60.2K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode Part 1

“” جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
آخری قسط (پارٹ ۱)
۔

امل کے کمرے میں ایک ایسی خاموشی چھائی ہوئی تھی جو دل کو چھلنی کر رہی تھی۔ کمرے کی کھڑکی سے چھن کر آنے والی صبح کی روشنی ہلکی سی تھی، وہ بخار میں پھنک رہی تھی۔۔ امل کے بخار سے جلتے جسم کو سکون دینے سے قاصر تھی۔ وہ اپنے بستر پر نیم بے ہوشی کی حالت میں لیٹی تھی، اس کا چہرہ سفید پڑ چکا تھا، اس کی گہری سیاہ آنکھیں بخار کی شدت سے دھندلی ہو رہی تھیں۔ اس کے بال تکیے پر بے ترتیب پھیلے ہوئے تھے ، جسم کانپ رہا تھا، اس کی سانس گرم اور بھاری تھی، اور اس کے ہونٹ ہلکی سی سرگوشیوں میں کچھ کہہ رہے تھے، جیسے وہ خواب کی کسی گہری وادی میں کھوئی ہوئی ہو۔۔۔
صفیان اس کے بستر کے کنارے بیٹھا تھا، اس کا ہاتھ امل کے ہاتھ میں مضبوطی سے تھامے ہوئے تھا۔ اس کی آنکھیں، جو ہمیشہ امل کے لیے محبت سے بھری رہتی تھیں، اب ایک ایسی بے چینی سے بھری تھیں جو اس کی بیوی کی تکلیف کو دیکھ کر بڑھ رہی تھی۔ اس کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا، اس کی پیشانی پر پسینے کی بوندیں چمک رہی تھیں، جیسے وہ خود امل کے بخار کو اپنے اندر جذب کر رہا ہو۔ اس نے ایک ٹھنڈا کپڑا امل کے ماتھے پر رکھا، اس کی انگلیاں نرمی سے اس کی جلتی ہوئی جلد کو چھو رہی تھیں۔ “امل… آپ آرام کریں…” اس کی آواز ایک سرگوشی سے زیادہ نہ تھی، لیکن اس میں ایک ایسی گہرائی تھی جو اس کی بے پناہ محبت کو عیاں کر رہی تھی۔ اس کا لہجہ باوقار تھا، اس کی محبت کی عزت اور احترام سے بھرپور، جیسے وہ امل کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتا ہو۔
امل کی پلکوں میں ہلکی سی جنبش ہوئی، وہ اسے سن رہی تھی، لیکن اس کی نیم بے ہوشی اسے مکمل طور پر جاگنے سے روک رہی تھی۔ اس کے ہونٹ ہلے، اور اس کی کمزور آواز کمرے کی خاموشی کو چیرتی ہوئی گونجی۔ “بابا… صفیان… بابا کہاں ہیں؟” اس کی آواز میں ایک ایسی معصومیت تھی جو اس کے بچپن کی یاد دلا رہی تھی، جب وہ اپنے باپ شہباز کی گود میں بیٹھ کر اس کی باتیں سنتی تھی۔ اس کا جسم بخار کی شدت سے کانپ رہا تھا، اس کی سانس ہلکی اور بھاری تھی، جیسے ہر سانس اس کے وجود سے ایک ٹکڑا چھین رہی ہو۔
صفیان کا دل امل کی سرگوشیوں سے چھلنی ہو گیا۔ وہ جانتا تھا کہ امل اپنے باپ سے کتنی محبت کرتی تھی لیکن اب، اس کی گمشدگی نے امل کے دل کو توڑ دیا تھا۔ صفیان نے امل کے ہاتھ کو لبوں سے چھوا، اس کی آواز میں ایک ایسی نرمی تھی جو اس کی محبت کو ظاہر کر رہی تھی۔ “امل… آپ فکر نہ کریں… سب ٹھیک ہو جائے گا…” اس نے امل کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا، اس کی نظریں اس کے چہرے پر جمی تھیں، جیسے وہ اس کے ہر درد کو اپنے اندر سمیٹ رہا ہو۔ اس کا لہجہ نرم لیکن باوقار تھا، اس کی محبت کی گہرائی کو عیاں کرتا ہوا۔
امل کی آنکھیں آہستہ آہستہ کھلیں، لیکن بخار کی شدت نے اس کی نظروں کو دھندلا کر رکھا تھا۔ اس نے صفیان کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں ایک ایسی بے چینی تھی جو اس کے دل کے خوف کو عیاں کر رہی تھی۔ “صفیان… بابا… وہ… وہ واپس آئیں گے نا؟” اس کی آواز ٹوٹ رہی تھی، اس کی سانس گرم اور بھاری تھی۔ اس نے صفیان کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا، جیسے وہ اس کی موجودگی سے اپنی ہمت سمیٹ رہی ہو۔
“وہ… وہ ہمیشہ کہتے تھے… کہ وہ میری حفاظت کریں گے…”
اس کی آواز سسکیوں میں ڈوب گئی، اس کی آنکھوں سے دو آنسو بہہ کر تکیے میں جذب ہو گئے۔
صفیان کا دل امل کی سسکیوں سے پگھل رہا تھا۔ اس نے امل کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیا، اس کی جلتی پیشانی پر لب رکھے۔۔۔ “امل…میں ہوں نا۔۔ اکیلی نہیں ہیں آپ”
اس نے امل کے بالوں کو نرمی سے پیچھے کیا، اس کی انگلیاں اس کے چہرے پر ہلکی سی پھر رہی تھیں، جیسے وہ اس کے بخار کو اپنی محبت سے ختم کردینا چاہتا ہو
اس کی نظریں اس کے چہرے پر جمی تھیں
۔ “امل… آپ فکر نہ کریں… میں آپ کے لیے سب کچھ کر دوں گا…”
اس نے امل کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا، اس کی آواز میں ایک ایسی نرمی تھی جو اس کی محبت کو ظاہر کر رہی تھی۔ اس نے امل کے ماتھے پر ٹھنڈا کپڑا بدلا، اس کی انگلیاں نرمی سے اس کی جلد کو چھو رہی تھیں۔ “آپ بس آرام کریں… آپ کا بخار کم ہو جائے گا…” اس نے امل کے ہاتھ کو اپنے ہونٹوں سے چھوایا، اس کی نظریں اس کے چہرے پر جمی تھیں، جیسے وہ اس کے ہر لمحے کو اپنے دل میں سمیٹ رہا ہو۔۔
اچانک، کمرے کے دروازے پر ایک ہلکی سی دستک ہوئی۔ صفیان نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا، اس کی نظریں امل سے ہٹ گئیں۔ وہ آہستہ سے اٹھا، امل کے ہاتھ کو نرمی سے تکیے پر رکھتے ہوئے۔ اس نے دروازے کی طرف بڑھ کر اسے کھولا۔ سامنے رومیسہ کھڑی تھی، اس کا چہرہ زرد اور اس کی آنکھیں سرخ تھیں۔ اس کی جلد ماند پڑ چکی تھی، اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں، جیسے رات بھر کے آنسوؤں نے اس کی روح کو خالی کر دیا ہو۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، اس کی تسبیح اس کی انگلیوں میں مضبوطی سے پکڑی ہوئی تھی، جیسے وہ اس سے کوئی معجزہ مانگ رہی ہو۔
رومیسہ نے کمرے میں قدم رکھا، اس کی نظریں اپنی بیٹی پر جمی تھیں۔ امل بستر پر لیٹی تھی، اس کی سانس ہلکی اور گرم تھی، اس کا جسم بخار کی شدت سے کانپ رہا تھا۔ رومائسہ کا دل اپنی بیٹی کی یہ حالت دیکھ کر پگھل گیا۔ “امل… میری جان…” اس کی آواز سسکیوں میں ڈوب گئی، اس نے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا۔ اس کے دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی، جو شہباز کی گمشدگی اور امل کی حالت سے بڑھ رہی تھی۔ اس کے ذہن میں ایک لمحے کے لیے ازورا کی بے بس نگاہیں ابھریں—وہ آنکھیں جو شہباز کی کال نے خوف سے بھر دی تھیں، وہ ہاتھ جو زخموں سے لپٹے ہوئے تھے۔ رومائسہ کا دل ایک لمحے کے لیے کانپ اٹھا، جیسے اسے کوئی شک جاگ اٹھا ہو۔ “نہیں… شہباز… وہ… وہ ایسا نہیں کر سکتا…” اس نے اس خیال کو جھٹک دیا، اس کی آنکھیں بند ہو گئیں، جیسے وہ اس حقیقت سے بھاگ رہی ہو۔
۔ “صفیان… میری بیٹی… وہ… وہ اس حال میں ہے… اور شہباز…” اس کی آواز ٹوٹ گئی، اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ “میں… میں اسے ڈھونڈنا چاہتی ہوں… میں… میں دارم سے مدد لینا چاہتی ہوں…” اس کی آواز میں ایک ایسی التجا تھی جو اس کے دل کے زخموں کو عیاں کر رہی تھی۔ اس نے صفیان کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں ایک ایسی بے چینی تھی جو اس کی پریشانی کو ظاہر کر رہی تھی۔ “دارم… وہ میرا بیٹا ہے… وہ جانتا ہوگا… وہ شہباز کو ڈھونڈ سکتا ہے…” اس کی آواز سسکیوں میں ڈوب گئی، اس نے اپنی تسبیح کو مضبوطی سے پکڑا، جیسے وہ اس سے کوئی معجزہ مانگ رہی ہو۔
صفیان نے رومیسہ کی طرف دیکھا، اس کی نظریں اس کے چہرے پر جمی تھیں۔ “مام… آپ فکر نہ کریں… ہم دارم سے بات کریں گے… ہم بابا کو ڈھونڈ لیں گے…” اس کی آواز میں ایک ایسی یقین دہانی تھی جو رومیسہ کے دل کو مضبوط کر رہی تھی۔ اس نے امل کی طرف دیکھا، اس کی نظریں اس کے چہرے پر جمی تھیں، جیسے وہ اس کی ہر سانس کو اپنے دل میں سمیٹ رہا ہو۔
امل کی پلکوں میں ہلکی سی جنبش ہوئی، اس کی آواز نیم بے ہوشی میں گونجی۔ “بابا… صفیان… بابا…” اس کی سانس ہلکی ہوتی گئی، اس کا جسم بخار کی شدت سے کانپ رہا تھا۔۔


