپن سے دیکھتی آ رہی تھی۔۔ دارم اسفہان نے نماز کبھی نہیں چھوڑی تھی۔۔ وہ اللّه کو پکارنا کبھی نہیں چھوڑتا تھا۔۔
دارم کے جانے کے بعد اس نے امل کی مدد سے ہی شاور لیا تھا۔۔
اس کے جسم پر نشانات دیکھتی وہ بری طرح سسک پڑی تھی۔۔
وہ نہیں جانتی تھی اسکے ساتھ کیا ہوا تھا لیکن اسکی اذیت وہ خود پر محسوس کرتی تھی۔۔
“ازو ۔۔
اسکے بالوں کو خشک کرتی امل نے آنسوں سے بھیگی آواز میں اسے پکارا۔۔ اسکے جسم کے نشانات اسکے ذہن سے نہیں نکل رہے تھے۔۔
“ہممم ۔۔
وہ اسکے ساتھ لگی بولی تھی۔۔
“وہ کون تھا اس رات ازو۔۔ تت تمہیں کیا کچھ بھی یاد نہیں ہے “_
اسکا گلابی چہرہ ہاتھوں میں بھرے اس نے محبت سے پوچھا۔۔
وہ جاننا چاہتی تھی۔۔
وہ خالی خالی نظروں سے امل کے بےریا چہرے کو دیکھنے لگی۔۔
وہ اسے بتانا چاہتی تھی کے اسکا باپ ہے وہ درندہ۔۔ لیکن بتا نہیں پائی۔۔
یہ سچ تھا وہ اسے تکلیف نہیں سکتی تھی۔۔
وہ بس اسکے ساتھ لگی گھٹی گھٹی آواز میں رو رہی تھی۔۔
“ازو۔۔ ناشتہ کر لو ۔۔
وہ دونوں ہی دارم کی آواز پر ہوش میں آئیں تھی۔۔
دارم نے ایک نظر نکھری سی ازورا پر ڈالی وہ کافی فریش لگ رہی تھی۔۔
“امل ازو کے ساتھ آپ کو ڈراپ کر دونگا میں۔۔ ریڈی ہو جائیں “_
خاموشی سے کمرے سے باہر جاتی امل اسکی آواز پر رکی تھی۔۔۔
اس عنایت کی کیا وجہ تھی آخر۔۔
“شکریہ آپ نے ازو کا خیال رکھا “_
اسکے اگلے جملے پر وہ تلخی سے مسکرائی تھی۔۔ یعنی وہ مداوا کر رہا تھا۔۔
“ازو آپ کے ساتھ میری بھی کزن ہے۔۔میں اگر اسکے لئے کچھ کر رہی ہوں تو آپ پر یا اس پر کوئی احسان نہیں کر رہی۔۔ اس کے لئے آپ کو احسان اتارنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ میں روز ڈرائیور کے ساتھ جاتی ہوں آج بھی چلی جاؤنگی “_
وہ بول کر رکی نہیں تھی۔۔
اس شخص کو احساس ہی نہیں ہوتا تھا کے اپنی انا کے بت میں قید وہ اسکی ذات کو پاش پاش کر دیتا تھا۔۔
۔
“جلدی سے کھا لو یہ۔۔ اور گھر پر رہنے کی ضرورت نہیں ہے ریڈی ہو جاؤ یونیورسٹی ڈراپ کرونگا تمہیں۔۔ لنچ بھی ہم باہر کرینگے “_
وہ اپنے ہاتھوں سے ازو کو ناشتہ کرواتا پورے دن کا پلان بتا رہا تھا۔۔
وہ ہلکا سا مسکرائی۔۔ دارم اسفہان کی ساری فکر۔۔ تمام توجہ اسکی ذات پر ختم ہو جاتی تھی۔۔
“ازو “_ اسکی یونیورسٹی کے باہر گاڑی روک کر دارم نے اسے پکارا۔۔ وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔ “خیال رکھنا اپنا “