لیلٰی اور جمال کا گھر شام کے وقت ایک ایسی خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا جو دل کو سکون دیتی تھی، لیکن اس خاموشی کے پیچھے ایک ایسی محبت چھپی تھی جو برسوں کے درد کو اپنی گرمی سے پگھلا رہی تھی۔ کمرے کی کھڑکی سے چھن کر آنے والی شام کی سنہری روشنی لیلٰی کے وہیل چیئر پر پڑ رہی تھی، جو کمرے کے وسط میں رکھی تھی۔ لیلٰی اس پر بیٹھی تھی، اس کے لمبے، گہرے سیاہ بال زمین کو چھو رہے تھے، جیسے وہ اس کی زندگی کے وہ زخم دکھا رہے ہوں جو شہباز ضمیر اور رحمان شاہ نے اسے دیے تھے۔ اس کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا، اس کی آنکھیں، جو کبھی ایک جنگجو کی مانند چمکتی تھیں، اب ایک عجیب سی ناامیدی سے بھری ہوئی تھیں۔ اس کے ہاتھ وہیل چیئر کے ہینڈل پر رکھے تھے، لیکن ان میں وہ طاقت نہ تھی جو کبھی العنکبوت کی سربراہ کے طور پر اس کے وجود میں بہتی تھی۔ وہ اپنی زندگی سے ہار مان چکی تھی، اسے لگتا تھا کہ وہ ہمیشہ اس وہیل چیئر کی محتاج رہے گی۔
جمال اس کے پیچھے کھڑا تھا، اس کے ہاتھوں میں ایک نرم برش تھا۔ وہ آہستہ آہستہ لیلٰی کے بالوں کو سنوار رہا تھا، اس کی انگلیاں اس کے لمبے، ریشمی بالوں میں نرمی سے پھر رہی تھیں، جیسے وہ اس کے ہر زخم کو اپنی محبت سے چھو رہا ہو۔ اس کا چہرہ، جو ہمیشہ ایک پرسکون مسکراہٹ سے جگمگاتا تھا، اب ایک ایسی گہرائی سے بھرا ہوا تھا جو اس کی لیلٰی کے لیے بے پناہ محبت کو عیاں کر رہا تھا۔ “لیلٰی… آپ کے بال… یہ ہمیشہ سے میری کمزوری رہے ہیں…” اس کی آواز میں ایک ایسی نرمی تھی جو اس کے گہرے پیار کو ظاہر کر رہی تھی، لیکن اس کا لہجہ باوقار تھا، اس کی محبت کی عزت اور احترام سے بھرپور۔
لیلٰی نے ایک کمزور سی مسکراہٹ دی، اس کی نظریں زمین پر جمی تھیں۔ “جمال… آپ ہر روز یہ کیوں کرتے ہیں؟ یہ بال… یہ وہیل چیئر… یہ سب کچھ… یہ تو بس ایک بوجھ ہے…” اس کی آواز میں ایک ایسی ناامیدی تھی جو اس کے دل کے زخموں کو عیاں کر رہی تھی۔ اس کے ہاتھ وہیل چیئر کے ہینڈل پر مضبوطی سے بندھ گئے، جیسے وہ اپنی تکلیف کو اپنے اندر دبا رہی ہو۔
جمال نے برش رکھ دیا اور لیلٰی کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔اس نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے، اس کی آنکھوں میں ایک ایسی شدت تھی جو اس کے پیار کو ظاہر کر رہی تھی۔ “لیلٰی… آپ کبھی بوجھ نہیں ہیں۔ آپ میری جان ہیں، میری ہر سانس آپ سے شروع ہوتی ہے اور آپ پر ختم ہوتی ہے۔” اس نے لیلٰی کے ہاتھوں کو اپنے ہونٹوں سے چھوایا، اس کی آواز میں ایک ایسی گہرائی تھی جو لیلٰی کے دل کو چھو رہی تھی