اسکے پھولے گال سہلاتا وہ فکر مندی سے بولا ۔۔ کل کی اسکی حالت کے بعد اسکی فکر میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔۔
وہ مسکرا کر اثبات میں سر ہلا گئی۔۔
دارم کے جانے کے بعد وہ کندھے پر بیگ لٹکائے وہ کل ہوئے واقعہ کو سوچتی اپنے ڈیپارٹمنٹ کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔
یونیورسٹی کی پارکنگ بہت بڑی تھی۔۔ وہ سڑک کے بیچو بیچ لاپرواہ سی چل رہی تھی۔۔
کافی دیر سے اسکے انتظار میں پارکنگ میں کھڑے نوح کی نظر اس پر گئی تھی۔۔ اور پھر کچھ دوری پر سے نظر آتی تیز رفتار گاڑی پر ۔۔ اگلے ہی پل وہ تیزی سے بھاگا تھا۔۔
جتنا تیز وہ بھاگ سکتا تھا۔۔
اس نے ایک جھٹکے سے اسے اپنی جانب کھینچا تھا۔۔ وہ چیختی ہوئی اس کے سینے سے لگی۔۔
اگلے ہی لمحے ایک تیز رفتار گاڑی پوری رفتار سے انکے بلکل قریب سے گزری تھی۔۔ نتیجاً بارش کی وجہ سے جمع ہوا پانی نوح ارسلان کو بھیگا گیا تھا۔۔
وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے گاڑی کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔
اگر نوح ارسلان بروقت اسے اپنی جانب نہیں کھینچ لیتا تو وہ گاڑی اسے کچل کر جا چکی ہوتی۔۔
اس نے حیران نظروں سے نوح کی جانب دیکھا۔۔ اگلے ہی لمحے اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری تھی۔۔ دیکھتے دیکھتے مسکراہٹ قہقہے میں تبدیل ہوئی تھی۔۔
وہ اسے دیکھتی ہوئی ہنس رہی تھی۔۔
بلیو جینس پر وائیلٹ کلر کی شرٹ پہنے ۔۔ ہاتھوں میں ہمیشہ کی طرح مختلف بینڈز پہنے ہوئے۔۔ شانوں تک آتے بالوں کو پیچھے پونی میں قید کیے وہ کچھ دیر پہلے تک یقیناً ایک پرکشش مرد لگ رہا ہوگا۔۔ لیکن اس وقت وہ گندا پانی اسکے چہرے پر شرٹ پر اپنے نقش و نگار چھوڑ گیا تھا۔۔
آس پاس سٹوڈنٹس کو جمع ہوتے دیکھ وہ ضبط سے مٹھیاں بھینچتا اس پاگل لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔۔ ہنسنے کی وجہ سے اسکی آنکھوں میں پانی آ گیا تھا۔۔ احساس ذلّت سے اسکا چہرہ سرخ ہونے لگا ۔۔
۔
“یو سلی گرل۔۔ عقل نام کی کوئی چیز ہے آپ میں۔۔ روڈ کو باپ کی جاگیر سمجھ کر کیٹ واک کر رہی تھیں آپ “_
اسے بازو سے پکڑ کر تقریباً گھسیٹتا ہوا وہ قدرے ویران گوشے میں آیا تھا۔۔
“میرے بابا کو کچھ نہیں کہیں آپ۔۔ اور میں نے تو نہیں کہا تھا کے آ کر مجھے بچائیں۔۔ آپ کو ہی شوق تھا خود کو ٹارزن کی اولاد ثابت کرنے کا “_
وہ اطمینان سے شانے اچکا کر کہتی نوح ارسلان کا اطمینان غارت کر گئی تھی۔۔