اس کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی، ہر لفظ لیلٰی کے دل کو چھو رہا تھا، جیسے وہ اس کی ہر سانس کو اپنی محبت سے سجا رہا ہو۔ لیلٰی کی آنکھیں بھیگ گئیں، اس نے اپنی نظریں جھکا لیں۔ “جمال… آپ… آپ یہ کیوں کرتے ہیں؟ میں… میں ہار چکی ہوں۔ یہ پاؤں… یہ کبھی نہیں چلیں گے…” اس کی آواز سسکیوں میں ڈوب گئی، اس کا جسم کانپ رہا تھا، جیسے اس کا وجود اس ناامیدی سے ٹوٹ رہا ہو۔

جمال نے لیلٰی کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیا، اس کی نظریں اس کی آنکھوں میں جمی تھیں۔ “لیلٰی… آپ وہ عورت ہیں جنہوں نے العنکبوت بنائی۔ آپ نے زینی کو انصاف دلوایا، آپ نے ہزاروں عورتوں کو طاقت دی۔ آپ کے پاؤں نہیں چلتے، لیکن آپ کا دل… وہ ایک جنگجو کا دل ہے۔” اس نے لیلٰی کے ماتھے پر ایک ہلکی سی بوسہ دیا، اس کی آواز میں ایک ایسی نرمی تھی جو لیلٰی کے دل کو سکون دے رہی تھی۔

لیلٰی کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، لیکن اس کی نظریں جمال پر جمی تھیں۔ اس کی آواز، اس کے الفاظ، اس کی محبت اس کے دل کے زخموں کو سہلا رہی تھی۔۔


تہہ خانے کی ہوا اتنی سرد اور گھٹن بھری تھی کہ ہر سانس ایک زہریلے خنجر کی مانند گلے کو چھیدتی تھی۔ دیواروں سے پانی کی بوندیں ٹپک رہی تھیں، جن کی ہلکی سی آواز اس گہری تاریکی میں ایک عجیب سی دہشت پیدا کر رہی تھی۔ کمرے کے ایک کونے میں، ایک زنگ آلود دھاتی کرسی پر، شہباز ضمیر کو رسیوں سے باندھ کر رکھا گیا تھا۔ اس کی کلائیاں رسیوں سے کٹی ہوئی تھیں، خون کے سرخ دھبے اس کے ہاتھوں سے بہہ کر زمین پر گر رہے تھے۔ اس کا چہرہ، جو کبھی طاقت اور دھوکے کی علامت تھا، اب زرد اور پسینے سے شرابور تھا۔ اس کی آنکھیں، جو کبھی ایک درندے کی مانند چمکتی تھیں، اب خوف، درد، اور بے بسی سے بھری ہوئی تھیں۔ اس کی پھٹی ہوئی قمیض اس کے جسم سے چپکی ہوئی تھی، اس پر خون اور دھول کے دھبے لگے تھے، اور اس کی سانس ہلکی لیکن بھاری تھی، جیسے وہ ہر لمحے موت سے لڑ رہا ہو۔
“پانی… مجھے پانی ددو … پانی…” شہباز کی آواز ایک کمزور سرگوشی تھی، اس کے سوکھے ہونٹ کانپ رہے تھے، اس کی زبان خشک ہو کر لکڑی کی مانند ہو گئی تھی۔ اس نے اپنی نظریں اٹھائیں، لیکن تہہ خانے کی گہری تاریکی نے اسے نگل لیا تھا۔ ایک ٹمٹماتی ہوئی بلب سے آنے والی ہلکی سی روشنی اس کے چہرے پر سایوں کی مانند رقص کر رہی تھی، اس کی زبوں حالی کو اور بھی خوفناک بنا رہی تھی۔ اس کا جسم کانپ رہا تھا، اس کی سانس ایک ایسی اذیت سے بھری تھی جو اس کے وجود کو کھوکھلا کر رہی تھی۔
دروازے سے ایک بھاری، دھاتی آواز گونجی، جیسے کوئی زنجیر کھل رہی ہو۔ دروازہ زور سے کھلا، اور اس کی آواز تہہ خانے کی دیواروں سے ٹکرائی۔ دارم، اپنے لمبے، مضبوط جسم اور جلتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ، اندر داخل ہوا۔ اس کی نظریں شہباز پر جمی تھیں، اور ان میں ایک ایسی نفرت تھی جو برسوں کے زخموں سے ابھر رہی تھی۔ اس کے پیچھے نوح کھڑا تھا، اس کا چہرہ ایک پتھر کی مانند سرد اور بے رحم۔ اس کے ہاتھ میں ایک جلتا ہوا سگریٹ تھا، جس کی سرخ روشنی تہہ خانے کی تاریکی میں ایک خونخوار چمک کی مانند دکھائی دے رہی تھی۔
“پانی مانگ رہے ہو، شہباز؟” دارم کی آواز میں ایک ایسی سرکشی تھی جو اس کے دل کے غصے کو عیاں کر رہی تھی۔ وہ شہباز کے قریب آیا، اس کے ہاتھ میں ایک شیشے کا جگ تھا، جس میں ایک عجیب سا، ہلکا سبز مائع ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ “تم نے میری ازو کو تباہ کیا… تم نے اس کی روح کو توڑا… اور اب تم پانی مانگ رہے ہو؟” اس کی آواز ایک چیخ بن گئی، اس کی آنکھیں آگ کی مانند چمک رہی تھیں۔ اس نے جگ کو شہباز کے چہرے کے قریب لہرایا، اس کے اندر کا مائع روشنی میں چمک رہا تھا، جیسے وہ کوئی زہریلا تیزاب ہو۔
شہباز کی آنکھیں جگ پر جمی تھیں، اس کی سانس تیز ہو گئی۔ “دارم… مجھے… مجھے پانی دو…” اس کی آواز میں ایک ایسی التجا تھی جو اس کی زبوں حالی کو عیاں کر رہی تھی۔ اس کے ہاتھ رسیوں میں جکڑے ہوئے کانپ رہے تھے، اس کا چہرہ پسینے سے شرابور تھا۔ “میں… میں مر رہا ہوں…” اس کی آواز سسکیوں میں ڈوب گئی، اس کی آنکھیں جگ پر جمی تھیں، جیسے وہ اس مائع کو اپنی زندگی کی آخری امید سمجھ رہا ہو۔
نوح آگے بڑھا، اس کے ہاتھ میں جلتا ہوا سگریٹ اب بھی چمک رہا تھا۔ “پانی؟” اس کی آواز سرد اور بے رحم تھی، جیسے وہ کوئی فیصلہ سنا رہا ہو۔ “تم نے میری ماں کو تباہ کیا، شہباز۔ تم نے اس کی زندگی چھین لی… اور اب تم پانی مانگ رہے ہو؟” اس نے سگریٹ کو شہباز کے بازو کے قریب لے جاتے ہوئے اسے اس کی جلد پر دبا دیا۔ ایک چیخ تہہ خانے میں گونج اٹھی جب سگریٹ کی گرم نوک نے شہباز کی جلد کو جلا دیا، اس کے بازو پر ایک سرخ، جلتا ہوا نشان چھوڑتے ہوئے۔ شہباز کا جسم رسیوں میں جکڑا ہوا تڑپ اٹھا، اس کی آواز ایک زخمی جانور کی مانند تھی۔
“نوح… بسس کرو … یہ… یہ بند کرو…” شہباز کی آواز سسکیوں میں ڈوب گئی، اس کی آنکھیں بند ہو گئیں، جیسے وہ اس اذیت سے بھاگ رہا ہو۔ اس کا چہرہ درد سے مسخ ہو گیا تھا، اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے، اور اس کی سانس ہلکی اور بھاری تھی، جیسے وہ ہر لمحے اپنی آخری سانس لے رہا ہو۔
دارم نے جگ کو شہباز کے ہونٹوں کے قریب کیا، اس کی نظریں اس کے چہرے پر جمی تھیں۔ “یہ پانی نہیں ہے، شہباز۔ یہ وہی زہر ہے جو تم نے ہماری زندگیوں میں بھرا۔” اس نے جگ کو جھکایا، اور سبز مائع شہباز کے ہونٹوں پر گرا۔ شہباز نے اپنی زبان سے اسے چھونے کی کوشش کی، لیکن اچانک اس کے منہ سے ایک دہلا دینے والی چیخ نکل گئی۔ مائع اس کے ہونٹوں کو جلا رہا تھا، اس کے منہ میں تیزاب کی مانند آگ بھڑک رہی تھی۔ اس کا جسم رسیوں میں تڑپ اٹھا، اس کی آنکھیں پھیل گئیں، اور اس کی چیخیں تہہ خانے کی دیواروں سے ٹکرا رہی تھیں۔
“یہ… یہ کیا ہے؟” شہباز کی آواز درد سے بھری تھی، اس کا منہ جل رہا تھا، اس کی زبان پر چھالے پڑ گئے تھے۔ “تم… تم مجھے مار دو… براہ کرم…” اس کی آواز سسکیوں میں ڈوب گئی، اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، جو اس کے چہرے پر خون اور پسینے کے ساتھ مل گئے تھے۔
نوح نے ایک طنزیہ ہنسی ہنسی، اس کی آواز تہہ خانے میں گونج اٹھی۔ “مار دوں؟” اس نے ایک اور سگریٹ جلایا اور اسے شہباز کے دوسرے بازو پر دبا دیا۔ شہباز کی ایک اور چیخ تہہ خانے میں گونج اٹھی، اس کا جسم رسیوں میں جکڑا ہوا تڑپ رہا تھا۔
“تمہاری موت اتنی آسان نہیں ہوگی، شہباز۔ تم نے میری ماں کی زندگی تباہ کی… تم نے اسے ایک زندہ لاش بنا دیا… اور اب تم اسی درد سے گزرو گے۔” اس نے سگریٹ کو شہباز کے گلے کے قریب لہرایا، اس کی سرخ نوک روشنی میں چمک رہی تھی۔
دارم نے جگ کو دوبارہ شہباز کے ہونٹوں کے قریب کیا۔
“یہ پیو، شہباز۔ یہ وہی زہر ہے جو تم نے میری بہن ازورا کے دل میں بھرا۔” اس نے جگ کو زور سے جھکایا، اور مزید مائع شہباز کے منہ میں گر گیا۔ شہباز کی چیخیں اور بلند ہو گئیں، اس کا منہ جل رہا تھا، اس کی سانس رکنے لگی تھی، جیسے وہ موت کے دروازے پر کھڑا ہو۔ اس کا جسم رسیوں میں تڑپ رہا تھا، اس کی آنکھیں پھیل گئی تھیں، اور اس کی چیخیں تہہ خانے کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ رہی تھیں۔
“دارم… نوح… مجھے… مجھے معافی دو…” شہباز کی آواز ٹوٹ رہی تھی، اس کے ہونٹوں سے خون اور زہریلا مائع بہہ رہا تھا۔ “میں… میں غلط تھا… ازورا… تمہاری ماں… میں… میں معافی مانگتا ہوں…” اس کی آواز سسکیوں میں ڈوب گئی، اس کی آنکھیں بند ہو گئیں، جیسے وہ اس حقیقت سے بھاگ رہا ہو۔
دارم کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ “معافی؟” اس کی آواز ایک چیخ بن گئی، اس کی آنکھیں آگ کی مانند چمک رہی تھیں۔ “تم نے میری بہن ازورا کو تباہ کیا! تم نے اس کی روح کو توڑا! تم نے اسے ایک زندہ لاش بنا دیا!”
اس نے شہباز کے چہرے پر ایک زور دار تھپڑ مارا، جس کی آواز تہہ خانے میں گونج اٹھی۔ شہباز کا سر ایک طرف جھک گیا، اس کے گال پر سرخ نشان ابھر آیا، اور اس کے ہونٹوں سے مزید خون بہہ نکلا۔
نوح نے سگریٹ کو شہباز کے سینے پر دبا دیا، اس کی جلد پر ایک اور جلتا ہوا نشان چھوڑتے ہوئے۔ شہباز کی چیخ تہہ خانے میں گونج اٹھی، اس کا جسم رسیوں میں جکڑا ہوا تڑپ رہا تھا۔
“تم نے میری ماں کو تباہ کیا، شہباز۔ تم نے اس کی زندگی چھین لی… اور اب تم اسی درد سے گزرو گے۔”
اس کی آواز میں ایک ایسی سردی تھی جو تہہ خانے کی ہوا کو اور ٹھنڈا کر رہی تھی۔ اس نے سگریٹ کو زمین پر پھینک دیا اور اسے اپنے بوٹ سے کچل دیا، اس کی نظریں شہباز پر جمی تھیں۔
دارم نے جگ کو زمین پر پٹخ دیا، زہریلا مائع زمین پر بکھر گیا، اور اس کی بدبو تہہ خانے کی ہوا میں پھیل گئی۔ “تمہاری سزا ابھی ختم نہیں ہوئی، شہباز۔” اس کی آواز میں ایک ایسی شدت تھی جو اس کے دل کے زخموں کو عیاں کر رہی تھی۔ “تم نے ال انکبوت کو توڑنے کی کوشش کی… تم نے لیلٰی کو وہیل چیئر پر بٹھایا… تم نے زینی کو برباد کیا… اور اب تم اس تاریکی میں اپنی ہر سانس کے لیے ترسو گے۔” اس نے نوح کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک تھی جو ان کے مشترکہ عزم کو ظاہر کر رہی تھی۔
نوح نے ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے کہا، “ہم تمہیں یہاں چھوڑ دیں گے، شہباز۔ یہ تاریکی… یہ تمہاری سزا ہے۔” اس نے ایک اور سگریٹ جلایا اور اسے شہباز کے ہاتھ پر دبا دیا۔ شہباز کی چیخ تہہ خانے میں گونج اٹھی، اس کا جسم رسیوں میں جکڑا ہوا تڑپ رہا تھا۔
“اور جب ہم واپس آئیں گے… تو تمہاری سزا اور بڑھے گی۔”
اس کی آواز میں ایک ایسی سرد مہری تھی جو شہباز کے دل کو منجمد کر رہی تھی۔
دارم نے شہباز کی طرف آخری بار دیکھا، اس کی آنکھیں نفرت اور درد سے بھری ہوئی تھیں۔ “تم نے میری بہن ازورا کو تباہ کیا… تم نے نوح کی ماں کو برباد کیا… اور اب تم اس تاریکی میں تنہا رہو گے۔” اس نے دروازے کی طرف بڑھنا شروع کیا، اس کی آواز تہہ خانے میں گونج رہی تھی۔
“یہ تمہاری آخری رات نہیں ہے، شہباز… یہ صرف ایک رات ہے۔۔ایسی بہت سی راتیں۔۔ اذیت ناک راتیں تم گزارو گے۔۔۔”
دروازہ بند ہوا، اور تہہ خانے کی تاریکی نے شہباز کو نگل لیا۔ اس کی سسکیاں کمرے میں گونج رہی تھیں، اس کی آنکھیں بند تھیں، جیسے وہ اس حقیقت سے بھاگ رہا ہو۔
“پانی… پانی…” اس کی آواز ایک سرگوشی سے زیادہ نہ تھی، لیکن اس میں ایک ایسی اذیت تھی جو اس کے وجود کو چھید رہی تھی۔ اس کے ہونٹوں سے خون اور زہریلا مائع بہہ رہا تھا، اس کے جسم پر سگریٹ کے جلتے ہوئے نشانات اس کی جلد کو مسخ کر رہے تھے۔ تہہ خانے کی دیواروں سے ٹپکتی ہوئی پانی کی بوندیں اس کی سسکیوں کے ساتھ مل کر ایک ایسی موسیقی بنا رہی تھیں جو موت سے بھی بدتر تھی۔


ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں صبح کا ہنگامہ اپنے عروج پر تھا۔ مریضوں کی آہ و بکا وارڈ کے ہر کونے میں گونج رہی تھی۔ سفید کوٹ پہنے دارم اسفہان ایک مریض کی فائل چیک کر رہا تھا، اس کے چہرے پر ایک عجیب سی سنجیدگی تھی، جیسے وہ اپنے دل کے طوفان کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہو۔ اس کی گہری سیاہ آنکھوں میں برسوں کی خاموش محبت اور درد کی چھاپ تھی، لیکن اس کا لہجہ پرسکون اور پیشہ ورانہ تھا
۔
اس کے ساتھ رمشا تھی۔ وہ ایک مریض کے زخم کو ڈریس کر رہی تھی، اس کی انگلیاں تیز اور ہنرمند تھیں، لیکن اس کی نظریں بار بار دارم کی طرف اٹھ رہی تھیں، جیسے وہ اس کے چہرے پر چھپی اداسی کو پڑھنا چاہتی ہو۔

“دارم… ٹھیک ہو ؟” رمشا نے آہستہ سے پوچھا، اس کی آواز میں ایک ایسی نرمی تھی جو اس کی فکرمندی کو عیاں کر رہی تھی۔ “ آج کچھ خاموش ہو…” اس نے اپنا ہاتھ مریض کے زخم سے ہٹایا اور دارم کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں ایک ایسی گہرائی تھی جو اس کی محبت کو چھپا نہ سکتی تھی۔

دارم نے ایک گہری سانس لی، اس کی نظریں فائل پر جمی تھیں۔ “تم … فکر نہیں کرو رمشا… بس کچھ مصروفیت ہے…” اس کی آواز میں ایک ایسی کمزوری تھی جو اس کے دل کے بوجھ کو عیاں کر رہی تھی۔ اس نے اپنی نظریں اٹھائیں، لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتا، اس کا فون بج اٹھا۔ اسکرین پر رومیسہ کا نام چمک رہا تھا۔ اس کا دل دھک سے رہ گیا، جیسے کوئی پرانا زخم دوبارہ کھل گیا ہو۔ اس نے فون اٹھایا اور کان سے لگایا۔ “جی مام… آپ ٹھیک ہیں؟” اس کی آواز میں ایک ایسی بے چینی تھی جو اس کے دل کی ہلچل کو عیاں کر رہی تھی۔

رومیسہ کی آواز دوسری طرف سے کانپتی ہوئی آئی۔ “دارم… شہباز۔۔ ان کو ڈھونڈیں… وہ کہیں گم ہو گئے ہیں… میرا دل کہتا ہے کہ وہ خطرے میں ہیں…” اس کی آواز میں ایک ایسی التجا تھی جو اس کے دل کے خوف کو عیاں کر رہی تھی۔

دارم کی نظریں زمین پر جمی تھیں، اس کے ہاتھ فون پر مضبوطی سے بندھ گئے۔ “آپ… آپ فکر نہ کریں… میں… میں ابھی آتا ہوں…” اس کی آواز میں ایک ایسی سختی تھی جو اس کے دل کے فیصلے کو عیاں کر رہی تھی۔ اس نے فون بند کیا اور رمشا کی طرف دیکھا۔ “رمشا… آپ یہاں سنبھال لیں… مجھے جانا ہوگا…” اس کی آواز میں ایک ایسی عجلت تھی جو اس کی پریشانی کو عیاں کر رہی تھی۔