“لسن لیڈی ۔۔ اس طرح کی اٹینشن سیکر حرکتیں کرنا آپ کو زیب نہیں دیتا “_
وہ چہرے پر ہاتھ پھیرتے اپنا غصّہ ضبط کرتے بولا۔۔
“تو آپ کیوں متوجہ ہو رہے ہیں ؟”
وہ بھی دو بدو بولی تھی۔۔ نوح کو وہ کل والی لڑکی سے بہت مختلف لگی تھی۔۔
“آپ ڈرگرز لیتی ہیں ؟”
وہ اسکی بات کو نظر انداز کرتا ابرو اٹھائے اس سے پوچھ رہا تھا۔۔
مقصد یقیناً اسے شرمندہ کرنا تھا۔۔
“جی۔۔ سموکنگ بھی کرتی ہوں “_
اس نے ڈھٹآئی سے ناصرف کہا تھا ساتھ ہی جینس کی پاکٹ سے سگریٹ کیس نکال کر اسکے سامنے ہی ایک سگریٹ نکالتی وہ اب لائٹر سے سگریٹ سلگا رہی تھی۔۔
نوح مٹھیاں بھینچے اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔۔ بوٹل گرین ٹاپ اور بلیو جینس میں ملبوس۔۔ گلابی رنگت جو اب زرد سی دکھائی دے رہی تھی۔۔ بھورے لمبے بالوں کو لاپرواہی سے جوڑے میں مقید کیے۔۔۔ بھوری آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔۔ سرخ لبوں کے درمیان سگریٹ لئے وہ اسے زچ کرنے کا ہر حربا آزما رہی تھی۔۔
“امپریسسیو “__
دو انگلیوں سے اسکے لبوں سے سگریٹ نکال پیروں تلے مسلتا وہ دوسرے ہاتھ سے بال سنوارتا ہوا بولا۔۔
کچھ دیر اسے یونہی دیکھتے رہنے کے بعد وہ رکا نہیں تھا۔۔ اسے جھٹکے سے چھوڑتا وہ تیزی سے اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔۔
پیچھے وہ استہزائیہ انداز ممیں ہنستی اپنے ڈیپارٹمنٹ کی جانب بڑھ گئی۔۔
اس مغرور شہزادے کو تپ چڑھا کر اسے نجانے کیوں انجانی سی خوشی محسوس ہوئی تھی۔۔
گاڑی میں بیٹھے نوح نے سائیڈ مرر میں نظر آتے اسکے عکس کو دور تک دیکھا تھا۔۔
۔
وہ خاموشی سے کلاس میں داخل ہوتی سب سے پچھلی نشست میں اپنی جگہ پر بیٹھ گئی تھی۔۔ اسکی عجیب و غریب طبیعت کی وجہ سے لوگ اسکے قریب بہت کم ہی آتے تھے۔۔
کلاس میں لیکچر شروع ہونے کے قریب تھا۔۔
وہ لاء کے دوسرے میں سال میں تھی۔۔ یہ بھی دارم کی وجہ سے ہی ممکن ہوا تھا۔۔ بریرہ چاہتی تھیں انکی بیٹی کامیاب وکیل بنے۔۔
لیکن اس حادثے کے بعد وہ پڑھائی میں بھی ایورج سٹوڈنٹس میں شمار ہونے لگی تھی۔۔
“کل کا لیکچر جہاں ختم ہوا تھا آج وہیں سے شروع کرتے ہیں۔۔
پروفیسر جمال کے لیکچر سٹارٹ کرنے پر وہ بھی پین نکالتی نوٹس بنانے میں مشغول ہو گئی تھی۔۔