رمشا نے اس کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں ایک ایسی بے چینی تھی جو اس کے دل کی محبت کو عیاں کر رہی تھی۔ “آپ… آپ ٹھیک ہیں نا، دارم؟” اس کی آواز میں ایک ایسی نرمی تھی جو اس کی فکرمندی کو ظاہر کر رہی تھی۔ لیکن دارم نے بس سر ہلایا اور تیزی سے وارڈ سے باہر نکل گیا، اس کے قدموں کی آواز ہسپتال کے راہداریوں میں گونج رہی تھی۔
کچھ ہی دیر میں وہ وہاں پہنچ چکا تھا۔۔ رومیسہ کے گھر پہنچتے ہی دارم نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ دروازہ سفیان نے کھولا۔۔۔
رومیسہ صوفے پر بیٹھی تھی، اس کے ہاتھوں میں تسبیح چل رہی تھی، لیکن اس کی آنکھوں میں ایک ایسی بے چینی تھی جو اس کے دل کے خوف کو عیاں کر رہی تھی۔ “دارم… آپ… آپ شہباز کو ڈھونڈیں… وہ کہیں گم ہو گئے ہیں…” اس کی آواز میں ایک ایسی التجا تھی جو اس کے دل کی پریشانی کو عیاں کر رہی تھی۔ اس کے چہرے پر برسوں کی وفاداری اور محبت کی چھاپ تھی، لیکن اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا خوف بھی تھا، جیسے وہ کسی راز سے بے خبر ہو۔

دارم نے ایک گہری سانس لی، اس کا چہرہ زرد تھا، اس کی آنکھیں سرخ تھیں، جیسے وہ رات بھر اپنی یادوں کے ساتھ جاگتا رہا ہو۔ اس کے ہاتھوں میں ایک پرانا لیپ ٹاپ تھا، جس میں وہ ویڈیوز اور ثبوت تھے جو شہباز کی حقیقت کو عیاں کرتے تھے۔ “آپ… آپ دونوں کو اب حقیقت جاننا ہوگی…” اس کی آواز میں ایک ایسی سختی تھی جو اس کے دل کے غصے کو عیاں کر رہی تھی۔ اس نے لیپ ٹاپ کھولا اور رومیسہ اور امل کے سامنے رکھ دیا۔ “شہباز ضمیر… وہ شخص ایک راپسٹ ہے…” اس کی آواز میں ایک ایسی شدت تھی جو اس کے دل کے زخموں کو عیاں کر رہی تھی۔

امل نے اپنا سر جھٹکا، اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ “آپ… آپ کیا کہہ رہے ہیں، دارم؟” اس کی آواز میں ایک ایسی حیرت تھی جو اس کے دل کی بے یقینی کو عیاں کر رہی تھی۔ “بابا… بابا سے نفرت میں انکے بارے میں اس طرح کے الفاظ تو استعمال نہ کریں …” اس کی آواز سسکیوں میں ڈوب گئی، اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ وہ اپنے باپ کے بارے میں یہ سننے کو تیار نہ تھی، اس کا دل اس حقیقت کو قبول کرنے سے انکاری تھا۔

رومیسہ نے دارم کی طرف دیکھا، اس کی نظریں اس کے چہرے پر جمی تھیں۔ “دارم… شہباز یہ نہیںں…” اس کی آواز میں ایک ایسی بے بسی تھی جو اس کے دل کی پریشانی کو عیاں کر رہی تھی۔ اس کے ہاتھوں میں تسبیح رکنے لگی، جیسے وہ اس حقیقت کے بوجھ تلے دب رہی ہو۔

دارم نے ایک گہری سانس لی، اس کی نظریں امل اور رومیسہ پر جمی تھیں۔ “آپ… آپ دونوں کو یہ دیکھنا ہوگا…” اس نے لیپ ٹاپ پر ایک ویڈیو چلائی۔ اسکرین پر شہباز کی وہ تصاویر اور ویڈیوز تھیں جو اس کے ظلم کی داستان سنا رہی تھیں۔۔ اس کی آواز میں ایک ایسی سنگدلی تھی جو اس کے چہرے کی جھوٹی مسکراہٹ کو بے نقاب کر رہی تھی۔ ۔ ایک تصویر میں اس کے ہاتھوں میں خون آلود چھری تھی، اور اس کے سامنے ایک بے گناہ شخص زمین پر گرا ہوا تھا۔ ہر ویڈیو، ہر تصویر شہباز کی حقیقت کو عیاں کر رہی تھی۔

امل کی آنکھیں اسکرین پر جمی تھیں، اس کا چہرہ زرد پڑ گیا، اس کی سانس رکنے لگی۔ “نہیں… نہیں… یہ… یہ جھوٹ ہے…” اس کی آواز سسکیوں میں ڈوب گئی، اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ “بابا… بابا ایسے نہیں ہو سکتے… آپ… آپ جھوٹ بول رہے ہیں، دارم!” اس کی آواز میں ایک ایسی شدت تھی جو اس کے دل کی بغاوت کو عیاں کر رہی تھی۔ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا لیتی ہے، جیسے وہ اس حقیقت سے بھاگنا چاہتی ہو۔

رومیسہ کی نظریں اسکرین پر جمی تھیں۔۔ “یہ… یہ کیا ہے، دارم؟” اس کی آواز میں ایک ایسی بے بسی تھی جو اس کے دل کی شکست کو عیاں کر رہی تھی۔ “شہباز… وہ… وہ ہمارا محافظ تھا…” اس کی آنکھیں بھیگ گئیں، اس کا چہرہ درد سے مسخ ہو گیا۔

دارم نے ایک گہری سانس لی، اس کی نظریں امل کے چہرے پر جمی تھیں۔ “آپ… آپ کو یہ سچ ماننا ہوگا، امل… شہباز ضمیر ایک ظالم ہے… اس نے آپ کی ماں کو دھوکہ دیا… ازورا کو تباہ کیا… لیلٰی کو وہیل چیئر تک لے آیا…” اس کی آواز میں ایک ایسی شدت تھی جو اس کے دل کے غصے کو عیاں کر رہی تھی۔
“یہ ویڈیوز… یہ ثبوت… یہ سب اس کی حقیقت ہیں…”
اس نے لیپ ٹاپ بند کیا، اس کی نظریں امل کے چہرے پر جمی تھیں۔۔ جو یک ٹک وہ DNA رپورٹس دیکھ رہی تھی۔

امل نے اپنا چہرہ ہاتھوں سے ہٹایا، اس کی آنکھیں سرخ تھیں، اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔
میں ملنا چاہتی ہوں بابا سے۔۔ وہ ازو کے مجرم ہیں۔۔ میں جانتی ہوں آپ کو معلوم ہے وہ کہاں ہیں دارم…” اس کی آواز میں ایک ایسی ضد تھی جو اس کے دل کی بغاوت کو عیاں کر رہی تھی۔ “مجھے… مجھے شہباز ضمیر سے ملنا ہے… مجھے خود اس سے پوچھنا ہے…” اس کی آواز سسکیوں میں ڈوب گئی، اس کی نظریں دارم پر جمی تھیں، جیسے وہ اس سے جواب مانگ رہی ہو۔

دارم نے ایک گہری سانس لی، اس کی نظریں امل کے چہرے پر جمی تھیں۔
“آپ… آپ واقعی اس سے ملنا چاہتی ہیں؟”
اس کی آواز میں ایک ایسی بے بسی تھی جو اس کے دل کی پریشانی کو عیاں کر رہی تھی۔
“ٹھیک ہے… میں آپ کو اس سے ملاؤں گا…” اس نے اپنا سر جھکایا، جیسے وہ اس فیصلے کے بوجھ تلے دب رہا ہو۔


تہہ خانے کی دیواروں سے ٹپکتی پانی کی بوندیں زمین پر گر رہی تھیں، ہر قطرے کی آواز اس گہری تاریکی میں ایک ایسی دہشت پیدا کر رہی تھی جو دل کو چھید رہی تھی۔ ہوا اتنی سرد اور گھٹن بھری تھی کہ ہر سانس گلے میں زہریلے خنجر کی مانند چبھ رہی تھی۔ زنگ آلود دھاتی کرسی پر شہباز ضمیر رسیوں سے جکڑا ہوا بیٹھا تھا، اس کی کلائیاں رسیوں سے کٹی ہوئی تھیں، خون کے سرخ دھبے اس کے ہاتھوں سے بہہ کر زمین پر گر رہے تھے۔ اس کا چہرہ زرد اور پسینے سے شرابور تھا، اس کی آنکھیں، جو کبھی طاقت اور فریب کی علامت تھیں، اب خوف، درد، اور بے بسی سے بھری ہوئی تھیں۔ اس کی پھٹی ہوئی قمیض اس کے جسم سے چپکی ہوئی تھی، اس پر خون، دھول، اور سگریٹ کے جلے ہوئے نشانات نمایاں تھے۔ اس کی سانس ہلکی لیکن بھاری تھی، جیسے ہر سانس اس کے وجود سے ایک ٹکڑا چھین رہی ہو۔
تہہ خانے کا دھاتی دروازہ زور سے کھلا، اور اس کی گرجتی آواز دیواروں سے ٹکرا کر ایک خوفناک گونج بن گئی۔ نوح امل کو لے کر اندر داخل ہوا، اس کے پیچھے ازورا تھی، جس کا چہرہ زرد تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں ایک ایسی نفرت تھی جو شہباز کے ظلم کی گواہی دے رہی تھی۔ صفیان امل کے ساتھ تھا، اس کا ہاتھ اس کی کمر کو سہارا دینے کے لیے تیار تھا، لیکن اس کے چہرے پر ایک عجیب سی بے چینی تھی، جیسے وہ جانتا ہو کہ یہ لمحہ امل کی زندگی کا سب سے مشکل لمحہ ہوگا۔ دارم دروازے کے قریب کھڑا تھا، اس کی نظریں شہباز پر جمی تھیں، لیکن اس کی آنکھوں میں ایک ایسی اداسی تھی جو امل کے درد کو سمیٹ رہی تھی۔
امل نے شہباز کی طرف دیکھا، اور اس کے جسم میں ایک عجیب سی ہلچل پیدا ہوئی۔ اس کی آنکھیں پھیل گئیں، اس کا چہرہ غم اور حیرت سے مسخ ہو گیا۔ وہ آہستہ آہستہ شہباز کی طرف بڑھی، اس کے قدموں کی آواز تہہ خانے کی خاموشی کو چیر رہی تھی۔ اس کی سانس تیز ہوتی گئی، اس کے ہاتھ مضبوطی سے بندھ گئے، جیسے وہ اپنے اندر کے طوفان کو روکنے کی کوشش کر رہی ہو۔
“بابا…”
اس کی آواز ایک سرگوشی سے شروع ہوئی، لیکن اس میں ایک ایسی شدت تھی جو تہہ خانے کی دیواروں سے ٹکرا رہی تھی۔۔
شہباز نے حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سے اسے دیکھا۔۔ لیکن اسکی آنکھیں۔۔ اسکی آنکھوں میں اس قدر نفرت تھی اسکے لئے۔۔
۔
“آپ… آپ میرے بابا تھے… آپ تو دنیا کے سب سے اچھے بابا تھے…”
وہ بولی تو اس کی آواز سسکیوں میں ڈوب گئی، اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، جو اس کے زرد چہرے پر موتیوں کی مانند چمک رہے تھے۔
“آپ… آپ میرا آئیڈیل تھے، بابا… میں نے نمازیں آپ کو دیکھ کر سیکھیں… میری نمازیں آپ کی سکھائی ہوئی تھیں…”
اس کی آواز چیخ بن گئی، اس کا جسم غم اور درد سے کانپ رہا تھا۔
شہباز نے اپنی نظریں اٹھائیں، لیکن امل کی آنکھوں میں جلتی ہوئی نفرت دیکھ کر وہ فوراً جھک گئیں۔
“امل… میری جان …”
اس کی آواز کمزور اور ٹوٹی ہوئی تھی، اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے، اور اس کی آنکھوں میں ایک ایسی شرمندگی تھی جو اس کی زبوں حالی کو عیاں کر رہی تھی۔
“میں… میں معافی مانگتا ہوں…” اس کی آواز سسکیوں میں ڈوب گئی، اس کے ہاتھ رسیوں میں جکڑے ہوئے کانپ رہے تھے، اور اس کا جسم زخموں اور درد سے ٹوٹ رہا تھا۔
“معافی؟”
وہ روتی ہوئی چخی تھی، اس کے ہاتھ رسیوں سے بندھے شہباز کی طرف بڑھے، جیسے وہ اسے اپنے ہاتھوں سے چھونا چاہتی ہو، لیکن اس نے خود کو روک لیا۔ اس کی آنکھیں سرخ ہو گئیں، اس کے چہرے پر ایک ایسی شدت تھی جو اس کے دل کے زخموں کو عیاں کر رہی تھی۔
۔
“آپ… آپ توایک درندہ نکلے! میری نمازیں… میری نمازیں آپ کی سکھائی ہوئی تھیں، بابا… اور آپ… آپ ایک ظالم تھے!”
اس کی آواز سسکیوں میں ڈوب گئی، اس نے صفیان کی طرف مڑ کر اس کے سینے سے لگ کر رونے لگی۔
“میں… میں نے نمازیں آپ سے سیکھیں… اور آپ… آپ ایک درندہ نکلے…”
اس کی آواز تہ خانے میں گونج رہی تھی ، اس کے آنسو صفیان کی قمیض کو بھیگ رہے تھے۔

ازورا، جو نوح کے پاس کھڑی تھی، نے شہباز کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں ایک ایسی نفرت تھی جو اس کے برسوں کے درد کو عیاں کر رہی تھی۔