“” حال ہی میں پندرہ جون کو خوا تین محاذ عمل حیدرآباد نے ایک بہت اہم کانفرنس کی ہے۔۔ جس کے اندر زنا بل جبر اور جنسی تشدد کے حوالے سے پچھلے پندرہ سالوں میں جو پاکستان کے اندر بڑی قانونی تبدیلیاں ہوئیں ہیں۔۔ انکا ذکر کیا گیا ہے۔۔ آج ہم اسی رپورٹ کے چند اہم حقائق پر بات کرینگے”_ وہ اب پوری طرح سے پروفیسر جمال کی جانب متوجہ ہو چکی تھی۔۔ ۔ ” ان میں سے سب سے پہلی اور سب سے اہم تبدیلی یہ ہے کے سیکشن 375 PPC (پاکستان پینل کورٹ ) کے مطابق اب زناء اور زناء بل جبر باقاعدہ طور پر علیحدہ ہو چکے ہیں۔۔ حدود لاء کے مطابق پہلے اگر کوئی خاتون کسی مرد پر یہ الزام عائد کرتیں کے اس نے میرے ساتھ زنا بل جبر کیا ہے تو الزام غلط ثابت ہونے پر حدود لاء کے مطابق اس خاتون پر زنا کے جرم میں سزا لاگو ہو سکتی تھی۔۔ مگر 2006 کے بعد Protection of women ( Criminal law amendment ) Act 2006 اور Criminal law Amendment (Offence Rape) Act 2016 کے مطابق زنا اور زنا بل جبر کو علیحدہ کر دیا گیا ہے “_
سکرین پر سلائیز چل رہی تھیں۔۔ پوری کلاس میں سکوت چھایا ہوا تھا۔۔
وہ سب ہی دم سادھے انھیں سن رہے تھے۔۔ یونہی بھی سر جمال اکبر کا رعب ایسا تھا کے کلاس میں بولنے کی کسی کی ہمّت نہیں ہوتی تھی۔۔
“دوسری تبدیلی یہ ہے کے اگر کوئی انويسٹیگیٹنگ آفیسر زنا یا جنسی تشدد کے کسی کیس میں کوئی روکاوٹ پیدا کرے تو اسے تین سال تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔۔
Section 166(2) Pakistan Penal Court
کے مطابق “_
ازو نے تیزی سے دوسرا پائنٹ بھی نوٹ داؤن کیا تھا۔۔
۔
” تیسری بڑی تبدیلی یہ کی گئی ہے کے اگر کسی کیس کو تین ماہ کے اندر اندر حل نہیں کیا گیا تو خود کار طور پر وہ کیس چیف جسٹس اوف ہائی کورٹ کے پاس چلا جائے گا۔۔
یہ ہے,
Section 344 (A) CrPC ‘ Court of criminal procedure ‘
اور اسکے اندر اپیل کی مدّت چھ ماہ دی گئی ہے۔۔ یعنی اسکا مطلب یہ ہوا کے ریپ کا کوئی بھی کيس ہو وہ قانونی اعتبار سے ایک سال کے اندر اندر حل ہو جائے گا۔۔
وہ بغور پروفیسر کا ہر ایک پائنٹ سن رہی تھی۔۔ بلکے نوٹ داؤن بھی کر رہی تھی۔۔ کچھ دیر پہلے جو اسکے چہرے پر بےزاری تھی وہ اب ختم ہو چکی تھی۔۔
“بےشک ہر مشکل کے ساتھ آسانیاں ہیں “_
اللّه نے اسکے لئے بھی آسانیاں رکھی تھیں۔۔ بس انھیں تلاشنے کی دیر تھی۔۔
“چوھتی تبدیلی یہ کی گئی ہے کے،
Section 352 , CrPC ,
کے مطابق وکٹم کی شناخت کو پبلک کرنے کی اجازت نہیں ہے۔۔ یعنی کے کوئی بھی عورت جس سے زنا بل جبر کیا گیا ہو اسکی شناخت کی حفاظت اب ہمارے قانون کا حصّہ ہے “_
۔
“سر پھر ٹرائل کس طرح ہونگے ؟”_