نوح نے ازورا کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا، اس کی نظریں شہباز پر جمی تھیں۔ “آپ… آپ کی سزا آپ کے سامنے ہے، شہباز…” اس کی آواز میں ایک ایسی سختی تھی جو اس کے دل کے غصے کو عیاں کر رہی تھی۔ “آپ کی بیٹی کی آنکھوں میں نفرت… یہ آپ کی سب سے بڑی سزا ہے…” اس نے امل کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں ایک ایسی بے بسی تھی جو اس کے درد کو سمیٹ رہی تھی۔

شہباز کی نظریں امل پر جمی تھیں، اس کی آنکھوں میں ایک ایسی بے بسی تھی جو اس کے دل کی شکست کو عیاں کر رہی تھی۔ “امل… میری بیٹی… میں… میں غلط تھا…” اس کی آواز ایک سرگوشی سے زیادہ نہ تھی، اس کے ہونٹوں سے خون بہہ رہا تھا، اس کی سانس ہلکی ہوتی جا رہی تھی۔ “میں… میں تم سے محبت کرتا تھا… لیکن… لیکن میں اپنی طاقت کے نشے میں اندھا ہو گیا…” اس کی آواز سسکیوں میں ڈوب گئی، اس کا چہرہ درد سے مسخ ہو گیا۔ امل کی نفرت اس کے دل کو چھید رہی تھی، یہ عذاب اس کے پچھلے دنوں کے تمام عذابوں سے بڑھ کر تھا۔

امل نے صفیان کے سینے سے سر اٹھایا، اس کی آنکھیں سرخ تھیں، اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔
“آپ… آپ شہباز ضمیر آج مر گئے ہیں، بابا… امل یتیم ہے۔۔ امل کا کوئی باپ نہیں ہے۔۔
اس کی آواز میں ایک ایسی سردی تھی جو اس کے دل کی نفرت کو عیاں کر رہی تھی۔
“آپ… آپ میری آنکھوں میں اپنی موت دیکھ رہے ہیں…”
اس کی آواز چیخ بن گئی، اس کا جسم غم اور درد سے کانپ رہا تھا۔ اچانک اس کے ناک سے خون بہہ نکلا، اس کی آنکھیں بند ہو گئیں، اور وہ صفیان کی بانہوں میں جھول گئی۔
دارم نے اپنی آنکھیں میچ لیں، اس کے آنسوں آج بھی دارم کے دل پر گرتے تھے، جیسے وہ اس کی خاموش محبت کو چھید رہے ہوں۔ وہ شہباز کی طرف نفرت سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
وہ سفیان کے سینے سے لگی سسک رہی تھی۔۔ دارم نے دیکھا اسکی ناک سے بری طرح خون بہ رہا تھا۔۔
اس نے امل کو گرتے دیکھا، وہ بھاگ کر اس کی طرف آیا۔ اس کے دل میں کوئی اور خیال نہ تھا—نہ صفیان کا اس کا شوہر ہونا، نہ اس کا امل پر کوئی حق نہ ہونا—
وہ امل تھی، وہ لڑکی جسے دارم اسفہان نے اپنی ہر سانس کے ساتھ چاہا تھا۔۔ اس نے صفیان کے ہاتھوں سے امل کو چھین لیا، اس کے چہرے پر ایک ایسی شدت تھی جو اس کی محبت کو عیاں کر رہی تھی۔
“امل… امل… آنکھیں کھولیں…”
اس کی آواز میں ایک ایسی التجا تھی جو اس کے دل کی بے چینی کو عیاں کر رہی تھی۔ اس نے امل کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیا، اس کی آنکھیں اس کے چہرے پر جمی تھیں، جیسے وہ اسے اپنی محبت سے واپس بلا رہا ہو۔ سفیان بھی امل کو آوازیں دے رہا تھا۔۔

شہباز چیخ اٹھا، اس کی آواز تہہ خانے میں گونج رہی تھی۔
“امل… میری بیٹی۔۔۔ میری بچی۔۔
اس کی آواز میں ایک ایسی بے بسی تھی جو اس کے دل کی شکست کو عیاں کر رہی تھی۔
“نوح… دارم… اسے ہسپتال لے جاؤ… میری امل کو بچاؤ…!”
وہ رسیوں میں جکڑا ہوا تڑپ رہا تھا، اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، اس کے ہونٹوں سے خون بہہ رہا تھا۔
“مجھے سزا دو… لیکن اسے بچاؤ…!”
اس کی آواز چیخ بن گئی، لیکن اس کی سانس ہلکی ہوتی جا رہی تھی۔ امل کی آنکھوں میں اس کی نفرت اسے کھا رہی تھی، یہ عذاب اس کے وجود کو چھید رہا تھا۔ اس کا جسم رسیوں میں جکڑا ہوا تڑپ رہا تھا، اس کی سانس رکنے لگی، اور اس کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ شہباز ضمیر، جو کبھی طاقت اور فریب کی علامت تھا۔ اس کی اذیت اس کے ظلم کی نہیں، بلکہ اس کی بیٹی کی نفرت کی وجہ سے تھی۔۔

نوح نے دارم کو امل سے دور کیا۔۔ سفیان نے امل کو اٹھایا، اس کی نظریں دارم پر جمی تھیں۔
“ہم… ہم اسے ہسپتال لے جاتے ہیں…”
اس کی آواز میں ایک ایسی بے بسی تھی جو اس کے دل کی پریشانی کو عیاں کر رہی تھی۔ ازورا نے نوح کا ہاتھ پکڑا، اس کی آنکھیں شہباز کے بے جان جسم پر جمی تھیں، جو کرسی سمیت گر گیا تھا، اس کی نفرت کو آخر کار انصاف مل گیا تھا۔۔
صفیان نے امل کو اپنی بانہوں میں اٹھایا، اس کی نظریں اس کے چہرے پر جمی تھیں۔ “امل… آپ ٹھیک ہو جائیں گی…” اس کی آواز میں ایک ایسی التجا تھی جو اس کی محبت کو عیاں کر رہی تھی۔ دارم نے ایک آخری بار شہباز کی طرف دیکھا، اس کی آنکھیں سرخ تھیں، اس کے دل میں امل کے آنسوؤں کا درد تھا۔ وہ خاموشی سے پیچھے ہٹ گیا، اس کی نظریں امل پر جمی تھیں، جیسے وہ اس کی محبت کو اپنی تنہائی میں سمیٹ رہا ہو۔

تہہ خانے کی تاریکی ایک عجیب سی خاموشی میں ڈوب گئی، امل کی چیخیں، اس کی نفرت، اور اس کے آنسو اس تہہ خانے کی دیواروں میں گونج رہے تھے، جیسے وہ اس کہانی کی آخری آواز ہوں۔۔ نازک سی وہ لڑکی اپنے باپ کی حقیقت برداشت نہیں کر پائی تھی۔۔
۔
جاری ہے۔۔