پیچھے سے ایک لڑکے نے ہاتھ اٹھایا تھا۔۔
“جی میں ابھی اسی طرف آ رہا تھا “_
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
“زنا ہو یا جنسی تشدد وکٹم کی شناخت پبلک کرنے کی اجازت نہیں ہے۔۔ ٹرائیل جو ہونگے وہ ان کیمرہ ہونگے۔۔ ان کیمرہ نا ہو سکیں تو جج کے کیبن میں ہونگے۔۔ اور اگر جج کے کیبن میں ممکن نا ہو سکے تو کسی پرائیویٹ پلیس میں ہونگے۔۔ لیکن وکٹم کی شناخت محفوظ رکھنے کی ذمہ داری اب ریاست اور قانون کی ہوگی۔۔
۔
“پانچویں بڑی تبدیلی یہ ہے کے جس وقت انويسٹیگیٹنگ آفیسر ایف آئی آر درج کرے گا اس وقت کسی فیمیل پولیس آفیسر کا موجود ہونا ضروری ہے۔۔ اگر کوئی فیمیل افسر اس وقت موجود نا ہوں تو کوئی فیمیل فیملی میمبر ضرور موجود ہونگے۔۔
یہ تبدیلی
Section 164 A , and Section 161A CrPC ( Code of Criminal Procedure)
کے تحت۔۔
وہ ٹرانس کی سی کیفیت میں انھیں سن رہی تھی۔۔
۔
“چھٹی بڑی تبدیلی یہ ہے کے ڈی این اے ٹیسٹنگ ریپ کیسز کے اندر وکٹم کے کنسینٹ سے ممکن ہو چکی ہے۔۔
Section 164 B , Code of criminal procedure
کے تحت۔۔۔
۔
وہ غیر محسوس انداز میں رو رہی تھی۔۔ اسکی آنکھوں سے آنسوں گرتے اسکے گال بھیگو رہے تھے۔۔
اللّه نے تو راستہ رکھا تھا اس کے لئے۔۔ یہ تو وہ تھی جس نے تصور کر لیا تھا کے تمام راہیں مستود ہو چکی ہیں۔۔
۔
پروفیسر اب بھی بول رہے تھے۔۔ اب وہ ایک آخری اور سب سے اہم تر میم سنا رہے تھے۔۔
Section 151 (4) , Law of evidence 1984
جس کے تحت کسی عورت کی ہسٹری اور پیشہ ور عورتوں کی گواہی اور ثبوت مضبوط تصور نہیں کے جائینگے۔۔
مگر اب اس قانون کی ترمیم کر دی گئی ہے۔۔ عورت کا پیشہ خواہ کوئی بھی ہو وہ اگر آپ کے لئے حلال نہیں۔۔ تو اس پر آپ کا کوئی حق نہیں۔۔
(Reference : Report of Hyderabad Conference June 2021, by Maham Ali)
اپنی بات مکمّل کر کے انہوں نے کلاس پر ایک نظر ڈالی۔۔
انکی نظریں سب سے پچھلی نشست پر بیٹھی اس لڑکی پر گئی تھی۔۔
“ازورا لاشاری “_
وہ نام جانتے تھے اسکا۔۔ وجہ اسکی سب سے مختلف ہونا تھا۔۔
وہ بری طرح سسکتی زور زور سے تالیاں بجا رہی تھی۔۔
وہ ڈآئس پر سے اترتے اسکی جانب بڑھے۔۔ جو زارو قطار رو رہی تھی۔۔
پوری کلاس عجیب نظروں سے اسکی جانب دیکھ رہی تھی۔۔
یہ لڑکی انھیں پاگل لگتی تھی۔۔
“ازورا ۔۔۔ سب ٹھیک ہے بچے ؟”
اس کے قریب جا کر انہوں نے شفقت سے اس سے دریافت کیا۔۔
وہ روتی کلاس سے باہر بھاگی تھی۔۔
۔
السلام علیکم پیارے لوگوں۔۔
